Chapter 718: Regarding A Woman Who Asks Her Husband To Divorce Another Wife Of His - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “A woman should not ask for the divorce of her sister to make her bowl vacant for her and to marry him. She will have what is decreed for her.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ خالی کرا لے ( یعنی اس کا حصہ خود لے لے ) اور خود نکاح کر لے ، جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اسے ملے گا “ ۔
Chapter 720: Regarding The Divorce According To The Sunnah - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
‘Abd Allah bin Umar said that he divorced his wife while she was menstruating during the time of the Apostle of Allaah(ﷺ). So ‘Umar bin Al Khattab asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about this matter. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Order him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Thereafter if he desires he may divorce her before having intercourse with her, for that is the period of waiting which Allaah the Glorified has commanded for the divorce of women.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے ، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے ، پھر حیض آ جائے ، پھر پاک ہو جائے ، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے ، ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دیدے ، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے ۱؎ “ ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Nafi’ through a different chain of narrators. This version says Ibn ‘Umar divorced a wife of his while she was menstruating pronouncing one divorce. He then narrated the rest of the tradition similar to the one narrated by Malik.
نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک عورت کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی ، آگے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے ۔
Chapter 720: Regarding The Divorce According To The Sunnah - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا إِذَا طَهُرَتْ أَوْ وَهِيَ حَامِلٌ " .
Ibn ‘Umar said that he divorced his wife while she was menstruating. ‘Umar mentioned the matter to the Prophet(ﷺ). He (the Prophet) said “Order him, he must take her back and divorce her when she is purified (from menstrual discharge) or she is pregnant.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے پھر جب وہ پاک ہو جائے یا حاملہ ہو تو اسے طلاق دے ۱؎ “ ۔
Chapter 720: Regarding The Divorce According To The Sunnah - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ صلى الله عليه وسلم فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ
" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَذَلِكَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
‘Abd Allah (bin Umar) said that he divorced his wife while she was menstruating. ‘Umar mentioned the matter to the Messenger of Allah(ﷺ). The Messenger of Allah(ﷺ) became angry and said “Command him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Then if he desires he may divorce her during the period of purity before he has intercourse with her. This is the divorce for waiting period as commanded by Allaah, the Exalted.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے پھر فرمایا : ” اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کر لے پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے ، پھر حائضہ ہو پھر پاک ہو جائے پھر چاہیئے کہ وہ پاکی کی حالت میں اسے چھوئے بغیر طلاق دے ، یہی عدت کا طلاق ہے جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے “ ۔
Yunus bin Jubair said “I asked ‘Abd Allah bin ‘Umar “A man divorced his wife while she was menstruating? He said do you know ‘Abd Allah bin ‘Umar? He said, yes. ‘Abd Allah bin ‘Umar divorced his wife while she was menstruating. So, ‘Umar came to the Prophet (ﷺ) and asked him (about this matter). He said Command him to take her back in marriage he may the divorce her in the beginning of the waiting period. I (Ibn Jubair) asked him “Will this divorce be counted? He said “Why not?” If he was helpless and showed his foolishness (that would have been counted).
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ
مجھے یونس بن جبیر نے بتایا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مسئلہ دریافت کیا ، میں نے کہا کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے ( تو اس کا کیا حکم ہے ؟ ) کہنے لگے کہ تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا : ہاں ، تو انہوں نے کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے اور عدت کے آغاز میں اسے طلاق دے “ ۔ میں نے پوچھا : کیا اس طلاق کا شمار ہو گا ؟ انہوں نے کہا : تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہو جائے یا دیوانہ ہو جائے ۱؎ ۔
Abdur Rahman ibn Ayman, the client of Urwah, asked Ibn Umar and Abu al-Zubayr was was listening:
What do you think if a man divorces his wife while she is menstruating? He said: Abdullah ibn Umar divorced his wife while she was menstruating during the time of the Messenger of Allah (ﷺ).So Umar asked the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Abdullah ibn Umar divorced his wife while she was menstruating. Abdullah said: He returned her to me and did not count it (the pronouncement) anything. He said: When she is purified, he may divorce her or keep her with him. Ibn Umar said: The Prophet (ﷺ) recited the Qur'anic verse: O Prophet, when you divorce women, divorce them in the beginning of their waiting period."
Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Yunus b. Jubair, Anas b. Sirin b. Jubair, Zaid b. Aslam, Abu al-Zubair and Mansur from Abu Wa'il on the authority of Ibn 'Umar. They all agreed on the theme that the Prophet (ﷺ) commanded him to take her back (and keep her) till she was purified. Then if he desired, he might divorce her or keep her with him if he wanted to do so. The version narrated by al-Zuhri from Salim from Nafi' on the authority of Ibn 'Umar has: The Prophet (ﷺ) commanded him to take her back (and keep her) till she is purified, and then has menstrual discharge, and then she is purified. Then if he desires, he may divorce her and if he desires he may keep her.
Abu Dawud said: A version like that of Nafi' and al-Zuhri has also been transmitted by 'Ata al-Khurasani from al-Hasan on the authority of Ibn 'Umar. All the versions of this tradition contradict the one narrated by Abu al-Zubair.
ابن جریج کہتے ہیں کہ ہمیں ابوالزبیر نے خبر دی ہے کہ
انہوں نے عروہ کے غلام عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے سنا اور وہ سن رہے تھے کہ آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، اور کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے ، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس طلاق کو شمار نہیں کیا اور فرمایا : ” جب وہ پاک ہو جائے تو وہ طلاق دے یا اسے روک لے “ ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ” اے نبی ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو تم انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو “ ( سورۃ الطلاق : ۱ ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یونس بن جبیر ، انس بن سیرین ، سعید بن جبیر ، زید بن اسلم ، ابوالزبیر اور منصور نے ابووائل کے طریق سے روایت کیا ہے ، سب کا مفہوم یہی ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے پھر اگر چاہیں تو طلاق دیدیں اور چاہیں تو باقی رکھیں “ ۔ اسی طرح اسے محمد بن عبدالرحمٰن نے سالم سے ، اور سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے البتہ زہری کی جو روایت سالم اور نافع کے طریق سے ابن عمر سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر اسے حیض آئے اور پھر پاک ہو ، پھر اگر چاہیں تو طلاق دیں اور اگر چاہیں تو رکھے رہیں ، اور عطاء خراسانی سے روایت کیا گیا ہے انہوں نے حسن سے انہوں نے ابن عمر سے نافع اور زہری کی طرح روایت کی ہے ، اور یہ تمام حدیثیں ابوالزبیر کی بیان کردہ روایت کے مخالف ہیں ۱؎ ۔
Imran ibn Husayn was asked about a person who divorces his wife, and then has intercourse with her, but he does not call any witness to her divorce nor to her restoration. He said: You divorced against the sunnah and took her back against the sunnah. Call someone to bear witness to her divorce, and to her return in marriage, and do not repeat it.
مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کر لے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے تو انہوں نے کہا کہ تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف رجعت کی ، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا ۔
Abu Hasan, a client of Banu Nawfal asked Ibn Abbas: A slave had a wife who was a slave-girl. He divorced her by two pronouncements. Afterwards both of them were freed. Is it permissible for him to ask her in marriage again? He said: Yes. This is a decision given by the Messenger of Allah (ﷺ).
بنی نوفل کے غلام ابوحسن نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے
اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں کوئی لونڈی تھی تو اس نے اسے دو طلاق دے دی اس کے بعد وہ دونوں آزاد کر دیئے گئے ، تو کیا غلام کے لیے درست ہے کہ وہ اس لونڈی کو نکاح کا پیغام دے ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ دیا ہے ۔
The aforesaid tradition (No. 2182) has also been transmitted by Ali (ibn al-Mubarak) through a different chain of narrators to the same effect.
This version adds:
Ibn Abbas said: There remained one more pronouncement of divorce for you. The Messenger of Allah (ﷺ) took the same decision.
Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Hanbal say: 'Abd al-Razzaq said that Ibn al-Mubarak said to Ma'mar: Who is this Abu al-Hasan ? He bore a big rock.
Abu Dawud said: Al-Zuhri has narrated (traditions) on the authority of this Abu al-Hasan. Al-Zuhri said: He was lawyer, and al-Zuhri narrated many traditions from Abu al-Hasan.
Abu Dawud said: Abu al-Hasan is well known narrator. This tradition is not practiced.
