Chapter 2: Your invocation means your faith - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ".
Narrated Ibn 'Umar:
Allah's Messenger (ﷺ) said: Islam is based on (the following) five
(principles):
1. To testify that none has the right to be worshipped but Allah and
Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ).
2. To offer the (compulsory congregational) prayers dutifully and
perfectly.
3. To pay Zakat (i.e. obligatory charity) .
4. To perform Hajj. (i.e. Pilgrimage to Mecca)
5. To observe fast during the month of Ramadan.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے یہ حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کی بابت حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی۔ انھوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔
ইবন ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেন, ইসলামের স্তম্ভ হচ্ছে পাঁচটি।
১. আল্লাহ ব্যতীত প্রকৃত কোন উপাস্য নেই এবং নিশ্চয়ই মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আল্লাহর রসূল-এ কথার সাক্ষ্য প্রদান করা।
২. সলাত কায়িম করা।
৩. যাকাত আদায় করা।
৪. হাজ্জ সম্পাদন করা এবং
৫. রমযানের সিয়ামব্রত পালন করা (রোজা রাখা)।
(৪৫১৪; মুসলিম ১/৫ হাঃ ১৬, আহমাদ ৬০২২, ৬৩০৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৭)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 8
Hadith 9
Chapter 3: (What is said) regarding the deeds of faith - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ".
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "Faith (Belief) consists of more than sixty branches
(i.e. parts). And Haya (This term "Haya" covers a large number of
concepts which are to be taken together; amongst them are self
respect, modesty, bashfulness, and scruple, etc.) is a part of
faith."
ہم سے بیان کیا عبداللہ بن محمد جعفی نے ، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابوعامر عقدی نے ، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا سلیمان بن بلال نے ، انھوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے روایت کیا ابوصالح سے ، انہوں نے نقل کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نقل فرمایا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں ۔ اور حیاء ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, ঈমানের ষাটেরও অধিক শাখা আছে। আর লজ্জা হচ্ছে ঈমানের একটি শাখা।
(মুসলিম ১/১২ হাঃ ৩৫, আহমাদ ৯৩৭২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৮)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 9
Hadith 10
Chapter 4: A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue and hands - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
The Prophet (ﷺ) said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with
his tongue and hands. And a Muhajir (emigrant) is the one who gives up
(abandons) all what Allah has forbidden."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے یہ حدیث بیان کی ، ان کو شعبہ نے وہ عبداللہ بن ابی السفر اور اسماعیل سے روایت کرتے ہیں ، وہ دونوں شعبی سے نقل کرتے ہیں ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے فرمایا اور ابومعاویہ نے کہ ہم کو حدیث بیان کی داؤد بن ابی ہند نے ، انھوں نے روایت کی عامر شعبی سے ، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، وہ حدیث بیان کرتے ہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( وہی مذکورہ حدیث ) اور کہا کہ عبدالاعلیٰ نے روایت کیا داؤد سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
‘আবদুল্লাহ্ ইব্নু ‘আমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেন, সে-ই মুসলিম, যার জিহবা ও হাত হতে সকল মুসলিম নিরাপদ এবং সে-ই প্রকৃত মুহাজির, আল্লাহ যা নিষেধ করেছেন তা যে ত্যাগ করে।
(৬৪৮৪; মুসলিম ১/১৪ হাঃ ৪০, আহমাদ ৬৭৬৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৯)
Some people asked Allah's Messenger (ﷺ), "Whose Islam is the best? i.e. (Who
is a very good Muslim)?" He replied, "One who avoids harming the
Muslims with his tongue and hands."
ہم کو سعید بن یحییٰ بن سعید اموی قریشی نے یہ حدیث سنائی ، انھوں نے اس حدیث کو اپنے والد سے نقل کیا ، انھوں نے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے ، انھوں نے ابی بردہ سے ، انھوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ
لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں ۔
আবূ মূসা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, তারা (সাহাবাগণ) জিজ্ঞেস করলেন, হে আল্লাহর রসূল! ইসলামে কোন্ জিনিসটি উত্তম? তিনি বললেনঃ যার জিহবা ও হাত হতে মুসলিমগণ নিরাপদ থাকে।
(মুসলিম ১/১৪ হাঃ ৪২, আহমাদ ৬৭৬৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১০)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 11
Hadith 12
Chapter 6: To feed (others) is a part of Islam - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ
" تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ".
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
A man asked the Prophet (ﷺ) , "What sort of deeds or (what qualities of)
Islam are good?" The Prophet (ﷺ) replied, 'To feed (the poor) and greet
those whom you know and those whom you do not Know (See
Hadith No. 27).
