حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ } قَالَ كَانَتْ رُخْصَةً لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْمَرْأَةِ الْكَبِيرَةِ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصِّيَامَ أَنْ يُفْطِرَا وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا - قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي عَلَى أَوْلاَدِهِمَا - أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
Explaining the verse; "For those who can do it (with hard-ship) is a ransom, the feeding of one, that is indigent," he said: This was a concession granted to the aged man and woman who were able to keep fast; they were allowed to leave the fast and instead feed an indigent person for each fast; (and a concession) to pregnant and suckling woman when they apprehended harm (to themselves).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ کے فرمان : «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» زیادہ بوڑھے مرد و عورت ( جو کہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ) کے لیے رخصت ہے کہ روزے نہ رکھیں ، بلکہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں ، اور حاملہ نیز دودھ پلانے والی عورت بچے کے نقصان کا خوف کریں تو روزے نہ رکھیں ، فدیہ دیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی مرضعہ اور حاملہ کو اپنے بچوں کے نقصان کا خوف ہو تو وہ بھی روزے نہ رکھیں اور ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ۔