حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ قَسَمَهَا سِتَّةً وَثَلاَثِينَ سَهْمًا جَمْعًا فَعَزَلَ لِلْمُسْلِمِينَ الشَّطْرَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا يَجْمَعُ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةً النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ لَهُ سَهْمٌ كَسَهْمِ أَحَدِهِمْ وَعَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَهُوَ الشَّطْرُ لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَكَانَ ذَلِكَ الْوَطِيحَ وَالْكُتَيْبَةَ وَالسُّلاَلِمَ وَتَوَابِعَهَا فَلَمَّا صَارَتِ الأَمْوَالُ بِيَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمِينَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عُمَّالٌ يَكْفُونَهُمْ عَمَلَهَا فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْيَهُودَ فَعَامَلَهُمْ .
Narrated Bashir ibn Yasar:
When Allah bestowed Khaybar on the Messenger of Allah (ﷺ) as fay' (spoils of war without fighting), he divided the whole into thirty six lots. He put aside a half, i.e. eighteen lots, for the Muslims. Each lot comprised one hundred shares, and the Prophet (ﷺ) was with them. He received a share like the share of one of them. The Messenger of Allah (ﷺ) separated eighteen lots, that is, half, for his future needs and whatever befell the Muslims. These were al-Watih, al-Kutaybah, as-Salalim and their colleagues. When all this property came in the possession of the Prophet (ﷺ) and of the Muslims, they did not have sufficient labourers to work on it. The Messenger of Allah (ﷺ) called Jews and employed them on contract.
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے ، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے ( یعنی نصف آخر ) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے ، اسی نصف میں وطیح ، کتیبہ اور سلالم ( دیہات کے نام ہیں ) اور ان کے متعلقات تھے ، جب یہ سب اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئے تو مسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھال اور ان میں کام کرنے والے نہیں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلا کر ان سے ( بٹائی پر ) معاملہ کر لیا ۔