Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 12

Marriage (Kitab Al-Nikah)

كتاب النكاح

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 129 hadiths in this chapter

Hadith 2046
Chapter 667: The Encouragement To Marry - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ إِنِّي لأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ فَاسْتَخْلاَهُ فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَالَ لِي تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ فَجِئْتُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَلاَ نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِجَارِيَةٍ بِكْرٍ لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏

‘Alqamah said “I was going with ‘Abd Allaah bin Mas’ud at Mina where ‘Uthman met him and desired to have a talk with him in privacy”. When ‘Abd Allaah (bin Mas’ud) thought there was no need of privacy, he said to me “Come, ‘Alqamah So I came (to him)”. Then ‘Uthman said to him “Should we not marry you, Abu ‘Abd Al Rahman to a virgin girl, so that the power you have lost may return to you?” ‘Abd Allaah (bin Mas’ud) said “If you say that , I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “ Those of you who can support a wife, should marry, for it keeps you from looking at strange women and preserve from unlawful intercourse, but those who cannot should devote themselves to fasting, for it is a means of suppressing sexual desire.

علقمہ کہتے ہیں کہ

میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں چل رہا تھا کہ اچانک ان کی ملاقات عثمان رضی اللہ عنہ سے ہو گئی تو وہ ان کو لے کر خلوت میں گئے ، جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ انہیں ( شادی کی ) ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا : علقمہ ! آ جاؤ ۱؎ تو میں گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ ۲؎ نے ان سے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! کیا ہم آپ کی شادی ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں ، شاید آپ کی دیرینہ طاقت و نشاط واپس آ جائے ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سن چکا ہوں کہ ” تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیئے کیونکہ یہ نگاہ کو خوب پست رکھنے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو تم میں سے اس کے اخراجات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر روزہ ہے ، یہ اس کی شہوت کے لیے توڑ ہو گا ۳؎ “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 1
Hadith 2047
Chapter 668: What Has Been Ordered Regarding Marrying A Religious Woman - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تُنْكَحُ النِّسَاءُ لأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “Women may be married for four reasons:

for her property, her ranks, her beauty and her religiosity. So get the one who is religious and prosper (lit. may your hands cleave to the dust).”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے : ان کے مال کی وجہ سے ، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے ، ان کی خوبصورتی کی بنا پر ، اور ان کی دین داری کے سبب ، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 2
Hadith 2048
Chapter 669: Marrying Virgins - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ ثَيِّبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ بِكْرٌ تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏

Jabir bin ‘Abd Allah said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said to me “Did you marry?” I said “Yes”. He again said “Virgin or Non Virgin (woman previously married)?” I said “Non Virgin”. He said “Why (did you) not (marry) a virgin with whom you could sport and she could sport with you.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” کیا تم نے شادی کر لی ؟ “ میں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کنواری سے یا غیر کنواری سے ؟ “ میں نے کہا غیر کنواری سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 3
Hadith 2049
Chapter 670: The Prohibition Of Marrying Women Who Do Not Give Birth - كتاب النكاح

قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَتَبَ إِلَىَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي لاَ تَمْنَعُ يَدَ لاَمِسٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ غَرِّبْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاسْتَمْتِعْ بِهَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

A man came to the Prophet (ﷺ), and said: My wife does not prevent the hand of a man who touches her. He said: Divorce her. He then said: I am afraid my inner self may covet her. He said: Then enjoy her.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے سے جدا کر دو “ ، اس شخص نے کہا : مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 4
Hadith 2050
Chapter 670: The Prohibition Of Marrying Women Who Do Not Give Birth - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدِ ابْنُ أُخْتِ، مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، - يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ وَإِنَّهَا لاَ تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ‏"‏ تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ma'qil ibn Yasar:

A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I have found a woman of rank and beauty, but she does not give birth to children. Should I marry her? He said: No. He came again to him, but he prohibited him. He came to him third time, and he (the Prophet) said: Marry women who are loving and very prolific, for I shall outnumber the peoples by you.

معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے ، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا ، پھر تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو ، کیونکہ ( بروز قیامت ) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 5
Hadith 2051
Chapter 671: Regarding Allah's Statement: The Fornicatress Does Not Marry Except A Fornicator - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، كَانَ يَحْمِلُ الأُسَارَى بِمَكَّةَ وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ قَالَ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحُ عَنَاقَ قَالَ فَسَكَتَ عَنِّي فَنَزَلَتْ ‏{‏ وَالزَّانِيَةُ لاَ يَنْكِحُهَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ‏}‏ فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَىَّ وَقَالَ ‏"‏ لاَ تَنْكِحْهَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:

Marthad ibn AbuMarthad al-Ghanawi used to take prisoners (of war) from Mecca (to Medina). At Mecca there was a prostitute called Inaq who had illicit relations with him. (Marthad said:) I came to the Prophet (ﷺ) and said to him: May I marry Inaq, Messenger of Allah? The narrator said: He kept silence towards me. Then the verse was revealed:"....and the adulteress none shall marry save and adulterer or an idolater." He called me and recited this (verse) to me, and said: Do not marry her.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ

مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا لایا کرتے تھے ، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی ، مرثد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں عناق سے شادی کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو آیت کریمہ «والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور اسے پڑھ کر سنایا اور فرمایا : ” تم اس سے شادی نہ کرنا “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 6
Hadith 2052
Chapter 671: Regarding Allah's Statement: The Fornicatress Does Not Marry Except A Fornicator - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَنْكِحُ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلاَّ مِثْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

The Prophet (ﷺ) said: The adulterer who has been flogged shall not marry save the one like him. AbuMa'mar said: Habib al-Mu'allim narrated (this tradition) to us on the authority of Amr ibn Shu'ayb.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنی جیسی عورت ہی سے شادی کرے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 7
Hadith 2053
Chapter 672: A Man Frees His Slave And Then Marries Her - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ جَارِيَتَهُ وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Dawud reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Anyone who sets his slave girl free and then marries her, will have a double reward.”

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اس کے لیے دوہرا ثواب ہے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 8
Hadith 2054
Chapter 672: A Man Frees His Slave And Then Marries Her - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ‏.‏

Anas bin ‘Malik said “The Prophet(ﷺ) manumitted Safiyyah and made her manumission her dower.”

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 9
Hadith 2055
Chapter 673: Foster-Feeding Prohibits What Lineage Prohibits - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

The Prophet (ﷺ) said: What is unlawful by reason of consanguinity is unlawful by reason of fosterage.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو پیدائش سے حرام ہوتے ہیں “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 10
Hadith 2056
Chapter 673: Foster-Feeding Prohibits What Lineage Prohibits - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي قَالَ ‏"‏ فَأَفْعَلُ مَاذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَتَنْكِحُهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أُخْتَكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوَتُحِبِّينَ ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ بِكَ وَأَحَبُّ مَنْ شَرَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ - أَوْ ذَرَّةَ شَكَّ زُهَيْرٌ - بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ‏"‏ ‏.‏

Umm Salamah reported Umm Habibah said “Are you interested in my sister, Apostle of Allaah(ﷺ)?” He said “What should I do?” She said “You marry her” He said “Your sister?” She said “Yes”. He said “Do you like that?” she said “I am not alone with you of those who share me in this good, my sister is most to my liking. He said “She is not lawful for me.” She said “By Allaah, I was told that you were going to betroth with you Darrah to Durrah , the narrator Zuhair doubted the daughter of Abu Salamah. He said “The daughter of Umm Salamah? She said “Yes”. He said “(She is my step daughter). Even if she had not been my step daughter under my protection, she would not have been lawful for me. She is my foster niece (daughter of my brother by fosterage). Thuwaibah suckled me as well as his father (Abu Salamah). So do not present to me your daughters and your sisters.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ کو میری بہن ( عزہ ) میں رغبت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو میں کیا کروں “ ، انہوں نے کہا : آپ ان سے نکاح کر لیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری بہن سے ؟ “ انہوں نے کہا ، ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم یہ ( سوکن ) پسند کرو گی ؟ “ انہوں نے کہا : میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں جتنی عورتیں میرے ساتھ خیر میں شریک ہیں ان سب میں اپنی بہن کا ہونا مجھے زیادہ پسند ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ میرے لیے حلال نہیں ہے “ کہا : اللہ کی قسم مجھے تو بتایا گیا ہے کہ آپ درہ یا ذرہ بنت ابی سلمہ ( یہ شک زہیر کو ہوا ہے ) کو پیغام دے رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام سلمہ کی بیٹی کو ؟ “ کہا : ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ( وہ تو میری ربیبہ ہے ) اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی تو وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے لہٰذا تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر ( نکاح کے لیے ) پیش نہ کیا کرو “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 11
Hadith 2057
Chapter 674: Regarding The Husband Of The Foster-Mother - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ تَسْتَتِرِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ قَالَتْ قُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي ‏.‏ قَالَتْ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

