Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “He who dies without having fought or having felt fighting (against the infidels) to be his duty will die guilty of a kind of hypocrisy.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: He who does not join the warlike expedition (jihad), or equip, or looks well after a warrior's family when he is away, will be smitten by Allah with a sudden calamity. Yazid ibn Abdu Rabbihi said in his tradition: 'before the Day of Resurrection".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبرگیری نہ کی تو اللہ اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا “ ، یزید بن عبداللہ کی روایت میں «قبل يوم القيامة» ” قیامت سے پہلے “ کا اضافہ ہے ۔
Ibn ‘Abbas said “The Qur’anic verse “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty, and the verse “It is not fitting for the people of Medina”... up to “that Allaah might required their deed with the best (possible reward) have been repealed by the verse. Nor should the believers all go forth together.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
«إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» ” اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا “ ( سورۃ التوبہ : ۳۹ ) اور « ما كان لأهل المدينة» سے «يعملون » ” مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں “ ( سورۃ التوبہ : ۱۰ ) کو بعد والی آیت «وما كان المؤمنون لينفروا كافة» ” مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لیے نکل پڑیں “ ( سورۃ التوبہ : ۱۲۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے ۔
Najdah bin Nufai’ said “I asked Ibn ‘Abbas about the verse. “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty.” He replied “The rain stopped from them. This was their punishment.”
نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ
میں نے آیت کریمہ «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» ” اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا “ ( سورۃ التوبہ : ۳۹ ) کے سلسلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا : عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی ( اور وہ مبتلائے قحط ہو گئے ) ۔
Chapter 867: The Allowance To Stay Behing Due To An Excuse - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ : كُنْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي، فَمَا وَجَدْتُ ثِقَلَ شَىْءٍ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ : " اكْتُبْ " . فَكَتَبْتُ فِي كَتِفٍ : لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ - وَكَانَ رَجُلاً أَعْمَى - لَمَّا سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لاَ يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا قَضَى كَلاَمَهُ غَشِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي وَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ كَمَا وَجَدْتُ فِي الْمَرَّةِ الأُولَى ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : " اقْرَأْ يَا زَيْدُ " . فَقَرَأْتُ { لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ } فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ } الآيَةَ كُلَّهَا . قَالَ زَيْدٌ : فَأَنْزَلَهَا اللَّهُ وَحْدَهَا فَأَلْحَقْتُهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدْعٍ فِي كَتِفٍ .
Zaid bin Thabit said “I was beside the Apostle of Allaah(ﷺ) when the divinely-inspired calmness overtook him and the thigh of the Apostle of Allaah(ﷺ) fell on my thigh. I did not find any weightier than the thigh of the Apostle of Allaah(ﷺ). He then regained his composure and said “Write down. I wrote on a shoulder. Not equal are thise believers who sit (at home), other than those who have a (disabling) hurt, and those who strive in the way of Allaah. When Ibn Umm Makhtum who was blind heard the excellence of the warriors. He stood up and said “Apostle of Allaah(ﷺ) how is it for those believers who are unable to fight (in the path of Allaah)? When he finished his question his divinely-inspired calmness overtook him, and his thigh fell on my thigh and I found its weight the second time as I found the first time.” When the Apostle of Allaah(ﷺ) regained his composure, he said “Apostle of Allaah(ﷺ) said “Other than those who have a (disabling hurt). Zaid said “Allaah, the exalted, revealed it alone and I appended it.” By Him in Whose hands is my life, I am seeing, as it were the place where I put it (i.e., the verse) at the crack in the shoulder.”
