Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2922

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 19: Shares of Inheritance (Kitab Al-Fara'id) - كتاب الفرائض

Hadith 2922

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ‏}‏ قَالَ كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ تُوَرِّثُ الأَنْصَارَ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ ‏}‏ قَالَ نَسَخَتْهَا ‏{‏ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ‏}‏ مِنَ النُّصْرَةِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ وَيُوصِي لَهُ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ ‏.‏

Ibn 'Abbas explained the following Qur'anic verse :

"To those also, to whom your right hand was pledged, give your portion." When the Emigrants came to Medina. they inherited from the Helpers without any blood-relationship with them for the brotherhood which the Messenger of Allah (ﷺ) established between them. When the following verse was revealed: "To (benefit) everyone we have appointed shares and heirs to property left by parent and relatives." it abrogated the verse: "To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion." This alliance was made for help, well wishing and cooperation. Now a legacy can be made for him. (The right to)inheritance was abolished.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ کے قول : «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» کا قصہ یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو اس مواخات ( بھائی چارہ ) کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان کرا دی تھی وہ انصار کے وارث ہوتے ( اور انصار ان کے وارث ہوتے ) اور عزیز و اقارب وارث نہ ہوتے ، لیکن جب یہ آیت «ولكل جعلنا موالي مما ترك» ” ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ کر مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیے ہیں “ ( سورۃ النساء : ۳۳ ) نازل ہوئی تو «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم » والی آیت کو منسوخ کر دیا ، اور اس کا مطلب یہ رہ گیا کہ ان کی اعانت ، خیر خواہی اور سہارے کے طور پر جو چاہے کر دے نیز ان کے لیے وہ ( ایک تہائی مال ) کی وصیت کر سکتا ہے ، میراث ختم ہو گئی ۔

In-book reference : Book 19, Hadith 38
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00