Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 21

Funerals (Kitab Al-Jana'iz)

كتاب الجنائز

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 153 hadiths in this chapter

Hadith 3089
Chapter 1130: Sickness Which Expiate For Sins - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَنْظُورٍ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ عَامِرٍ الرَّامِ، أَخِي الْخُضْرِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ النُّفَيْلِيُّ هُوَ الْخُضْرُ وَلَكِنْ كَذَا قَالَ - قَالَ إِنِّي لَبِبِلاَدِنَا إِذْ رُفِعَتْ لَنَا رَايَاتٌ وَأَلْوِيَةٌ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا هَذَا لِوَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ تَحْتَ شَجَرَةٍ قَدْ بُسِطَ لَهُ كِسَاءٌ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَيْهِ وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ فَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَسْقَامَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَّقَمُ ثُمَّ أَعْفَاهُ اللَّهُ مِنْهُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْفِيَ كَانَ كَالْبَعِيرِ عَقَلَهُ أَهْلُهُ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوهُ وَلَمْ يَدْرِ لِمَ أَرْسَلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ حَوْلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الأَسْقَامُ وَاللَّهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُمْ عَنَّا فَلَسْتَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ وَفِي يَدِهِ شَىْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمَّا رَأَيْتُكَ أَقْبَلْتُ إِلَيْكَ فَمَرَرْتُ بِغَيْضَةِ شَجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ مَعَهُنَّ فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي فَهُنَّ أُولاَءِ مَعِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ضَعْهُنَّ عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَوَضَعْتُهُنَّ وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلاَّ لُزُومَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ أَتَعْجَبُونَ لِرُحْمِ أُمِّ الأَفْرَاخِ فِرَاخَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الأَفْرَاخِ بِفِرَاخِهَا ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ بِهِنَّ ‏.‏

Narrated Amir ar-Ram:

We were in our country when flags and banners were raised. I said: What is this? The (the people) said: This is the banner of the Messenger of Allah (ﷺ). So I came to him. He was (sitting) under a tree. A sheet of cloth was spread for him and he was sitting on it. His Companions were gathered around him. I sat with them. The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned illness and said: When a believer is afflicted by illness and Allah cures him of it, it serves as an atonement for his previous sins and a warning to him for the future. But when a hypocrite becomes ill and is then cured, he is like a camel which has been tethered and then let loose by its owners, but does not know why they tethered it and why they let it loose. A man from among those around him asked: Messenger of Allah, what are illnesses? I swear by Allah, I never fell ill. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Get up and leave us. You do not belong to our number. When we were with him, a man came to him. He had a sheet of cloth and something in his hand. He turned his attention to him and said: Messenger of Allah, when I saw you, I turned towards you. I saw a group of trees and heard the sound of fledglings. I took them and put them in my garment. Their mother then came and began to hover round my head. I showed them to her, and she fell on them. I wrapped them with my garment. They are now with me. He said: Put them away from you. So I put them away, but their mother stayed with them. The Messenger of Allah (ﷺ) said to his companions: Are you surprised at the affection of the mother for her young? They said: Yes, Messenger of Allah. He said: I swear by Him Who has sent me with the Truth, Allah is more affectionate to His servants than a mother to her young ones. Take them back put them and where you took them from when their mother should have been with them. So he took them back.