عثمان بن عمر کہتے ہیں کہ
ہمیں علی نے خبر دی ہے آگے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مذکور ہے لیکن عنعنہ کے صیغے کے ساتھ ہے نہ کہ «أخبرنا» کے صیغے کے ساتھ ، اس میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : تیرے لیے ایک طلاق باقی رہ گئی ہے ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ فرمایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا کہ یہ ابوالحسن کون ہیں ؟ انہوں نے ایک بھاری چٹان اٹھا لی ہے ؟ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوالحسن وہی ہیں جن سے زہری نے روایت کی ہے ، زہری کہتے ہیں کہ وہ فقہاء میں سے تھے ، زہری نے ابوالحسن سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوالحسن معروف ہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے ۔
Chapter 722: Regarding The Sunnah For Divorcing Slaves - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " طَلاَقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ " . قَالَ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنِي مُظَاهِرٌ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ حَدِيثٌ مَجْهُولٌ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
The Prophet (ﷺ) said: The divorce of a slave-woman consists in saying it twice and her waiting period is two menstrual courses (qur') AbuAsim said: A similar tradition has been narrated to me by Muzahir and al-Qasim on the authority of Aisha from the Prophet (ﷺ), except that he said: And her waiting period ('iddah) is two courses.
Abu Dawud said: This tradition is obscure.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لونڈی کی طلاق دو ہیں اور اس کے قروء دو حیض ہیں “ ۔ ابوعاصم کہتے ہیں : مجھ سے مظاہر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں : مجھ سے قاسم نے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے ، لیکن اس میں ہے کہ اس کی عدت دو حیض ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مجہول حدیث ہے ۔
'Amr b. Shu'aib on his father's authority said that his grandfather (Abdullah ibn Amr ibn al-'As):
The Prophet (ﷺ) said: There is no divorce except in what you possess; there is no possession, there is no sale transaction till you possess. The narrator Ibn as-Sabbah added: There is no fulfilling a vow till you possess.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” طلاق صرف انہیں میں ہے جو تمہارے نکاح میں ہوں ، اور آزادی صرف انہیں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں ، اور بیع بھی صرف انہیں چیزوں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں “ ۔ ابن صباح کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ ( تمہارے ذمہ ) صرف اسی نذر کا پورا کرنا ہے جس کے تم مالک ہو ۔
The above tradition has also been transmitted by ‘Amr bin Shu’aib through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “If anyone swears an oath to do an act of disobedience to GOD, his oath is not valid, and if anyone swears an oath to sever relationship, his oath is not valid(i.e., he must not fulfill it)
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے
اس میں اتنا اضافہ ہے : ” جس نے گناہ کرنے کی قسم کھا لی تو اس قسم کا کوئی اعتبار نہیں نیز جس نے رشتہ توڑنے کی قسم کھا لی اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں “ ۔
The above tradition has also been transmitted by ‘Amr bin Shu’aib through a different chain of narrators. This version adds The Prophet (ﷺ) said “There is no vow except in an act which seeks the pleasure of Allah, the Exalted.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی روایت آئی ہے
اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ” وہی نذر ماننا درست ہے جس کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو “ ۔
Muhammad ibn Ubayd ibn Abu Salih who lived in Ayliya said:
I went out with Adi ibn Adi al-Kindi till we came to Mecca. He sent me to Safiyyah daughter of Shaybah who remembered a tradition (that she had heard) from Aisha. She said: I heard Aisha say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There is no divorce or emancipation in case of constraint or duress (ghalaq).
Abu Dawud said: I think ghalaq means anger.
محمد بن عبید بن ابوصالح ( جو ایلیاء میں رہتے تھے ) کہتے ہیں کہ
میں عدی بن عدی کندی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں مکہ آیا تو انہوں نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا ، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیثیں یاد کر رکھی تھیں ، وہ کہتی ہیں : میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہو گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ غلاق کا مطلب غصہ ہے ۱؎ ۔
The Prophet (ﷺ) said: There are three things which, whether undertaken seriously or in jest, are treated as serious: Marriage, divorce and taking back a wife (after a divorce which is not final)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں ان کا اعتبار ہو گا ، وہ یہ ہیں : نکاح ، طلاق اور رجعت “ ۔
Divorced women shall wait concerning themselves for three monthly periods. Nor is it lawful for them to hide what Allah hath created in their wombs. This means that if a man divorced his wife he had the right to take her back in marriage though he had divorced her by three pronouncements. This was then repealed (by a Qur'anic verse). Divorce is only permissible twice.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن» ” اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہے وہ تین طہر تک ٹھہری رہیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو پیدا کر دیا ہے اسے چھپائیں “ ( سورۃ البقرہ : ۲۲۸ ) یہ اس وجہ سے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو رجعت کا وہ زیادہ حقدار رہتا تھا گرچہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہوں پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور ارشاد ہوا «الطلاق مرتان» یعنی طلاق کا اختیار صرف دو بار ہے ۔