ہم سے حدیث بیان کی عمرو بن خالد نے ، ان کو لیث نے ، وہ روایت کرتے ہیں یزید سے ، وہ ابوالخیر سے ، وہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہ
ایک دن ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی ، الغرض سب کو سلام کرو ۔
‘আবদুল্লাহ্ ইব্নু ‘আমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ জনৈক ব্যক্তি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে জিজ্ঞেস করল, ইসলামে কোন্ জিনিসটি উত্তম? তিনি বললেন, তুমি খাদ্য খাওয়াবে ও চেনা অচেনা সকলকে সালাম দিবে।
(২৮, ৬২৩৬; মুসলিম ১/১৪ হাঃ ৪২, আহমাদ ৬৭৬৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১১)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 12
Hadith 13
Chapter 7: To like for one's (Muslim's) brother what one likes for himself is a part of faith - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
وَعَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "None of you will have faith till he wishes for his
(Muslim) brother what he likes for himself."
ہم سے حدیث بیان کی مسدد نے ، ان کو یحییٰ نے ، انھوں نے شعبہ سے نقل کیا ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ خادم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔ اور شعبہ نے حسین معلم سے بھی روایت کیا ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ তোমাদের কেউ প্রকৃত মু’মিন হতে পারবে না, যতক্ষণ না সে তার ভাইয়ের জন্য সেটাই পছন্দ করবে, যা তার নিজের জন্য পছন্দ করে।
(মুসলিম ১/১৭ হাঃ ৪৫, আহমাদ ১২৮০১, ১৩৮৭৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১২)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 13
Hadith 14
Chapter 8: To love the Messenger (Muhammad saws) is a part of faith - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ ".
Narrated Abu Huraira:
"Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my life is, none of you
will have faith till he loves me more than his father and his
children."
ہم سے ابوالیمان نے حدیث بیان کی ، ان کو شعیب نے ، ان کو ابولزناد نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ
بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ সেই আল্লাহর শপথ, যাঁর হাতে আমার প্রাণ, তোমাদের কেউ প্রকৃত মু’মিন হতে পারবে না, যতক্ষন না আমি তার নিকট তার পিতা ও সন্তানাদির চেয়ে অধিক ভালবাসার পাত্র হই।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৩)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 14
Hadith 15
Chapter 8: To love the Messenger (Muhammad saws) is a part of faith - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said "None of you will have faith till he loves me more
than his father, his children and all mankind."
ہمیں حدیث بیان کی یعقوب بن ابراہیم نے ، ان کو ابن علیہ نے ، وہ عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں اور ہم کو آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی ، ان کو شعبہ نے ، وہ قتادہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ তোমাদের কেউ প্রকৃত মু’মিন হতে পারবে না, যতক্ষন না আমি তার নিকট তার পিতা, তার সন্তান ও সব মানুষের অপেক্ষা অধিক প্রিয়পাত্র হই।
(মুসলিম ১/১৬ হাঃ ৪৪, আহমাদ ১২৮১৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪)
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever possesses the following three qualities
will have the sweetness (delight) of faith:
1. The one to whom Allah and His Apostle becomes dearer than anything
else.
2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake.
3. Who hates to revert to Atheism (disbelief) as he hates to be thrown
into the fire."
ہمیں محمد بن مثنیٰ نے یہ حدیث بیان کی ، ان کو عبدالوہاب ثقفی نے ، ان کو ایوب نے ، وہ ابوقلابہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ناقل ہیں
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں ، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے ۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তিনটি গুন যার মধ্যে আছে, সে ঈমানের স্বাদ আস্বাদন করতে পারেঃ
১. আল্লাহ ও তাঁর রসূল তার নিকট অন্য সকল কিছু হতে অধিক প্রিয় হওয়া;
২. কাউকে একমাত্র আল্লাহর জন্যই ভালবাসা;
৩. কুফ্রীতে প্রত্যাবর্তনকে আগুনে নিক্ষিপ্ত হবার মত অপছন্দ করা।
(২১, ৬০৪১, ৬৯৪১; মুসলিম ১/১৫ হাঃ ৪৩, আহমাদ ১২০০২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 16
Hadith 17
Chapter 10: To love the Ansar is a sign of faith - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" آيَةُ الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "Love for the Ansar is a sign of faith and hatred
for the Ansar is a sign of hypocrisy."
ہم سے اس حدیث کو ابوالولید نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، انہیں عبداللہ بن جبیر نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کو سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے ۔
আনাস ইব্নু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেনঃ ঈমানের আলামত হল আনসারকে ভালবাসা এবং মুনাফিকীর চিহ্ন হল আনসারের প্রতি শত্রুতা পোষণ করা।
(৩৭৮৪; মুসলিম ১/৩৩ হাঃ ৭৪, আহমাদ ১৩৬০৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬)
who took part in the battle of Badr and was a Naqib (a person heading
a group of six persons), on the night of Al-'Aqaba pledge: Allah's
Apostle said while a group of his companions were around him, "Swear
allegiance to me for:
1. Not to join anything in worship along with Allah.
2. Not to steal.
3. Not to commit illegal sexual intercourse.
4. Not to kill your children.
5. Not to accuse an innocent person (to spread such an accusation
among people).
