حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ ". تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَأَبَانُ. وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا قَوْلَهُ. وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ، وَجُنْدَبٌ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ.
Narrated Jundub:
The Prophet (ﷺ) said, "Recite (and study) the Qur'an as long as you agree about its interpretation, but when you have any difference of opinion (as regards its interpretation and meaning) then you should stop reciting it (for the time being)'
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ، ان سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا ، ان سے ابو عمران جونی نے اور ان سے حضرت جندب ابن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قرآن کو جب ہی تک پڑھو جب تک تمہارے دل ملے جلے یا لگے رہیں ، جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگوتو اٹھ کھڑے ہو ۔ ( قرآن مجید پڑھنا موقوف کر دو ) سلام کے ساتھ اس حدیث کو حارث بن عبید اور سعید بن زید نے بھی ابو عمران جونی سے روایت کیا اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوع نہیں بلکہ موقوفاً روایت کیا ہے اور غندر محمد بن جعفر نے بھی شعبہ سے ، انہوں نے ابو عمران سے یوں روایت کیا کہ میں نے جندب سے سنا ، وہ کہتے تھے ۔ ( لیکن موقوفاً روایت کیا ) اور عبداللہ بن عون نے اس کو ابو عمران سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے ، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا قول روایت کیا ( مرفوعا نہیں کیا ) اور جندب کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔
জুনদুব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু 'আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, যতক্ষণ পর্যন্ত ইবাদাত মনের চাহিদার অনুকূল হয় তিলাওয়াত করতে থাক এবং তাতে মনোসংযোগে ব্যাঘাত ঘটলে পড়া ত্যাগ কর। হারিস ইবনু ‘উবায়দ ও সা’ঈদ ইবনু যায়দ আবূ ‘ইমরান এর মাধ্যমে জুনদাবের অনুরূপ বর্ণনা করেছেন। কিন্তু হাম্মাদ ইবনু সালামাহ ও আবান এটিকে মারফু’ হিসেবে বর্ণনা করেননি। ….. তবে জুনদাবের বর্ণনাটি অধিক বিশুদ্ধ ও অধিক বর্ণিত।