Chapter 1: What was narrated concerning visiting the sick - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتَّةٌ بِالْمَعْرُوفِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " .
It was
narrated that ‘Ali said that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“The Muslim has six courtesies due from the Muslim: He should
greet
him with Salam when he meets him; he should accept his
invitation if
he invites him; he should answer [by Yarhamuk-Allah (may
Allah have
mercy on you)] to him if he sneezes (and says Al-
Hamdulillah); he
should visit him if he falls sick; he should follow
his funeral if he
dies; and he should love for him what he loves for
himself.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں : ۱ ۔ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے ، ۲ ۔ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے ، ۳ ۔ جب وہ چھینکے اور «الحمد لله» کہے تو جواب میں «يرحمك الله» کہے ، ۴ ۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرے ، ۵ ۔ جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے ، ۶ ۔ اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے “ ۔
Chapter 1: What was narrated concerning visiting the sick - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلاَلٍ يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ " .
It was
narrated from Abu Mas’ud that the Prophet (ﷺ) said:
“The
Muslim
has four things due from the Muslim: He should answer [by
saying
Yarhamuk-Allah (may Allah have mercy on you)] to him if he
sneezes
(and says Al-Hamdulillah); he should accept his invitation if
he
invites him; he should attend his funeral if he dies; and he should
visit him if he falls sick.”
ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں : جب اسے چھینک آئے اور وہ «الحمدلله» کہے تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہے ، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے ، جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو ، اور جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے “ ۔
Chapter 1: What was narrated concerning visiting the sick - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ رَدُّ التَّحِيَّةِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“Five are the rights of the Muslim: Returning his greeting,
accepting his invitation; attending his funeral; visiting the sick;
and answering (saying Yarhamuk-Allah) to the one who sneezes, if he
praises Allah (says Al-Hamdu Lillah).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں : سلام کا جواب دینا ، دعوت قبول کرنا ، جنازہ میں حاضر ہونا ، مریض کی عیادت کرنا ، اور جب چھینکنے والا «الحمد لله» کہے ، تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہنا ۔
Chapter 1: What was narrated concerning visiting the sick - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الأَجَلِ فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا وَهُوَ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ " .
It was
narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah
(ﷺ) said:
“When you enter upon one who is sick, cheer him up and
give him hope of a long life, for that does not change anything (of
the Divine Decree), but it will cheer the heart of the one who is
sick.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی ، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے “ ۔
Chapter 1: What was narrated concerning visiting the sick - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَادَ رَجُلاً فَقَالَ " مَا تَشْتَهِي " . قَالَ أَشْتَهِي خُبْزَ بُرٍّ . قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ " ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا فَلْيُطْعِمْهُ " .
It was
narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) visited a man
and
said:
“What do you long for?” He said: “I long for wheat
bread.”
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever has any wheat bread, let
him send it
to his brother.” Then the Prophet (ﷺ) said: “If any
sick person
among you longs for something, then feed him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیمار کی عیادت کی ، تو اس سے پوچھا : ” کیا کھانے کو جی چاہتا ہے ؟ “ اس نے کہا : گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو ، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے “ ۔
Chapter 1: What was narrated concerning visiting the sick - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ فَقَالَ
" أَتَشْتَهِي شَيْئًا أَتَشْتَهِي كَعْكًا " . قَالَ نَعَمْ . فَطَلَبُوا لَهُ .
It was
narrated that Anas bin Malik said:
“The Prophet (ﷺ) entered
upon
a sick person to visit him. He said: ‘Do you long for anything?
Do
you long for Ka’k (a type of bread)?’ He said: ‘Yes.’ So they
sent
someone to bring some Ka’k for him.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے ، تو پوچھا : ” کیا کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے ؟ کیا کیک کھانا چاہتے ہو ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو لوگوں نے اس کے لیے کیک منگوایا ۔
Chapter 1: What was narrated concerning visiting the sick - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ فَمُرْهُ أَنْ يَدْعُوَ لَكَ فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلاَئِكَةِ " .
It was
narrated that ‘Umar bin Al-Khattab said:
“The Prophet (ﷺ)
said
to me: ‘When you enter upon one who is sick, tell him to pray for
you, for his supplication is like the supplication of the angels.’”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو ، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے “ ۔
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ)
say: ‘Whoever comes to his Muslim brother and visits him (when he
is
sick), he is walking among the harvest of Paradise until he sits
down,
and when he sits down he is covered with mercy. If it is
morning,
seventy thousand angels will send blessing upon him until
evening, and
if it is evening, seventy thousand angels will send
blessing upon him
until morning.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے ، جب بیٹھ جائے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں “ ۔
Chapter 2: What was narrated concerning the reward of one who visits a sick person - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ عَادَ مَرِيضًا نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلاً " .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘Whoever visits a sick person, a caller calls from heaven: ‘May
you be happy, may your walking be blessed, and may you occupy a
dignified position in Paradise.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی ( آواز لگانے والا ) آواز لگاتا ہے : تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا ، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا “ ۔
It was
narrated from Ishaq bin ‘Abdullah bin Ja’far that his father
said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Urge your dying ones
to
say: “La ilaha illallahul-Halimul-Karim, Subhan-Allahi
Rabbil-‘Arshil-‘Azim, Al-Hamdu Lillahi Rabbil-‘alamin (None has
the
right to be worshipped but Allah, the Forbearing, the Most Kind.
