حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهَا، نَحْوَهُ مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَىْءٌ قَالَ : " هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ " . قَالَ : لاَ . قُلْتُ : إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ وَمَشْىٌ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : أَنَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ : " نَعَمْ " .
A similar tradition has also been transmitted in brief by Maimunah daughter of Kardam son of Sufyan on the authority of her father through a different chain of narrators. This version adds:
(The Prophet asked): Does it contain an idol or was a festival of pre-Islamic times celebrated there ? He replied: No. I said: This mother of mine has taken a vow and walking (is binding on her). May I fulfill it on her behalf ? Sometimes the narrator Bashshar said: May we fulfill in on her behalf ? He said: Yes.
میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے
اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا : ” کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، میں نے کہا : یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے ، اور پیدل حج کرنا ہے ، کیا میں اسے ان کی طرف سے پورا کر دوں ؟ اور ابن بشار نے کبھی یوں کہا ہے : کیا ہم ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں ؟ ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ۔