حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي " إِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ". فَقُلْتُ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ " نِصْفُ الدَّهْرِ ".
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As:
"Once Allah's Messenger (ﷺ) came to me," and then he narrated the whole narration, i.e. your guest has a right on you, and your wife has a right on you. I then asked about the fasting of David. The Prophet (ﷺ) replied, "Half of the year," (i.e. he used to fast on every alternate day).
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہارون بن اسماعیل نے خبر دی ، کہا کہ ہم سے علی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ، کہا کہ
مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ۔ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ، یعنی تمہارے ملاقاتیوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔ اس پر میں نے پوچھا اور داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن بے روزہ رہنا صوم داؤدی ہے ۔
‘আবদুল্লাহ ইব্নু ‘আমর ইব্নুল ‘আস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহ্র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার কাছে এলেন। এরপর তিনি [‘আবদুল্লাহ (রাঃ)] হাদীসটি বর্ণনা করেন অর্থাৎ “তোমার উপর মেহমানের হাক্ব আছে, তোমার উপর তোমার স্ত্রীর হাক্ব আছে।” আমি জিজ্ঞেস করলাম, সওমে দাউদ (আঃ) কি? তিনি বললেন, “অর্ধেক বছর” (-এর সওম পালন করা)।