حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ { وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ } كَانَ الرَّجُلُ يُحَالِفُ الرَّجُلَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا نَسَبٌ فَيَرِثُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَنَسَخَ ذَلِكَ الأَنْفَالُ فَقَالَ تَعَالَى { وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ } .
Narrated Ibn 'Abbas:
To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion. A man made an agreement with another man (in early days of Islam), and there was no relationship between the ; one of them inherited from the other. The following verse of Surat Al-Anfal abrogated it: "But kindred by blood have prior right against each other."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
اللہ تعالیٰ کے فرمان : «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» ” جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دے دو “ ( سورۃ النساء : ۳۳ ) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا ، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت : «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» ” اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں “ ( سورۃ الانفال : ۷۵ ) سے منسوخ ہو گیا ۔