Ibn Abbas said: Aqra' ibn Habis asked the Prophet (ﷺ) saying: Messenger of Allah hajj is to be performed annually or only once? He replied: Only once, and if anyone performs it more often, he performs a supererogatory act.
Abu Dawud said: The narrator Abu Sinan is Abu Sinan al-Du'wail. The same has been reported by both 'Abd al-Jalil bin Humaid and Sulaiman bin Kathir from al-Zuhri. The narrator 'Uqail reported the name "Sinan".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال ( فرض ) ہے یا ایک بار ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ہر سال نہیں ) بلکہ ایک بار ہے اور جو ایک سے زائد بار کرے تو وہ نفل ہے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوسنان سے مراد ابوسنان دؤلی ہیں ، اسی طرح عبدالجلیل بن حمید اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے نقل کیا ہے ، اور عقیل سے ابوسنان کے بجائے صرف سنان منقول ہے ۔
Chapter 568: The Obligation of Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنٍ لأَبِي، وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
" هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصْرِ " .
Narrated Abu Waqid al-Laythi:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying to his wives during the Farewell Pilgrimage: This (is the pilgrimage for you); afterwards stick to the surface of the mats (i.e. should stay at home).
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا : ” یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں “ ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (SWAS) as saying : A muslim woman must not make a journey of a night unless she is accompanied by a man who is within the prohibited degrees.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو “ ۱؎ ۔
Abu Hurairah reported the Prophet (SWAS) as saying :
A woman who believes in Allah and the last Day must not make a journey of a day and a night. He then narrated the rest of the tradition to the same effect (as above).
The narrator al-Nufaili said : Malik narrated us.
Abu Dawud said : The narrators al-Nufail and al_Qa’nabi did not mention the words “from his father”.
Ibn Wahb and ‘Uthman bin ‘Umr narrated from Malik the same words as narrated by al-Qa’nabi (i.e. omitted the words “from his father”).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے “ ۔ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری ۔
Abu Sa’id reported The Apostel of Allah (SWAS) as saying:
A woman who believes in Allah and the Last Day must not make a journey of more than three days unless she is accompanied by her father or her brother, or her husband or her son or her relative who is within the prohibited degree.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم ۱؎ “ ۔
People used to perform Hajj and not bring provisions with them. Abu Mas’ud said the inhabitants of Yemen or people of Yemen used to perform Hajj and not bring provisions with them. They would declare we put our trust in Allah. So Allah most high sent down “ and bring provisions, but the best provision is piety”.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے : ہم متوکل ( اللہ پر بھروسہ کرنے والے ) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ «وتزودوا فإن خير الزاد التقوى» ۱؎ ( زاد راہ ساتھ لے لو اس لیے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے ) نازل فرمائی ۔
Ibn Abbas recited this verse: 'It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord', and said: The people would not trade in Mina (during the hajj), so they were commanded to trade when they proceeded from Arafat.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے راوی کہتے ہیں
انہوں نے یہ آیت «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ۱؎ ” تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو “ پڑھی اور بتایا کہ عرب کے لوگ منیٰ میں تجارت نہیں کرتے تھے تو انہیں عرفات سے واپسی پر منیٰ میں تجارت کا حکم دیا گیا ۔
I was a man who used to give (riding-beasts) on hire for this purpose (for travelling during the pilgrimage) and the people would tell (me): Your hajj is not valid. So I met Ibn Umar and told him: AbuAbdurRahman, I am a man who gives (riding-beast) on hire for this purpose (i.e. for hajj), and the people tell me: Your hajj is not valid. Ibn Umar replied: Do you not put on ihram (the pilgrim dress), call the talbiyah (labbayk), circumambulate the Ka'bah, return from Arafat and lapidate jamrahs? I said: Why not? Then he said: Your hajj is valid. a man came to the Prophet (ﷺ) and asked him the same question you have asked me. The Messenger of Allah (ﷺ) kept silence and did not answer him till this verse came down: "It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord." The Messenger of Allah (ﷺ) sent for him and recited this verse to him and said: Your hajj is valid.
ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ
میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا ، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا ، تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے عرض کیا : ابوعبدالرحمٰن ! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا ، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا تم احرام نہیں باندھتے ؟ تلبیہ نہیں کہتے ؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے ؟ رمی جمار نہیں کرتے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، تو انہوں نے کہا : تمہارا حج درست ہے ، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ” تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو “ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا : ” تمہارا حج درست ہے “ ۔
The people used to trade, in the beginning, at Mina, Arafat, the market place of Dhul-Majaz, and during the season of hajj. But (later on) they became afraid of trading while they were putting on ihram. So Allah, glory be to Him, sent down this verse: "It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord during the seasons of hajj." Ubayd ibn Umayr told me that he (Ibn Abbas) used to recite this verse in his codex.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگ شروع شروع میں منیٰ ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا ، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ” تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو “ نازل کیا یعنی حج کے موسم میں ۔ عطا کہتے ہیں : مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ ( ابن عباس ) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎ ۔
In the beginning when Hajj was prescribed, people used to trade during Hajj. The narrator then narrated the rest of the tradition upto the words, `season of Hajj’.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں خرید و فروخت کرتے تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی روایت ان کے قول «مواسم الحج» تک ذکر کیا ۔
Chapter 575: Regarding A Child Performing Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ " مَنِ الْقَوْمُ " . فَقَالُوا الْمُسْلِمُونَ . فَقَالُوا فَمَنْ أَنْتُمْ قَالُوا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِهَذَا حَجٌّ قَالَ " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ " .
