It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“Every good deed of the son of Adam will be multiplied manifold.
A
good deed will be multiplied ten times up to as many as seven
hundred
times, or as much as Allah wills. Allah says: ‘Except for
fasting,
which is for Me and I shall reward for it. He gives up his
desire and
his food for My sake.’ The fasting person has two joys, one
when he
breaks his fast and another when he meets his Lord. The smell
that
comes from the mouth of a fasting person is better before Allah
than
the fragrance of musk.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے ، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے ، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت ، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے “ ۱؎ ۔
Mutarrif, from the tribe of Banu ‘Amir bin Sa’sa’ah narrated
that
‘Uthman bin Abul-‘As Ath-Thaqafi invited him to drink some
milk that
he poured for him. Mutarrif said:
“I am fasting.”
‘Uthman said: “I
heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Fasting
is a shield against
the Fire just like the shield of anyone of you
against fighting.’”
قبیلہ عامر بن صعصعہ کے مطرف نامی ایک فرد بیان کرتے ہیں کہ
عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ منگایا ، تو انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں ، اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” روزہ جہنم سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں ڈھال ہوتی ہے “ ۔
Chapter 1: What was narrated concerning the virtues of fasting - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ:
" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا " .
It was
narrated from Sahl bin Sa’d that the Prophet (ﷺ) said:
“In
Paradise there is a gate called Rayyan. On the Day of Resurrection
the
call will go out saying: ‘Where are those who used to fast?’
Whoever
is among those who used to fast will enter it, and whoever
enters it
will never experience thirst again.”
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے ، قیامت کے دن پکارا جائے گا ، کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں ؟ تو جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ اس دروازے سے داخل ہو گا اور جو اس میں داخل ہو گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا “ ۔
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“When the first night of Ramadan comes, the satans and
mischievous
jinns are chained up, and the gates of the Fire are
closed, and none
of its gates are opened. The gates of Paradise are
opened and none of
its gates are closed. And a caller cries out: ‘O
seeker of good,
proceed, O seeker of evil, stop.’ And Allah has necks
(people) whom
He frees (from the Fire), and that happens every day.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا ، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا ، منادی پکارتا ہے : اے بھلائی کے چاہنے والے ! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ ، اور اے برائی کے چاہنے والے ! اپنی برائی سے رک جا ، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے ، اور یہ ( رمضان کی ) ہر رات کو ہوتا ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 2: What was narrated concerning the virtues of Ramadan - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ وَلاَ يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلاَّ مَحْرُومٌ " .
It was
narrated that Anas bin Malik said:
“Ramadan began, and the
Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘This month has come to you, and in
it
there is a night that is better than a thousand months. Whoever is
deprived of it is deprived of all goodness, and no one is deprived of
its goodness except one who is truly deprived.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رمضان آیا تو رسول کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ مہینہ آ گیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، جو اس سے محروم رہا وہ ہر طرح کے خیر ( بھلائی ) سے محروم رہا ، اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہے گا جو ( واقعی ) محروم ہو “ ۔
Chapter 3: What was narrated concerning fasting on the day of doubt - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَأُتِيَ بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was
narrated that Silah bin Zufar said:
“We were with ‘Ammar on
the
day concerning which there was some doubt. A (roasted) sheep was
brought and some of the people moved away. ‘Ammar said: ‘Whoever
is
fasting on this day has disobeyed Abu Qasim (ﷺ).’”
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ
ہم شک والے دن میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے ان کے پاس ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی بعض لوگ اس کو دیکھ کر الگ ہو گئے ، ( کیونکہ وہ روزے سے تھے ) عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : جس نے ایسے دن میں روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎ ۔
It was
narrated from Qasim Abu ‘Abdur-Rahman that he heard Mu’awiyah
bin
Abu Sufyan on the pulpit saying:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
used
to say from the pulpit, before the month of Ramadan: ‘Fasting
will
begin on such and such a day, but we are going to start fasting
earlier, so whoever wants to start fasting earlier (i.e., in
Sha’ban),
let him do so, and whoever wants to wait until Ramadan
begins, let him
do so.’”
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما منبر پر کہہ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے پہلے منبر پر فر مار ہے تھے : ” روزہ فلاں فلاں دن شروع ہو گا ، اور ہم اس سے پہلے سے روزہ رکھنے والے ہیں لہٰذا جس کا جی چاہے پہلے سے روزہ رکھے ، اور جس کا جی چا ہے مؤخر کرے “ ۱؎ ۔
Chapter 4: What was narrated concerning joining Sha`ban to Ramadan - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْغَازِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ .
It was
narrated that Rabi’ah bin Ghaz asked ‘Aishah about the fasting
of
the Messenger of Allah (ﷺ). She said:
“He used to fast all of
Sha’ban, until he joined it to Ramadan.”
