Abu Sa’id Al Khudri said “A Bedouin asked the Prophet (ﷺ) about emigration. He replied “Woe to you! The matter of emigration is severe. Have you a Camel? He said, Yes. He asked “Do you pay its zakat? He said, Yes. He said, Then work (anywhere) beyond the seas. Allaah will not reduce anything from (the reward of) your work.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے اوپر افسوس ہے ! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے ، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو ؟ “ اس نے کہا : ہاں ( دیتے ہیں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو ، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ۲؎ “ ۔
Miqdan bin Shuraih reported on the authority of his father. I asked A’ishah about settling in the desert (to worship Allaah in loneliness). She said “The Apostle of Allaah(ﷺ) would go out (from Madina) to these torrential streams. Once he intended to go out to the desert (for worshipping Allaah). He sent me a She-Camel from the Camels of sadaqah that was not used as a mount. He said to me “A’ishah be lenient, for leniency makes a thing decorated and when it is removed from a thing it makes it defective.
شریح کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء و بیابان ( میں زندگی گزارنے ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے ، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی ، اور مجھ سے فرمایا : ” عائشہ ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے ، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے “ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Migration will not end until repentance ends, and repentance will not end until the sun rises in the west.
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے ، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ۱؎“ ۔
Chapter 849: Regarding Hijrah: Has It Ended ? - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ
" لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
Ibn ‘Abbas reported that Apostle of Allah (ﷺ) as saying on the day of the conquest of Makkah:
There is no emigration (after the conquest of Makkah), but only Jihad (striving in the path of Allah) and some intention. So when you are summoned to go forth (for Jihad), go forth.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح ( مکہ ) کے دن فرمایا : ” اب ( مکہ فتح ہو جانے کے بعد مکہ سے ) ہجرت نہیں ( کیونکہ مکہ خود دارالاسلام ہو گیا ) لیکن جہاد اور ( ہجرت کی ) نیت باقی ہے ، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑو “ ۔
Chapter 849: Regarding Hijrah: Has It Ended ? - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَعِنْدَهُ الْقَوْمُ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " .
‘Amir said “A man came to ‘Abd Allaah bin ‘Amr while the people were with him. He sat with him and said “Tell me anything that you heard from the Apostle of Allaah(ﷺ)”. He said “I hears the Apostle of Allaah(ﷺ) say “A Muslim is he from whose tongue and hand the Muslims remain safe and an emigrant is he who abandons what Allaah has prohibited.””
عامر شعبی کہتے ہیں کہ
ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے یہاں تک کہ وہ بھی آ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا : مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے “ ۔
‘Abd Allaah bin ‘Amr said “ I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “There will be emigration after emigration and the people who are best will be those who cleave most closely to places which Abraham migrated. The worst of its people will remain in the earth cast out by their lands, abhorred by Allaah, collected along with apes and swine by fire.””
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ ( شام ) کو لازم پکڑیں گے ، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے ، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ۱؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی ۲؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: It will turn out that you will be armed troops, one is Syria, one in the Yemen and one in Iraq. Ibn Hawalah said: Choose for me, Messenger of Allah, if I reach that time. He replied: Go to Syria, for it is Allah's chosen land, to which his best servants will be gathered, but if you are unwilling, go to your Yemen, and draw water from your tanks, for Allah has on my account taken special charge of Syria and its people.
عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے ، ایک ٹکڑی شام میں ، ایک یمن میں اور ایک عراق میں “ ۔ ابن حوالہ نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس ٹکڑی میں رہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے اوپر شام کو لازم کر لو ، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے ، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا ، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا ، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے ۱؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: A section of my community will continue to fight for the right and overcome their opponents till the last of them fights with the Antichrist.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کا ایک گروہ ۱؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے ۲؎ “ ۔
Abu Sa’id (Al Khudri) reported The Prophet(ﷺ) was asked “Which believers are most perfect in respect of faith? He replied “A man who strives in the path of Allaah with his life and property and a man who worships Allaah in a mountain valley where he protects the people from his evil.””
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے ، نیز وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی ۱؎ میں اللہ کی عبادت کرتا ہو ، اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں “ ۔
A man said: Messenger of Allah, allow tourism for me. The Prophet (ﷺ) said: The tourism of my people is striving in the path of Allah, the Exalted.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے “ ۔
Chapter 855: Regarding The Virtues Of Fighting The Romans Compared To The Other Nations - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلاَّدٍ وَهِيَ مُنْتَقِبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنِهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِبَةٌ فَقَالَتْ إِنْ أُرْزَإِ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ " . قَالَتْ وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ " .
Narrated Thabit ibn Qays:
A woman called Umm Khallad came to the Prophet (ﷺ) while she was veiled. She was searching for her son who had been killed (in the battle) Some of the Companions of the Prophet (ﷺ) said to her: You have come here asking for your son while veiling your face? She said: If I am afflicted with the loss of my son, I shall not suffer the loss of my modesty. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You will get the reward of two martyrs for your son. She asked: Why is that so, Messenger of Allah? He replied: Because the people of the Book have killed him.
قیس بن شماس کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی ، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی ، ایک صحابی نے اس سے کہا : تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے ؟ اس نے کہا : اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے “ ، وہ کہنے لگی : ایسا کیوں ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: No one should sail on the sea except the one who is going to perform hajj or umrah, or the one who is fighting in Allah's path for under the sea there is a fire, and under the fire there is a sea.
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سمندر کا سفر نہ کرے مگر حج کرنے والا ، یا عمرہ کرنے والا ، یا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور اس آگ کے نیچے سمندر ہے “ ۔
Anas bin Malik (may Allaah be pleased with him) said “Umm Haram, daughter of Milhan, sister of Umm Sulaim, narrated to me that the Apostle of Allaah(ﷺ) took a mid day nap with them. He then awoke laughing. She said “I asked the Apostle of Allaah(ﷺ), what made you laugh?” He replied “I saw some people who ere sailing in the midst of the sea like kings on thrones. She said “I said the Apostle of Allaah(ﷺ) beseech Allaah that He may put me among them. He replied “You will be among them.” She said “He then slept and awoke laughing. She said “I asked the Apostle of Allaah(ﷺ), what made you laugh? He replied as he said in the first reply. She said “I said the Apostle of Allaah(ﷺ) beseech Allaah that HE may put me amongst them. He replied “You will be among the first. Then ‘Ubadah bin Al Samit married her and sailed on the sea on an expedition and took her with him. When he returned, a riding beast was brought near her to ride, but it threw her down. Her neck was broken and she died.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بہن ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں قیلولہ کیا ، پھر بیدار ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ فرمایا : ” میں نے اپنی امت میں سے چند لوگوں کو دیکھا جو اس سمندر کی پشت پر سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! دعا کیجئے ، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے ، فرمایا : ” تو انہیں میں سے ہے “ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! دعا کیجئے ، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پہلے لوگوں میں سے ہے “ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے شادی کی ، پھر انہوں نے سمندر میں جہاد کیا توا نہیں بھی اپنے ساتھ لے گئے ، جب لوٹے تو ایک خچر ان کی سواری کے لیے ان کے قریب لایا گیا ، تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ انتقال کر گئیں ۔
Anas bin Malik said “Whenever the Apostle of Allaah(ﷺ) went to Quba, he used to visit Umm Haram daughter of Milhan who was married to ‘Ubadah bin Al Samit. One day when he visited her she gave him food an sat clearing his head of lice. The narrator narrated the rest of the tradition.
Abu Dawud said “Daughter of Milhan died in Cyprus”.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے ، یہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں ، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی جوئیں نکالنے لگیں ۱؎ ، اور آگے راوی نے یہی حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بنت ملحان کا انتقال قبرص میں ہوا ۔
Umm Sulaim Al Rumaisa said “The Prophet(ﷺ) slept and awoke while she was washing her head.” He awoke laughing. She asked “Apostle of Allaah(ﷺ) are you laughing at my head?” He replied, No. She then narrated the rest of the tradition enlarging and reducing.
Abu Dawud said:
Al-Rumaisa was the foster sister of Umm Sulaim.
ام حرام رمیصاء ۱؎ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے پھر بیدار ہوئے ، اور وہ اپنا سر دھو رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا آپ میرے بال دیکھ کر ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : رمیصاء ام سلیم کی رضاعی بہن تھیں ۲؎ ۔
Umm Haram reported the Prophet(ﷺ) as saying “He who becomes sick on a stormy sea and vomits will have the reward of a martyr. And he who is drowned will have a reward of two martyrs.
ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( جہاد یا حج کے لیے ) سمندر میں سوار ہونے سے جس کا سر گھومے اور اسے قے آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے ، اور جو ڈوب جائے تو اس کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے “ ۔
Abu Umamat Al Bahili reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “There are three persons who are in the security of Allaah, the Exalted.” “A man who goes out on an expedition to fight in the path of Allaah, the Exalted, is in the security of Allaah, until He takes him unto Him(i.e., he dies) and brings him into Paradise or brings him(alive) with reward and booty he obtains and a man who goes to the mosque is in the security of Allaah, until he takes him unto Him(i.e., he dies), and he brings him into Paradise or brings him with reward and spoils he obtains; and a man who enters his house after giving salutation is in the security of Allaah, the Exalted.”
