حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلاَّ مِنَ اللَّبَّةِ أَوِ الْحَلْقِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لأَجْزَأَ عَنْكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لاَ يَصْلُحُ إِلاَّ فِي الْمُتَرَدِّيَةِ وَالْمُتَوَحِّشِ .
Narrated AbulUshara':
AbulUshara' reported on the authority of his father: He asked: Messenger of Allah, is the slaughtering to be done only in the upper part of the breast and the throat? The Messenger of Allah (ﷺ) replied: If you pierced its thigh, it would serve you. Abu Dawud said: This is the way suitable for slaughtering an animal which has fallen into a well or runs loose.
ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ «متردی» ۱؎ اور «متوحش» ۲؎ کے ذبح کا طریقہ ہے ۔