6. Not to be disobedient (when ordered) to do good deed."
The Prophet (ﷺ) added: "Whoever among you fulfills his pledge will be
rewarded by Allah. And whoever indulges in any one of them (except the
ascription of partners to Allah) and gets the punishment in this
world, that punishment will be an expiation for that sin. And if one
indulges in any of them, and Allah conceals his sin, it is up to Him
to forgive or punish him (in the Hereafter)." 'Ubada bin As-Samit
added: "So we swore allegiance for these." (points to Allah's
Apostle)
ہم سے اس حدیث کو ابوالیمان نے بیان کیا ، ان کو شعیب نے خبر دی ، وہ زہری سے نقل کرتے ہیں ، انہیں ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے اور لیلۃالعقبہ کے ( بارہ ) نقیبوں میں سے تھے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو اس بات پر کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے ، چوری نہ کرو گے ، زنا نہ کرو گے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور نہ عمداً کسی پر کوئی ناحق بہتان باندھو گے اور کسی بھی اچھی بات میں ( خدا کی ) نافرمانی نہ کرو گے ۔ جو کوئی تم میں ( اس عہد کو ) پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان ( بری باتوں ) میں سے کسی کا ارتکاب کرے اور اسے دنیا میں ( اسلامی قانون کے تحت ) سزا دے دی گئی تو یہ سزا اس کے ( گناہوں کے ) لیے بدلا ہو جائے گی اور جو کوئی ان میں سے کسی بات میں مبتلا ہو گیا اور اللہ نے اس کے ( گناہ ) کو چھپا لیا تو پھر اس کا ( معاملہ ) اللہ کے حوالہ ہے ، اگر چاہے معاف کرے اور اگر چاہے سزا دیدے ۔ ( عبادہ کہتے ہیں کہ ) پھر ہم سب نے ان ( سب باتوں ) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی ۔
‘উবাদাহ ইবনু সামিত (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ ‘উবাদাহ ইবনু সামিত (রাঃ) যিনি বদ্র যুদ্ধে অংশগ্রহণকারী ও লায়লাতুল ‘আকাবার একজন নকীব। ‘উবাদাহ ইব্নুস সামিত (রাঃ) বর্ণনা করেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর পাশে একজন সহাবীর উপস্থিতিতে তিনি বলেনঃ তোমরা আমার নিকট এই মর্মে বায়’আত গ্রহণ কর যে, আল্লাহর সঙ্গে কোন কিছুকে অংশীদার সাব্যস্ত করবে না, চুরি করবে না, ব্যভিচার করবে না, তোমাদের সন্তানদের হত্যা করবে না, কারো প্রতি মিথ্যা অপবাদ আরোপ করবে না এবং সৎকাজে নাফরমানী করবে না। তোমাদের মধ্যে যে তা পূর্ণ করবে, তার পুরস্কার আল্লাহর নিকট রয়েছে। আর কেউ এর কোন একটিতে লিপ্ত হলো এবং দুনিয়াতে তার শাস্তি পেয়ে গেলে, তবে তা হবে তার জন্য কাফ্ফারা। আর কেউ এর কোন একটিতে লিপ্ত হয়ে পড়লে এবং আল্লাহ তা অপ্রকাশিত রাখলে, তবে তা আল্লাহর ইচ্ছাধীন। তিনি যদি চান, তাকে মার্জনা করবেন আর যদি চান, তাকে শাস্তি প্রদান করবেন। আমরা এর উপর বায়’আত গ্রহণ করলাম।
(৩৮৯২, ৩৮৯৩, ৩৯৯৯, ৪৮৯৪, ৬৭৮৪, ৬৮০১, ৬৮৭৩, ৭০৫৫, ৭১৯৯, ৭২১৩, ৭৪৬৮; মুসলিম ২৯/১০ হাঃ ১৭০৯, আহমাদ ২২৭৪১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A time will soon come when the best property of a Muslim will be sheep which he will take on the top of mountains and the places of rainfall (valleys) so as to flee with his religion from afflictions."
ہم سے ( اس حدیث کو ) عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انھوں نے اسے مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا ، انھوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ سے ، انھوں نے اپنے باپ ( عبداللہ رحمہ اللہ ) سے ، وہ ابو سعید خدری سے نقل کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کا ( سب سے ) عمدہ مال ( اس کی بکریاں ہوں گی ) ۔ جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں اپنے دین کو بچانے کے لیے بھاگ جائے گا ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ সেদিন দূরে নয়, যেদিন মুসলিমের উত্তম সম্পদ হবে কয়েকটি বকরী, যা নিয়ে সে পাহাড়ের চূড়ায় অথবা বৃষ্টিপাতের স্থানে চলে যাবে। ফিতনা হতে সে তার ধর্ম সহকারে পলায়ন করবে।
(৩৩০০, ৩৬০০, ৬৪৯৫, ৭০৮৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮)
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) ordered the Muslims to do something, he used
to order them deeds which were easy for them to do, (according to
their strength and endurance). They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are not
like you. Allah has forgiven your past and future sins." So Allah's
Apostle became angry and it was apparent on his face. He said, "I am
the most Allah fearing, and know Allah better than all of you do."
