Chapter 2: Choosing An Appropriate Place To Urinate - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ فَكَانَ يُحَدَّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، فَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى أَبِي مُوسَى يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى إِنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَأَتَى دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم
" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ مَوْضِعًا " .
Abu al-Tayyah reported on the authority of a shaykh (an old man):
When Abdullah ibn Abbas came to Basrah, people narrated to him traditions from AbuMusa. Therefore Ibn Abbas wrote to him asking him about certain things. In reply AbuMusa wrote to him saying: One day I was in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). He wanted to urinate. Then he came to a soft ground at the foot of a wall and urinated. He (the Prophet) then said: If any of you wants to urinate, he should look for a place (like this) for his urination.
ابوالتیاح کہتے ہیں کہ
ایک شیخ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب بصرہ آئے تو وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیثیں بیان کرتے تھے ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں وہ ان سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھ رہے تھے ، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب میں انہیں لکھا کہ ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کا ارادہ کیا تو ایک دیوار کی جڑ کے پاس نرم زمین میں آئے اور پیشاب کیا ، پھر فرمایا ” جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنا چاہے تو وہ اپنے پیشاب کے لیے نرم جگہ ڈھونڈھے “ ۱؎ ۔
When the Apostle of Allaah (sal Allahu alayhi wa sallam) entered the toilet, he used to say (before entering): "O Allaah, I seek refuge in Thee." This is according to the version of Hammad. 'Abd al-Warith has another version :"I seek refuge in Allaah from male and female devils."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے ( حماد کی روایت میں ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں “ کہتے ، اور عبدالوارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» ” میں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں ( کے شر ) سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں “ کہتے ۔
" O Allaah, I seek refuge in Thee."
Shu'bah said: Anas sometimes reported the words: "I take refuge in Allah."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے
اس میں «اللهم إني أعوذ بك» ہے ، یعنی ” اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں “ ۔ شعبہ کا بیان ہے کہ عبدالعزیز نے ایک بار «أعوذ بالله» ” میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں “ کی بھی روایت کی ہے ، اور وہیب نے عبدالعزیز بن صہیب سے جو روایت کی ہے اس میں «فليتعوذ بالله» ” چاہیئے کہ اللہ سے پناہ مانگے “ کے الفاظ ہیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: These privies are frequented by the jinns and devils. So when anyone amongst you goes there, he should say: "I seek refuge in Allah from male and female devils."
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں ، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے “ ۔
It was said to Salman: Your Prophet teaches you everything, even about excrement. He replied: Yes. He has forbidden us to face the qiblah at the time of easing or urinating, and cleansing with right hand, and cleansing with less than three stones, or cleansing with dung or bone.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ان سے ( بطور استہزاء ) یہ کہا گیا کہ تمہارے نبی نے تو تمہیں سب چیزیں سکھا دی ہیں حتیٰ کہ پاخانہ کرنا بھی ، تو انہوں نے ( فخریہ انداز میں ) کہا : ہاں ، بیشک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہونے ، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے ، استنجاء میں تین سے کم پتھر استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) as saying: I am like father to you. When any of you goes to privy, he should not face or turn his back towards the qiblah. He should not cleanse with his right hand. He (the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam) also commanded the Muslims to use three stones and forbade them to use dung or decayed bone.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( لوگو ! ) میں تمہارے لیے والد کے درجے میں ہوں ، تم کو ( ہر چیز ) سکھاتا ہوں ، تو جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے نہ بیٹھے ، اور نہ ( ہی ) داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( استنجاء کے لیے ) تین پتھر لینے کا حکم فرماتے ، اور گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکتے تھے ۔
That he (the Holy Prophet, sal Allahu alayhi wa sallam) said:"When you go to the privy, neither turn your face nor your back towards the qiblah at the time of excretion or urination, but turn towards the east or the west. (Abu Ayyub said): When we came to Syria, we found that the toilets already built there were facing the qiblah, We turned our faces away from them and begged pardon of Allaah.