Glory
is to Allah, Lord of the magnificent Throne; praise is to
Allah, the
Lord of the worlds).’” They said: ‘O Messenger of
Allah, what about
those who are alive?’ He said: ‘Even better,
even better.’”
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے مردوں ( جو لوگ مرنے کے قریب ہوں ) کو یہ کہنے کی تلقین کرو : «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين» کی تلقین کرو “ ( ترجمہ ) ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، جو حلیم و کریم والا ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے ، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہت بہتر ہے ، بہت بہتر ہے “ ۔
Chapter 4: What was narrated concerning what is to be said to the sick person when death approaches - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " . فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ . قَالَ " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً " . قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ . مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was
narrated that Umm Salamah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
said:
‘When you visit one who is sick or dying, say good things, for
the
angels say: Amin to whatever you say.’ When Abu Salamah died, I
came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah! Abu
Salamah
has died.’ He said: ‘Say: “Allahummaghfir li wa lahu,
wa a’qibni minhu
‘uqba hasanah (O Allah, forgive me and him, and
compensate me with
someone better than him).’” She said: ‘I
said that, and Allah
compensated me with someone better than him:
Muhammad the Messenger of
Allah (ﷺ).’”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ ، تو اچھی بات کہو ، اس لیے کہ فرشتے تمہاری باتوں پہ آمین کہتے ہیں “ ، چنانچہ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ کلمات کہو : «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة» ” اے اللہ مجھ کو اور ان کو بخش دے ، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما “ ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نعم البدل کے طور پر عطا کیا ۱؎ ۔
It was
narrated from ‘Abdur-Rahman bin Ka’b bin Malik, about Ka’b:
“When Ka’b was dying, Umm Bishr bint Bara’ bin Ma’rur came to
him and
said: ‘O Abu ‘Abdur-Rahman! If you meet so-and-so, convey
Salam to him
from me.’ He said: ‘May Allah forgive you, O Umm
Bishr! We are too
busy to think of that.’ She said: ‘O Abu
‘Abdur-Rahman! Did you not
hear the Messenger of Allah (ﷺ) say:
“The souls of the believers are
in green birds, eating from the
trees of Paradise”?’ He said: ‘Yes.’
She said: ‘That is
what I mean.’”
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ
جب ان کے والد کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا ، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور ( رضی اللہ عنہما ) آئیں ، اور کہنے لگیں : اے ابوعبدالرحمٰن ! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں ، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ام بشر ! اللہ تمہیں بخشے ، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں ، انہوں نے کہا : اے ابوعبدالرحمٰن ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا : ” مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی ، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی “ ، کعب رضی اللہ عنہ کہا : کیوں نہیں ، ضرور سنی ہے ، تو انہوں نے کہا : بس یہی مطلب ہے ۔
Chapter 5: What was narrated concerning the believer being rewarded for the agony of death - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا حَمِيمٌ لَهَا يَخْنُقُهُ الْمَوْتُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا بِهَا قَالَ لَهَا
" لاَ تَبْتَئِسِي عَلَى حَمِيمِكِ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ حَسَنَاتِهِ " .
It was
narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ)
entered
upon her and there was a close relative of hers who was in the
throes
of death. When the Prophet (ﷺ) saw how upset she was, he
said:
“Do
not grieve for your relative, for that is part of his
Hasanat
(merits).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے ، وہاں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا : ” تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو ، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے “ ۔
Chapter 5: What was narrated concerning the believer being rewarded for the agony of death - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ كَرْدَمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَتَى تَنْقَطِعُ مَعْرِفَةُ الْعَبْدِ مِنَ النَّاسِ قَالَ
" إِذَا عَايَنَ " .
It was
narrated that Abu Musa said:
“I asked the Messenger of Allah
(ﷺ):
‘When does a person stop recognizing people?’ he said: ‘When he
sees.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : بندے سے لوگوں کی پہچان کب ختم ہو جاتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ ( موت کے فرشتوں کو ) دیکھ لیتا ہے “ ۔
Chapter 6: What was narrated concerning closing the eyes of the deceased - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ
" إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ " .
It was
narrated that Umm Salamah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
entered upon Abu Salamah (after he had died), and his eyes were wide
open. He closed his eyes, then he said: ‘When the soul is taken,
the
sight follows it.’”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بند کر دیا ، پھر فرمایا : ” جب روح قبض کی جاتی ہے ، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 6: What was narrated concerning closing the eyes of the deceased - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ وَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ " .
It was
narrated from Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah
(ﷺ) said:
“When you come to your dead ones, close their eyes, for
the sight
follows the soul. And say good things, for the Angels say
Amin to
what the members of the household say.”
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو ، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے ، اور ( میت کے پاس ) اچھی بات کہو ، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں “ ۔
Chapter 7: What was narrated concerning kissing the deceased - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى دُمُوعِهِ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ .
It was
narrated that ‘Aishah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
kissed
‘Uthman bin Maz’un when he had died, and it is as if I can see
him with his tears flowing down his cheeks.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ۱؎ کا بوسہ لیا ، اور وہ مردہ تھے ، گویا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے ۔