یہ حدیث ہم سے محمد بن سلام نے بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس کی عبدہ نے خبر دی ، وہ ہشام سے نقل کرتے ہیں ، ہشام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کسی کام کا حکم دیتے تو وہ ایسا ہی کام ہوتا جس کے کرنے کی لوگوں میں طاقت ہوتی ( اس پر ) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم لوگ تو آپ جیسے نہیں ہیں ( آپ تو معصوم ہیں ) اور آپ کی اللہ پاک نے اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف فرما دی ہیں ۔ ( اس لیے ہمیں اپنے سے کچھ زیادہ عبادت کرنے کا حکم فرمائیے ) ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے حتیٰ کہ خفگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہونے لگی ۔ پھر فرمایا کہ بیشک میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اسے جانتا ہوں ۔ ( پس تم مجھ سے بڑھ کر عبادت نہیں کر سکتے ) ۔
‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সহাবীদের যখন কোন কাজের নির্দেশ দিতেন, তাঁদের সামর্থ্য অনুযায়ী নির্দেশ দিতেন। একবার তাঁরা বললেন, ‘হে আল্লাহর রসূল্! আমরা তো আপনার মত নই। আল্লাহ তা’আলা আপনার পূর্ববর্তী এবং পরবর্তী সকল গুনাহ ক্ষমা করে দিয়েছেন।’ তা শুনে তিনি রাগ করলেন, এমনকি তাঁর চেহারায় রাগের চিহ্ন ফুটে উঠল। অতঃপর তিনি বললেনঃ তোমাদের চেয়ে আমিই আল্লাহকে অধিক ভয় করি ও বেশী জানি।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 20
Hadith 21
Chapter 14: Whoever hates to revert to Kufr (atheism of disbelief) as he hates to be thrown in fire, is a part of faith - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever possesses the following three qualities
will taste the sweetness of faith:
1. The one to whom Allah and His Apostle become dearer than anything
else.
2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake.
3. Who hates to revert to disbelief (Atheism) after Allah has brought
(saved) him out from it, as he hates to be thrown in fire."
اس حدیث کو ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس شخص میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پالے گا ، ایک یہ کہ وہ شخص جسے اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ عزیز ہوں اور دوسرے یہ کہ جو کسی بندے سے محض اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور تیسری بات یہ کہ جسے اللہ نے کفر سے نجات دی ہو ، پھر دوبارہ کفر اختیار کرنے کو وہ ایسا برا سمجھے جیسا آگ میں گر جانے کو برا جانتا ہے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তিনটি গুণ যার মধ্যে বিদ্যমান, সে ঈমানের স্বাদ পায়- (১) যার নিকট আল্লাহ ও তাঁর রসূল অন্য সকল বস্তু হতে অধিক প্রিয় ; (২) যে একমাত্র আল্লাহরই জন্য কোন বান্দাকে ভালবাসে এবং (৩) আল্লাহ তা’আলা কুফর হতে মুক্তি প্রদানের পর যে কুফর-এ প্রত্যাবর্তনকে আগুনে নিক্ষিপ্ত হবার মতোই অপছন্দ করে।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০)
The Prophet (ﷺ) said, "When the people of Paradise will enter Paradise and
the people of Hell will go to Hell, Allah will order those who have
had faith equal to the weight of a grain of mustard seed to be taken
out from Hell. So they will be taken out but (by then) they will be
blackened (charred). Then they will be put in the river of Haya'
(rain) or Hayat (life) (the Narrator is in doubt as to which is the
right term), and they will revive like a grain that grows near the
bank of a flood channel. Don't you see that it comes out yellow and
twisted"
ہم سے اسماعیل نے یہ حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں ان سے مالک نے ، وہ عمرو بن یحییٰ المازنی سے نقل کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے ۔ اللہ پاک فرمائے گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ( بھی ) ایمان ہو ، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو ۔ تب ( ایسے لوگ ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے ۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے ۔ ( یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا ) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے ۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( «حياء» کی بجائے ) «حياة» ، اور («خردل من ايمان» ) کی بجائے ( «خردل من خير» ) کا لفظ بیان کیا ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ জান্নাতবাসীরা জান্নাতে এবং জাহান্নামীরা জাহান্নামে প্রবেশ করবে। অতঃপর আল্লাহ তা’আলা ফেরেশতাদের বলবেন, যার অন্তরে সরিষার দানা পরিমাণও ঈমান আছে, তাকে জাহান্নাম হতে বের করে আনো। তারপর তাদের জাহান্নাম হতে এমন অবস্থায় বের করা হবে যে, তারা (পুড়ে) কালো হয়ে গেছে। অতঃপর তাদের বৃষ্টিতে বা হায়াতের [বর্ণনাকারী মালিক (রহঃ) শব্দ দু’টির কোনটি এ সম্পর্কে সন্দেহ প্রকাশ করেছেন] নদীতে নিক্ষেপ করা হবে। ফলে তারা সতেজ হয়ে উঠবে, যেমন নদীর তীরে ঘাসের বীজ গজিয়ে উঠে। তুমি কি দেখতে পাও না সেগুলো কেমন হলুদ বর্ণের হয় ও ঘন হয়ে গজায়? উহাইব (রহঃ) বলেন, 'আমর (রহঃ) আমাদের কাছে حيا এর স্থলে حياة এবং خردل من ايمان এর স্থলে خردل من خير বর্ণনা করেছেন।
(৪৫৮১, ৪৯১৯,৬৫৬০,৬৫৭৪,৭৪৩৮,৭৪৩৯; মুসলিম ১/৮২ হাঃ ১৮৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping I saw (in a dream) some
people wearing shirts of which some were reaching up to the breasts
only while others were even shorter than that. Umar bin Al-Khattab was
shown wearing a shirt that he was dragging." The people asked, "How
did you interpret it? (What is its interpretation) O Allah's Messenger (ﷺ)?"