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو پاخانہ اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو ، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف رخ کر لیا کرو “ ۱؎ ، ( ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) پھر ہم ملک شام آئے تو وہاں ہمیں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے ملے ، تو ہم پاخانہ و پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف سے رخ پھیر لیتے تھے ، اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden us to face the two qiblahs at the time of urination or excretion.
معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں ( بیت اللہ اور بیت المقدس ) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوزید بنی ثعلبہ کے غلام ہیں ۔
I saw Ibn Umar make his camel kneel down facing the qiblah, then he sat down urinating in its direction. So I said: AbuAbdurRahman, has this not been forbidden? He replied: Why not, that was forbidden only in open country; but when there is something between you and the qiblah that conceals you , then there is no harm.
مروان اصفر کہتے ہیں
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ، انہوں نے قبلہ کی طرف اپنی سواری بٹھائی پھر بیٹھ کر اسی کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے لگے ، میں نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت ہے ) کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں ، اس سے صرف میدان میں روکا گیا ہے لیکن جب تمہارے اور قبلہ کے بیچ میں کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے آڑ ہو تو کوئی حرج نہیں ۱؎ ۔
I ascended the roof of the house and saw the Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam) sitting on two bricks facing Jerusalem (Bait al-Maqdis) for relieving himself.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
( ایک روز ) میں ( کسی ضرورت سے ) گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے دو اینٹوں پر اس طرح بیٹھے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا ۱؎ ۔
The Prophet of Allah (ﷺ) forbade us to face the qiblah at the time of making water. Then I saw him facing it (qiblah) urinating or easing himself one year before his death.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا ، ( لیکن ) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( قضائے حاجت کی حالت میں ) قبلہ رو دیکھا ۱؎ ۔
When the Prophet (ﷺ) wanted to relieve himself, he would not raise his garment, until he lowered himself near the ground.
Abu DAwud said: This tradition has been transmitted by 'Abd al-Salam b. Harb on the authority of al-A'mash from Anas b. Malik. This chain of narrators is weak (because A'mash's hearing tradition from Anas b. Malik is not established).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا ( شرمگاہ سے اس وقت تک ) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہو جاتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالسلام بن حرب نے اعمش سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، مگر یہ ضعیف ہے ۱؎ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When two persons go together for relieving themselves uncovering their private parts and talking together, Allah, the Great and Majestic, becomes wrathful at this (action).
Abu Dawud said: This tradition has been narrated only by 'Ikrimah b. 'Ammar.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ” دو آدمی قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت شرمگاہ کھولے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو عکرمہ بن عمار کے علاوہ کسی اور نے مسنداً ( مرفوعاً ) روایت نہیں کیا ہے ۔
Chapter 8: Returning Salam While Urinating ? - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَيَمَّمَ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلاَمَ .
Narrated Ibn 'Umar :
A man passed by the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) while he was urinating, and saluted him. The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam) did not return the salutation to him.
Abu Dawud said : It is narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam) performed tayammum, then he returned the salutation to the man.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن ) پیشاب کر رہے تھے ( کہ اسی حالت میں ) ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اور اس نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عمر وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کیا ، پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا ۔
Muhajir came to the Prophet (ﷺ) while he was urinating. He saluted him. The Prophet (ﷺ) did not return the salutation to him until he performed ablution. He then apologised to him, saying: I disliked remembering Allah except in the state of purification.
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو انہوں نے آپ کو سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ وضو کیا پھر ( سلام کا جواب دیا اور ) مجھ سے معذرت کی اور فرمایا ” مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں “ ۔ راوی کو شک ہے «على طهر» کہا ، یا «على طهارة» کہا ۔
Chapter 10: Entering The Area In Which One Relieves Oneself With A Ring Upon Which Allah's Name Is Engraved - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ أَلْقَاهُ . وَالْوَهَمُ فِيهِ مِنْ هَمَّامٍ وَلَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ هَمَّامٌ .
Narrated Anas ibn Malik:
When the Prophet (ﷺ) entered the privy, he removed his ring.
