Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 41

Types of Blood-Wit (Kitab Al-Diyat)

كتاب الديات

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 102 hadiths in this chapter

Hadith 4494
Chapter 1644: A Life For A Life - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ - وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ - فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلاً مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلاً مِنْ قُرَيْظَةَ فُودِيَ بِمِائَةِ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلاً مِنْ قُرَيْظَةَ فَقَالُوا ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ ‏.‏ فَقَالُوا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَوْهُ فَنَزَلَتْ ‏{‏ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ‏}‏ وَالْقِسْطُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ثُمَّ نَزَلَتْ ‏{‏ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ‏}‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ جَمِيعًا مِنْ وَلَدِ هَارُونَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏

Narrated Abdullah Ibn Abbas:

Qurayzah and Nadir (were two Jewish tribes). An-Nadir were nobler than Qurayzah. When a man of Qurayzah killed a man of an-Nadir, he would be killed. But if a man of an-Nadir killed a man of Qurayzah, a hundred wasq of dates would be paid as blood-money. When Prophethood was bestowed upon the Prophet (ﷺ), a man of an-Nadir killed a man of Qurayzah. They said: Give him to us, we shall kill him. They replied: We have the Prophet (ﷺ) between you and us. So they came to him. Thereupon the following verse was revealed: "If thou judge, judge in equity between them." "In equity" means life for a life. The following verse was then revealed: "Do they seek of a judgment of (the days) ignorance?" Abu Dawud said: Quraizah and al-Nadir were the descendants of Harun the Prophet (peace be upon him)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

قریظہ اور نضیر دو ( یہودی ) قبیلے تھے ، نضیر قریظہ سے زیادہ باعزت تھے ، جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے اس کے بدلے قتل کر دیا جاتا ، اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو سو وسق کھجور فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا جاتا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا ، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کرو ، ہم اسے قتل کریں گے ، نضیر نے کہا : ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کریں گے ، چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آیت «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ” اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو “ اتری ، اور انصاف کی بات یہ تھی کہ جان کے بدلے جان لی جائے ، پھر آیت «أفحكم الجاهلية يبغون» ” کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں ؟ “ نازل ہوئی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قریظہ اور نضیر دونوں ہارون علیہ السلام کی اولاد ہیں ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 1
Hadith 4495
Chapter 1645: A Man Is Not To Be Punished For The Wrongs Done By His Father Or Brother - كتاب الديات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ - حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي ‏"‏ ابْنُكَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ ‏"‏ حَقًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَشْهَدُ بِهِ ‏.‏ قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي فِي أَبِي وَمِنْ حَلْفِ أَبِي عَلَىَّ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ لاَ يَجْنِي عَلَيْكَ وَلاَ تَجْنِي عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ‏}‏

Narrated AbuRimthah:

I went to the Prophet (ﷺ) with my father. The Messenger of Allah (ﷺ) then asked my father: Is this your son? He replied: Yes, by the Lord of the Ka'bah. He again said: Is it true? He said: I bear witness to it. The Messenger of Allah (ﷺ) then smiled for my resemblance with my father, and for the fact that my father took an oath upon me. He then said: He will not bring evil on you, nor will you bring evil on him. The Messenger of Allah (ﷺ) recited the verse: "No bearer of burdens can bear the burden of another."

ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ نے میرے والد سے پوچھا : ” یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ “ میرے والد نے کہا : ہاں رب کعبہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سچ مچ ؟ “ انہوں نے کہا : میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، کیونکہ میں اپنے والد کے مشابہ تھا ، اور میرے والد نے قسم کھائی تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! نہ یہ تمہارے جرم میں پکڑا جائے گا ، اور نہ تم اس کے جرم میں “ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی “ ( الانعام : ۱۶۴ ، الاسراء : ۱۵ ، الفاطر : ۱۸ ) ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 2
Hadith 4496
Chapter 1646: The Imam Enjoining A Pardon In The Case Of Bloodshed - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أُصِيبَ بِقَتْلٍ أَوْ خَبْلٍ فَإِنَّهُ يَخْتَارُ إِحْدَى ثَلاَثٍ إِمَّا أَنْ يَقْتَصَّ وَإِمَّا أَنْ يَعْفُوَ وَإِمَّا أَنْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ وَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuShurayh al-Khuza'i:

The Prophet (ﷺ) said: If a relative of anyone is killed, or if he suffers khabl, which means a wound, he may choose one of the three things: he may retaliate, or forgive, or receive compensation. But if he wishes a fourth (i.e. something more), hold his hands. After this whoever exceeds the limits shall be in grave penalty.

ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو ( اپنے کسی رشتہ دار کے ) قتل ہونے ، یا زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی ہو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا : یا تو قصاص لے لے ، یا معاف کر دے ، یا دیت لے لے ، اگر وہ ان کے علاوہ کوئی چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو ، اور جس نے ان ( اختیارات ) میں زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے “ ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 3
Hadith 4497
Chapter 1646: The Imam Enjoining A Pardon In The Case Of Bloodshed - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رُفِعَ إِلَيْهِ شَىْءٌ فِيهِ قِصَاصٌ إِلاَّ أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ ‏.‏

Narrated Anas ibn Malik:

I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) that some dispute which involved retaliation was brought to him but he commanded regarding it for remission.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ ( پہلے ) آپ اس میں معاف کر دینے کا حکم دیتے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 4
Hadith 4498
Chapter 1646: The Imam Enjoining A Pardon In The Case Of Bloodshed - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ الْقَاتِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْوَلِيِّ ‏ "‏ أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

A man was killed in the lifetime of the Prophet (ﷺ). The matter was brought to the Prophet (ﷺ). He entrusted him to the legal guardian of the slain. The slayer said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I did not intend to kill him. The Messenger of Allah (ﷺ) said to the legal guardian: Now if he is true and you kill him, you will enter Hell-fire. So he let him go. His hands were tied with a strap. He came out pulling his strap. Hence he was called Dhu an-Nis'ah (possessor of strap).

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص قتل کر دیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا ، آپ نے اس ( قاتل ) کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا ، قاتل کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث سے فرمایا : ” سنو ! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا ، تو تم جہنم میں جاؤ گے “ یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا ، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے ، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا ، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑ گیا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 5
Hadith 4499
Chapter 1646: The Imam Enjoining A Pardon In The Case Of Bloodshed - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جِيءَ بِرَجُلٍ قَاتِلٍ فِي عُنُقِهِ النِّسْعَةُ قَالَ فَدَعَا وَلِيَّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ ‏"‏ أَتَعْفُو ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَقْتُلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ ‏"‏ أَتَعْفُو ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَقْتُلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَعَفَا عَنْهُ ‏.‏ قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ النِّسْعَةَ ‏.‏

Narrated Wa'il ibn Hujr:

I was with the Prophet (ﷺ) when a man who was a murderer and had a strap round his neck was brought to him. He then called the legal guardian of the victim and asked him: Do you forgive him? He said: No. He asked: Will you accept the blood-money? He said: No. He asked: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him. When he turned his back, he said: Do you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the blood-money? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him. After repeating all this a fourth time, he said: If you forgive him, he will bear the burden of his own sin and the sin of the victim. He then forgave him. He (the narrator) said: I saw him pulling the strap.

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا ، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا ، اور اس سے پوچھا : ” کیا تم معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو کیا دیت لو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو کیا تم قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا لے جاؤ اسے “ چنانچہ جب وہ ( اسے لے کر ) چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا تم اسے معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم دیت لو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لے جاؤ “ چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا “ یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا ۔ وائل کہتے ہیں : میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 6
Hadith 4500
Chapter 1646: The Imam Enjoining A Pardon In The Case Of Bloodshed - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Alqamah b. Wa'il through a different chain of narrators and to the same effect.

اس سند سے بھی

علقمہ بن وائل سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 7
Hadith 4501
Chapter 1646: The Imam Enjoining A Pardon In The Case Of Bloodshed - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِحَبَشِيٍّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا قَتَلَ ابْنَ أَخِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قَتَلْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ضَرَبْتُ رَأْسَهُ بِالْفَأْسِ وَلَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ لَكَ مَالٌ تُؤَدِّي دِيَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ أَرْسَلْتُكَ تَسْأَلُ النَّاسَ تَجْمَعُ دِيَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَوَالِيكَ يُعْطُونَكَ دِيَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ لِلرَّجُلِ ‏"‏ خُذْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجَ بِهِ لِيَقْتُلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ إِنْ قَتَلَهُ كَانَ مِثْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَبَلَغَ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ يَسْمَعُ قَوْلَهُ فَقَالَ هُوَ ذَا فَمُرْ فِيهِ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسِلْهُ - وَقَالَ مَرَّةً دَعْهُ - يَبُوءُ بِإِثْمِ صَاحِبِهِ وَإِثْمِهِ فَيَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَرْسَلَهُ ‏.‏

Narrated Wa'il (b. Hujr):

A man brought an Abyssinian to the Prophet (ﷺ) and said: This man has killed my nephew. He asked: How did you kill him? He replied: I struck his head with axe but I did not intend to kill him. He asked: Have you some money so that you pay his blood-wit? He said: No. He said: What is your opinion if I send you so that you ask the people (for money) and thus collect your blood-wit? He said: No. He asked : Will your masters give you his blood-wit (to pay his relatives)? He said: No. He said to the man. Take him. So he brought him out to kill him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If he kill him, he will be like him. This (statement) reached the man where he was listening to his statement. He said: He is here, order regarding him as you like. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Leave him alone. And he once said: He will bear the burden of the sin of the slain and that of his own and thus he will become one of the Companions of Hell. So he let him go.