He (the Prophet (ﷺ) ) replied, "It is the Religion."
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے یہ حدیث بیان کی ، ان سے ابراہیم بن سعد نے ، وہ صالح سے روایت کرتے ہیں ، وہ ابن شہاب سے ، وہ ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے راوی ہیں ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک وقت سو رہا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں ۔ کسی کا کرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچا ہے ۔ ( پھر ) میرے سامنے عمر بن الخطاب لائے گئے ۔ ان ( کے بدن ) پر ( جو ) کرتا تھا ۔ اسے وہ گھسیٹ رہے تھے ۔ ( یعنی ان کا کرتہ زمین تک نیچا تھا ) صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اس کی کیا تعبیر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اس سے ) دین مراد ہے ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ একবার আমি নিদ্রাবস্থায় (স্বপ্নে) দেখলাম যে, লোকদেরকে আমার সামনে আনা হচ্ছে। আর তাদের পরণে রয়েছে জামা। কারো জামা বুক পর্যন্ত আর কারো জামা এর নীচ পর্যন্ত। আর ‘উমার ইব্নুল খাত্তাব (রাঃ)-কে আমার সামনে আনা হল এমন অবস্থায় যে, তিনি তাঁর জামা (অধিক লম্বা হওয়ায়) টেনে ধরে নিয়ে যাচ্ছিলেন। সাহাবীগণ আরয করলেন, হে আল্লাহর রসূল! আপনি এর কী তা’বীর করেছেন? তিনি বললেনঃ (এ জামা অর্থ) দ্বীন।
(৩৬৯১, ৭০০৮, ৭০০৯; মুসলিম ৪৪/২ হাঃ ২৩৯০, আহমাদ ১১৮১৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 23
Hadith 24
Chapter 16: Al-Haya (self-respect, modesty bashfulness, honour etc.) is a part of faith - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ ".
Narrated 'Abdullah (bin 'Umar):
Once Allah's Messenger (ﷺ) passed by an Ansari (man) who was admonishing
his brother regarding Haya'. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Leave him
as Haya' is a part of faith." (See Hadith 9)
عبداللہ ابن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مالک ابن انس نے ابن شہاب سے خبر دی ، وہ سالم بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) سے کہ
ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیاء بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے ۔
'আবদুল্লাহ্ ইব্নু ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক আনসারীর পাশ দিয়ে অতিক্রম করছিলেন। তিনি তাঁর ভাইকে তখন (অধিক) লজ্জা ত্যাগের নাসীহাত করছিলেন। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাকে বললেনঃ ওকে ছেড়ে দাও। কারণ লজ্জা ঈমানের অঙ্গ।
(৬১১৮; মুসলিম ১/১২ হাঃ ৩৬, আহমাদ ৪৫৫৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 24
Hadith 25
Chapter 17: (The Statement of Allah Jalla Jalalahu) "But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free." - كتاب الإيمان
Allah's Messenger (ﷺ) said: "I have been ordered (by Allah) to fight against
the people until they testify that none has the right to be worshipped
but Allah and that Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ), and offer the prayers
perfectly and give the obligatory charity, so if they perform that,
then they save their lives and property from me except for Islamic laws
and then their reckoning (accounts) will be done by Allah."
اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، ان سے ابوروح حرمی بن عمارہ نے ، ان سے شعبہ نے ، وہ واقد بن محمد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے سنی ، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں ، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے ، سوائے اسلام کے حق کے ۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے ۔
ইব্নু ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ আমি লোকদের সাথে যুদ্ধ চালিয়ে যাবার জন্য নির্দেশিত হয়েছি, যতক্ষন না তারা সাক্ষ্য দেয় যে, আল্লাহ ব্যতীত প্রকৃত কোন উপাস্য নেই ও মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আল্লাহর রসূল, আর সালাত প্রতিষ্ঠা করে ও যাকাত আদায় করে। তারা যদি এগুলো করে, তবে আমার পক্ষ হতে তাদের জান ও মালের ব্যাপারে নিরাপত্তা লাভ করলো; অবশ্য ইসলামের বিধান অনুযায়ী যদি কোন কারণ থাকে, তাহলে স্বতন্ত্র কথা। আর তাদের হিসাবের ভার আল্লাহর উপর অর্পিত।
(মুসলিম ১/৮ হাঃ ২২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৪)
Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "What is the best deed?" He replied, "To
believe in Allah and His Apostle (Muhammad). The questioner then
asked, "What is the next (in goodness)? He replied, "To participate in
Jihad (religious fighting) in Allah's Cause." The questioner again
asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, "To perform Hajj
(Pilgrim age to Mecca) 'Mubrur, (which is accepted by Allah and is
performed with the intention of seeking Allah's pleasure only and not
to show off and without committing a sin and in accordance with the
traditions of the Prophet)."
