The Prophet (ﷺ) said: If anyone swears a false oath in confinement, he should make his seat in Hell on account of his (act).
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی دباؤ میں آ کر ( یا دیدہ و دانستہ ) جھوٹی قسم کھا لے تو چاہیئے کہ اس کے سبب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۱؎ “ ۔
Chapter 1215: One Who Swears An Oath In Order To Usurp The Wealth Of Another - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . فَقَالَ الأَشْعَثُ فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلَكَ بَيِّنَةٌ " . قُلْتُ لاَ . قَالَ لِلْيَهُودِيِّ " احْلِفْ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً } إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who swears an oath in which he tells a lie to take the property of a Muslim by unfair means, will meet Allah while He is angry with him.
Al-Ash'ath said: I swear by Allah, he said this about me. There was some land between me and a Jew, but he denied it to me; so I presented him to the Prophet (ﷺ).
The Prophet (ﷺ) asked me: Have you any evidence? I replied: No. He said to the Jew: Take an oath. I said: Messenger of Allah, now he will take an oath and take my property. So Allah, the Exalted, revealed the verse, "As for those who sell the faith they owe to Allah and their own plighted word for a small price, they shall have no portion in the hereafter."
عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا “ ۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں ( جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا ) فرمائی تھی ، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی ، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ” تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا : ” تم قسم کھاؤ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ” بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں “ ( سورۃ آل عمران : ۷۷ ) آخیر تک نازل فرمائی ۱؎ ۔
A man of Kindah and a man of Hadramawt brought their dispute to the Prophet (ﷺ) about a land in the Yemen. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, the father of this (man) usurped my land and it is in his possession.
The Prophet asked: Have you any evidence?
Al-Hadrami replied: No, but I make him swear (that he should say) that he does not know that it is my land which his father usurped from me.
Al-Kindi became ready to take the oath.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone usurps the property by taking an oath, he will meet Allah while his hand is mutilated.
Al-Kindi then said: It is his land.
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے ، حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول ! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” تمہارے پاس «بیّنہ» ( ثبوت اور دلیل ) ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا ، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی ، ( یہ سن کر ) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت ) فرمایا : ” جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا “ ( یہ سنا تو ) کندی نے کہا : یہ اسی کی زمین ہے ۔
Chapter 1215: One Who Swears An Oath In Order To Usurp The Wealth Of Another - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لأَبِي . فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ . قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْحَضْرَمِيِّ " أَلَكَ بَيِّنَةٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلَكَ يَمِينُهُ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ فَاجِرٌ لاَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَىْءٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلاَّ ذَاكَ " . فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظَالِمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " .
Narrated 'Alqamah b. Wa'il b. Hujr al-Hadrami:
On the Authority of his father: A man from Hadramawt and a man of Kindah came to the Messenger of Allah (ﷺ). Al-Hadrami said: Messenger of Allah, this (man) took away forcibly from me the land which belongs to my father. Al-Kindi said: It is my land in my possession, and I cultivate it, he has no right to it. The Prophet (ﷺ) then said to al-Hadrami: Have you any proof ? He said: No. He then said: So for you is his oath. He said: Messenger of Allah, he is liar, he does not care for which he is taking the oath. He does not refrain himself from anything. The Prophet (ﷺ) said: You will have nothing from him except that. He went to take an oath for him. When he turned his back, the Messenger of Allah (ﷺ) said: If he takes an oath on the property to take it away by unfair means, he will meet Allah while He is unmindful of him.
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول ! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے ، کندی نے کہا : واہ یہ میری زمین ہے ، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے “ ( جیسی وہ قسم کھا لے اسی کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا ) ، حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول : وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا ، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( وہ کچھ بھی ہو ) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے ( یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو ) “ پھر وہ قسم کھانے چلا ، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھا لی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہو گا ۱؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: One should not take a false oath at this pulpit of mine even on a green tooth-stick; otherwise he will make his abode in Hell, or Hell will be certain for him.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا اگرچہ ایک تازی مسواک کے لیے کھائے تو سمجھ لو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا “ یا یہ کہا : ” جہنم اس پر واجب ہو گئی ۱؎ “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone swears on oath is the course which he says: "By al-Lat" he should say: There is no god but Allah, and that if anyone says to his friend: Come and let me play for money with you, he should give something in charity (sadaqah).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم میں یوں کہے کہ میں لات کی قسم کھاتا ہوں تو چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے ، اور جو کوئی اپنے دوست سے کہے کہ آؤ ہم تم جوا کھیلیں تو اس کو چاہیئے کہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے “ ( تاکہ شرک اور کلمہ شرک کا کفارہ ہو جائے ) ۔
The Prophet (ﷺ) said: Do not swear by your fathers, or by your mothers, or by rivals to Allah; and swear by Allah only, and swear by Allah only when you are speaking the truth.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا ، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ، تم صرف اللہ کی قسم کھانا ، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) found 'Umar al-Khattab in a caravan while he was swearing by his father. So he said: Allah forbids you to swear by forefathers. If anyone swears, he must swear by Allah or keep silence.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے “ ۔
Chapter 1218: It Is Disliked To Swear By One's Forefathers - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ مَعْنَاهُ إِلَى
" بِآبَائِكُمْ " . زَادَ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَذَا ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar through a different chain of narrators to the same effect up to the words "by your fathers". This version adds:
" 'Umar said: I swear by Allah, I never swore by it personally or reporting it from others."