خضر کے تیر انداز بھائی عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں اپنے ملک میں تھا کہ یکایک ہمارے لیے جھنڈے اور پرچم لہرائے گئے تو میں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم ہے ، تو میں آپ کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے ایک کمبل پر جو آپ کے لیے بچھایا گیا تھا تشریف فرما تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد آپ کے اصحاب اکٹھا تھے ، میں بھی جا کر انہیں میں بیٹھ گیا ۱؎ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا : ” جب مومن بیمار پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی بیماری سے عافیت بخشتا ہے تو وہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت ، اور جب منافق بیمار پڑتا ہے پھر اسے عافیت دے دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کے مانند ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا ہو ، اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کس لیے باندھا گیا اور کیوں چھوڑ دیا گیا “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بیماریاں کیا ہیں ؟ اللہ کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اٹھ جا ، تو ہم میں سے نہیں ہے “ ۲؎ ۔ عامر کہتے ہیں : ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا جس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹے ہوئے تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف آ نکلا ، راستے میں درختوں کا ایک جھنڈ دیکھا اور وہاں چڑیا کے بچوں کی آواز سنی تو انہیں پکڑ کر اپنے کمبل میں رکھ لیا ، اتنے میں ان بچوں کی ماں آ گئی ، اور وہ میرے سر پر منڈلانے لگی ، میں نے اس کے لیے ان بچوں سے کمبل ہٹا دیا تو وہ بھی ان بچوں پر آ گری ، میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا ، اور وہ سب میرے ساتھ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کو یہاں رکھو “ ، میں نے انہیں رکھ دیا ، لیکن ماں نے اپنے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” کیا تم اس چڑیا کے اپنے بچوں کے ساتھ محبت کرنے پر تعجب کرتے ہو ؟ “ ، صحابہ نے عرض کیا : ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت رکھتا ہے جتنی یہ چڑیا اپنے بچوں سے رکھتی ہے ، تم انہیں ان کی ماں کے ساتھ لے جاؤ اور وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے انہیں لائے ہو “ ، تو وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 1
Hadith 3090
Chapter 1130: Sickness Which Expiate For Sins - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ السُّلَمِيُّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ، لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلاَهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ ‏"‏ ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اتَّفَقَا ‏"‏ حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى ‏"‏ ‏.‏

Narrated Muhammad ibn Khalid as-Sulami:

on his father's authority said his grandfather reported: He was a Companion of the Messenger of Allah (ﷺ) said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When Allah has previously decreed for a servant a rank which he has not attained by his action, He afflicts him in his body, or his property or his children. Abu Dawud said: Ibn Nufail added in his version: "He then enables him to endure that." The agreed version goes: "So that He may bring him to the rank previously decreed from him by Allah."

خالد سلمی اپنے والد سے ( جنہیں شرف صحبت حاصل ہے ) روایت کرتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا : ” جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 2
Hadith 3091
Chapter 1131: If A Man Used To Do A Righteous Deed Then Is Interrupted By Sickness Or Travel - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ عَمَلاً صَالِحًا فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ أَوْ سَفَرٌ كُتِبَ لَهُ كَصَالِحِ مَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ مُقِيمٌ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abu Musa:

I heard the Prophet (ﷺ) many times say: When a servant of Allah is accustomed to do a good work, then becomes ill or goes on journey, what was accustomed to do when he was well and staying at home will be recorded for him.

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا : ” جب بندہ کوئی نیک عمل ( پابندی سے ) کر رہا ہو ، پھر کوئی مرض ، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کر سکے ، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 3
Hadith 3092
Chapter 1132: Visiting Sick Women - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلاَءِ، قَالَتْ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَرِيضَةٌ فَقَالَ ‏ "‏ أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلاَءِ فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Umm al-Ala:

The Messenger of Allah (ﷺ) visited me while I was sick. He said: Be glad, Umm al-Ala' for Allah removes the sins of a Muslim for his illness as fire removes the dross of gold and silver.

ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی ، آپ نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ، اے ام العلاء ! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 4
Hadith 3093
Chapter 1132: Visiting Sick Women - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ - عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَالَ ‏"‏ أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ‏}‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُهُ النَّكْبَةُ أَوِ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِهِ وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ ‏{‏ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ‏}‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكُمُ الْعَرْضُ يَا عَائِشَةُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ‏.‏

Narrated 'Aishah:

I said: Messenger of Allah, I know the severest verse in the Qur'an. He asked: What is that verse. A'ishah? She replied: Allah's words: "If anyone does evil, he will be requited for it." He said: Do you know A'ishah, that when a believer is afflicted with a calamity or a thorn, it serves as an atonement for his evil deed. He who is called to account will be punished. She said: Does Allah not say: "He truly will recieve an easy reckoning." He said: This is the presentation, A'ishah. If anyone criticized in reckoning, he will be punished. Abu Dawud said: This is the version of Ibn Bashshar. He said: Ibn Abi Mulaikah narrated to us.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں

میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ ! “ ، انہوں نے کہا : اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» ” جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “ ( سورۃ النساء : ۱۲۳ ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے برے عمل کا بدلہ ہو جاتی ہے ، البتہ جس سے محاسبہ ہو اس کو عذاب ہو گا “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ” اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا “ ( سورۃ الانشقاق : ۸ ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے ، اے عائشہ ! حساب کے سلسلے میں جس سے جرح کر لیا گیا عذاب میں دھر لیا گیا “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 5
Hadith 3094
Chapter 1133: Visiting The Sick - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ عَرَفَ فِيهِ الْمَوْتَ قَالَ ‏ "‏ قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَهْ فَلَمَّا مَاتَ أَتَاهُ ابْنُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَدْ مَاتَ فَأَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ ‏.‏ فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَمِيصَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ‏.‏

Narrated Usamah b. Zaid:

The Messenger of Allah (ﷺ) went out to visit 'Abd Allah b. Ubayy during his illness of which he died. When he entered upon him, he realised death on him. He said: I used to forbid you from the love of Jews. He ('Abd Allah) said: As'ad b. Zurarah hated them. So what (the benefited) ? When he died, his son came and said: Prophet of Allah, 'Abd Allah b. Ubayy has died, give me your shirt, so that I shroud him in it. The Messenger of Allah (ﷺ) took off his shirt and gave it to him.

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس کی موت کو بھانپ لیا ، فرمایا : ” میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا “ ، اس نے کہا : عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا پایا ، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے ( عبداللہ ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! عبداللہ بن ابی مر گیا ، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 6
Hadith 3095
Chapter 1134: Visiting A Sick Dhimmi - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ غُلاَمًا، مِنَ الْيَهُودِ كَانَ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ أَسْلِمْ ‏"‏ ‏.‏ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ‏.‏ فَأَسْلَمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Anas :

A young Jew became ill. The Prophet (ﷺ) went to visit him. He sat down by his head and said to him: Accept Islam. He looked at his father who was beside him near his head, and he said: Obey Abu al-Qasim. So he accepted Islam, and the Prophet (ﷺ) stood up saying: Praise be to Allah Who has saved him through me from Hell.

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا : ” تم مسلمان ہو جاؤ “ ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا : ” ابوالقاسم ۱؎ کی اطاعت کرو “ ، تو وہ مسلمان ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے : ” تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی ۲؎ “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 7
Hadith 3096
Chapter 1135: Going On Foot To Visit The Sick - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلاَ بِرْذَوْنٍ ‏.‏

Narrated Jabir:

The Prophet (ﷺ) would visit me (during my illness) riding neither a mule nor a pony.

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی خچر اور گھوڑے پر سوار ہوئے میری عیادت کو تشریف لاتے تھے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 8
Hadith 3097
Chapter 1136: Virtue Of Visiting The Sick While In A State Of Wudu' - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَمَا الْخَرِيفُ قَالَ الْعَامُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ الْبَصْرِيُّونَ مِنْهُ الْعِيَادَةُ وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ ‏.‏

Narrated Anas ibn Malik:

The Prophet (ﷺ) said: If anyone performs ablution well and pays a visit to his (sick) Muslim brother seeking his reward from Allah, he will be removed a distance of seventy years (kharif) from Hell. I asked: What is kharif, Abu Hamzah? He replied: A year. Abu Dawud said: Only the people of Basrah have narrated the tradition on visiting the sick after performing ablution.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر «خریف» کی مسافت کی مقدار دور کر دیا جاتا ہے “ ، میں نے کہا ! اے ابوحمزہ ! «خریف» کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : سال ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اہل بصرہ جن چیزوں میں منفرد ہیں ان میں بحالت وضو عیادت کا مسئلہ بھی ہے ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 9
Hadith 3098
Chapter 1136: Virtue Of Visiting The Sick While In A State Of Wudu' - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا مُمْسِيًا إِلاَّ خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ أَتَاهُ مُصْبِحًا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ‏.‏

Narrated 'Ali:

If a man visits a patient in the evening, seventy thousand angels come along with him seeking forgiveness from Allah for him till the morning, and he will have a garden in the Paradise.

