Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 3024

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 20: Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah) - كتاب الخراج والإمارة والفىء

Hadith 3024

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ سَرَّحَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْخَيْلِ وَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ فَلاَ يُشْرِفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَمْتُمُوهُ ‏.‏ فَنَادَى مُنَادٍ لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلاَحَ فَهُوَ آمِنٌ ‏"‏ ‏.‏ وَعَمَدَ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَدَخَلُوا الْكَعْبَةَ فَغَصَّ بِهِمْ وَطَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ ثُمَّ أَخَذَ بِجَنْبَتَىِ الْبَابِ فَخَرَجُوا فَبَايَعُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ مَكَّةَ عَنْوَةً هِيَ قَالَ أَيْشٍ يَضُرُّكَ مَا كَانَتْ قَالَ فَصُلْحٌ قَالَ لاَ ‏.‏

Abu Hurairah said “When the Prophet (ﷺ) entered Makkah he left Al Zubair bin Al Awwam, Abu ‘Ubaidah bin Al Jarrah and Khalid bin Al Walid on the horses and he said “Abu Hurairah call the helpers.” He said”Go this way. Whoever appears before you kill him”. A man called “the Quraish will be no more after today.” The Apostle of Allaah(ﷺ) said “he who entered house is safe, he who throws the weapon is safe. The chiefs of the Quraish intended (to have a resort in the Ka’bah), they entered the Ka’bah and it was full of them. The Prophet (ﷺ) took rounds of Ka’bah and prayed behind the station. He then held the sides of the gate (of the Ka’bah). They (the people) came out and took the oath of allegiance (at the hands) of the Prophet (ﷺ) on Islam. Abu Dawud said “I heard Ahmad bin Hanbal (say) when he was asked by a man “Was Makkah captured by force?” He said “What harms you whatever it was? He said “Then by peace?” He said, No.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے زبیر بن عوام ، ابوعبیدہ ابن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو گھوڑوں پر سوار رہنے دیا ، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : ” تم انصار کو پکار کر کہہ دو کہ اس راہ سے جائیں ، اور تمہارے سامنے جو بھی آئے اسے ( موت کی نیند ) سلا دیں “ ، اتنے میں ایک منادی نے آواز دی : آج کے دن کے بعد قریش نہیں رہے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو گھر میں رہے اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو امن ہے “ ، قریش کے سردار خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے تو خانہ کعبہ ان سے بھر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر خانہ کعبہ کے دروازے کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر ( کھڑے ہوئے ) تو خانہ کعبہ کے اندر سے لوگ نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے سنا ہے کہ کسی شخص نے احمد بن حنبل سے پوچھا : کیا مکہ طاقت سے فتح ہوا ہے ؟ تو احمد بن حنبل نے کہا : اگر ایسا ہوا ہو تو تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے ؟ اس نے کہا : تو کیا صلح ( معاہدہ ) کے ذریعہ ہوا ہے ؟ کہا : نہیں ۔

In-book reference : Book 20, Hadith 97
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00