حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هَشِشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ . قَالَ " أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ " . قَالَ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ فِي حَدِيثِهِ قُلْتُ لاَ بَأْسَ بِهِ . ثُمَّ اتَّفَقَا قَالَ " فَمَهْ " .
Narrated Umar ibn al-Khattab:
I got excited, so I kissed while I was fasting, I then said: Messenger of Allah, I have done a big deed; I kissed while I was fasting. He said: What do you think if you rinse your mouth with water while you are fasting. The narrator Isa ibn Hammad said in his version: I said to him: There is no harm in it. Then both of them agreed on the version: He said: Then what?
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی ، روزے کی حالت میں بوسہ لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو ( تو کیا ہوا ) “ ، میں نے کہا : اس میں تو کچھ حرج نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو بس کوئی بات نہیں “ ۔