Ibn `Abbas said the Messenger of Allah (SWAS) was at al-Rawha. There he met some riders. He saluted them and asked who they were. They replied that they were Muslims. They asked who are you. They (the companions) replied he is the Messenger of Allah (SWAS). A woman became upset :
she took her child by his arm and lifted him from her litter at the camel. She said Messenger of Allah (SWAS) can this (child) be credited with having performed Hajj. He replied Yes, and you will have a reward.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام روحاء میں تھے کہ آپ کو کچھ سوار ملے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور پوچھا : ” کون لوگ ہو ؟ “ ، انہوں نے جواب دیا : ہم مسلمان ہیں ، پھر ان لوگوں نے پوچھا : آپ کون ہو ؟ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ایک عورت گھبرا گئی پھر اس نے اپنے بچے کا بازو پکڑا اور اسے اپنے محفے ۱؎ سے نکالا اور بولی : اللہ کے رسول ! کیا اس کا بھی حج ہو جائے گا ۲؎ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور اجر تمہارے لیے ہے “ ۔
The Messenger of Allah (SWAS) appointed the following places for putting on Ihram : Dhul al-Hulaifah for the people of Madina, al-Juhfah for the people of Syria and al-Qarn for the people of Najd and have been told that appointed Yalamlam for the people of Yemen.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ۱؎ مقرر کیا ، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم ۲؎ کو میقات مقرر کیا ۔
The Messenger of Allah (SWAS) appointed places for putting on Ihram and narrated the rest of the tradition to the same effect (as mentioned above).
One of them said and Yalamlam for the people of Yemen. The other narrator said Alamlam. These (places for Ihram) are appointed for these regions and for people of other regions who come to them intending to perform Hajj and `Umrah. The place where those who live nearer to Makkah should put on Ihram from where they start and so on up to the inhabitants of Makkah itself who put on Ihram in it. This is the version of Ibn Tawus.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ، ان دونوں ( راویوں میں سے ) میں سے ایک نے کہا : ” اہل یمن کے لیے یلملم “ ، اور دوسرے نے کہا : «ألملم» ، اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ان لوگوں کی میقاتیں ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی بھی جو ان جگہوں سے گزر کر آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں ، اور جو لوگ ان کے اندر رہتے ہوں “ ۔ ابن طاؤس ( اپنی روایت میں ) کہتے ہیں : ان کی میقات وہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ ہی ۱؎ سے احرام باندھیں گے ۔
She heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If anyone puts on ihram for hajj or umrah from the Aqsa mosque to the sacred mosque , his former and latter sins will be forgiven, or he will be guaranteed Paradise. The narrator Abdullah doubted which of these words he said.
Abu Dawud said: May Allah have mercy on Waki'. He put on ihram from Jerusalem (Aqsa mosque), that is, to Mecca.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو مسجد الاقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج اور عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ، یا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی “ ، راوی عبداللہ کو شک ہے کہ انہوں نے دونوں میں سے کیا کہا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اللہ وکیع پر رحم فرمائے کہ انہوں نے بیت المقدس سے مکہ تک کے لیے احرام باندھا ۔
I came to the Messenger of Allah (ﷺ) when he was at Mina, or at Arafat. He was surrounded by the people. When the bedouins came and saw his face, they would say: This is a blessed face. He said: He (the Prophet) appointed Dhat Irq as the place of putting on ihram for the people of Iraq.
حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ منیٰ میں تھے یا عرفات میں ، اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا ، تو اعراب ( دیہاتی ) آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے یہ برکت والا چہرہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا ۔
Asma daughther of 'Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr at Shajarah. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded Abu Bakr to ask her to take a bath and wear ihram.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ) کو مقام شجرہ میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی ( ولادت کی ) وجہ سے نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ( اسماء سے کہو کہ ) وہ غسل کر لے پھر تلبیہ پکارے ۔
The Prophet (ﷺ) said: A menstruating woman and the one who delivered a child should take a bath, put on ihram and perform all the rites of hajj except circumambulation of the House (Ka'bah) when they came to the place of wearing ihram.
Abu Ma'mar said in his version: "till she is purified". The narrator Ibn Isa did not mention the names of Ikrimah and Mujahid, but he said: from Ata on the authority of Ibn Abbas. Ibn Isa also did not mention the word "all (rites of hajj)." He said in his version: All the rites of hajj except circumambulation of the House (the Ka'bah).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں ، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎ “ ۔ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» ” یہاں تک کہ پاک ہو جائیں “ کا اضافہ کیا ۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا ، بلکہ یوں کہا : «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» ” مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے “ کہا ۔
Chapter 578: Wearing Perfume While Entering The State Of Ihram - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلإِحْلاَلِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ .
`A’ishah said ; I used to perfume the Messenger of Allah (SWAS) preparatory to his entering the sacred state before he put on Ihram, and preparatory to putting off Ihram before he made the circuits round the House (the Ka’bah).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے تو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگایا کرتی تھی ۱؎ ۔