Chapter 1: The sacrifices of the Messenger of Allah (saws) - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُ بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا .
It was
narrated from Anas bin Malik:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
used to
sacrifice two horned, black-and-white rams and he would say
the Name
of Allah and pronounce His greatness. I saw him slaughtering
them
with his own hand, putting his foot on their sides.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کرتے ، ( ذبح کے وقت ) «بسم الله» اور «الله أكبر» کہتے تھے ، اور میں نے آپ کو اپنا پاؤں جانور کے پٹھوں پر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎ ۔
“The Messenger of
Allah
(ﷺ) sacrificed two rams on the Day of ‘Eid. When he turned
them
to face towards the prayer direction he said: ‘Verily, I have
turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth,
as a monotheist, and I am not of the polytheists. Verily, my prayer,
my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of all
that exists. He has no partner. And of this I have been commanded,
and
I am the first of the Muslims. [6:79,162-163] O Allah, from You
to
You, on behalf of Muhammad and his nation.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی ، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا : «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته» ” میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ، بیشک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے ، جو سارے جہان کا رب ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں ، اے اللہ ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے ، اور تیرے ہی واسطے ہے ، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول فرما “ ۱؎ ۔
Chapter 1: The sacrifices of the Messenger of Allah (saws) - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلاَغِ وَذَبَحَ الآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was
narrated from ‘Aishah and Abu Hurairah that when the Messenger
of
Allah (ﷺ) wanted to offer a sacrifice, he brought two large, fat,
horned, black-and-white, castrated rams. He slaughtered one on behalf
of his nation, for whoever testified to Allah with monotheism and
that
he had conveyed (the Message), and he slaughtered the other on
behalf
of Muhammad and the family of Muhammad (ﷺ).
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے ، موٹے سینگ دار ، چتکبرے ، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے ، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے ، جو اللہ کی توحید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں ، اور دوسرا محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذبح فرماتے ۔
“I asked Ibn ‘Umar
about
sacrifices and whether they are obligatory. He said: ‘The
Messenger
of Allah (ﷺ) and the Muslims after him offered sacrifices,
and this
is the Sunnah.’”
Another chain reports exactly the same.
اس سند سے بھی
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کے ہم مثل منقول ہے ۔
Chapter 2: Are sacrifices obligatory or not? - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو رَمْلَةَ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ كُنَّا وُقُوفًا عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعَرَفَةَ فَقَالَ
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً " . أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةَ .
It was
narrated that Mikhnaf bin Sulaim said:
“We were standing with the
Prophet (ﷺ) at ‘Arafat and he said: ‘O people, each family,
each year, must offer Udhiyah and ‘Atirah.’
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا : ” لوگو ! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ۱؎ اور ایک «عتیرہ» ہے “ ، تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے ؟ یہ وہی ہے جسے لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں “ ۔
It was
narrated from ’Aishah that the Prophet (ﷺ) said:
“The son of
Adam does not do any deed on the Day of Sacrifice that is dearer to
Allah than shedding blood. It will come on the Day of Resurrection
with its horns and cloven hoofs and hair. Its blood is accepted by
Allah before it reaches the ground. So be content when you do it.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ ، کھر اور بالوں سمیت ( جوں کا توں ) آئے گا ، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے ، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو “ ۱؎ ۔
“The Companions of the
Messenger
of Allah (ﷺ) said: ‘O Messenger of Allah, what are these
sacrifices?’ He said: ‘The Sunnah of your father Ibrahim.’ They
said:
‘What is there for us in them, O Messenger of Allah?’ He
said: ‘For
every hair, one merit.’ They said: ‘What about wool,
O Messenger of
Allah?’ He said: ‘For every hair of wool, one
merit.’”
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : تو ہم کو اس میں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی “ لوگوں نے عرض کیا : اور بھیڑ میں اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھیڑ میں ( بھی ) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے “ ۔
Chapter 4: What sacrifices are recommended - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ يَأْكُلُ فِي سَوَادٍ وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ .
It was
narrated that Abu Sa’eed said:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
sacrificed a horned, defectless ram with a black stomach, black feet
and black around its eyes.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگ دار نر تھا ، اس کا منہ اور پیر کالے تھے ، اور آنکھیں بھی کالی تھیں ( یعنی چتکبرا تھا ) ۔
Chapter 4: What sacrifices are recommended - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ - صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - إِلَى شِرَاءِ الضَّحَايَا . قَالَ يُونُسُ فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ إِلَى كَبْشٍ أَدْغَمَ لَيْسَ بِالْمُرْتَفِعِ وَلاَ الْمُتَّضِعِ فِي جِسْمِهِ فَقَالَ لِي اشْتَرِ لِي هَذَا . كَأَنَّهُ شَبَّهَهُ بِكَبْشِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
Yunus
bin Maisarah bin Halbas said:
“I went out with Abu Sa’eed
Az-
Zuraqi, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), to buy
animals
or sacrifice.” Yunus said: “Abu Sa’eed pointed to a ram
that had some
blackness around its ears and jaw, and was neither too
big nor too
small, and said to me: ‘Buy this one for them, as it
seems to resemble
the ram of the Messenger of Allah (ﷺ).’”
یونس بن میسرہ بن حلبس کہتے ہیں کہ
میں صحابی رسول ابوسعید زرقی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے گیا ، تو آپ نے ایک ایسے مینڈھے کی نشاندہی کی جس کی ٹھوڑی اور کانوں میں کچھ سیاہی تھی ، اور وہ جسمانی طور پر نہ زیادہ بلند تھا ، نہ ہی زیادہ پست ، انہوں نے مجھ سے کہا : میرے لیے اسے خرید لو ، شاید انہوں نے اس جانور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مینڈھے کے مشابہ سمجھا ۱؎ ۔
Chapter 5: Number of persons for whom a camel and a cow is sufficient - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْجَزُورِ عَنْ عَشَرَةٍ وَالَبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ .
it was
narrated that Ibn ‘Abbas said:
“We were with the Messenger of
Allah (ﷺ) on a journey, and the (day of) Al-Adha came. We
(sacrificed) one camel on behalf of ten (people) and one cow on
behalf
of seven.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں عید الاضحی آ گئی ، تو ہم اونٹ میں دس آدمی ، اور گائے میں سات آدمی شریک ہو گئے ۱؎ ۔
Chapter 5: Number of persons for whom a camel and a cow is sufficient - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ أَبُو طَاهِرٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحَرَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً وَاحِدَةً .
It was
narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ)
sacrificed
one cow during the Farewell Pilgrimage on behalf of the
family of
Muhammad (ﷺ).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں آل محمد کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ۔
Chapter 6: How many sheep should be sacrificed in place of one camel? - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَلَىَّ بَدَنَةً وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا وَلاَ أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا . فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ .
It was
narrated from Ibn ‘Abbas that a man came to the Prophet (ﷺ)
and
said:
“I have to offer a sacrifice and I can afford it, but I
cannot find (a camel) to buy.” The Prophet (ﷺ) told him to buy
seven
sheep and slaughter them.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا ، اور اس نے عرض کیا کہ میرے ذمہ ایک اونٹ کی ( قربانی ) ہے ، اور میں اس کی استطاعت بھی رکھتا ہوں ، لیکن اونٹ دستیاب نہیں کہ میں اسے خرید سکوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات بکریاں خریدنے اور انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ۔
Chapter 6: How many sheep should be sacrificed in place of one camel? - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَحْنُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ فَأَصَبْنَا إِبِلاً وَغَنَمًا فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَيْنَا الْقُدُورَ قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ الْجَزُورَ بِعَشَرَةٍ مِنَ الْغَنَمِ .