Abu Dawud said: This is a munkar tradition, i.e. it contradicts the well-known version reported by reliable narrators. On the authority of Anas the well-known version says: The Prophet (ﷺ) had a silver ring made for him. Then he cast it off. The misunderstanding is on the part of Hammam (who is the narrator of the previous tradition mentioned in the text). This is transmitted only by Hammam.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی نکال کر رکھ دیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے ، معروف وہ روایت ہے جسے ابن جریج نے زیاد بن سعد سے ، زیاد نے زہری سے اور زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ( اسے پہنا ) پھر اسے نکال کر پھینک دیا ۔ اس حدیث میں ہمام راوی سے وہم ہوا ہے ، اسے صرف ہمام ہی نے روایت کیا ہے ۔
The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) passed by two graves. He said : Both (the dead) are being punished, but they are not being punished for a major (sin). One did not safeguard himself from urine. The other carried
tales. He then called for a fresh twig and split it into two parts and planted one part on each grave and said: Perhaps their punishment may be mitigated as long as the twigs remain fresh.
Another version of Hannad has: "One of them did not cover himself while urinating." This version does not have the words: "He did not safeguard himself from urine."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قبر میں مدفون ) ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ، ان میں سے یہ شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا ، اور رہا یہ تو یہ چغل خوری میں لگا رہتا تھا “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی ، اور اسے بیچ سے پھاڑ کر دونوں قبروں پر ایک ایک شاخ گاڑ دی پھر فرمایا ” جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں شاید ان کا عذاب کم رہے “ ۔ ھناد نے «يستنزه» کی جگہ «يستتر» ( پردہ نہیں کرتا تھا ) ذکر کیا ہے ۔
Chapter 11: Avoiding (The Splatter) Of Urine - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ " كَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ " . وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ " يَسْتَنْزِهُ " .
Narrated Ibn 'Abbas:
A tradition from the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) conveying similar meaning.
The version of Jarir has the wording : "he did not cover himself while urinating."
The version of Abu Mu'awiyah has the wording: "he did not safeguard himself (from urine)."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے
اس میں جریر نے «كان لا يستتر من بوله» کہا ہے ، اور ابومعاویہ نے «يستتر» کی جگہ «يستنزه» ” وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا “ کا لفظ ذکر کیا ہے ۔
AbdurRahman ibn Hasanah reported: I and Amr ibn al-'As went to the Prophet (ﷺ). He came out with a leather shield (in his hand). He covered himself with it and urinated. Then we said: Look at him. He is urinating as a woman does. The Prophet (ﷺ), heard this and said: Do you not know what befell a person from amongst Banu Isra'il (the children of Israel)? When urine fell on them, they would cut off the place where the urine fell; but he (that person) forbade them (to do so), and was punished in his grave.
Abu Dawud said: One version of Abu Musa has the wording: "he cut off his skin".
Another version of Abu Musa goes: "he cut off (part of) his body."
عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں :
میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے تو ( دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( باہر ) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے ، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑ کی پھر پیشاب کیا ، ہم نے کہا : آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح ( چھپ کر ) پیشاب کر رہے ہیں ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا ؟ ان میں سے جب کسی شخص کو ( اس کے جسم کے کسی حصہ میں ) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا ، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : منصور نے ابووائل سے ، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ، ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے ، اور عاصم نے ابووائل سے ، انہوں نے ابوموسیٰ سے ، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے ۔
The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) came to a midden of some people and urinated while standing. He then asked for water and wiped his shoes.
Abu Dawud said: Musaddad, a narrator, reported: I went far away from him. He then called me and I reached just near his heals.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے خانہ ( گھور ) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎ پھر پانی منگوایا ( اور وضو کیا ) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کا بیان ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں پیچھے ہٹنے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( قریب ) بلایا ( میں آیا ) یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس ( کھڑا ) تھا ۔
The Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) as saying : Be on your guard against two things which provoke cursing. They (the hearers) said : Prophet of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam), what are these things which provoke cursing: easing in the watering places and on the thoroughfares, and in the shade (of the tree)(where they take shelter and rest).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لعنت کے دو کاموں سے بچو “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے یا ان کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے ۱؎ “ ۔