Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2971

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 20: Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah) - كتاب الخراج والإمارة والفىء

Hadith 2971

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ ‏}‏ قَالَ صَالَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ فَدَكَ وَقُرًى قَدْ سَمَّاهَا لاَ أَحْفَظُهَا وَهُوَ مُحَاصِرٌ قَوْمًا آخَرِينَ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ بِالصُّلْحِ قَالَ ‏{‏ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ ‏}‏ يَقُولُ بِغَيْرِ قِتَالٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ بَنُو النَّضِيرِ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَالِصًا لَمْ يَفْتَحُوهَا عَنْوَةً افْتَتَحُوهَا عَلَى صُلْحٍ فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ لَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ رَجُلَيْنِ كَانَتْ بِهِمَا حَاجَةٌ ‏.‏

Al-Zuhri, explaining the verse "For this you made no expedition with either cavalry or camelry" said:

The Prophet (ﷺ) concluded the treaty of peace with the people of Fadak and townships which he named which I could not remember ; he blockaded some other people who sent a message to him for capitulation. He said: "For this you made no expedition with either cavalry or camelry" means without fighting. Al-Zuhri said: The Banu al-Nadir property was exclusively kept for the Prophet (ﷺ) ; they did not conquer it by fighting, but conquered it by capitulation. To Prophet (ﷺ) divided it among the Emigrants. He did not give anything to the Helpers except two men were needy.

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ

اللہ نے جو فرمایا ہے : «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی ” تم نے ان مالوں کے واسطے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہوئے “ ( سورۃ الحشر : ۶ ) تو ان کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک اور کچھ دوسرے گاؤں والوں سے جن کے نام زہری نے تو لیے لیکن راوی کو یاد نہیں رہا صلح کی ، اس وقت آپ ایک اور قوم کا محاصرہ کئے ہوئے تھے ، اور ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح مال بھیجا تھا ، اس مال کے تعلق سے اللہ نے فرمایا : «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی بغیر لڑائی کے یہ مال ہاتھ آیا ( اور اللہ نے اپنے رسول کو دیا ) ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں بنو نضیر کے مال بھی خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے ، لوگوں نے اسے زور و زبردستی سے ( یعنی لڑائی کر کے ) فتح نہیں کیا تھا ۔ صلح کے ذریعہ فتح کیا تھا ، تو آپ نے اسے مہاجرین میں تقسیم کر دیا ، اس میں سے انصار کو کچھ نہ دیا ، سوائے دو آدمیوں کے جو ضرورت مند تھے ۔

In-book reference : Book 20, Hadith 44
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00