Chapter 1: The swearing of the Messenger of Allah (saws) by which he would take an oath - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ التَّى يَحْلِفُ بِهَا أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ
" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " .
It was narrated that Rifa'ah bin 'Arabah A-Juhani said:
"The swearing of the Messenger of Allah (ﷺ) when he took an oath and I bear witness before Allah was: 'By the One in Whose Hand is my soul."'
رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم جو آپ کھایا کرتے تھے ، یوں ہوتی تھی : «والذي نفسي بيده» ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے “ ۔
Chapter 2: Prohibition of making an oath by other than Allah - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَمِعَهُ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " . قَالَ عُمَرُ فَمَا حَلَفْتُ بِهَا ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا .
It was narrated from Salim bin 'Abdullah bin 'Umar, from his father, from 'Umar, that :
the Messenger of Allah (ﷺ) heard him swearing by his father. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah forbids you from making oaths by your forefathers." 'Umar said: I never took an oath by them (i.e., my forefathers) myself nor narrating such words from anyone else.”
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا : ” اللہ تمہیں باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے “ ، اس کے بعد میں نے کبھی باپ دادا کی قسم نہیں کھائی ، نہ اپنی طرف سے ، اور نہ دوسرے کی نقل کر کے ۱؎ ۔
Chapter 2: Prohibition of making an oath by other than Allah - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي يَمِينِهِ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :
the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever takes an oath, and swears, saying: 'By Al-Lat and Al-Uzza,' let him say:'La ilaha illallah.' "
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قسم کھائی ، اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی ، تو اسے چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں “ ۱؎ ۔
Chapter 2: Prohibition of making an oath by other than Allah - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ حَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ثُمَّ انْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلاَثًا وَتَعَوَّذْ وَلاَ تَعُدْ " .
It was narrated that Sa'd said:
"I took an oath by Lat and 'Uzza. The Messenger of Allah (ﷺ) said : 'Say: "La ilaha illallah wahdahu la sharika lahu" (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate)," then spit toward your left three times, and seek refuge with Allah, and do not do that again."'
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا لی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم «لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں “ ، پھر اپنے بائیں طرف تین بار تھو تھو کرو ، اور «اعوذ باللہ» کہو ” میں شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں “ پھر ایسی قسم نہ کھانا “ ۱؎ ۔
Chapter 3: One who takes an oath to follow a religion other than Islam - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلاَمِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا قَالَ " .
It was narrated that Thabit bin Ad-Dahhak said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever takes an oath to follow a religion other than Islam, telling a deliberate lie, he will be as he said.'"
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین میں چلے جانے کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی ، تو وہ ویسے ہی ہو گا جیسا اس نے کہا “ ۱؎ ۔
Chapter 3: One who takes an oath to follow a religion other than Islam - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَرَّرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يَقُولُ أَنَا إِذًا لَيَهُودِيٌّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" وَجَبَتْ " .
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) heard a man say:
"If that happens, I will be a Jew." The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'That is guaranteed."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ اگر میں ایسا کروں تو یہودی ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر یہ قسم واجب ہو گئی “ ۔
Chapter 3: One who takes an oath to follow a religion other than Islam - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الإِسْلاَمِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ يَعُدْ إِلَيْهِ الإِسْلاَمُ سَالِمًا " .
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father told that :
the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says: 'I have nothing to do with Islam,' if he is lying then he is as he said, and if he is telling the truth, his Islam will not be sound."
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں ، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا “ ۱؎ ۔
Chapter 4: The person for whom an oath is sworn by Allah should accept what is said - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ
" لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ مَنْ حَلَفَ بِاللَّهِ فَلْيَصْدُقْ وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ وَمَنْ لَمْ يَرْضَ بِاللَّهِ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ " .
It was narrated that Ibn 'Umar said:
"The Messenger of Allah (ﷺ) heard a man taking an oath by his father and said: 'Do not make oaths by your forefathers. Whoever makes an oath by Allah, let him fulfill his oath, and if an oath is sworn for a person by Allah, let him accept it. Whoever is not content with Allah has nothing to do with Allah.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا : ” اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ ، جو شخص اللہ کی قسم کھائے تو چاہیئے کہ وہ سچ کہے ، اور جس سے اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو راضی ہونا چاہیئے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پہ راضی نہ ہو وہ اللہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا “ ۱؎ ۔
Chapter 4: The person for whom an oath is sworn by Allah should accept what is said - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلاً يَسْرِقُ فَقَالَ أَسَرَقْتَ قَالَ لاَ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ . فَقَالَ عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
"Eisa bin Maryam saw a man stealing and said: 'Did you steal?' He said: 'No, by the One besides Whom there is no other God.' 'Eisa said: 'I believe in Allah, and I do not believe what my eyes see.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” تم نے چوری کی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا : میں اللہ پر ایمان لایا ، اور میں نے اپنی آنکھ کو جھٹلا دیا “ ۱؎ ۔
Chapter 6: Uttering the exception when swearing - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ حَلَفَ وَاسْتَثْنَى إِنْ شَاءَ رَجَعَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرُ حَانِثٍ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever swears an oath and says In sha' Allah, if he wishes he may go ahead and if he wishes he may not, without having broken his oath."