Chapter 726: The Abrogation Of Taking Back A Wife After The Third Divorce - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ - أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ - أُمَّ رُكَانَةَ وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا يُغْنِي عَنِّي إِلاَّ كَمَا تُغْنِي هَذِهِ الشَّعْرَةُ . لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ رَأْسِهَا فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَمِيَّةٌ فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ ثُمَّ قَالَ لِجُلَسَائِهِ " أَتَرَوْنَ فُلاَنًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ وَفُلاَنًا يُشْبِهُ مِنْهُ - كَذَا وَكَذَا " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ يَزِيدَ " طَلِّقْهَا " . فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ " رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ " . فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلاَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " قَدْ عَلِمْتُ رَاجِعْهَا " . وَتَلاَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَرَدَّهَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَصَحُّ لأَنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ وَأَهْلَهُ أَعْلَمُ بِهِ أَنَّ رُكَانَةَ إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَاحِدَةً .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
Abd Yazid, the father of Rukanah and his brothers, divorced Umm Rukanah and married a woman of the tribe of Muzaynah. She went to the Prophet (ﷺ) and said: He is of no use to me except that he is as useful to me as a hair; and she took a hair from her head. So separate me from him. The Prophet (ﷺ) became furious. He called on Rukanah and his brothers. He then said to those who were sitting beside him. Do you see so-and-so who resembles Abdu Yazid in respect of so-and-so; and so-and-so who resembles him in respect of so-and-so? They replied: Yes. The Prophet (ﷺ) said to Abdu Yazid: Divorce her. Then he did so. He said: Take your wife, the mother of Rukanah and his brothers, back in marriage. He said: I have divorced her by three pronouncements, Messenger of Allah. He said: I know: take her back. He then recited the verse: "O Prophet, when you divorce women, divorce them at their appointed periods."
Abu Dawud said: The tradition narrated by Nafi' b. 'Ujair and 'Abd Allah b. Yazid b. Rukanah from his father on the authority of his grandfather reads: Rukanah divorced his wife absolutely (i.e. irrevocable divorce). The Prophet (ﷺ) restored her to him. This version is sounder (than other versions), for they (i.e. these narrators) are the children of his man, and the members of the family are more aware of his case. Rukanah divorced his wife absolutely (i.e. three divorces in one pronouncement) and the Prophet (ﷺ) made it a single divorce.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی ، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا ، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا ، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا ، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ : ” کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی ؟ “ ، لوگوں نے کہا : ہاں ( ملتی ہے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا : ” اسے طلاق دے دو “ ، چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی ، پھر فرمایا : ” اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کر لو “ ، عبد یزید نے کہا : اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے معلوم ہے ، تم اس سے رجوع کر لو “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» ( سورۃ الطلاق : ۱ ) ” اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت ( حدیث نمبر : ۲۲۰۶ ) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی ، پھر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رجوع کرا دیا ، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ہی شمار کیا ۱؎ ۔
Mujahid said “I was with Ibn ‘Abbas”. A man came to him and said that he divorced his wife by three pronouncements. I kept silence and thought that he was going to restore het to him. He then said “A man goes and commits a foolish act and then says “O, Ibn ‘Abbas! Alaah has said “And for those who fear Allaah, He (ever) prepares a way out.” Since you did not keep duty to Allaah I do not find a way out for you. You disobeyed your Lord and your wife was separated from you. Allaah has said “O Prophet! When you divorce women divorce them in the beginning of their waiting period.”
Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by Humaid Al A’raj and by others from Mujahid on the authority of Ibn ‘Abbas. Shu’bjh narrated it from ‘Amr bin Murrah from Sa’id bin Jubair on the authority of Ibn ‘Abbas. Ayyub and Ibn ‘Jubair both narrated it from “’Ikrimah bin Khalid from Sa’id bin Jubair on the authority of Ibn ‘Abbas. Ibn Juraij narrated it from ‘Abd Al Hamid bin Rafi’ from ‘Ata from Ibn ‘Abbas. Al A’mash narrated it from Malik bin Al Harith on the authority of Ibn ‘Abbas. They all said about the divorce by three pronouncements. He allowed it and said” (Your wife) has been separated from you similar to the tradition narrated by Isma’il from Ayub from ‘Abd Allaah bin Kathir.”
