حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - أَشَدَّ الْعَيْبِ يَعْنِي حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَالَتْ إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Urwah said:
Aisha (Allah be pleased with her) severely objected to the tradition of Fatimah daughter of Qays. She said: Fatimah lived in a desolate house and she feared for her loneliness there. Hence the Messenger of Allah (ﷺ) accorded permission to her (to leave the place).
عروہ کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں : چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( مکان بدلنے کی ) رخصت دی تھی ۔