It was
narrated that Rafi’ bin Khadij said:
“We were with the
Messenger
of Allah (ﷺ) in Dhul-Hulaifah in (the land of) Tihamah. We
acquired
sheep and camels and the people hastened to put cooking pots
on the
fires before they had been distributed. The Messenger of Allah
(ﷺ)
came to us and ordered that they be overturned,* then he made
one
camel equivalent to ten sheep.”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذوالحلیفہ نامی جگہ میں تھے ، ہم نے اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں پائیں ، پھر لوگوں نے ( گوشت کاٹنے میں ) عجلت سے کام لیا ، اور ہم نے ( مال غنیمت ) کی تقسیم سے پہلے ہی ہانڈیاں چڑھا دیں ، پھر ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا ، تو وہ الٹ دی گئیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر ٹھہرایا ۱؎ ۔
Chapter 7: What qualifies as a sacrifice - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَعْطَاهُ غَنَمًا فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ
" ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " .
It was
narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani that the Messenger of
Allah (ﷺ) gave him some sheep, and he distributed them among his
Companions to be sacrificed. There remained an ‘Atud.* He mentioned
that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:
“You sacrifice it
yourself.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں عنایت کیں ، تو انہوں نے ان کو اپنے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیا ، ایک بکری کا بچہ بچ رہا ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی قربانی تم کر لو “ ۱؎ ۔
Chapter 7: What qualifies as a sacrifice - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُقَالُ لَهُ مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقُولُ
" إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا تُوفِي مِنْهُ الثَّنِيَّةُ " .
It was
narrated from ‘Asim bin Kulaib that his father said:
“We were
with a man from among the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ)
who was called Mujashi’, from Banu Sulaim, and sheep became scarce.
He
ordered a caller to call out that the Messenger of Allah (ﷺ)
used to
say: ‘A Jadha’a suffices for whatever a two-year-old
sheep suffices.’”
کلیب کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے ، بکریوں کی قلت ہو گئی ، تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا ، جس نے پکار کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” ( قربانی کے لیے ) بھیڑ کا ایک سالہ بچہ دانتی بکری کی جگہ پر کافی ہے “ ۔
Chapter 7: What qualifies as a sacrifice - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّةً إِلاَّ أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
It was
narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
‘Do not
slaughter anything but a Musinnah,* unless there is none
available,
in which case you can slaughter a Jadha’a among sheep.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صرف مسنہ ( دانتا جانور ) ذبح کرو ، البتہ جب وہ تم پر دشوار ہو تو بھیڑ کا جذعہ ( ایک سالہ بچہ ) ذبح کرو “ ۱؎ ۔
Chapter 8: What is disliked to use for a sacrifice - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ أَوْ مُدَابَرَةٍ أَوْ شَرْقَاءَ أَوْ خَرْقَاءَ أَوْ جَدْعَاءَ .
It was
narrated that ‘Ali said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade
sacrificing the Muqabalah, the Mudabarah, the Sharqa’, the Kharqa’
and
the Jad’a’.”*
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو ، یا وہ پھٹا ہو یا اس میں گول سوراخ ہو ، یا ناک کان اور ہونٹ میں سے کوئی عضو کٹا ہو ۔
Chapter 8: What is disliked to use for a sacrifice - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي بِمَا، كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الأَضَاحِيِّ . فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ
" أَرْبَعٌ لاَ تُجْزِئُ فِي الأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لاَ تُنْقِي " . قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الأُذُنِ . قَالَ فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ وَلاَ تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ .
Sulaiman
bin ‘Abdur-Rahman said:
“I heard ‘Ubaid bin Fairuz say: ‘I
said to Bara’ bin ‘Azib: “Tell us of the sacrificial animals
that the
Messenger of Allah (ﷺ) disliked or forbade.” He said:
“Allah’s
Messenger (ﷺ) said like this with his hand. And my
hand is shorter
than his hand:* ‘There are four that will not be
accepted as
sacrifices: The one-eyed animal that is obviously blind
in one eye;
the sick animal that is obviously sick; the lame animal
with an
obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is
as if
there is no marrow in its bones.’” He said:** “And I
dislike that the
animal should have some fault in its ears.” He
said: “What you
dislike, forget about it and do not make it
forbidden to anyone.”
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ
میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا : مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا ، یا منع کیا ہے ؟ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے ( جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) فرمایا : ” چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں : ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو ، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو ، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو ، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو “ ۱؎ ۔ عبید نے کہا : میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا : ” جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو ، لیکن دوسروں پر اسے حرام نہ کرو “ ۔