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے ، آپ نے اس سے پوچھا : ” تم نے اسے کیسے قتل کر دیا ؟ “ وہ بولا : میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر گیا ، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا ، آپ نے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کر سکو “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کر سکتے ہو ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کر دیں گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، تب آپ نے اس شخص ( مقتول کے وارث ) سے فرمایا : ” اسے لے جاؤ “ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا : ” اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا “ وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا : وہ یہ ہے ، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو ، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہو گا “ چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 8
Hadith 4502
Chapter 1646: The Imam Enjoining A Pardon In The Case Of Bloodshed - كتاب الديات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلاَمَ مَنْ عَلَى الْبَلاَطِ فَدَخَلَهُ عُثْمَانُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونَنِي بِالْقَتْلِ آنِفًا ‏.‏ قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ‏.‏ قَالَ وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلاَمٍ أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ ‏"‏ ‏.‏ فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ قَطُّ وَلاَ أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلاً مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ وَلاَ قَتَلْتُ نَفْسًا فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي قَالَ أَبُو دَاوُدَ عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ رضى الله عنهما تَرَكَا الْخَمْرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ‏.‏

Narrated AbuUmamah ibn Sahl:

We were with Uthman when he was besieged in the house. There was an entrance to the house. He who entered it heard the speech of those who were in the Bilat. Uthman then entered it. He came out to us, looking pale. He said: They are threatening to kill me now. We said: Allah will be sufficient for you against them, Commander of the Faithful! He asked: Why kill me? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: It is not lawful to kill a man who is a Muslim except for one of the three reasons: Kufr (disbelief) after accepting Islam, fornication after marriage, or wrongfully killing someone, for which he may be killed. I swear by Allah, I have not committed fornication before or after the coming of Islam, nor did I ever want another religion for me instead of my religion since Allah gave guidance to me, nor have I killed anyone. So for what reason do you want to kill me? Abu Dawud said: 'Uthman and Abu Bakr (Allah be pleased with them) abandoned drinking wine in pre-Islamic times.

ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ

ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، آپ گھر میں محصور تھے ، گھر میں داخل ہونے کا ایک راستہ ایسا تھا کہ جو اس میں داخل ہو جاتا وہ باہر سطح زمین پر کھڑے لوگوں کی گفتگو سن سکتا تھا ، عثمان اس میں داخل ہوئے اور ہمارے پاس لوٹے تو ان کا رنگ متغیر تھا ، کہنے لگے : ان لوگوں نے ابھی ابھی مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے ، تو ہم نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! آپ کی ان سے حفاظت کے لیے اللہ کافی ہے ، اس پر انہوں نے کہا : آخر یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” تین باتوں کے بغیر کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں : ایک یہ کہ اسلام لانے کے بعد وہ کفر کا ارتکاب کرے ، دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہو کر زنا کرے ، اور تیسرے یہ کہ ناحق کسی کو قتل کر دے “ تو اللہ کی قسم ! میں نے نہ تو جاہلیت میں ، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی زنا کیا ، اور جب سے اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہے میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میرا دین اس کے بجائے کوئی اور ہو ، اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے ، تو آخر کس بنیاد پر مجھے یہ قتل کریں گے ؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان اور ابوبکر رضی اللہ عنہما نے تو جاہلیت میں بھی شراب سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 9
Hadith 4503
Chapter 1646: The Imam Enjoining A Pardon In The Case Of Bloodshed - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ الضَّمْرِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ، - وَهَذَا حَدِيثُ وَهْبٍ وَهُوَ أَتَمُّ - يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ - قَالَ مُوسَى - وَجَدِّهِ وَكَانَا شَهِدَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا - ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى حَدِيثِ وَهْبٍ - أَنَّ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلاً مِنْ أَشْجَعَ فِي الإِسْلاَمِ وَذَلِكَ أَوَّلُ غِيَرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَكَلَّمَ عُيَيْنَةُ فِي قَتْلِ الأَشْجَعِيِّ لأَنَّهُ مِنْ غَطَفَانَ وَتَكَلَّمَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ دُونَ مُحَلِّمٍ لأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ فَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عُيَيْنَةُ أَلاَ تَقْبَلُ الْغِيَرَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُيَيْنَةُ لاَ وَاللَّهِ حَتَّى أُدْخِلَ عَلَى نِسَائِهِ مِنَ الْحَرْبِ وَالْحَزَنِ مَا أَدْخَلَ عَلَى نِسَائِي ‏.‏ قَالَ ثُمَّ ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عُيَيْنَةُ أَلاَ تَقْبَلُ الْغِيَرَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُيَيْنَةُ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا إِلَى أَنْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ عَلَيْهِ شِكَّةٌ وَفِي يَدِهِ دَرَقَةٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَجِدْ لِمَا فَعَلَ هَذَا فِي غُرَّةِ الإِسْلاَمِ مَثَلاً إِلاَّ غَنَمًا وَرَدَتْ فَرُمِيَ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَمْسُونَ فِي فَوْرِنَا هَذَا وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَمُحَلِّمٌ رَجُلٌ طَوِيلٌ آدَمُ وَهُوَ فِي طَرَفِ النَّاسِ فَلَمْ يَزَالُوا حَتَّى تَخَلَّصَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي بَلَغَكَ وَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَقَتَلْتَهُ بِسِلاَحِكَ فِي غُرَّةِ الإِسْلاَمِ اللَّهُمَّ لاَ تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ ‏"‏ ‏.‏ بِصَوْتٍ عَالٍ زَادَ أَبُو سَلَمَةَ فَقَامَ وَإِنَّهُ لَيَتَلَقَّى دُمُوعَهُ بِطَرَفِ رِدَائِهِ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَزَعَمَ قَوْمُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَغْفَرَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ الْغِيَرُ الدِّيَةُ ‏.‏