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا ( یعنی وحی اترنے لگی ) ( اسی دوران ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑ گئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” لکھو “ ، میں نے شانہ ( کی ایک ہڈی ) پر «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں “ ( سورۃ النساء : ۹۵ ) آخر آیت تک لکھ لیا ، عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( ایک نابینا شخص تھے ) نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو کھڑے ہو کر کہا : اللہ کے رسول ! مومنوں میں سے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا حال ہے ؟ جب انہوں نے اپنی بات پوری کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر سکینت نے ڈھانپ لیا ( وحی اترنے لگی ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑی تو میں نے اس کا بھاری پن پھر دوسری بار محسوس کیا جس طرح پہلی بار محسوس کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” زید ! پڑھو “ ، تو میں نے «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» پوری آیت پڑھی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے : «غير أولي الضرر» کا اضافہ فرمایا ، زید کہتے ہیں : تو «غير أولي الضرر» کو اللہ نے الگ سے نازل کیا ، میں نے اس کو اس کے ساتھ شامل کر دیا ، اللہ کی قسم ! گویا میں شانہ کے دراز کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے شامل کیا تھا ۔
Anas bin Malik reported on the authority of his father, The Apostle of Allaah(ﷺ) said “ You left behind some people in Madeenah who did not fail to be with you wherever you went and whatever you spent (of your goods) and whatever valley you crossed. They asked Apostle of Allaah(ﷺ) how can they be with us when they are still in Madeenah? He replied “They were declined by a valid excuse.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم مدینہ میں کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آئے کہ تم کوئی قدم نہیں چلے یا کچھ خرچ نہیں کیا یا کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ تمہارے ساتھ رہے “ ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ ہمارے ہمراہ کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ وہ مدینہ میں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں عذر نے روک رکھا ہے “ ۔
Zaid bin Khalid al Juhani reported that Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “He who equips a fighter in Allaah’s path has taken part in the fighting. And he looks after a fighter’s family when he is away has taken part in the fighting.”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا “ ۔
Abu Sa’id Al Khudri said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent an expedition towards Banu Lihyan and said “One of the two persons should go forth. He then said to those who sat (at home), If any one of you looks after the family and property of a warrior, he will receive half the reward of the one who goes forth (in jihad).”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا : ” ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو “ ، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا : ” تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا “ ۔
AbuImran said: We went out on an expedition from Medina with the intention of (attacking) Constantinople. AbdurRahman ibn Khalid ibn al-Walid was the leader of the company. The Romans were just keeping their backs to the walls of the city. A man (suddenly) attacked the enemy.
Thereupon the people said: Stop! Stop! There is no god but Allah. He is putting himself into danger.
AbuAyyub said: This verse was revealed about us, the group of the Ansar (the Helpers). When Allah helped His Prophet (ﷺ) and gave Islam dominance, we said (i.e. thought): Come on! Let us stay in our property and improve it.
Thereupon Allah, the Exalted, revealed, "And spend of your substance in the cause of Allah, and make not your hands contribute to (your destruction)". To put oneself into danger means that we stay in our property and commit ourselves to its improvement, and abandon fighting (i.e. jihad).
AbuImran said: AbuAyyub continued to strive in the cause of Allah until he (died and) was buried in Constantinople.
اسلم ابوعمران کہتے ہیں کہ
ہم مدینہ سے جہاد کے لیے چلے ، ہم قسطنطنیہ کا ارادہ کر رہے تھے ، اور جماعت ( اسلامی لشکر ) کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید تھے ، اور رومی شہر ( قسطنطنیہ ) کی دیواروں سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے تھے ۱؎ ، تو ہم میں سے ایک دشمن پر چڑھ دوڑا تو لوگوں نے کہا : رکو ، رکو ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، یہ تو اپنی جان ہلاکت میں ڈال رہا ہے ، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ آیت تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں اتری ، جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا تو ہم نے اپنے دلوں میں کہا ( اب جہاد کی کیا ضرورت ہے ) آؤ اپنے مالوں میں رہیں اور اس کی دیکھ بھال کریں ، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ” اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو “ ( سورۃ البقرہ : ۱۹۵ ) اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں میں مصروف رہیں ، ان کی فکر کریں اور جہاد چھوڑ دیں ۔ ابوعمران کہتے ہیں : ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Allah, Most High, will cause three persons to enter Paradise for one arrow: the maker when he has a good motive in making it, the one who shoots it, and the one who hands it; so shoot and ride, but your shooting is dearer to me than your riding. Everything with which a man amuses himself is vain except three (things): a man's training of his horse, his playing with his wife, and his shooting with his bow and arrow. If anyone abandons archery after becoming an adept through distaste for it, it is a blessing he has abandoned; or he said: for which he has been ungrateful.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ ایک تیر سے تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے : ایک اس کے بنانے والے کو جو ثواب کے ارادہ سے بنائے ، دوسرے اس کے چلانے والے کو ، اور تیسرے اٹھا کر دینے والے کو ، تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو ، اور تمہارا تیر اندازی کرنا ، مجھے سواری کرنے سے زیادہ پسند ہے ، لہو و لعب میں سے صرف تین طرح کا لہو و لعب جائز ہے : ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو ادب سکھانا ، دوسرے اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا ، تیسرے اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرنا اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دیا ، تو یہ ایک نعمت ہے جسے اس نے چھوڑ دیا “ ، یا راوی نے کہا : ” جس کی اس نے ناشکری کی “ ۱؎ ۔