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قسم کھائی ، اور «إن شاء الله» کہا ، تو وہ چاہے قسم کے خلاف کرے ، یا قسم کے موافق ، حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہو گا “ ۔
Chapter 7: One who swears an oath and then sees that something else is better - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " . قَالَ فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثَةِ إِبِلٍ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَلاَّ يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا ارْجِعُوا بِنَا . فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا . ثُمَّ حَمَلْتَنَا فَقَالَ " وَاللَّهِ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ وَاللَّهِ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " . أَوْ قَالَ " أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي " .
It was narrated from Abu Burdah that his father Abu Musa said:
"I came to the Messenger of Allah (ﷺ) with a group of Asharites and asked him to give us animals to ride. He said: 'By Allah, I cannot give you anything to ride, and I have nothing to give you to ride.' We stayed as long as Allah willed, then some camels were brought to him. He ordered that we be given three she-camels with fine humps. When we left, we said to one another: 'We came to the Messenger of Allah (ﷺ) to ask him for animals to ride, and he swore by Allah that he would not give us anything to ride, then he gave us something. Let us go back.' So we went to him and we said: 'O Messenger of Allah! We came to you seeking mounts, and you took an oath that you would not give us mounts, then you gave us some mounts.' He said: 'By Allah, I did not give you animals to ride, rather Allah gave you them to ride. I, by Allah, if Allah wills, do not swear and then see something better than it, but I offer expiation for what I swore about, and do that which is better.' Or he said: 'I do that which is better and offer expiation for what I swore about.'"
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعری قبیلہ کے چند لوگوں کے ہمراہ آپ سے سواری مانگنے کے لیے حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں تم کو سواری نہیں دوں گا ، اور میرے پاس سواری ہے بھی نہیں کہ تم کو دوں “ ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے ، پھر آپ کے پاس زکاۃ کے اونٹ آ گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے سفید کوہان والے تین اونٹ دینے کا حکم دیا ، جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے گئے تو آپ نے قسم کھا لی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے ، پھر ہم کو سواری دی ؟ چلو واپس آپ کے پاس لوٹ چلو ، آخر ہم آپ کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کے پاس سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے ، پھر آپ نے ہم کو سواری دے دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں نے تم کو سواری نہیں دی ہے بلکہ اللہ نے دی ہے ، اللہ کی قسم ! ان شاءاللہ میں جب کوئی قسم کھاتا ہوں ، پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھتا ہوں ، تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو کام بہتر ہوتا ہے اس کو کرتا ہوں “ یا یوں فرمایا : ” جو کام بہتر ہوتا ہے اس کو کرتا ہوں ، اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں “ ۔
Chapter 7: One who swears an oath and then sees that something else is better - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " .
It was narrated from 'Adi bin Hatim that :
the Messenger of Allah (ﷺ), said: "Whoever swears an oath then sees that something else is better than it, let him do that which is better and offer expiation for what he swore about. "
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے قسم کھائی ، اور اس کے خلاف کرنے کو بہتر سمجھا تو جو بہتر ہو اس کو کرے ، اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے “ ۔
It was narrated from Abul-Ahwas 'Awf bin Malik Al- Jushami that his father said:
"I said: 'O Messenger of Allah, my cousin comes to me and I swear that I will not give him anything or uphold the ties of kinship with him.' He said: 'Offer expiation for what you swore about.'"
مالک جشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آتا ہے ، اور میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اس کو کچھ نہ دوں گا ، اور نہ ہی اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو “ ۱؎ ۔
Chapter 8: Those who say that the expiation is to not fulfill it - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ حَلَفَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ أَوْ فِيمَا لاَ يَصْلُحُ فَبِرُّهُ أَنْ لاَ يَتِمَّ عَلَى ذَلِكَ " .
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever takes an oath to cut off the ties of kinship, or to do something that is not right, the fulfillment of his vow is not to do that."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی ، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں ، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے “ ۔
Chapter 9: How much food should be given when atoning for what one swore about? - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَفَّرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ النَّاسَ بِذَلِكَ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ .
It was narrated that Ibn Abbas said:
"The Messenger of Allah (ﷺ) offered expiation of a Sa' of dates, and he enjoined the people to do likewise. Whoever does not have that (must give) half a Sa' of wheat."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور کفارہ میں دی ، میں لوگوں کو اسی کا حکم دیتا ہوں ، تو جس کسی کے پاس ایک صاع کھجور نہ ہو تو آدھا صاع گیہوں دے ۱؎ ۔
"A man would give his family food that was abundant and another would give his family food that was barely sufficient, then the following was revealed: 'With the Awsat of that with which you feed your families...’”(2)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
بعض آدمی اپنے گھر والوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں جس میں فراخی ہوتی ہے ، اور بعض آدمی تنگی کے ساتھ دیتے ہیں تب یہ آیت اتری : «من أوسط ما تطعمون أهليكم» ” مسکینوں کو وہ کھانا دو جو درمیانی قسم کا اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو “ ۔
Chapter 11: Prohibition of a man insisting on what he swore about, and not offering expiation - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَعْمَرِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا اسْتَلَجَّ أَحَدُكُمْ فِي الْيَمِينِ فَإِنَّهُ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا " .
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ .
It was narrated that Hammam heard Abu Hurairah saying that 'Abul-Qasim (ﷺ) said:
"If anyone of you insists on fulfilling what he swore to (after learning that it is wrong) then it is more sinful before Allah than (breaking the oath for which) the expiation that has been enjoined upon him."
اس سند سے بھی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے ۔