Aflah ibn AbulQu'ays entered upon me. I hid myself from him. He said: You are hiding yourself from me while I am your paternal uncle. She said: I said: From where? He said: The wife of my brother suckled you. She said: The woman suckled me and not the man. Thereafter the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and I told him this matter. He said: He is your paternal uncle; he may enter upon you.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

میرے پاس افلح بن ابوقعیس آئے تو میں نے پردہ کر لیا ، انہوں نے کہا : مجھ سے پردہ کر رہی ہو ، میں تو تمہارا چچا ہوں ؟ میں نے کہا : چچا کس طرح سے ؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ مرد نے ، پھر میرے یہاں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے سارا واقعہ آپ سے بیان کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تمہارے چچا ہیں ، وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 12
Hadith 2058
Chapter 675: Regarding Breastfeeding An Adult - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ حَفْصٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ - ثُمَّ اتَّفَقَا - قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ ‏"‏ ‏.‏

A’ishah said the Apostle of Allaah(ﷺ) visited her when a man was with her. The narrator Hafs said “this grieved him and he frowned”. The agreed version then goes, She said “He is my foster brother Apostle of Allaah(ﷺ)”. He said “Consider, who are you brethren, for fosterage is consequent on hunger.”

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ

رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ، ( حفص کی روایت میں ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری ، آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا ( پھر حفص اور شعبہ دونوں کی روایتیں متفق ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھی طرح دیکھ لو کون تمہارے بھائی ہیں ؟ کیونکہ رضاعت تو غذا سے ثابت ہوتی ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 13
Hadith 2059
Chapter 675: Regarding Breastfeeding An Adult - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهِّرٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لاَ رِضَاعَ إِلاَّ مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لاَ تَسْأَلُونَا وَهَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ ‏.‏

‘Abd Allaah bin Mas’ud said “Fosterage is not valid except by what strengthens love and grows flesh.” Abu Musa said “Do not ask us so long as this learned man is among us”

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا

رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے ، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 14
Hadith 2060
Chapter 675: Regarding Breastfeeding An Adult - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلاَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ وَقَالَ أَنْشَزَ الْعَظْمَ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been narrated by Ibn Mas’ud through a different chain of narrators and to the same effect from the Prophet (ﷺ). This version has the words anshaz al-‘azma meaning which nourishes bones and makes them sturdy and vigorous.

اس سند سے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے

لیکن اس میں : «شد العظم» کے بجائے «أنشز العظم» کا لفظ ہے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 15
Hadith 2061
Chapter 676: (About) Who Was Made Prohibited Through Adult Fosterage - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ كَانَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَوْلًى لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلاً فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوُرِّثَ مِيرَاثَهُ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي ذَلِكَ ‏{‏ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ‏}‏ فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ - وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ - فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ وَيَرَانِي فُضْلاً وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْضِعِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخَوَاتِهَا وَبَنَاتِ إِخْوَتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ يَدْخُلَ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِسَالِمٍ دُونَ النَّاسِ ‏.‏

