Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2804

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 16: Sacrifice (Kitab Al-Dahaya) - كتاب الضحايا

Hadith 2804

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، - وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ - عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَيْنِ وَلاَ نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلاَ مُقَابَلَةٍ وَلاَ مُدَابَرَةٍ وَلاَ خَرْقَاءَ وَلاَ شَرْقَاءَ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ فَقُلْتُ لأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لاَ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ يُقْطَعُ طَرَفُ الأُذُنِ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا الْمُدَابَرَةُ قَالَ يُقْطَعُ مِنْ مُؤَخَّرِ الأُذُنِ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا الشَّرْقَاءُ قَالَ تُشَقُّ الأُذُنُ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا الْخَرْقَاءُ قَالَ تُخْرَقُ أُذُنُهَا لِلسِّمَةِ ‏.‏

Narrated Ali ibn AbuTalib:

The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined upon us to pay great attention to the eye and both ears, and not to sacrifice a one-eyed animal, and an animal with a slit which leaves something hanging at the front or back of the ear, or with a lengthwise slit with a perforation in the ear. I asked AbuIshaq: Did he mention an animal with broken horns and uprooted ears? He said: No. I said: 'What is the Muqabalah ?' He replied: 'It has been cut from the back of its ear.' I said: 'What about the Sharqa'? He replied: 'The ear has been split.' I said: 'What about the Kharqa'? He replied: 'A hole is made (in its ears) as a distinguishing mark.'"

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں ( کہ اس میں ایسا نقص نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو ) اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں ، اور نہ «مقابلة» کی ، نہ «مدابرة» کی ، نہ «خرقاء» کی اور نہ «شرقاء» کی ۔ زہیر کہتے ہیں : میں نے ابواسحاق سے پوچھا : کیا «عضباء» کا بھی ذکر کیا ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں ( «عضباء» اس بکری کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوں اور سینگ ٹوٹے ہوں ) ۔ میں نے پوچھا «مقابلة» کے کیا معنی ہیں ؟ کہا : جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو ، پھر میں نے کہا : «مدابرة» کے کیا معنی ہیں ؟ کہا : جس کے کان پچھلی طرف سے کٹے ہوں ، میں نے کہا : «خرقاء» کیا ہے ؟ کہا : جس کے کان پھٹے ہوں ( گولائی میں ) میں نے کہا : «شرقاء» کیا ہے ؟ کہا : جس بکری کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں ( نشان کے لیے ) ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 17
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00