The Messenger of Allah (ﷺ) said: Be on your guard against three things which provoke cursing: easing in the watering places and on the thoroughfares, and in the shade (of the tree).
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لعنت کی تین چیزوں سے بچو : مسافروں کے اترنے کی جگہ میں ، عام راستے میں ، اور سائے میں پاخانہ پیشاب کرنے سے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: No one of you should make water in his bath and then wash himself there (after urination).
The version of Ahmad has: Then performs ablution there, for evil thoughts come from it.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے ( حمام ) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے “ ۔ احمد کی روایت میں ہے : پھر اسی میں وضو کرے ، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
Chapter 15: Urinating In Al-Mustaham (The Bathing Area) - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - قَالَ لَقِيتُ رَجُلاً صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ .
Narrated A Man from the Companions:
Humayd al-Himyari said: I met a man (Companion of the Prophet) who remained in the company of the Prophet (ﷺ) just as AbuHurayrah remained in his company. He then added: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade that anyone amongst us should comb (his hair) every day or urinate in the place where he takes a bath.
حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ
میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح رہا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ، اس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے یا غسل خانہ میں پیشاب کرے ۔
The Prophet (ﷺ) prohibited to urinate in a hole.
Qatadah (a narrator) was asked about the reason for the disapproval of urinating in a hole. He replied: It is said that these (holes) are the habitats of the jinn.
عبدللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ لوگوں نے قتادہ سے پوچھا : کس وجہ سے سوراخ میں پیشاب کرنا ناپسندیدہ ہے ؟ انہوں نے کہا : کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کی جائے سکونت ( گھر ) ہے ۔
The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam) said: When any one of you urinates, he must not touch his penis with his right hand, and when he goes to relieve himself he must not wipe himself with his right hand (in the privy), and when he drinks, he must not drink in one breath.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے ، اور جب کوئی بیت الخلاء جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے ، اور جب پانی پیئے تو ایک سانس میں نہ پیئے “ ۔
Chapter 18: Disapproval Of Touching One's Private Part With The Right Hand While Purifying - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، - يَعْنِي الإِفْرِيقِيَّ - عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، وَمَعْبَدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ .
Narrated Hafsah, Ummul Mu'minin:
The Prophet (ﷺ) used his right hand for taking his food and drink and used his left hand for other purposes.
حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے ، پینے اور کپڑا پہننے کے لیے استعمال کرتے تھے ، اور اپنے بائیں ہاتھ کو ان کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone applies collyrium, he should do it an odd number of times. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm. If anyone cleanses himself with pebbles, he should use an odd number. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm.
If anyone eats, he should throw away what he removes with a toothpick and swallow what sticks to his tongue. If he does so, he has done well; if not, there is no harm. If anyone goes to relieve himself, he should conceal himself, and if all he can do is to collect a heap of send, he should sit with his back to it, for the devil makes sport with the posteriors of the children of Adam. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں ، جو شخص ( استنجاء کے لیے ) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے ، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ، جو شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو پردہ کرے ، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ۱؎ ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے ، اس میں ( حصین حبرانی کی جگہ ) حصین حمیری ہے ، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے ، اس میں ( ابوسعید کی جگہ ) ابوسعید الخیر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوسعید الخیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ۔
Shayban al-Qatbani reported that Maslamah ibn Mukhallad made Ruwayfi' ibn Thabit the governor of the lower parts (of Egypt). He added: We travelled with him from Kum Sharik to Alqamah or from Alqamah to Kum Sharik (the narrator doubts) for Alqam.
Ruwayfi' said: Any one of us would borrow a camel during the lifetime of the Prophet (ﷺ) from the other, on condition that he would give him half the booty, and the other half he would retain himself.
Further, one of us received an arrowhead and a feather, and the other an arrow-shaft as a share from the booty.
He then reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: You may live for a long time after I am gone, Ruwayfi', so, tell people that if anyone ties his beard or wears round his neck a string to ward off the evil eye, or cleanses himself with animal dung or bone, Muhammad has nothing to do with him.
