حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ . قَالَتْ وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
I put on ihram for umrah at at-Tan'im and I entered (Mecca) and performed my umrah as an atonement. The Messenger of Allah (ﷺ) waited for me at al-Abtah till I finished it. He commanded the people to depart. The Messenger of Allah (ﷺ) came to the House (the Ka'bah), went round it and went out (i.e. left for Medina).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں ( مکہ ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر ( آپ کے پاس واپس آ گئی ) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے ۔