A’ishah wife of the Prophet(ﷺ) and Umm Salamah said “Abu Hudaifah bin ‘Utbah bin Rabi’ah bin ‘Abd Shams adopted Salim as his son and married him to his niece Hind, daughter of Al Walid bin ‘Utbah bin Rabi’ah. He (Salim) was the freed slave of a woman from the Ansar (the Helpers) as the Apostle of Allaah(ﷺ) adopted Zaid as his son. In pre Islamic days when anyone adopted a man as his son, the people called him by his name and he was given a share from his inheritance. Allaah, the Exalted, revealed about this matter “Call them by (the name of) their fathers, that is juster in the sight of Allaah. And if ye know not their fathers, then (they are) your brethren in the faith and your clients. They were then called by their names of their fathers. A man, whose father was not known, remained under the protection of someone and considered brother in faith. Sahlah daughter of Suhail bin Amr Al Quraishi then came and said Apostle of Allaah(ﷺ), we used to consider Salim(our) son. He dwelled with me and Abu Hudhaifah in the same house, and he saw me in the short clothes, but Allaah the Exalted, has revealed about them what you know, then what is your opinion about him? The Prophet (ﷺ) said give him your breast feed. She gave him five breast feeds. He then became like her foster son. Hence, A’ishah(may Allaah be pleased with her) used to ask the daughters of her sisters and the daughters of her brethren to give him breast feed five times, whom A’ishah wanted to see and who wanted to visit her. Though he might be of age; he then visited her. But Umm Salamah and all other wives of the Prophet (ﷺ) refused to allow anyone to visit them on the basis of such breast feeding unless one was given breast feed during infancy. They told A’ishah by Allaah we do not know whether that was a special concession granted by the Prophet (ﷺ) to Salim exclusive of the people.

ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس نے سالم کو ( جو کہ ایک انصاری عورت کے غلام تھے ) منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا ، جس طرح کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا ، اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ان کا نکاح کرا دیا ، زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو لوگ اپنی طرف منسوب کرتے تھے اور اسے ان کی میراث بھی دی جاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت : «ادعوهم لآبائهم» سے «فإخوانكم في الدين ومواليكم» ۱؎ تک نازل فرمائی تو وہ اپنے اصل باپ کی طرف منسوب ہونے لگے ، اور جس کے باپ کا علم نہ ہوتا اسے مولیٰ اور دینی بھائی سمجھتے ۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی ثم عامری جو کہ ابوحذیفہ کی بیوی تھیں آئیں اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے ، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے تھے ، اور مجھے گھر کے کپڑوں میں کھلا دیکھتے تھے اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے بارے میں جو حکم نازل فرما دیا ہے وہ آپ کو معلوم ہی ہے لہٰذا اب اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” انہیں دودھ پلا دو “ ، چنانچہ انہوں نے انہیں پانچ گھونٹ دودھ پلا دیا ، اور وہ ان کے رضاعی بیٹے ہو گئے ، اسی کے پیش نظر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ اس شخص کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دیں جسے دیکھنا یا اس کے سامنے آنا چاہتی ہوں گرچہ وہ بڑی عمر کا آدمی ہی کیوں نہ ہو پھر وہ ان کے پاس آتا جاتا ، لیکن ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواج مطہرات نے اس قسم کی رضاعت کا انکار کیا جب تک کہ دودھ پلانا بچپن میں نہ ہو اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اللہ کی قسم ہمیں یہ معلوم نہیں شاید یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صرف سالم کے لیے رخصت رہی ہو نہ کہ دیگر لوگوں کے لیے ۲؎ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 16
Hadith 2062
Chapter 677: Does Breastfeeding Less Than Five Times Establish Fosterage? - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ فَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُنَّ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ ‏.‏

A’ishah said “In what was sent down in the Qu’ran ten suckling’s made marriage unlawful, but they were abrogated by five known ones and when the Prophet (ﷺ) dies, these words were among what was recited in the Qur’an.”

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں نازل کی ہیں ان میں «عشر رضعات يحرمن» والی آیت بھی تھی پھر یہ آیت «خمس معلومات يحرمن» والی آیت سے منسوخ ہو گئی ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور یہ آیتیں پڑھی جا رہی تھیں ( یعنی بعض لوگ پڑھتے تھے پھر وہ بھی متروک ہو گئیں ) ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 17
Hadith 2063
Chapter 677: Does Breastfeeding Less Than Five Times Establish Fosterage? - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ ‏"‏ ‏.‏

A’ishah reported “The Apostle of Allaah(ﷺ) as saying One or two sucks does not make marriage unlawful”.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 18
Hadith 2064
Chapter 678: Giving At The Time Of Weaning - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعَةِ قَالَ ‏ "‏ الْغُرَّةُ الْعَبْدُ أَوِ الأَمَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ النُّفَيْلِيُّ حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ الأَسْلَمِيُّ وَهَذَا لَفْظُهُ ‏.‏

Narrated Hajjaj ibn Malik al-Aslami:

I asked: Messenger of Allah, what will remove from me the obligation due for fostering a child? He said: A slave or a slave-woman.

حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لونڈی یا غلام ( دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے ) سے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 19
Hadith 2065
Chapter 679: Women Whom It Is Disliked To Combine Between (In Marriage) - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَلاَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا وَلاَ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا وَلاَ تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى وَلاَ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported The Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ A woman should not be married to one who had married her paternal aunt or a paternal aunt to one who had married her brother’s daughter or a woman to one who had married her maternal aunt or maternal aunt to one who had married her sister’s daughter. A woman who is elder (in relation) must not be married to one who had married a woman who is younger (in relation) to her nor a woman who is younger (in relation) must be married to one who has married a woman who is elder (in relation) to her.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھوپھی کے نکاح میں رہتے ہوئے بھتیجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا ، اور نہ بھتیجی کے نکاح میں رہتے ہوئے پھوپھی سے نکاح درست ہے ، اسی طرح خالہ کے نکاح میں رہتے ہوئے بھانجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا ہے ، اور نہ ہی بھانجی کے نکاح میں رہتے ہوئے خالہ سے نکاح درست ہے ، غرض یہ کہ چھوٹی کے رہتے ہوئے بڑی سے اور بڑی کے رہتے ہوئے چھوٹی سے نکاح جائز نہیں ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 20
Hadith 2066
Chapter 679: Women Whom It Is Disliked To Combine Between (In Marriage) - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ‏.‏

Abu Hurairah said “The Apostle of Allah (ﷺ) forbade that a woman and her maternal aunt and a woman and her paternal aunt are joined in marriage (to the same man).”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ اور بھانجی اور اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 21
Hadith 2067
Chapter 679: Women Whom It Is Disliked To Combine Between (In Marriage) - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ وَبَيْنَ الْخَالَتَيْنِ وَالْعَمَّتَيْنِ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Prophet (ﷺ) abominated the combination of paternal and maternal aunts and the combination of two maternal aunts and two paternal aunts in marriage.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی اور خالہ کو ( نکاح میں ) جمع کرنے ، اسی طرح دو خالاؤں اور دو پھوپھیوں کو ( نکاح میں ) جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 22
Hadith 2068
Chapter 679: Women Whom It Is Disliked To Combine Between (In Marriage) - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ‏}‏ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِي لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ ‏}‏ قَالَتْ وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْهِمْ فِي الْكِتَابِ الآيَةُ الأُولَى الَّتِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى ‏{‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ‏}‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الآيَةِ الآخِرَةِ ‏{‏ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ ‏}‏ هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ ‏.‏ قَالَ يُونُسُ وَقَالَ رَبِيعَةُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى ‏}‏ قَالَ يَقُولُ اتْرُكُوهُنَّ إِنْ خِفْتُمْ فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَكُمْ أَرْبَعًا ‏.‏

Ibn Shihab said “’Urwah bin Al Zubair asked A’ishah , wife of the Prophet(ﷺ) about the Qur’anic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you.” She said “O my nephew, this means the female orphan who is under the protection of her guardian and she holds a share in his property and her property and beauty attracts him; so her guardian intends to marry her without doing justice to her in respect of her dower and he gives her the same amount of dower as others give her. They (i.e., the guardians) were prohibited to marry them except that they do justice to them and pay them their maximum customary dower and they were asked to marry women other than them (i.e., the orphans) who seem good to them. ‘Urwah reported that A’ishah said “The people then consulted the Apostle of Allaah(ﷺ) about women after revelation of this verse. Thereupon Allaah the Exalted sent down the verse “They consult thee concerning women. Say Allaah giveth you decree concerning them and the scripture which hath been recited unto you(giveth decree) concerning female orphans unto whom you give not that which is ordained for them though you desire to marry them. “ She said “The mention made by Allaah about the Scripture recited to them refers to the former verse in which Allaah has said “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you.” A’ishah said “The pronouncement of Allaah , the Exalted in the latter verse “though you desire to marry them” means the disinterest of one of you in marrying a female orphan who was under his protection, but she said little property and beauty. So they were prohibited to marry them for their interest in the property and beauty of the female orphans due to their disinterest in themselves except that they do justice )to them). The narrator Yunus said “Rabi’ah said explain the Qur’anic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans” means “Leave them if you fear (that you will not do justice to them), for I have made four women lawful for you.”

عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے

اللہ تعالیٰ کے فرمان : «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : بھانجے ! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے ، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو ( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا ، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں ۔ عروہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے نزول کے بعد یتیم لڑکیوں کے بارے میں حکم دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی : «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما كتب لهن وترغبون أن تنكحوهن» ۲؎ ام المؤمنین عائشہ نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ ان پر کتاب میں پڑھی جاتی ہیں اس سے مراد پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» اور اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے قول : «وترغبون أن تنكحوهن» سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کی پرورش میں کم مال والی کم حسن والی یتیم لڑکی ہو تو وہ اس کے ساتھ نکاح سے بے رغبتی نہ کرے چنانچہ انہیں منع کیا گیا کہ مال اور حسن کی بنا پر یتیم لڑکیوں سے نکاح کی رغبت کریں ، ہاں انصاف کی شرط کے ساتھ درست ہے ۔ یونس نے کہا کہ ربیعہ نے اللہ کے فرمان : «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پانے کا ڈر ہو تو انہیں چھوڑ دو ( کسی اور عورت سے نکاح کر لو ) میں نے تمہارے لیے چار عورتوں سے نکاح جائز کر دیا ہے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 23
Hadith 2069
Chapter 679: Women Whom It Is Disliked To Combine Between (In Marriage) - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ، حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - رضى الله عنهما - لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ هَلْ لَكَ إِلَىَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لاَ ‏.‏ قَالَ هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لاَ يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ - رضى الله عنها - فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ ‏"‏ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَّى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏

‘Ali bin al-Hussain said that when they returned to Madeenah from Yazid bin Mu’awiyah the place of massacre of Al Hussain bin Ali(may Allaah be pleased with him) Al Miswar bin Makhramah met them and said “tell me if you have any need for me. I said to him “No”. He then said Will you not give me the sword of the Apostle of Allaah(ﷺ)? I fear the people may not take it from you by force. (He said) By Allaah if you give it to me no one can take it from me so long as I am alive. Ali bin Abi Talib (may Allaah be pleased with him) asked for the hand of Abu Jahl’s daughter in marriage after the marriage with Fathima. I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say while he was addressing the people about this matter on the pulpit and I was mature in those days. Fathima is from me and I am not afraid that she will be tried in respect of her religion. He then mentioned his other son-in-law who belonged to Banu ‘Abd Shams. He admired him immensely for his relationship with him and extolled him well. He said “He talked to me and talked truly and he made promise with me and fulfilled it. I do not make lawful what Is unlawful and unlawful what is lawful. But, by Allaah the daughter of the Apostle of Allaah(ﷺ) and the daughter of the enemy of Allaah can never be combined together.

علی بن حسین کا بیان ہے

وہ لوگ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے زمانے میں یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا : اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے تو میں نے ان سے کہا : نہیں ، انہوں نے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دے سکتے ہیں ؟ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ آپ سے اسے چھین لیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر آپ اسے مجھے دیدیں گے تو اس تک کوئی ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ میرے نفس تک نہ پہنچ جائے ۱؎ ۔ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی ۲؎ کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا ، اس وقت میں جوان تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ، مجھے ڈر ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی آزمائش سے دو چار نہ ہو جائے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس میں سے اپنے ایک داماد کا ذکر فرمایا ، اور اس رشتہ دامادی کی خوب تعریف کی ، اور فرمایا : ” جو بات بھی اس نے مجھ سے کی سچ کر دکھائی ، اور جو بھی وعدہ کیا پورا کیا ، میں کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال قطعاً نہیں کر رہا ہوں لیکن اللہ کی قسم ، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ہرگز ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 24
Hadith 2070
Chapter 679: Women Whom It Is Disliked To Combine Between (In Marriage) - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَسَكَتَ عَلِيٌّ عَنْ ذَلِكَ النِّكَاحِ

The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Abi Mulaikah. He said “’Ali (Allaah be pleased with him) then kept silence about the marriage (i.e., marrying Abi Jahl’s daughter)

ابن ابی ملیکہ سے یہی حدیث مروی ہے

اس میں ہے : تو علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح سے خاموشی اختیار کر لی ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 25
Page 1 of 6

Showing 25 hadiths on this page (Total: 129 hadiths in Sunan Abu Dawud)

Page 1 of 6 Next Last