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے ) سنا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث : «بآبائكم» تک بیان کی ، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی ، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے ۔
Ibn Umar heard a man swearing: No, I swear by the Ka'bah. Ibn Umar said to him: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who swears by anyone but Allah is polytheist.
سعد بن عبیدہ کہتے ہیں
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا “ ۔
Referring to the story of a bedouin, Talhah b. 'Ubaid Allah reported the Prophet (ﷺ) as saying:
He became successful, by his father, if he speaks the truth, he will enter paradise, by his father, if he speaks truth.
مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سنا ( یعنی اعرابی کے واقعہ میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس کے باپ کی ، وہ کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے ، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اگر وہ سچا ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said about the futile oath: It is man's speech in his house: No, by Allah, and Yes, by Allah.
Abu Dawud said: Ibrahim al-Sa'igh, the narrator of this tradition , was a pious man. Abu Muslim killed him at 'Aranda. When he raised a hammed and heard the call to prayer, he gave it up.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Dawud b. Abi al-Furat from Ibrahim al-Sa'igh as a statement of 'Aishah (not attributed to the Prophet). Similarly, it has been transmitted by al-Zuhri, 'Abd al-Malik b. Abi Sulaiman and Malik b. Mughul. All of them transmitted it from 'Ata on the authority of 'Aishah on her own statement.
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں ( تکیہ کلام کے طور پر ) «كلا والله وبلى والله» ( ہرگز نہیں قسم اللہ کی ، ہاں قسم اللہ کی ) کہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے ، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا ، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو ( مارنے سے پہلے ) اسے چھوڑ دیتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Your oath should be about something regarding which your companion will believe you.
Musaddad said: 'Abd Allah b. Abi Salih narrated to me.
Abu Dawud said: Both of them refer to the same person: 'Abbad b. Abu Salih and 'Abd Allah b. Abi Salih.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہو گا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے “ ۔ مسدد کی روایت میں : «أخبرني عبد الله بن أبي صالح» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں ۔
We went out intending (to visit) the Messenger of Allah (ﷺ) and Wa'il ibn Hujr was with us. His enemy caught him. The people desisted from swearing an oath, but I took an oath that he was my brother. So he left him. We then came to the Messenger of Allah (ﷺ), and I informed him that the people desisted from taking the oath, but I swore that he was my brother. He said: You spoke the truth: A Muslim is a brother of a Muslim.
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم نکلے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کر رہے تھے ، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا ( لیکن ) میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا ، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی ، اور میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرے بھائی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے سچ کہا ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے “ ۔
Chapter 1222: What Has Been Reported About Swearing That One Has Nothing To Do With Islam Or That One Belongs To Another Religion - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ مِلَّةِ الإِسْلاَمِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لاَ يَمْلِكُهُ " .
Narrated Thabit bin Adh-Dahhak:
That he took oath of allegiance to the Messenger of Allah (ﷺ) under the tree. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone swears by religion other than Islam falsely, he is like what has has said. If anyone kills himself with something, he will be punished with it on the Day of Resurrection. A vow over which a man has no control is not binding on him.
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
انہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۱؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ملت اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسے ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا ہے ، اور جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے ہلاک کر ڈالے ( یعنی خودکشی کر لے ) تو قیامت میں اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا ، اور اس آدمی کی نذر نہیں مانی جائے گی جو کسی ایسی چیز کی نذر مانے جو اس کے اختیار میں نہ ہو ۲؎ “ ۔
Chapter 1222: What Has Been Reported About Swearing That One Has Nothing To Do With Islam Or That One Belongs To Another Religion - كتاب الأيمان والنذور
The Prophet (ﷺ) said: If anyone takes an oath and says: I am free from Islam; now if he is a liar (in his oath), he will not return to Islam with soundness.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص قسم کھائے اور کہے میں اسلام سے بری ہوں ( اگر میں نے فلاں کام کیا ) اب اگر وہ جھوٹا ہے تو اس نے جیسا ہونے کو کہا ہے ویسا ہی ہو جائے گا ، اور اگر سچا ہے تو بھی وہ اسلام میں سلامتی سے ہرگز واپس نہ آ سکے گا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone swears an oath and makes an exception, he may fulfil it if he wishes and break it if he wishes without any accountability for breaking.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث ( قسم توڑنے والا ) نہ ہو گا “ ۔
Chapter 1225: How The Prophet (saws) Swore An Oath - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَيَّاشٍ السَّمَعِيُّ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ، لَقِيطِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ دَلْهَمٌ وَحَدَّثَنِيهِ أَيْضًا الأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، : أَنَّ لَقِيطَ بْنَ عَامِرٍ، خَرَجَ وَافِدًا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَقِيطٌ : فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ حَدِيثًا فِيهِ : فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم :
" لَعَمْرُ إِلَهِكَ " .
Narrated Laqit ibn Amir:
We came to the Messenger of Allah (ﷺ) in a delegation. The Prophet (ﷺ) then said: By the age of thy god.
عاصم بن لقیط کہتے ہیں کہ
لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد لے کر گئے ، لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پھر راوی نے حدیث ذکر کی ، اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے تمہارے معبود کی “ ۔