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین قسم کے افراد ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے : ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے ، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا ، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا ، دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف چلا ، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا ، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا ، تیسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہوا ، اللہ اس کا بھی ضامن ہے “ ۔
Buraidah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Respect to be shown by those who stay at home to the women of those who are engaged in jihad is t be like that shown to their mothers. If any man among those who stay at home is entrusted with the oversight of one’s family who is engaged in jihad and betrays him, he will be setup for him on the Day of Resurrection and he (the mujahid) will be told “This (man) was entrusted with the oversight of your family, so take what you want from his good deeds. The Apostle of Allaah(ﷺ) turned towards us and said “So what do you think.”
Abu Dawud said “Qa’nab (a narrator of this tradition) was a pious man. Ibn Abi Laila intended to appoint him a judge, but he refused and said “If I intend to fulfill my need of a dirham, I seek the help of a person for it. He said “Which of us does not seek the help in his need? He said “Bring me out so that I may see. So he was brought out, and he concealed himself. Sufyan said “While he was concealing himself.” Sufyan said “While he was concealing himself the house suddenly fell on him and he died.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجاہدین کی بیویوں کی حرمت جہاد سے بیٹھے رہنے والے لوگوں پر ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی حرمت ہے ، اور جو خانہ نشین مرد مجاہدین کے گھربار کی خدمت میں رہے ، پھر ان کے اہل میں خیانت کرے تو قیامت کے دن ایسا شخص کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا : اس شخص نے تیرے اہل و عیال میں تیری خیانت کی اب تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے “ ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” پھر تم کیا سمجھتے ہو ۱؎ ؟ “ ابوداؤد کہتے ہیں : قعنب ایک نیک آدمی تھے ، ابن ابی لیلیٰ نے قعنب کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس سے انکار کیا ، اور کہا کہ میں ایک درہم میں اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس میں کسی آدمی کی مدد لے سکوں ، پھر کہا : کون ہے جو اپنی ضرورت کے لیے کسی سے مدد نہیں لیتا ، پھر عرض کیا : تم لوگ مجھے نکال دو یہاں تک کہ میں دیکھوں ( کہ کیسے میری ضرورت پوری ہوتی ہے ) تو انہیں نکال دیا گیا ، پھر وہ ( ایک مکان میں ) چھپ گئے ، سفیان کہتے ہیں : اسی دوران کہ وہ چھپے ہوئے تھے وہ مکان ان پر گر پڑا اور وہ مر گئے ۔
‘Abd Allah bin Amr reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “No warlike party will go out to fight in Allaah’s path and gain booty without getting beforehand two-thirds of their rewards in the next world and one-third (of their reward) will remain. And if they do not gain booty, they will get their rewards in full.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجاہدین کی کوئی جماعت ایسی نہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتی ہو پھر مال غنیمت حاصل کرتی ہو ، مگر آخرت کا دو تہائی ثواب اسے پہلے ہی دنیا میں حاصل ہو جاتا ہے ، اور ایک تہائی ( آخرت کے لیے ) باقی رہتا ہے ، اور اگر اسے مال غنیمت نہیں ملا تو آخرت میں ان کے لیے مکمل ثواب ہو گا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: (The reward of) prayer, fasting and remembrance of Allah is enhanced seven hundred times over (the reward of) spending in Allah's path.
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( دوران جہاد ) نماز ، روزہ اور ذکر الٰہی ( کا ثواب ) جہاد میں خرچ کے ثواب پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے “ ۔
AbuMalik heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who goes forth in Allah's path and dies or is killed is a martyr, or has his neck broken through being thrown by his horse or by his camel, or is stung by a poisonous creature, or dies on his bed by any kind of death Allah wishes is a martyr and will go to Paradise.
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا پھر وہ مر گیا ، یا مار ڈالا گیا تو وہ شہید ہے ، یا اس کے گھوڑے یا اونٹ نے اسے روند دیا ، یا کسی سانپ اور بچھو نے ڈنک مار دیا ، یا اپنے بستر پہ ، یا موت کے کسی بھی سبب سے جسے اللہ نے چاہا مر گیا ، تو وہ شہید ہے ، اور اس کے لیے جنت ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Everyone who dies will have fully complete his action, except one who is on the frontier (in Allah's path), for his deeds will be made to go on increasing till the Day of Resurrection, and he will be safe from the trial in the grave.