ہم سے احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل دونوں نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، وہ سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا “ کہا گیا ، اس کے بعد کون سا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا “ کہا گیا ، پھر کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حج مبرور “ ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে জিজ্ঞেস করা হল, ‘কোন্ ‘আমলটি উত্তম?’ তিনি বললেনঃ ‘আল্লাহ ও তাঁর রসূলের উপর বিশ্বাস স্থাপন করা।‘ [১] জিজ্ঞেস করা হলো, ‘অতঃপর কোন্টি?’ তিনি বললেনঃ ‘আল্লাহর রাস্তায় জিহাদ করা।‘ প্রশ্ন করা হল, ‘অতঃপর কোন্টি?’ তিনি বললেনঃ ‘মাকবূল হাজ্জ সম্পাদন করা।"
(১৫১৯; মুসলিম ১/৩৬ হাঃ ৮৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৫, .ফা. ২৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 26
Hadith 27
Chapter 19: If one does not embrace Islam truly but does so by compulsion or for fear of being killed (then that man is not a believer) - كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا. فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". فَسَكَتُّ قَلِيلاً، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي وَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا سَعْدُ، إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ". وَرَوَاهُ يُونُسُ وَصَالِحٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Sa'd:
Allah's Messenger (ﷺ) distributed (Zakat) amongst (a group of) people while
I was sitting there but Allah's Messenger (ﷺ) left a man whom I thought the
best of the lot. I asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why have you left that
person? By Allah I regard him as a faithful believer." The Prophet (ﷺ)
commented: "Or merely a Muslim." I remained quiet for a while, but
could not help repeating my question because of what I knew about him.
And then asked Allah's Messenger (ﷺ), "Why have you left so and so? By
Allah! He is a faithful believer." The Prophet (ﷺ) again said, "Or merely
a Muslim." And I could not help repeating my question because of what
I knew about him. Then the Prophet (ﷺ) said, "O Sa'd! I give to a person
while another is dearer to me, for fear that he might be thrown on his
face in the Fire by Allah."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے سن کر یہ خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ عطیہ دیا اور سعد وہاں موجود تھے ۔ ( وہ کہتے ہیں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہ دیا ۔ حالانکہ وہ ان میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ۔ میں نے کہا حضور آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ میں اسے مومن گمان کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن یا مسلمان ؟ میں تھوڑی دیر چپ رہ کر پھر پہلی بات دہرانے لگا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سعد ! باوجود یہ کہ ایک شخص مجھے زیادہ عزیز ہے ( پھر بھی میں اسے نظرانداز کر کے ) کسی اور دوسرے کو اس خوف کی وجہ سے یہ مال دے دیتا ہوں کہ ( وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اسلام سے پھر جائے اور ) اللہ اسے آگ میں اوندھا ڈال دے ۔ اس حدیث کو یونس ، صالح ، معمر اور زہری کے بھتیجے عبداللہ نے زہری سے روایت کیا ۔
সা‘দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদল লোককে কিছু দান করলেন। সা‘দ (রাঃ) সেখানে বসেছিলেন। সা‘দ (রাঃ) বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাদের এক ব্যক্তিকে কিছু দিলেন না। সে ব্যক্তি আমার নিকট তাদের চেয়ে অধিক পছন্দের ছিল। তাই আমি আরয করলাম, হে আল্লাহর রসূল! অমুক ব্যক্তিকে আপনি বাদ দিলেন কেন? আল্লাহর শপথ! আমি তো তাকে মু’মিন বলেই জানি। তিনি বললেনঃ না, মুসলিম। তখন আমি কিছুক্ষণ নীরব থাকলাম। অতঃপর আমি তার সম্পর্কে যা জানি, তা (ব্যক্ত করার) প্রবল ইচ্ছা হলো। তাই আমি আমার বক্তব্য আবার বললাম, আপনি অমুককে দান থেকে বাদ রাখলেন? আল্লাহর শপথ! আমি তো তাকে মু‘মিন বলেই জানি। তিনি বললেনঃ ‘না, মুসলিম?’ তখন আমি কিছুক্ষণ নীরব থাকলাম। তারপর আমি তার সম্পর্কে যা জানি তা (ব্যক্ত করার) প্রবল ইচ্ছা হলো। তাই আমি আবার বললাম, আপনি অমুককে দান হতে বাদ রাখলেন? আল্লাহর শপথ! আমি তো তাকে মু‘মিন বলেই জানি। তিনি বললেনঃ ‘না, মুসলিম?’ তখন আমি কিছুক্ষণ চুপ থাকলাম। তারপর আমি তার সম্পর্কে যা জানি তা (ব্যক্ত করার) প্রবল ইচ্ছা হলো। তাই আমি আমার বক্তব্য আবার বললাম। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) পুনরায় সেই একই জবাব দিলেন। তারপর বললেনঃ ‘সা’দ! আমি কখনো ব্যক্তি বিশেষকে দান করি, অথচ অন্যলোক আমার নিকট তার চেয়ে অধিক প্রিয়। তা এ আশঙ্কায় যে (সে ঈমান থেকে ফিরে যেতে পারে পরিণামে), আল্লাহ তা‘আলা তাকে অধঃমুখে জাহান্নামে নিক্ষিপ্ত করবেন।
এ হাদীস ইউনুস, সালিহ, মা‘মার এবং যুহরী (রহঃ)-এর ভ্রাতুস্পুত্র যুহরী (রহঃ) হতে বর্ণনা করেছেন।
(১৪৭৮; মুসলিম ১/৬৮ হাঃ ১৫০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৬)
A person asked Allah's Messenger (ﷺ) . "What (sort of) deeds in or (what
qualities of) Islam are good?" He replied, "To feed (the poor) and
