Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Hadith 2527

Sunan Abu Dawud

سنن أبي داود

Chapter 15: Jihad (Kitab Al-Jihad) - كتاب الجهاد

Hadith 2527

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُنْيَةَ، قَالَ ‏:‏ آذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْغَزْوِ وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ لَيْسَ لِي خَادِمٌ، فَالْتَمَسْتُ أَجِيرًا يَكْفِينِي وَأُجْرِي لَهُ سَهْمَهُ، فَوَجَدْتُ رَجُلاً، فَلَمَّا دَنَا الرَّحِيلُ أَتَانِي فَقَالَ ‏:‏ مَا أَدْرِي مَا السُّهْمَانُ وَمَا يَبْلُغُ سَهْمِي فَسَمِّ لِي شَيْئًا كَانَ السَّهْمُ أَوْ لَمْ يَكُنْ ‏.‏ فَسَمَّيْتُ لَهُ ثَلاَثَةَ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْ غَنِيمَتُهُ أَرَدْتُ أَنْ أُجْرِيَ لَهُ سَهْمَهُ، فَذَكَرْتُ الدَّنَانِيرَ، فَجِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ لَهُ أَمْرَهُ، فَقَالَ ‏:‏ ‏ "‏ مَا أَجِدُ لَهُ فِي غَزْوَتِهِ هَذِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلاَّ دَنَانِيرَهُ الَّتِي سَمَّى ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ya'la ibn Munyah:

The Messenger of Allah (ﷺ) announced an expedition, and I was a very old man and I had no servant. I, therefore, sought a hireling who would serve instead of me, and I would give him his portion. So I found a man. When the time of departure arrived, he came to me and said: I do not know what would be the portions, and how much would be my portion. So offer something (as wages) to me, whether there would be any portion or not. I offered three dinars (as his wages) for him. When some booty arrived, I wanted to offer him his portion. But I remembered the dinars, so I went to the Prophet (ﷺ) and mentioned the matter to him. He said: All I can find for him regarding this expedition of his in this world and the next is three dinars which were offered him.

یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ کا اعلان کیا اور میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی خادم نہ تھا ، تو میں نے ایک مزدور تلاش کیا جو میری خدمت کرے اور میں اس کے لیے اس کا حصہ جاری کروں ، آخر میں نے ایک مزدور پا لیا ، تو جب روانگی کا وقت ہوا تو وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نہیں جانتا کہ کتنے حصے ہوں گے اور میرے حصہ میں کیا آئے گا ؟ لہٰذا میرے لیے کچھ مقرر کر دیجئیے خواہ حصہ ملے یا نہ ملے ، لہٰذا میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دئیے ، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اس کا حصہ دینا چاہا ، پھر خیال آیا کہ اس کے تو تین دینار مقرر ہوئے تھے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا معاملہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اس کے لیے اس کے اس غزوہ میں دنیا و آخرت میں کچھ نہیں پاتا سوائے ان تین دیناروں کے جو متعین ہوئے “ ۔

In-book reference : Book 15, Hadith 51
More from Sunan Abu Dawud
Ready to play
0:00 / 0:00