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے ، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے ، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا “ ۔
Chapter 864: Regarding The Virtue Of Keeping Watch In The Cause Of Allah, The Mighty And Sublime - كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ أَبُو كَبْشَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَتْ عَشِيَّةً، فَحَضَرْتُ الصَّلاَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ آبَائِهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَشَائِهِمُ اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ . فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ : " تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ " . قَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَارْكَبْ " . فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلاَهُ وَلاَ نُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ " . فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى مُصَلاَّهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ : " هَلْ أَحْسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَسْنَاهُ . فَثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلاَتَهُ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَكُمْ فَارِسُكُمْ " . فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلاَلِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اطَّلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ " . قَالَ : لاَ إِلاَّ مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيًا حَاجَةً . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " قَدْ أَوْجَبْتَ فَلاَ عَلَيْكَ أَنْ لاَ تَعْمَلَ بَعْدَهَا " .
Narrated Sahl ibn al-Hanzaliyyah:
On the day of Hunayn we travelled with the Messenger of Allah (ﷺ) and we journeyed for a long time until the evening came. I attended the prayer along with the Messenger of Allah (ﷺ).
A horseman came and said: Messenger of Allah, I went before you and climbed a certain mountain where saw Hawazin all together with their women, cattle, and sheep, having gathered at Hunayn.
The Messenger of Allah (ﷺ) smiled and said: That will be the booty of the Muslims tomorrow if Allah wills. He then asked: Who will be on guard tonight?
Anas ibn AbuMarthad al-Ghanawi said: I shall , Messenger of Allah. He said: Then mount your horse. He then mounted his horse, and came to the Messenger of Allah (ﷺ).
The Messenger of Allah said to him: Go forward to this ravine till you get to the top of it. We should not be exposed to danger from your side. In the morning the Apostle of of Allah (ﷺ) came out to his place of prayer, and offered two rak'ahs. He then said: Have you seen any sign of your horseman?
They said: We have not, Messenger of Allah. The announcement of the time for prayer was then made, and while the Messenger of Allah (ﷺ) was saying the prayer, he began to glance towards the ravine. When he finished his prayer and uttered salutation, he said: Cheer up, for your horseman has come. We therefore began to look between the trees in the ravine, and sure enough he had come.
He stood beside the Messenger of Allah (ﷺ), saluted him and said: I continued till I reached the top of this ravine where the Messenger of Allah (ﷺ) commanded me, and in the morning I looked down into both ravines but saw no one.
The Messenger of Allah (ﷺ) asked him: Did you dismount during the night?
He replied: No, except to pray or to relieve myself. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You have ensured your entry to (Paradise). No blame will be attached to you supposing you do not work after it.
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے دن چلے اور بہت ہی تیزی کے ساتھ چلے ، یہاں تک کہ شام ہو گئی ، میں نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اتنے میں ایک سوار نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میں آپ لوگوں کے آگے گیا ، یہاں تک کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ سب کے سب اپنی عورتوں ، چوپایوں اور بکریوں کے ساتھ بھاری تعداد میں مقام حنین میں جمع ہیں ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : ” ان شاءاللہ یہ سب کل ہم مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گے “ ، پھر فرمایا : ” رات میں ہماری پہرہ داری کون کرے گا ؟ “ انس بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں کروں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو سوار ہو جاؤ “ ، چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس گھاٹی میں جاؤ یہاں تک کہ اس کی بلندی پہ پہنچ جاؤ اور ایسا نہ ہو کہ ہم تمہاری وجہ سے آج کی رات دھوکہ کھا جائیں “ ، جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر آئے ، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا : ” تم نے اپنے سوار کو دیکھا ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے اسے نہیں دیکھا ، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے لیکن دوران نماز کنکھیوں سے گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے ، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے اور سلام پھیرا تو فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ! تمہارا سوار آ گیا “ ، ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے ، یکایک وہی سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور سلام کیا اور کہنے لگا : میں گھاٹی کے بالائی حصہ پہ چلا گیا تھا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو جب صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں دکھائی پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” کیا تم آج رات گھوڑے سے اترے تھے ؟ “ ، انہوں نے کہا : نہیں ، البتہ نماز پڑھنے کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے اترا تھا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم نے اپنے لیے جنت کو واجب کر لیا ، اب اگر اس کے بعد تم عمل نہ کرو تو تمہیں کچھ نقصان نہ ہو گا ۱؎ “ ۔