Narrated Ziyad ibn Sa'd ibn Dumayrah as-Sulami:

On the authority of his father (Sa'd) and his grandfather (Dumayrah) (according to Musa's version) who were present in the battle of Hunayn with the Messenger of Allah (ﷺ): After the advent of Islam, Muhallam ibn Jaththamah al-Laythi killed a man of Ashja'. That was the first blood-money decided by the Messenger of Allah (ﷺ) (for payment). Uyaynah spoke about the killing of al-Ashja'i, for he belonged to Ghatafan, and al-Aqra' ibn Habis spoke on behalf of Muhallam, for he belonged to Khunduf. The voices rose high, and the dispute and noise grew. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you not accept blood-money, Uyaynah? Uyaynah then said: No, I swear by Allah, until I cause his women to suffer the same fighting and grief as he caused my women to suffer. Again the voices rose high, and the dispute and noise grew. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you not accept the blood-money Uyaynah? Uyaynah gave the same reply as before, and a man of Banu Layth called Mukaytil stood up. He had a weapon and a skin shield in his hand. He said: I do not find in the beginning of Islam any illustration for what he has done except the one that "some sheep came on, and those in the front were shot; hence those in the rear ran away". (The other example is that) "make a law today and change it." The Messenger of Allah (ﷺ) said: Fifty (camels) here immediately and fifty when we return to Medina. This happened during some of his journeys. Muhallam was a tall man of dark complexion. He was with the people. They continued (to make effort for him) until he was released. He sat before the Messenger of Allah (ﷺ), with his eyes flowing. He said: Messenger of Allah! I have done (the act) of which you have been informed. I repent to Allah, the Exalted, so ask Allah's forgiveness for me. Messenger of Allah! The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Did you kill him with your weapon at the beginning of Islam. O Allah! do not forgive Muhallam. He said these words loudly. AbuSalamah added: He (Muhallam) then got up while he was wiping his tears with the end of his garment. Ibn Ishaq said: His people alleged that the Messenger of Allah (ﷺ) asked forgiveness for him after that. Abu Dawud said: Al-Nadr b. Shumail said: al-ghiyar means blood-wit.

زبیر بن عوام اور ان والد عوام رضی اللہ عنہما ( یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے ) سے روایت ہے کہ

محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کر دیا ، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا ، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں ، اور شور و غل بڑھ گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیینہ ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے ؟ “ عیینہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے ، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیینہ ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے ؟ “ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا ، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لیے ہوئے تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے ، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے ، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں ، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو ، اور پچاس مدینے لوٹ کر دینا “ ۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا ، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا ، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا ، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا ، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے ، اب میں توبہ کرتا ہوں ، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے ، اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ آواز بلند فرمایا : ” کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے ، اے اللہ ! محلم کو نہ بخشنا “ ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا ، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا ، ابن اسحاق کہتے ہیں : محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ «غير» کے معنی دیت کے ہیں ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 10
Hadith 4504
Chapter 1647: The Heir Of The One Who Was Killed Deliberately Taking The Diyah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا شُرَيْحٍ الْكَعْبِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ وَإِنِّي عَاقِلُهُ فَمَنْ قُتِلَ لَهُ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ قَتِيلٌ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ أَوْ يَقْتُلُوا ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuShurayb al-Ka'bi:

The Prophet (ﷺ) said: Then you, Khuza'ah, have killed this man of Hudhayl, but I will pay his blood-wit. After these words of mine if a man of anyone is killed, his people will have a choice to accept blood-wit or to kill him.

ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو خزاعہ کے لوگو ! تم نے ہذیل کے اس شخص کو قتل کیا ہے ، اور میں اس کی دیت دلاؤں گا ، میری اس گفتگو کے بعد کوئی قتل کیا گیا تو مقتول کے لوگوں کو دو باتوں کا اختیار ہو گا یا وہ دیت لے لیں یا قتل کر ڈالیں “ ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 11
Hadith 4505
Chapter 1647: The Heir Of The One Who Was Killed Deliberately Taking The Diyah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُودَى أَوْ يُقَادَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي - قَالَ الْعَبَّاسُ اكْتُبُوا لِي - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اكْتُبُوا لِي يَعْنِي خُطْبَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Narrated Abu Hurairah:

When Mecca was conquered, the Messenger of Allah (ﷺ) got up and said: If a relative of anyone is killed, he will have a choice between two : he (the slayer) will either pay the blood-wit or he will be killed. A man of the Yemen called Abu Shah stood up and said: Write for me, Messenger of Allah. The narrator al-'Abbas (b. al-Walid) said: Write to me, (you people). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Write (you people), for Abu Shah. These are the wordings of the tradition of Ahmad. Abu Dawud said: Write (you people), for me, that is, the address of the Prophet (ﷺ).

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ

جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا : ” جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے ، یا قصاص میں قتل کرے “ یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے یہ لکھ دیجئیے ( عباس بن ولید کی روایت «اکتب لی» کے بجائے «اکتبوا لی» یہ صیغۂ جمع ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابو شاہ کے لیے لکھ دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «اکتبوا لی» سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ہے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 12
Hadith 4506
Chapter 1647: The Heir Of The One Who Was Killed Deliberately Taking The Diyah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated 'Amr b. Shu'aib:

On his father's authority said that his grandfather reported the Prophet (ﷺ) said: A believer will not be killed for an infidel. If anyone kills a man deliberately, he is to be handed over to the relatives of the one who has been killed. If they wish, they may kill, but if they wish, they may accept blood-wit

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا ، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا ، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کر دیا جائے گا ، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں “ ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 13
Hadith 4507
Chapter 1648: One Who Kills After Accepting The Diyah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، - وَأَحْسَبُهُ - عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ أُعْفِي مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah:

The Prophet (ﷺ) said: I will not forgive anyone who kills after accepting blood-wit

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اسے ہرگز نہیں معاف کروں گا ۱؎ جو دیت لینے کے بعد بھی ( قاتل کو ) قتل کر دے “ ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 14
Hadith 4508
Chapter 1649: If A Person Gives A Man Poison To Drink Or Eat, And He Dies, Is He Subject To Retaliation ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ امْرَأَةً، يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَرَدْتُ لأَقْتُلَكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالُوا أَلاَ نَقْتُلُهَا قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

A Jewess brought a poisoned sheep to the Messenger of Allah (ﷺ), and he ate of it. She was then brought to the Messenger of Allah (ﷺ) who asked her about it. She said: I intended to kill you. He said: Allah will not give you control over it ; or he said : over me. They (the Companions) said: Should we not kill her ? He said: No. He (Anas) said: I always found it in the uvula of the Messenger of Allah (ﷺ)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی ، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا ، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا ، تو اس نے کہا : میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا ، آپ نے فرمایا : ” اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا “ صحابہ نے عرض کیا : کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ، آپ نے فرمایا : ” نہیں “ چنانچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 15
Hadith 4509
Chapter 1649: If A Person Gives A Man Poison To Drink Or Eat, And He Dies, Is He Subject To Retaliation ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّاُدُ بْنُ الْعَوَّامِ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ - قَالَ هَارُونُ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الْيَهُودِ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَاةً مَسْمُومَةً - قَالَ - فَمَا عَرَضَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذِهِ أُخْتُ مَرْحَبٍ الْيَهُودِيَّةُ الَّتِي سَمَّتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Narrated Abu Hurairah:

A Jewess presented a poisoned sheep to the Prophet (ﷺ), but the Prophet (ﷺ) did not interfere with he. Abu Dawud said: The Jewess who poisoned the Prophet (ﷺ) was sister of Marhab.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک یہودی عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری بھیجی ، لیکن آپ نے اس عورت سے کوئی تعرض نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرحب کی ایک یہودی بہن تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 16
Hadith 4510
Chapter 1649: If A Person Gives A Man Poison To Drink Or Eat, And He Dies, Is He Subject To Retaliation ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً، مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا فَقَالَ لَهَا ‏"‏ أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتِ الْيَهُودِيَّةُ مَنْ أَخْبَرَكَ قَالَ ‏"‏ أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي ‏"‏ ‏.‏ لِلذِّرَاعِ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا أَرَدْتِ إِلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ يَضُرَّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ اسْتَرَحْنَا مِنْهُ ‏.‏ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يُعَاقِبْهَا وَتُوُفِّيَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الأَنْصَارِ ‏.‏

Narrated Ibn Shihab:

Jabir ibn Abdullah used to say that a Jewess from the inhabitants of Khaybar poisoned a roasted sheep and presented it to the Messenger of Allah (ﷺ) who took its foreleg and ate from it. A group of his companions also ate with him. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Take your hands away (from the food). The Messenger of Allah (ﷺ) then sent someone to the Jewess and he called her. He said to her: Have you poisoned this sheep? The Jewess replied: Who has informed you? He said: This foreleg which I have in my hand has informed me. She said: Yes. He said: What did you intend by it? She said: I thought if you were a prophet, it would not harm you; if you were not a prophet, we should rid ourselves of him (i.e. the Prophet). The Messenger of Allah (ﷺ) then forgave her, and did not punish her. But some of his companions who ate it, died. The Messenger of Allah (ﷺ) had himself cupped on his shoulder on account of that which he had eaten from the sheep. AbuHind cupped him with the horn and knife. He was a client of Banu Bayadah from the Ansar.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ

خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا ، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں بھیجا ، آپ نے دست کا گوشت لے کر اس میں سے کچھ کھایا ، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا ، پھر ان سے آپ نے فرمایا : ” اپنے ہاتھ روک لو “ اور آپ نے اس یہودیہ کو بلا بھیجا ، اور اس سے سوال کیا : ” کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا ؟ “ یہودیہ بولی : آپ کو کس نے بتایا ؟ آپ نے فرمایا : ” دست کے اسی گوشت نے مجھے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے “ وہ بولی : ہاں ( میں نے ملایا تھا ) ، آپ نے پوچھا : ” اس سے تیرا کیا ارادہ تھا ؟ “ وہ بولی : میں نے سوچا : اگر نبی ہوں گے تو زہر نقصان نہیں پہنچائے گا ، اور اگر نہیں ہوں گے تو ہم کو ان سے نجات مل جائے گی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا ، کوئی سزا نہیں دی ، اور آپ کے بعض صحابہ جنہوں نے بکری کا گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے شانوں کے درمیان پچھنے لگوائے ، جسے ابوہند نے آپ کو سینگ اور چھری سے لگایا ، ابوہند انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کے غلام تھے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 17
Hadith 4511
Chapter 1649: If A Person Gives A Man Poison To Drink Or Eat, And He Dies, Is He Subject To Retaliation ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ الأَنْصَارِيُّ فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ ‏ "‏ مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُتِلَتْ وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الْحِجَامَةِ ‏.‏

Narrated AbuSalamah:

A Jewess presented a roasted sheep to the Messenger of Allah (ﷺ) at Khaybar. He then mentioned the rest of the tradition like that of Jabir (No. 4495). He said: Then Bashir ibn al-Bara' ibn Ma'rur al-Ansari died. He sent someone to call on the Jewess, and said to her (when she came): What motivated you to do the work you have done? He then mentioned the rest of the tradition similar to the one mentioned by Jabir (No. 4495). The Messenger of Allah (ﷺ) then ordered regarding her and she was killed. But he (AbuSalamah) did not mention the matter of cupping.

ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

خیبر کی ایک یہودی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی ، پھر راوی نے ویسے ہی بیان کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے ، ابوسلمہ کہتے ہیں : پھر بشر بن براء بن معرور انصاری فوت ہو گئے ، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا : ” تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا ؟ “ پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا : تو وہ قتل کر دی گئی ، اور انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 18
Hadith 4512
Chapter 1649: If A Person Gives A Man Poison To Drink Or Eat, And He Dies, Is He Subject To Retaliation ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلاَ يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ‏.‏ وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلاَ يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ‏.‏ زَادَ فَأَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً سَمَّتْهَا فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا وَأَكَلَ الْقَوْمُ فَقَالَ ‏"‏ ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّهَا أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ الأَنْصَارِيُّ فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ ‏"‏ مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ الَّذِي صَنَعْتُ وَإِنْ كُنْتَ مَلِكًا أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ ‏.‏ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُتِلَتْ ثُمَّ قَالَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ‏"‏ مَا زِلْتُ أَجِدُ مِنَ الأَكْلَةِ الَّتِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهَذَا أَوَانُ قَطَعَتْ أَبْهَرِي ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abu Hurairah:

The Messenger of Allah (ﷺ) would accept a present, but would not accept alms (sadaqah). And Wahb bin Baqiyyah narrated to us, elsewhere, from Khalid, from Muhammad ibn Amr said on the authority of AbuSalamah, and he did not mention the name of Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) used to accept presents but not alms (sadaqah). This version adds: So a Jewess presented him at Khaybar with a roasted sheep which she had poisoned. The Messenger of Allah (ﷺ) ate of it and the people also ate. He then said: Take away your hands (from the food), for it has informed me that it is poisoned. Bishr ibn al-Bara' ibn Ma'rur al-Ansari died. So he (the Prophet) sent for the Jewess (and said to her): What motivated you to do the work you have done? She said: If you were a prophet, it would not harm you; but if you were a king, I should rid the people of you. The Messenger of Allah (ﷺ) then ordered regarding her and she was killed. He then said about the pain of which he died: I continued to feel pain from the morsel which I had eaten at Khaybar. This is the time when it has cut off my aorta.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے ، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے ، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے ، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا ، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : ” اپنے ہاتھ روک لو ، اس ( گوشت ) نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے “ چنانچہ بشر بن براء بن معرور انصاری مر گئے ، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا : ” ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا ؟ “ وہ بولی : اگر آپ نبی ہیں تو جو میں نے کیا ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں نے لوگوں کو آپ سے نجات دلا دی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ قتل کر دی گئی ، پھر آپ نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں فرمایا : جس میں آپ نے وفات پائی کہ میں برابر خیبر کے اس کھانے کے اثر کو محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت آ گیا کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 19
Hadith 4513
Chapter 1649: If A Person Gives A Man Poison To Drink Or Eat, And He Dies, Is He Subject To Retaliation ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ مَا يُتَّهَمُ بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي لاَ أَتَّهِمُ بِابْنِي شَيْئًا إِلاَّ الشَّاةَ الْمَسْمُومَةَ الَّتِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ ‏.‏ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَأَنَا لاَ أَتَّهِمُ بِنَفْسِي إِلاَّ ذَلِكَ فَهَذَا أَوَانُ قَطَعَتْ أَبْهَرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرُبَّمَا حَدَّثَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُرْسَلاً عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرُبَّمَا حَدَّثَ بِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مَرَّةً مُرْسَلاً فَيَكْتُبُونَهُ وَيُحَدِّثُهُمْ مَرَّةً بِهِ فَيُسْنِدُهُ فَيَكْتُبُونَهُ وَكُلٌّ صَحِيحٌ عِنْدَنَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَلَمَّا قَدِمَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَلَى مَعْمَرٍ أَسْنَدَ لَهُ مَعْمَرٌ أَحَادِيثَ كَانَ يُوقِفُهَا ‏.‏

Narrated Ibn Ka'b b. Malik:

On the authority of his father: Umm Mubashshir said to the Prophet (ﷺ) during the sickness of which he died: What do you think about your illness, Messenger of Allah (ﷺ)? I do not think about the illness of my son except the poisoned sheep of which he had eaten with you at Khaybar. The Prophet (ﷺ) said: And I do not think about my illness except that. This is the time when it cut off my aorta. Abu Dawud said: Sometime 'Abd al-Razzaq transmitted this tradition, omitting the link of the Companion, from Ma'mar, from al-Zuhri, from the Prophet (ﷺ), and sometimes he transmitted it from al-Zuhri from 'Abd al-Rahman b. Ka'b b. Malik, 'Abd al-Rahman mentioned that Ma'mar sometimes transmitted the tradition in a mursal form (omitting the link of the Companion), and they recorded it. And all this is correct with us. 'Abd al-Razzaq said: When Ibn al-Mubarak came to Ma'mar, he transmitted the traditions in a musnad form (with a perfect chain) which he transmitted as mauquf traditions (statements of the Companions and not of the Prophet).

کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ

ام مبشر رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی کہا : اللہ کے رسول ! آپ کا شک کس چیز پر ہے ؟ میرے بیٹے کے سلسلہ میں میرا شک تو اس زہر آلود بکری پر ہے جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے سلسلہ میں بھی میرا شک اسی پر ہے ، اور اب یہ وقت آ چکا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرزاق نے کبھی اس حدیث کو معمر سے ، معمر نے زہری سے ، زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور کبھی معمر نے اسے زہری سے اور ، زہری نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطہ سے بیان کیا ہے ۔ اور عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس حدیث کو ان سے کبھی مرسلاً روایت کرتے تو وہ اسے لکھ لیتے اور کبھی مسنداً روایت کرتے تو بھی وہ اسے بھی لکھ لیتے ، اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں : جب ابن مبارک معمر کے پاس آئے تو معمر نے وہ تمام حدیثیں جنہیں وہ موقوفاً روایت کرتے تھے ان سے متصلًا روایت کیں ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 20
Hadith 4514
Chapter 1649: If A Person Gives A Man Poison To Drink Or Eat, And He Dies, Is He Subject To Retaliation ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ، - قَالَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الأَعْرَابِيِّ كَذَا قَالَ عَنْ أُمِّهِ، وَالصَّوَابُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، - دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَخْلَدِ بْنِ خَالِدٍ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَقَالَ ‏ "‏ مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُتِلَتْ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحِجَامَةَ ‏.‏

Narrated 'Abd al-Rahman b. 'Abd Allah b. Ka'b b. Malik :

On the authority of his mother than Umm Mubashshir said (Abu Sa'id b. al-A'rabi said: So he said it on the authority of his mother ; what is correct is: on the authority of his father, instead of his mother): I entered upon the Prophet (ﷺ). He then mentioned the tradition of Makhlad b. Khalid in a way similar to the tradition of Jabir. The narrator said: Then Bishr b. al-Bara' b. Ma'rur died. So he (the Prophet) sent for the Jewess and said: What did motivate you for your work you have done ? He (the narrator) then mentioned the rest of the tradition like the tradition of Jabir. The Messenger of Allah (ﷺ) ordered regarding her and she was killed. He (the narrator in this version) did not mention cupping.

ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے ، اس میں ہے کہ بشر بن براء بن معرور مر گئے ، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا : ” یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا ؟ “ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 21
Hadith 4515
Chapter 1650: If A Man Kills His Slave Or Mutilates Him, Should Retaliation Be Imposed On Him ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Samurah:

The Prophet (ﷺ) Said: If anyone kills his slave, we shall kill him, and if anyone cuts off the nose of his slave, we shall cut off his nose.

سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے ، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے “ ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 22
Hadith 4516
Chapter 1650: If A Man Kills His Slave Or Mutilates Him, Should Retaliation Be Imposed On Him ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ خَصَى عَبَدَهُ خَصَيْنَاهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَحَمَّادٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ هِشَامٍ مِثْلَ حَدِيثِ مُعَاذٍ ‏.‏

Narrated Qatadah:

Through the same chain of narrators as mentioned before, i.e. Samurah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone castrates his slave, we shall castrate him. He then mentioned the rest of the tradition like that of Sh'ubah and Hammad. Abu Dawud said: Abu Dawud al-Tayalisi transmitted it from Hisham like the tradition of Mu'adh.

اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے

اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے “ اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 23
Hadith 4517
Chapter 1650: If A Man Kills His Slave Or Mutilates Him, Should Retaliation Be Imposed On Him ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ مِثْلَهُ زَادَ ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ هَذَا الْحَدِيثَ فَكَانَ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يُقْتَلُ حُرٌّ بِعَبْدٍ ‏"‏ ‏.‏

Qatadah transmitted the tradition mentioned above through a chain of narrators like that of Shu'bah. This version adds:

Then al-Hasan forgot this tradition, and he used to say: A free man is not to be killed for a slave.

اس سند سے بھی قتادہ سے شعبہ کی سند والی روایت کے مثل مروی ہے

اس میں اضافہ ہے کہ پھر حسن ( راوی حدیث ) اس حدیث کو بھول گئے چنانچہ وہ کہتے تھے : آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 24
Hadith 4518
Chapter 1650: If A Man Kills His Slave Or Mutilates Him, Should Retaliation Be Imposed On Him ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ لاَ يُقَادُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ ‏.‏

It was narrated from Hisham, from Qatadah, from Al-Hasan, who said:

"A free man should not be subjected to retaliation in return for a slave."

حسن بصری کہتے ہیں

آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 25
Page 1 of 5

Showing 25 hadiths on this page (Total: 102 hadiths in Sunan Abu Dawud)

Page 1 of 5 Next Last