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ
انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 5: What was narrated concerning the prohibition of anticipating Ramadan by fasting before it, except for one who has a habitual pattern of fasting and it coincides with that - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ تَقَدَّمُوا صِيَامَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلاَ بِيَوْمَيْنِ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَيَصُومُهُ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘Do not anticipate Ramadan by fasting one or two days before,
except for a man who has a habitual pattern of fasting, in which case
let him fast.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے “ ۱؎ ۔
Chapter 5: What was narrated concerning the prohibition of anticipating Ramadan by fasting before it, except for one who has a habitual pattern of fasting and it coincides with that - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، قَال: حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلاَ صَوْمَ حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘When it is the middle of Sha’ban, do not fast until Ramadan
comes.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نصف شعبان ہو جائے ، تو روزے نہ رکھو ، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے “ ۱؎ ۔
“A Bedouin came to the Prophet
(ﷺ) and said: ‘I have seen the new crescent tonight.’ He said:
‘Do
you bear witness that none has the right to be worshipped but
Allah
and that Muhammad is the Messenger of Allah (ﷺ)?’ He said:
‘Yes.’ He
said: ‘Get up, O Bilal, and announce to the people
that they should
fast tomorrow.’”
Abu 'Ali said: "This is how it
was narrated from Walid bin Abu
Thawr and Hasan bin 'Ali. It was
also narrated from Hammad bin
Salamah, but he did not mention
Ibn 'Abbas. He said: 'And he
announced that they should
perform the prayer and that they
should fast.'"
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے کہا : رات میں نے چاند دیکھا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے بلال اٹھو ، اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ لوگ کل روزہ رکھیں “ ۔ ابوعلی کہتے ہیں : ایسے ہی ولید بن ابی ثور اور حسن بن علی کی روایت ہے ، اس کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا اور کہا : تو بلال رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ لوگ قیام اللیل کریں ( یعنی صلاۃ تراویح پڑھیں ) اور روزہ رکھیں ۔
Chapter 6: What was narrated concerning the testimony that one has seen the crescent - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي، مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالُوا: أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلاَلُ شَوَّالٍ. فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا. فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلاَلَ بِالأَمْسِ. فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُفْطِرُوا وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ .
It was
narrated that ‘Umair bin Anas bin Malik said:
“My paternal
uncles
among the Ansar who were among the Companions of the Messenger
of
Allah (ﷺ) told me: ‘The new crescent of Shawwal was covered with
clouds, so we fasted the next day. Then some riders came at the end
of the day and testified to the Prophet (ﷺ) that they had seen the
new crescent the night before. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded
them to break their fast and to go out to offer the ‘Eid prayer the
following morning.’”
ابوعمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ
میرے انصاری چچاؤں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہمارے اوپر شوال کا چاند مشتبہ ہو گیا تو اس کی صبح ہم نے روزہ رکھا ، پھر شام کو چند سوار آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور دوسرے دن صبح عید کے لیے نکلیں ۱؎ ۔
Chapter 7: What was narrated concerning: “Fast when you see it (the new crescent) and stop fasting when you see it” - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا . فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " . وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَصُومُ قَبْلَ الْهِلاَلِ بِيَوْمٍ .
It was
narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘When you see the new crescent, fast, and when you see it, stop
fasting. If it is cloudy then calculate it (as thirty days).” Ibn
‘Umar used to fast one day before the new crescent was seen.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو ، اور چاند دیکھ کر ہی روزہ توڑا کرو ، اور اگر چاند بادل کی وجہ سے مشتبہ ہو جائے تو تیس دن کی تعداد پوری کرو “ ۱؎ ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاند نکلنے کے ایک روز پہلے سے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے ۔
Chapter 8: What was narrated concerning: “The month is twenty-nine (days)” - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟ " . قَالَ: قُلْنَا: اثْنَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَتْ ثَمَانٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَالشَّهْرُ هَكَذَا " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘How much of the month has passed?” We said: “Twenty-two
(days),
and there are eight left.” The Messenger of Allah (ﷺ)
said: “The
month is like that, and the month is like that, (and the
month is like
that), three times, and he withheld one finger the last
time.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں ؟ “ ہم نے عرض کیا : بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ اتنا ، اتنا اور اتنا ہے ، اور تیسری بار ایک انگلی بند کر لی “ ۱؎ ۔
Chapter 8: What was narrated concerning: “The month is twenty-nine (days)” - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فِي الثَّالِثَةِ .
It was
narrated from Muhammad bin Sa’d bin Abu Waqqas that his father
said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The month is like that
and
like that and like that,’ and he showed nine fingers on the
third time
to indicate twenty-nine.”
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ اتنا ، اتنا اور اتنا ہے ، تیسری دفعہ میں ۲۹ کا عدد بنایا “ ۔
Chapter 8: What was narrated concerning: “The month is twenty-nine (days)” - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا صُمْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلاَثِينَ .
It was
narrated that Abu Hurairah said:
"(The months in which) We fasted twenty-nine days at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), were
more than (the months in which) we fasted thirty days.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں ۔
Chapter 10: What was narrated concerning fasting while traveling - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ .
It was
narrated that Ibn ‘Abbas said:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
fasted while he was traveling, and he broke his fast.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے ، اور نہیں بھی رکھا ہے ۱؎ ۔
Chapter 10: What was narrated concerning fasting while traveling - كتاب الصيام
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ حَمْزَةُ الأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ: إِنِّي أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
It was
narrated that ‘Aishah said:
“Hamzah Al-Aslami asked the
Messenger
of Allah (ﷺ): ‘I am fasting, should I fast while
traveling?’
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If you wish, then
fast, and if
you wish, then break your fast.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میں روزہ رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو ، اور چاہو تو نہ رکھو “ ۔