حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " لاَ نَذْرَ وَلاَ يَمِينَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ وَلاَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَدَعْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم : " وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " . إِلاَّ فِيمَا لاَ يُعْبَأُ بِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُلْتُ لأَحْمَدَ : رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ : تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَكَانَ أَهْلاً لِذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ : أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ وَأَبُوهُ لاَ يُعْرَفُ .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: An oath or a vow about something over which a human being has no control, and to disobey Allah, and to break ties of relationship is not binding. If anyone takes an oath and then considers something else better than it, he should give it up, and do what is better, for leaving it is its atonement. Abu Dawud said: All sound traditions from the Prophet (ﷺ) say: "He should make atonement for his oath," except those versions which are not reliable. Abu Dawud said: I said to Ahmad: Yahya b. Sa'id (al-Qattan) has transmitted this tradition from Yahya b. 'Ubaid Allah. He (Ahmad b. Hanbal) said: But he gave it up after that, and he was competent for doing it. Ahmad said: His (Yahya b. 'Ubaid Allah's) tradition are munkar (rejected) and his father is not known.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو ، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں ، اور نہ ناتا توڑنے میں ، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے ( پوری نہ کرے ) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا تو ان کا کفارہ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد سے پوچھا : کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں پہلے کی تھی ، پھر ترک کر دیا ، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے ، احمد کہتے ہیں : ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں ۲؎ ۔