greet those whom you know and those whom you don't know."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابوالخیر سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ۔
‘আবদুল্লাহ্ ইব্নু ‘আম্র (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ এক ব্যক্তি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে জিজ্ঞেস করল, ‘ইসলামের কোন্ কাজ সবচেয়ে উত্তম?’ তিনি বললেনঃ তুমি লোকদের খাদ্য খাওয়াবে এবং চেনা অচেনা সকলকে সালাম দিবে।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৭)
The Prophet (ﷺ) said: "I was shown the Hell-fire and that the majority of
its dwellers were women who were ungrateful." It was asked, "Do they
disbelieve in Allah?" (or are they ungrateful to Allah?) He replied,
"They are ungrateful to their husbands and are ungrateful for the
favors and the good (charitable deeds) done to them. If you have
always been good (benevolent) to one of them and then she sees
something in you (not of her liking), she will say, 'I have never
received any good from you."
اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، وہ امام مالک سے ، وہ زید بن اسلم سے ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں ۔ کہا گیا حضور کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں ۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں ۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو ۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔
ইব্নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ আমাকে জাহান্নাম দেখানো হয়। (আমি দেখি), তার অধিবাসীদের বেশির ভাগই নারীজাতি; (কারণ) তারা কুফরী করে। জিজ্ঞেস করা হল, ‘তারা কি আল্লাহর সঙ্গে কুফরী করে?’ তিনি বললেনঃ ‘তারা স্বামীর অবাধ্য হয় এবং অকৃতজ্ঞ হয়।’ তুমি যদি দীর্ঘদিন তাদের কারো প্রতি ইহসান করতে থাক, অতঃপর সে তোমার সামান্য অবহেলা দেখতে পেলেই বলে ফেলে, ‘আমি কক্ষণো তোমার নিকট হতে ভালো ব্যবহার পাইনি।’
(৪৩১,৭৪৮,১০৫২,৩২০২,৫১৯৭; মুসলিম ৮/১ হাঃ ৮৮৪, আহমাদ ৩০৬৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৮,ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৮)
At Ar-Rabadha I met Abu Dhar who was wearing a cloak, and his slave,
too, was wearing a similar one. I asked about the reason for it. He
replied, "I abused a person by calling his mother with bad names." The
Prophet said to me, 'O Abu Dhar! Did you abuse him by calling his
mother with bad names You still have some characteristics of
ignorance. Your slaves are your brothers and Allah has put them under
your command. So whoever has a brother under his command should feed
him of what he eats and dress him of what he wears. Do not ask them
(slaves) to do things beyond their capacity (power) and if you do so,
then help them.' "
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے اسے واصل احدب سے ، انھوں نے معرور سے ، کہا
میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا ۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی ( یعنی گالی دی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر ! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی ، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے ۔ ( یاد رکھو ) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں ۔ اللہ نے ( اپنی کسی مصلحت کی بنا پر ) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو ۔
মা‘রূর (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি একবার রাবাযা নামক স্থানে আবূ যর (রাঃ)-এর সঙ্গে দেখা করলাম। তখন তাঁর পরনে ছিল এক জোড়া কাপড় (লুঙ্গি ও চাদর) আর তাঁর ভৃত্যের পরনেও ছিল ঠিক একই ধরনের এক জোড়া কাপড়। আমি তাঁকে এর কারণ জিজ্ঞেস করলে তিনি বললেনঃ একবার আমি জনৈক ব্যক্তিকে গালি দিয়েছিলাম এবং আমি তাকে তার মা সম্পর্কে লজ্জা দিয়েছিলাম। তখন আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাকে বললেন, আবূ যার! তুমি তাকে তার মা সম্পর্কে লজ্জা দিয়েছ? তুমি তো এমন ব্যক্তি, তোমার মধ্যে এখনো অন্ধকার যুগের স্বভাব বিদ্যমান। জেনে রেখো, তোমাদের দাস-দাসী তোমাদেরই ভাই। আল্লাহ তা‘আলা তাদের তোমাদের অধীনস্থ করে দিয়েছেন। তাই যার ভাই তার অধীনে থাকবে, সে যেন নিজে যা খায় তাকে তা-ই খাওয়ায় এবং নিজে যা পরিধান করে, তাকেও তা-ই পরায়। তাদের উপর এমন কাজ চাপিয়ে দিও না, যা তাদের জন্য অধিক কষ্টদায়ক। যদি এমন কষ্টকর কাজ করতে দাও, তাহলে তোমরাও তাদের সে কাজে সহযোগিতা করবে।
(২৫৪৫, ৬০৫০; মুসলিম ২৭/১০ হাঃ ১৬৬১, আহমাদ ২১৪৮৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩০)
While I was going to help this man ('Ali Ibn Abi Talib), Abu Bakra met
me and asked, "Where are you going?" I replied, "I am going to help
that person." He said, "Go back for I have heard Allah's Messenger (ﷺ)
saying, 'When two Muslims fight (meet) each other with their swords,
both the murderer as well as the murdered will go to the Hell-fire.' I
said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! It is all right for the murderer but what
about the murdered one?' Allah's Messenger (ﷺ) replied, "He surely had the
intention to kill his companion."