‘Uqabah bin Amir Al Juhani said “I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) recite when he was on the pulpit “Against them make ready your strength to the utmost of your power. Beware, strength is shooting, beware strength is shooting, beware strength is shooting.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا : آپ آیت کریمہ «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ” تم ان کے مقابلہ کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو “ ( سورۃ الأنفال : ۶۰ ) پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے : ” سن لو ، قوت تیر اندازی ہی ہے ، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے ، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Fighting is of two kinds: The one who seeks Allah's favour, obeys the leader, gives the property he values, treats his associates gently and avoids doing mischief, will have the reward for all the time whether he is asleep or awake; but the one who fights in a boasting spirit, for the sake of display and to gain a reputation, who disobeys the leader and does mischief in the earth will not return credit or without blame.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد دو طرح کے ہیں : رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی ، امام کی اطاعت کی ، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا ، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی ، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے ، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار ، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا ، امام کی نافرمانی کی ، اور زمین میں فساد مچایا تو ( اسے ثواب کیا ملنا ) وہ تو برابر برابر بھی نہیں لوٹا ۱؎ “ ۔
A man said: Messenger of Allah, a man wishes to take part in jihad in Allah's path desiring some worldly advantage? The Prophet (ﷺ) said: He will have not reward. The people thought it terrible, and they said to the man: Go back to the Messenger of Allah (ﷺ), for you might not have made him understand well. He, therefore, (went and again) asked: Messenger of Allah, a man wishes to take part in jihad in Allah's path desiring some worldly advantage? He replied: There is no reward for him. They again said to the man: Return to the Messenger of Allah. He, therefore, said to him third time. He replied: There is no reward for him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و منال چاہتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں “ ، لوگوں نے اسے بڑی بات سمجھی اور اس شخص سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو ، شاید تم انہیں نہ سمجھا سکے ہو ، اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و اسباب چاہتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں “ ، لوگوں نے اس شخص سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو ، اس نے آپ سے تیسری بار پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا : ” اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں “ ۔
Chapter 873: Whoever Fights So That The Word Of Allah Is Uppermost - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، : أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَيُقَاتِلُ لِيُحْمَدَ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم :
" مَنْ قَاتَلَ حَتَّى تَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ أَعْلَى فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Abu Musa said “A beduoin came to the Apostle of Allaah(ﷺ) and said “One man fights for reputation, one fights for being praised, one fights for booty and one for his place to be seen. (Which of them is in Allaah’s path?)”. The Apostle of Allaah(ﷺ) replied “The one who fights that Allaah’s word may have pre-eminence is in Allaah’s path.”
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : کوئی شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے کوئی جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے ، کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ مال غنیمت پائے اور کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ اس مرتبہ کا اظہار ہو سکے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے صرف اس لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے تو وہی اصل مجاہد ہے “ ۔
Messenger of Allah, tell me about jihad and fighting. He replied: Abdullah ibn Amr, if you fight with endurance seeking from Allah your reward, Allah will resurrect you showing endurance and seeking your reward from Him, but, if you fight for vain show seeking to acquire much, Allah will resurrect you making a vain show and seeking to acquire much. In whatever you fight or are killed, Abdullah ibn Amr, in that state Allah will resurrect you.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو ! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب ( ثواب کی نیت رکھنے والا ) بنا کر اٹھائے گا ، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا ، اے عبداللہ بن عمرو ! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: When your brethren were smitten at the battle of Uhud, Allah put their spirits in the crops of green birds which go down to the rivers of Paradise, eat its fruit and nestle in lamps of gold in the shade of the Throne. Then when they experienced the sweetness of their food, drink and rest, they asked: Who will tell our brethren about us that we are alive in Paradise provided with provision, in order that they might not be disinterested in jihad and recoil in war? Allah Most High said: I shall tell them about you; so Allah sent down; "And do not consider those who have been killed in Allah's path." till the end of the verse.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا ، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں ، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں ، جب ان روحوں نے اپنے کھانے ، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کر لی ، تو وہ کہنے لگیں : کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا “ ، راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ” جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو “ ( سورۃ آل عمران : ۱۶۹ ) اخیر آیت تک نازل فرمائی ۔
She reported on the authority of her paternal uncle: I asked the Prophet (ﷺ): Who are in Paradise? He replied: Prophets are in Paradise, martyrs are in Paradise, infants are in Paradise and children buried alive are in Paradise.