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

جو شخص کسی بیمار کی دن کے اخیر حصے میں عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں ، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے ، اور جو شخص دن کے ابتدائی حصے میں عیادت کے لیے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں ، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 10
Hadith 3099
Chapter 1136: Virtue Of Visiting The Sick While In A State Of Wudu' - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ لَمْ يَذْكُرِ الْخَرِيفَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ مَنْصُورٌ عَنِ الْحَكَمِ أَبِي حَفْصٍ كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Ali from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators to the same effect. This version does not mention the word "garden" (khartf). Abu Dawud said:

This tradition has been narrated by Mansur from al-Hakkam as narrated by Shu'bah.

علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں

لیکن انہوں نے اس میں «خریف» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 11
Hadith 3100
Chapter 1136: Virtue Of Visiting The Sick While In A State Of Wudu' - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ - وَكَانَ نَافِعٌ غُلاَمَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَاقَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أُسْنِدَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ صَحِيحٍ ‏.‏

Narrated Abu Ja'far 'Abd Allah b. Nafi', the slave of al-Hasan b. 'Ali:

Abu Musa paid a sick visit to al-Hasan b. 'Ali. Abu Dawud said: He narrated the tradition to the same effect as narrated by Shu'bah. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by 'Ali from the Prophet (ﷺ) without any sound manner.

ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے ، راوی کہتے ہیں

اور نافع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں : ابوموسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث بواسطہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف طریق سے مروی ہے ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 12
Hadith 3101
Chapter 1137: Repeated Visits (To A Sick Person) - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُصِيبَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ فِي الأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ فَيَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ ‏.‏

Narrated 'Aishah:

When Sa'd b. Mu'adh suffered affliction on the day of Trench (i.e. the battle of Trench) a man shot an arrow in the vein of his hand. The Messenger of Allah (ﷺ) pitched a tent for him the mosque so that he might visit him from near.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں

جب جنگ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کر سکیں ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 13
Hadith 3102
Chapter 1138: Visiting One Who Suffering From Ramad (Eyesore) - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنَىَّ ‏.‏

Narrated Zayd ibn Arqam:

The Messenger of Allah (ﷺ) visited me while I was suffering from pain in my eyes.

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ کے درد میں میری عیادت کی ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 14
Hadith 3103
Chapter 1139: Fleeing From Plague - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تُقْدِمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الطَّاعُونَ ‏.‏

Narrated 'Abd Allah b. 'Abbas:

That 'Abd al-Rahman b.'Awf said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When you hear that it is breaking out in a certain territory, do not go there. If it breaks out in the territory you are in, do not go out fleeing away from it. By "it" he referred to the plague.

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون ۱؎ پھیلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاؤ ۲؎ ، اور جس سر زمین میں وہ پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون سے بچنے کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر ( کہیں اور ) نہ جاؤ ۳؎ “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 15
Hadith 3104
Chapter 1140: Supplicating For The Sick Person To Be Cured When Visiting Him - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا، قَالَ اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated 'Aishah daughter of Sa'd:

That her father said: I had a complaint at Mecca. The Messenger of Allah (ﷺ) came to pay a sick-visit to me. He put his hand on my forehead, wiped my chest and belly, and then said: O Allah! heal up Sa'd and complete his immigration.

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا

میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی : «اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته» ” اے اللہ ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 16
Hadith 3105
Chapter 1140: Supplicating For The Sick Person To Be Cured When Visiting Him - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ وَفُكُّوا الْعَانِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَالْعَانِي الأَسِيرُ ‏.‏

Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:

The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Feed the hungry, visit the sick and free the captive. Sufyan said: al-'ani means captive.

ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھوکے کو کھانا کھلاؤ ، مریض کی عیادت کرو اور ( مسلمان ) قیدی کو ( کافروں کی ) قید سے آزاد کراؤ “ ۔ سفیان کہتے ہیں : «العاني» سے مرا «داسیر» ( قیدی ) ہے ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 17
Hadith 3106
Chapter 1141: Supplicating For The Sick Person When Visiting Him - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ عِنْدَهُ سَبْعَ مِرَارٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلاَّ عَافَاهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَرَضِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Prophet (ﷺ) said: If anyone visits a sick whose time (of death) has not come, and says with him seven times: I ask Allah, the Mighty, the Lord of the mighty Throne, to cure you, Allah will cure him from that disease.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے : «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم» ” میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفاء دے “ تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 18
Hadith 3107
Chapter 1141: Supplicating For The Sick Person When Visiting Him - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَىِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ ‏"‏ إِلَى صَلاَةٍ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

The Prophet (ﷺ) said: When a man comes to visit a sick person, he should say: O Allah, cure Thy servant, who may then wreak havoc on an enemy for your sake, or walk at a funeral for your sake. Abu Dawud said: Ibn As-Sarh (one of the narrators) said: "Ilas-salat (To the Salat)".

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے : «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 19
Hadith 3108
Chapter 1142: It Is Disliked To Wish For Death - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَدْعُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِالْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ وَلَكِنْ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ‏"‏ ‏.‏

Narrated Anas:

The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: No one of you should wish for death for any calamity that befalls him, but he should say: O Allah! cause me to live so long as my life is better for me ; and cause me to die where death is better for me.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہو جانے کی وجہ سے ( گھبرا کر ) موت کی دعا ہرگز نہ کرے لیکن اگر کہے تو یہ کہے : «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو ، اور مجھے موت دیدے جب مر جانا ہی میرے حق میں بہتر ہو “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 20
Hadith 3109
Chapter 1142: It Is Disliked To Wish For Death - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

The Prophet (ﷺ) as saying: No one of you should wish for death. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ہرگز موت کی تمنا نہ کرے “ ، پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 21
Hadith 3110
Chapter 1143: Sudden Death - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ، - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ - قَالَ ‏ "‏ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ubayd ibn Khalid as-Sulami,:

A man from the Companions of the Prophet (ﷺ), said: The narrator Sa'd ibn Ubaydah narrated sometimes from the Prophet (ﷺ) and sometimes as a statement of Ubayd (ibn Khalid): The Prophet (ﷺ) said: Sudden death is a wrathful catching.

صحابی رسول عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

( راوی نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا ) : ” اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 22
Hadith 3111
Chapter 1144: The Virtue Of One Who Dies Of The Plague - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ، - وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ - أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ ‏"‏ ‏.‏ فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسْكِتُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْمَوْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتِ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Atik:

The Messenger of Allah (ﷺ) came to visit Abdullah ibn Thabit who was ill. He found that he was dominated (by the divine decree). The Messenger of Allah (ﷺ) called him loudly, but he did not respond. He uttered the Qur'anic verse "We belong to Allah and to Him do we return" and he said: We have been dominated against you, AburRabi'. Then the women cried and wept, and Ibn Atik began to silence them. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Leave them, when the divine decree is made, no woman should weep. They (the people) asked: What is necessary happening, Messenger of Allah? He replied: Death. His daughter said: I hope you will be a martyr, for you have completed your preparations for jihad. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah Most High gave him a reward according to his intentions. What do you consider martyrdom? They said: Being killed in the cause of Allah. The Messenger of Allah (ﷺ) said: There are seven types of martyrdom in addition to being killed in Allah's cause: one who dies of plague is a martyr; one who is drowned is a martyr; one who dies of pleurisy is a martyr; one who dies of an internal complaint is a martyr; one who is burnt to death is a martyr; who one is killed by a building falling on him is a martyr; and a woman who dies while pregnant is a martyr.

جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے تو ان کو بیہوش پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا تو انہوں نے آپ کو جواب نہیں دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا ، اور فرمایا : ” اے ابوربیع ! تمہارے معاملے میں قضاء ہمیں مغلوب کر گئی “ ، یہ سن کر عورتیں چیخ پڑیں ، اور رونے لگیں تو ابن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھوڑ دو ( رونے دو انہیں ) جب واجب ہو جائے تو کوئی رونے والی نہ روئے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول : واجب ہونے سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت “ ، عبداللہ بن ثابت کی بیٹی کہنے لگیں : میں پوری امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے جہاد میں حصہ لینے کی پوری تیاری کر لی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیت کے موافق اجر و ثواب دے چکا ، تم لوگ شہادت کسے سمجھتے ہو ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ کی راہ میں قتل ہو جانا شہادت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں : طاعون میں مر جانے والا شہید ہے ، ڈوب کر مر جانے والا شہید ہے ، ” ذات الجنب “ ( نمونیہ ) سے مر جانے والا شہید ہے ، پیٹ کی بیماری ( دستوں وغیرہ ) سے مر جانے والا شہید ہے ، جل کر مر جانے والا شہید ہے ، جو دیوار گرنے سے مر جائے شہید ہے ، اور عورت جو حالت حمل میں ہو اور مر جائے تو وہ بھی شہید ہے “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 23
Hadith 3112
Chapter 1145: Clipping The Nails And Shaving The Pubes Of A Sick Person - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا - وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ - فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا لِقَتْلِهِ فَاسْتَعَارَ مِنَ ابْنَةِ الْحَارِثِ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَأَعَارَتْهُ فَدَرَجَ بُنَىٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَتْهُ فَوَجَدَتْهُ مُخْلِيًا وَهُوَ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ فَفَزِعَتْ فَزْعَةً عَرَفَهَا فِيهَا فَقَالَ أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لأَفْعَلَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا - يَعْنِي لِقَتْلِهِ - اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَأَعَارَتْهُ ‏.‏

Narrated Abu Hurairah:

Banu al-Harith b. 'Amir b. Nawfal bought Khubaib. Khubaib killed al-Harith b. 'Amir on the day of Badr. Khubaib remained with them as a prisoner until they agreed on his killing. He borrowed razor form the daughter of al-Harith to shave his pubes. She let it to him. A small child of her crept to him while she was inattentive. When she same, she found him alone and the child was on this thigh and the razor was in his hand. She was terrified and he realized its effect on her. He said: Do you fear that I shall kill him ? I am not going to do that. Abu Dawud said: Shu'aib b. Abi Hamzah transmitted this narrative from al-Zuhri. He said: 'Ubaid Allah b. 'Ayyash told me that the daughter of al-Harith told him that when they gathered for killing him, he borrowed a razor from her to shave (his pubes). She lent it to him.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا ۱؎ اور خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا ، تو خبیب ان کے پاس قید رہے ( جب حرمت کے مہینے ختم ہو گئے ) تو وہ سب ان کے قتل کے لیے جمع ہوئے ، خبیب بن عدی نے حارث کی بیٹی سے استرہ طلب کیا جس سے وہ ناف کے نیچے کے بال کی صفائی کر لیں ، اس نے انہیں استرہ دے دیا ، اسی حالت میں اس کا ایک چھوٹا بچہ خبیب کے پاس جا پہنچا وہ بےخبر تھی یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ اکیلے ہیں ، بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے ، اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے ، یہ دیکھ کر وہ سہم گئی اور ایسی گھبرائی کہ خبیب بھانپ گئے اور کہنے لگے : کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا ، میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس قصہ کو شعیب بن ابوحمزہ نے زہری سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی ہے کہ حارث کی بیٹی نے انہیں بتایا کہ جب لوگوں نے خبیب کے قتل کا متفقہ فیصلہ کر لیا تو انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے اس سے استرہ مانگا تو اس نے انہیں دے دیا ۳؎ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 24
Hadith 3113
Chapter 1146: It Is Recommended To Think Positively Of Allah At The Time Of Death - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلاَثٍ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمُوتُ أَحَدُكُمْ إِلاَّ وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Jabir b. 'Abd Allah :

I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say three days before his death: No one of you dies but he had good faith in Allah.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سے ہر شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ سے اچھی امید رکھتا ہو ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 21, Hadith 25
Page 1 of 7

Showing 25 hadiths on this page (Total: 153 hadiths in Sunan Abu Dawud)

Page 1 of 7 Next Last