شیبان قتبانی کہتے ہیں کہ
مسلمہ بن مخلد نے ( جو امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے بلاد مصر کے گورنر تھے ) رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ( مصر کے ) نشیبی علاقے کا عامل مقرر کیا ، شیبان کہتے ہیں : تو ہم ان کے ساتھ کوم شریک ۱؎ سے علقماء ۱؎ کے لیے یا علقما ء سے کوم شریک کے لیے روانہ ہوئے ، علقماء سے ان کی مراد علقام ہی ہے ، رویفع بن ثابت نے ( راستے میں مجھ سے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا اونٹ اس شرط پر لیتا کہ اس سے جو فائدہ حاصل ہو گا اس کا نصف ( آدھا ) تجھے دوں گا اور نصف ( آدھا ) میں لوں گا ، تو ہم میں سے ایک کے حصہ میں پیکان اور پر ہوتا تو دوسرے کے حصہ میں تیر کی لکڑی ۔ پھر رویفع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” رویفع ! شاید کہ میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو تو تم لوگوں کو خبر کر دینا کہ جس شخص نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی ۲؎ یا جانور کے گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر ، لید یا ہڈی سے استنجاء کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں “ ۔
This tradition has also been narrated by Abu Salim al-Jaishani on the authority of 'Abd Allaah b. 'Amr. He narrated this tradition at the time when he besieged the fort at the gate of Alyun.
Abu Dawud said:
The fort of Alyun lies at the mountain in Fustat. Abu Dawud said: The kunyah (surname) of Shaiban b. Umayyah is Abu Hudhaifah.
ابوسالم جیشانی نے
اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ ( مصر میں ) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : الیون کا قلعہ فسطاط ( مصر ) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے ۔
Chapter 20: The Objects With Which It Is Prohibited To Purify Oneself - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا . قَالَ فَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud:
A deputation of the jinn came to the Prophet (ﷺ) and said: O Muhammad, forbid your community to cleans themselves with a bone or dung or charcoal, for in them Allah has provided sustenance for us. So the Prophet (ﷺ) forbade them to do so.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : آپ اپنی امت کو ہڈی ، لید ( گوبر ، مینگنی ) ، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any of you goes to relieve himself, he should take with him three stones to cleans himself, for they will be enough for him.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے ، انہی سے استنجاء کرے ، یہ اس کے لیے کافی ہیں “ ۔
The Prophet (ﷺ) was asked about cleansing (after relieving oneself). He said: (One should cleanse oneself) with three stones which should be free from dung.
Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by Abu Usamah and Ibn Numair from Hisham.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
The Prophet (ﷺ) urinated and Umar was standing behind him with a jug of water. He said: What is this, Umar? He replied: Water for you to perform ablution with. He said: I have not been commanded to perform ablution every time I urinate. If I were to do so, it would become a sunnah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا ، عمر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک کوزہ ( کلھڑ ) لے کر آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” عمر ! یہ کیا چیز ہے ؟ “ ، عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : آپ کے وضو کا پانی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ایسا حکم نہیں ہوا کہ جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں ، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت ( واجبہ ) بن جائے گی “ ۔
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) entered a park. He was accompanied by a boy who had a jug of water with him. He was the youngest of us. He placed it near the lote-tree. He ( the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam ) relieved himself. He came to us after he had cleansed himself with water.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا ، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا ، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے ۔
The Prophet (ﷺ) said: The following verse was revealed in connection with the people of Quba': "In it are men who love to be purified" (ix.108). He (AbuHurayrah) said: They used to cleanse themselves with water after easing. So the verse was revealed in connection with them.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «فيه رجال يحبون أن يتطهروا» ۱؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے ، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے ، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی “ ۔
When the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) went to the privy, I took to him water in a small vessel or a skin, and he cleansed himself. He then wiped his hand on the ground. I then took to him another vessel and he performed ablution.
