حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَدِمَ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَدِينَةَ فَمَالَ إِلَى مَجْلِسِ الْعَلاَءِ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلاَ تَصُومُوا " . فَقَالَ الْعَلاَءُ اللَّهُمَّ إِنَّ أَبِي حَدَّثَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشِبْلُ بْنُ الْعَلاَءِ وَأَبُو عُمَيْسٍ وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلاَءِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ يُحَدِّثُ بِهِ قُلْتُ لأَحْمَدَ لِمَ قَالَ لأَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ وَقَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خِلاَفَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي خِلاَفَهُ وَلَمْ يَجِئْ بِهِ غَيْرُ الْعَلاَءِ عَنْ أَبِيهِ .
Narrated AbuHurayrah:
AbdulAziz ibn Muhammad said: Abbad ibn Kathir came to Medina and went to the assembly of al-Ala'. He caught hold of his hand and made him stand and said: O Allah, he narrates a tradition from his father on the authority of AbuHurayrah who reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: When the middle of Sha'ban comes, do not fast. Al-Ala' said: O Allah, my father narrated this tradition on the authority of AbuHurayrah from the Prophet (ﷺ)
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ
عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور ( جا کر ) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے : اے اللہ ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو “ ، علاء نے کہا : اے اللہ ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ثوری ، شبل بن علاء ، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا ، نیز ابوداؤد نے کہا : عبدالرحمٰن ( عبدالرحمٰن ابن مہدی ) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے ، میں نے احمد سے کہا : ایسا کیوں ہے ؟ وہ بولے : کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو ( روزہ رکھ کر ) رمضان سے ملا دیتے تھے ، نیز انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف مروی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے ۱؎ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے ۔