Abu Dawud said “Hammad bin Zaid narrated it from Ayyub from ‘Ikrimah on the authority of Ibn ‘Abbas. This version adds If he said “You are divorced three times saying in one pronouncement, it constitutes a single (divorce). Isma’il bin Ibrahim narrated it from Ayyub from ‘Ikrimah. This is his (‘Ikrimah’s) statement. He did not mention the name of Ibn ‘Abbas. He narrated it as a statement of ‘Ikrimah.”
مجاہد کہتے ہیں : میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ
ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے ، ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے ، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے ، پھر انہوں نے کہا : تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو : اے ابن عباس ! اے ابن عباس ! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ۱؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا ، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہو گئی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ، «في قبل عدتهن» ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے ، مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ اور اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے عمرو نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ اور ایوب و ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے عکرمہ نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، اور ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے ابن رافع نے عطاء سے عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ نیز اسے اعمش نے مالک بن حارث سے مالک نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے عمرو بن دینار سے عمرو نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ ان سبھوں نے تین طلاق کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو تین ہی مانا اور کہا کہ وہ تمہارے لیے بائنہ ہو گئی جیسے اسماعیل کی روایت میں ہے جسے انہوں نے ایوب سے ایوب نے عبداللہ بن کثیر سے روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور حماد بن زید نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب ایک ہی منہ سے ( یکبارگی یوں کہے کہ تجھے تین طلاق دی ) تو وہ ایک شمار ہو گی ۔ اور اسے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے البتہ انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عکرمہ کا قول بتایا ہے ۔
Abu Dawud said “The opinion of Ibn ‘Abbas has been mentioned in the following tradition. “Ahmad bin Salih and Muhammad bin Yahya narrated this is the version of Ahmad (bin Salih)” from ‘Abd Ar Razzaq from Ma’mar from Al Zuhri from Abu Salamah din Abd Al Rahman bin ‘Awf and Muhammad bin ‘Abd Al Rahman bin Thawban from Muhammad bin Iyas that Ibn ‘Abbas, Abu Hurairah and ‘Abd Alah bin ‘Amr bin Al ‘As were asked about a virgin who is divorced three times by her husband. They all said “She is not lawful for him until she marries a man other than her former husband.”
Abu Dawud said “Malik narrated from Yahya bin Sa’id from Bukair bin Al Ashajj from Mu’awiyah bin Abi ‘Ayyash who was present on this occasion when Muhammad bin Iyas bin Al Bukair came to Ibn Al Zubair and Asim in ‘Umar. He asked them about this matter. They replied “Go to Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah, I have left them with A’ishah (may Allaah be pleased with her). He then narrated the rest of the tradition.”
Abu Dawud said “The statement of Ibn ‘Abbas goes “The divorce by three pronouncements separates the wife from husband whether the marriage has been consummated or not, the previous husband is not lawful for her until she marries a man other than her husband”. This statement is like the tradition which deals with the exchange of money. In this tradition the narrator said “Ibn ‘Abbas withdrew his opinion.”"
ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اگلی والی حدیث میں ہے جسے محمد بن ایاس نے روایت کیا ہے کہ
ابن عباس ، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے باکرہ ( کنواری ) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو ، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی ، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر ، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے ، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں ، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہو جائے گی ، چاہے وہ اس کا دخول ہو چکا ہو ، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو ، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی ، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے اس کی مثال «صَرْف» والی حدیث کی طرح ہے ۱؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کر لیا ۔
Tawus said A man called Abu Al Sahba used to ask Ibn ‘Abbas questions frequently. He asked “Do you know that when a man divorced his wife by three pronouncement before sexual intercourse with her, they (the people) made it a single divorce during the time of the Apostle of Allaah(ﷺ), of Abu Bakr and in the early phase of the caliphate of ‘Umar?” Ibn “Abbas said “Yes, when a man divorced his wife by three pronouncement before sexual intercourse they made it a single divorce during the time of the Apostle of Allaah(ﷺ), of Abu Bakr and in the early phase of the caliphate of ‘Umar. When he saw that the people frequently divorced (by three pronouncements) he said “Make them operative on them (i.e., on women)”.
طاؤس سے روایت ہے کہ
ایک صاحب جنہیں ابوصہبا کہا جاتا تھا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کثرت سے سوال کرتے تھے انہوں نے پوچھا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے نیز عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : ہاں کیوں نہیں ؟ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا تھا ، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا ، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا کرنے لگے ہیں تو کہا کہ میں انہیں تین ہی نافذ کروں گا ۱؎ ۔