Abu Dawud said : The tradition is transmitted by al-Aswad b. 'Amir is more perfect.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو میں پیالے یا چھاگل میں پانی لے کر آپ کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاکی حاصل کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وکیع کی روایت میں ہے : ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے ، پھر میں پانی کا دوسرا برتن آپ کے پاس لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو کرتے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسود بن عامر کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
(the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam ) as saying : Were it not that I might oeverburdern the believers, I would order them to delay the night ('isha ) prayer and use the tooth-stick at the time of every prayer.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں مومنوں پر دشوار نہ سمجھتا تو ان کو نماز عشاء کو دیر سے پڑھنے ، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Were it not hard on my ummah, I would order them to use the tooth-stick at the time of every prayer. AbuSalamah said: Zayd ibn Khalid used to attend the prayers in the mosque with his tooth-stick on his ear where a clerk carries a pen, and whenever he got up for prayer he used it.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اگر میں اپنی امت پر دشواری محسوس نہ کرتا تو ہر نماز کے وقت انہیں مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔ ابوسلمہ ( ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) کہتے ہیں : میں نے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز کے لیے مسجد میں بیٹھے رہتے اور مسواک ان کے کان پر ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم لگا رہتا ہے ، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کر لیتے ( پھر کان کے اوپر رکھ لیتے ) ۔
Muhammad ibn Yahya ibn Habban asked Abdullah ibn Abdullah ibn Umar about the reason for Ibn Umar's performing ablution for every prayer, whether he was with or without ablution.
He replied: Asma', daughter of Zayd ibn al-Khattab, reported to me that Abdullah ibn Hanzalah ibn AbuAmir narrated to her that the Messenger of Allah (ﷺ) was earlier commanded to perform ablution for every prayer whether or not he was with ablution.
When it became a burden for him, he was ordered to use tooth-stick for every prayer. As Ibn Umar thought that he had the strength (to perform the ablution for every prayer), he did not give up performing ablution for every prayer.
Abu Dawud said: Ibrahim b. Sa'd narrated this tradition on the authority of Muhammad b. Ishaq, and there he mentions the name of 'Ubaid Allah b. 'Abd Allah (instead of 'Abd Allah b. 'Abd Allah b. 'Umar)
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا : آپ بتائیں کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا سبب ( خواہ وہ باوضو ہوں یا بے وضو ) کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے ہوں یا بے وضو ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم دشوار ہوا ، تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا گیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا خیال تھا کہ ان کے پاس ( ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی ) قوت ہے ، اس لیے وہ کسی بھی نماز کے لیے اسے چھوڑتے نہیں تھے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَرَأَيْتُهُ يَسْتَاكُ عَلَى لِسَانِهِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَسْتَاكُ وَقَدْ وَضَعَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِ لِسَانِهِ - وَهُوَ يَقُولُ
" إِهْ إِهْ " . يَعْنِي يَتَهَوَّعُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مُسَدَّدٌ فَكَانَ حَدِيثًا طَوِيلاً اخْتَصَرْتُهُ .
Narrated Abu Burdah:
On the authority of his father ( Abu Musa al-Ash'ari), reported (according to the version of Musaddad) : We came to the Apostle of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) to provide us with a mount, and found him using the tooth-stick, its one end being at his tongue (i.e. he wsa rinsing his mouth).
According to the version of Sulaiman it goes : I entered upon the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) who was using the tooth-stick, and had it placed at one side of his tongue, producing a gurgling sound.
Abu Dawud said : Musaddad said that the tradition was a lengthy but he shortened it.
ابوموسیٰ اشعری ( عبداللہ بن قیس ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( مسدد کی روایت میں ہے کہ ) ہم
سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور سلیمان کی روایت میں ہے : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے ” اخ اخ “ جیسے آپ قے کر رہے ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد نے کہا : حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کر دیا ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) was using the tooth-stick, when two men, one older than the other, were with him. A revelation came to him about the merit of using the tooth-stick. He was asked to show proper respect and give it to the elder of the two.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی تھے ، ان میں ایک دوسرے سے عمر میں بڑا تھا ، اسی وقت اللہ نے مسواک کی فضیلت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے ۔