ہم سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن مبارک نے ، کہا ہم سے بیان کیا حماد بن زید نے ، کہا ہم سے بیان کیا ایوب اور یونس نے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے احنف بن قیس سے ، کہا کہ
میں اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو چلا ۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے ۔ پوچھا کہاں جاتے ہو ؟ میں نے کہا ، اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں ۔ ابوبکرہ نے کہا اپنے گھر کو لوٹ جاؤ ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قاتل تو خیر ( ضرور دوزخی ہونا چاہیے ) مقتول کیوں ؟ فرمایا ’’ وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا ۔ ‘‘ ( موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا دل کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ہوا ) ۔
আহনাফ ইব্নু কায়স (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি (সিফফীনের যুদ্ধে) এক ব্যক্তিকে [আলী (রাঃ)-কে] সাহায্য করতে যাচ্ছিলাম। আবূ বাক্রাহ্ (রাঃ)-এর সঙ্গে আমার দেখা হলে তিনি বললেনঃ ‘তুমি কোথায় যাচ্ছ?’ আমি বললাম, ‘আমি এ ব্যক্তিকে সাহায্য করতে যাচ্ছি।’ তিনি বললেনঃ ‘ফিরে যাও। কারণ আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কে বলতে শুনেছি যে, দু’জন মুসলমান তাদের তরবারি নিয়ে মুখোমুখি হলে হত্যাকারী এবং নিহত ব্যক্তি উভয়ে জাহান্নামে যাবে।’ আমি বললাম, ‘হে আল্লাহর রসূল! এ হত্যাকারী (তো অপরাধী), কিন্তু নিহত ব্যক্তির কী অপরাধ? তিনি বললেন, (নিশ্চয়ই) সেও তার সাথীকে হত্যা করার জন্য উদগ্রীব ছিল।’
(৬৮৭৫, ৭০৮৩; মুসলিম ৫২/৪ হাঃ ২৮৮৮, আহমাদ ২০৪৪৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৯)
When the following Verse was revealed: "It is those who believe and
confuse not their belief with wrong (worshipping others besides
Allah.)" (6:83), the companions of Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Who is
amongst us who had not done injustice (wrong)?" Allah revealed: "No
doubt, joining others in worship with Allah is a great injustice
(wrong) indeed." (31.13)
ہمارے سامنے ابوالولید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ( اسی حدیث کو ) بشر نے بیان کیا ، ان سے محمد نے ، ان سے شعبہ نے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے
جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو بہت ہی مشکل ہے ۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا ۔ تب اللہ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری «إن الشرك لظلم عظيم» کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔
‘আবদুল্লাহ্ (ইব্নু মাস‘ঊদ) (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ ‘‘যারা ঈমান এনেছে এবং নিজেদের ঈমানকে শিরকের সাথে মিশ্রিত করেনি’’- (সূরা আন্‘আম ৬/৮২); এ আয়াত নাযিল হলে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সাহাবীগণ বললেন, ‘আমাদের মধ্যে এমন কে আছে যে যুল্ম করেনি?’ তখন আল্লাহ তা‘আলা এ আয়াত নাযিল করেনঃ ‘‘নিশ্চয়ই শির্ক হচ্ছে অধিকতর যুল্ম’’-(সূরা লুকমান ৩১/১৩)
(৩৩৬০ ৩৪২৮, ৩৪২৯, ৪৬২৯, ৪৭৭৬, ৬৯১৮, ৬৯৩৭; মুসলিম ১/৫৬ হাঃ ১২৬, আহমাদ ৪০৩১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩১)