حسناء بنت معاویہ کے چچا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : جنت میں کون ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” نبی جنت میں ہوں گے ، شہید جنت میں ہوں گے ، ( نابالغ ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: The intercession of a martyr will be accepted for seventy members of his family.
Abu Dawud said: The correct name if the narrator is Rabah b. al-Walid (and not al-walid b. Rabah as occurred in the chain of narrators in the text of the tradition)
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں : ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے
اور ہم یتیم تھے ، انہوں نے کہا : خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ( ولید بن رباح کے بجائے ) صحیح رباح بن ولید ہے ۔
Chapter 876: Regarding The Visible Light At The Martyr's Grave - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ : آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " مَا قُلْتُمْ " . فَقُلْنَا : دَعَوْنَا لَهُ، وَقُلْنَا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " فَأَيْنَ صَلاَتُهُ بَعْدَ صَلاَتِهِ وَصَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ " . شَكَّ شُعْبَةُ فِي صَوْمِهِ : " وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ إِنَّ بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " .
Narrated Ubaydullah ibn Khalid as-Sulami:
The Messenger of Allah (ﷺ) made a brotherhood between two men, one of whom was killed (in Allah's path), and a week or thereabouts later the other died, and we prayed at his funeral). The Messenger of Allah (ﷺ) asked: What did you say? We replied: We prayed for him and said: O Allah, forgive him, and join him to his companion. The Messenger of Allah (ﷺ) said: What about his prayers since the time the other died, and his fasting since the time the other died--the narrator Shu'bah doubted the words, "his fasting--and his deeds since the time the other died. The distance between them is just like the distance between heaven and earth.
عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا ، ان میں سے ایک شہید کر دیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد ، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا ، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے کیا کہا ؟ “ ہم نے جواب دیا : ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ : اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی نمازیں کہاں گئیں ، جو اس نے اپنے ساتھی کے ( قتل ہونے کے ) بعد پڑھیں ، اس کے روزے کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد رکھے ، اس کے اعمال کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد کئے ؟ ان دونوں کے درجوں میں ایسے ہی فرق ہے جیسے آسمان و زمین میں فرق ہے ۱؎ “ شعبہ کو «صومه بعد صومه» اور «عمله بعد عمله» میں شک ہوا ہے ۔
AbuAyyub heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Capitals will be conquered at your hands, and you will have to raise companies in large armies. A man will be unwilling to join a company, so he will escape from his people and go round the tribes offering himself to them, saying: Whose place may I take in such and such expedition? Whose place may I take in such and such expedition? Beware: That man is a hireling to the last drop of his blood.
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” عنقریب تم پر شہر کے شہر فتح کئے جائیں گے اور عنقریب ایک بھاری لشکر ہو گا اور اسی میں سے تم پر ٹکڑیاں متعین کی جائیں گی ، تو تم میں سے جو شخص اس میں بغیر اجرت کے بھیجے جانے کو ناپسند کرے اور ( جہاد میں جانے سے بچنے کے لیے ) اپنی قوم سے علیحدہ ہو جائے ، پھر قبیلوں کو تلاش کرتا پھرے اور اپنے آپ کو ان پر پیش کرے اور کہے کہ : کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے ؟ کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے ؟ خبردار وہ اپنے خون کے آخری قطرہ تک مزدور ہی رہے گا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: The warrior gets his reward, and the one who equips him gets his own reward and that of the warrior.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد کرنے والے کو اس کے جہاد کا اجر ملے گا اور مجاہد کو تیار کرنے والے کو تیار کرنے اور غزوہ کرنے دونوں کا اجر ملے گا “ ۔