حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلاَلَةِ فَمَا الْكَلاَلَةُ قَالَ " تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ " . فَقُلْتُ لأَبِي إِسْحَاقَ هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلاَ وَالِدًا قَالَ كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ .
Narrated Al-Bara' ibn Azib:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, they ask thee for a legal decision about a kalalah. What is meant by kalalah? He replied: The verse revealed in summer is sufficient for you. I asked AbuIshaq: Does it mean a person who dies and leaves neither children nor father? He said: This is so. The people think it is so.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! «يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : آیت «صيف» ۱؎ تمہارے لیے کافی ہے ۔ ابوبکر کہتے ہیں : میں نے ابواسحاق سے کہا : کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے ۔