Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2842

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 16: Sacrifice (Kitab Al-Dahaya) - كتاب الضحايا

Hadith 2842

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ أُرَاهُ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يُحِبُّ اللَّهُ الْعُقُوقَ ‏"‏ ‏.‏ كَأَنَّهُ كَرِهَ الاِسْمَ وَقَالَ ‏"‏ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ قَالَ ‏"‏ وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكُوهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا شُغْزُبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْزَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ وَتُكْفِئَ إِنَاءَكَ وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated 'Amr b. Suh'aib:

On his father's authority, said that his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the aqiqah. He replied: Allah does not like the breaking of ties (uquq), as though he disliked the name. And he said: If anyone has a child born to him and wishes to offer a sacrifice on its behalf, he may offer two resembling sheep for a boy and one for a girl. And he was asked about fara'. He replied: Fara' is right. If you leave it (i.e. let it grow till it becomes a healthy camel of one year or two years, then you give it to a widow or give it in the path of Allah for using it as a riding beast, it is better than slaughtering it at the age when its meat is stuck to its hair, and you turn over your milking vessel and annoy your she-camel.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ «عقوق» ( ماں باپ کی نافرمانی ) کو پسند نہیں کرتا “ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو ناپسند فرمایا ، اور مکروہ جانا ، اور فرمایا : ” جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی ( عقیقہ ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے ، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فرع» کے متعلق پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” «فرع» حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے ، ایک برس کا یا دو برس کا ، پھر اس کو بیواؤں محتاجوں کو دے دو ، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے دے دو ، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو ( پیدا ہوتے ہی ) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو ( یعنی کم ہو ) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو ، ( گوشت نہ ہو گا تو پکاؤ گے کہاں سے ) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 55
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00