حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلاَّ كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ".
Narrated `Aisha:
(the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) said, "No calamity befalls a Muslim but that Allah expiates
some of his sins because of it, even though it were the prick he receives from a thorn."
ہم سے ابو الیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ کر دیتا ہے ( کسی مسلمان کے ) ایک کانٹا بھی اگر جسم کے کسی حصہ میں چبھ جائے ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর সহধর্মিণী ‘আয়িশা (রাঃ) হতে বর্ণিত। তিনি বলেন, রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ মুসলিম ব্যক্তির উপর যে সকল বিপদ-আপদ আসে এর দ্বারা আল্লাহ্ তার পাপ দূর করে দেন। এমনকি যে কাঁটা তার শরীরে ফুটে এর দ্বারাও।[মুসলিম ৪৫/১৪, হাঃ ২৫৭২, আহমাদ ২৪৮৮২] আধুনিক প্রকাশনী- ৫২২৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১২৫)
The Prophet (ﷺ) said, "No fatigue, nor disease, nor sorrow, nor sadness, nor hurt, nor distress befalls a
Muslim, even if it were the prick he receives from a thorn, but that Allah expiates some of his sins for
that."
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان جب بھی کسی پریشانی ، بیماری ، رنج وملال ، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) ও আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ মুসলিম ব্যক্তির উপর যে কষ্ট ক্লেশ, রোগ-ব্যাধি, উদ্বেগ-উৎকণ্ঠা, দুশ্চিন্তা, কষ্ট ও পেরেশানী আসে, এমনকি যে কাঁটা তার দেহে ফুটে, এ সবের মাধ্যমে আল্লাহ্ তার গুণাহসমূহ ক্ষমা করে দেন।[মুসলিম ৪৫/১৪, হাঃ ২৫৭৩]আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩০, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১২৬)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 545
Hadith 5643
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيحُ مَرَّةً، وَتَعْدِلُهَا مَرَّةً، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالأَرْزَةِ لاَ تَزَالُ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ". وَقَالَ زَكَرِيَّاءُ حَدَّثَنِي سَعْدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Ka`b:
The Prophet (ﷺ) said, "The example of a believer is that of a fresh tender plant, which the wind bends lt
sometimes and some other time it makes it straight. And the example of a hypocrite is that of a pine
tree which keeps straight till once it is uprooted suddenly.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے سعد نے ، ان سے عبداللہ بن کعب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال پودے کی سب سے پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ ہوا اسے کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی برابر کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے اور آخر ایک جھوکے میں کبھی اکھڑ ہی جاتا ہے ۔ اور زکریا نے بیان کیا کہ ہم سے سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن کعب نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد ماجد محترم المقام کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بیان کیا ۔
কা’ব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ মু’মিন ব্যক্তির উদাহরণ হল শস্যক্ষেতের নরম চারা গাছের মত, যাকে বাতাস একবার কাত করে ফেলে, আরেকবার সোজা করে দেয়। আর মুনাফিকের দৃষ্টান্ত, ভূমির উপর শক্তভাবে স্থাপিত বৃক্ষ, যাকে কিছুতেই নোয়ানো যায় না। শেষে এক ঝটকায় মূলসহ তা উপড়ে যায়। যাকারিয়্যা...... কা’ব (রাঃ) হতে বর্ণিত, তিনি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) থেকে আমাদের কাছে এরকম বর্ণনা করেছেন। [মুসলিম ৫০/১৪, হাঃ ২৮১০]আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১২৭)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 546
Hadith 5644
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ كَفَأَتْهَا، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ تَكَفَّأُ بِالْبَلاَءِ، وَالْفَاجِرُ كَالأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ ".
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of a believer is that of a fresh tender plant; from whatever
direction the wind comes, it bends it, but when the wind becomes quiet, it becomes straight again.
Similarly, a believer is afflicted with calamities (but he remains patient till Allah removes his
difficulties.) And an impious wicked person is like a pine tree which keeps hard and straight till Allah
cuts (breaks) it down when He wishes." (See Hadith No. 558, Vol. 9.)
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے بنی عامر بن لوی کے ایک مرد ہلال بن علی نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ মু’মিন ব্যক্তির দৃষ্টান্ত হল, শস্যক্ষেতের নরম চারাগাছের মত। যে কোন দিক থেকেই তার দিকে বাতাস আসলে বাতাস তাকে নুইয়ে দেয়। আবার যখন বাতাসের প্রবাহ বন্ধ হয় তখন তা সোজা হয়ে দাঁড়ায়। বালা মুসিবত মু’মিনকে নোয়াতে থাকে। আর ফাসিক হল শক্ত ভূমির উপর শক্তভাবে সোজা হয়ে দাঁড়ানো গাছের মত, যাকে আল্লাহ যখন ইচ্ছে করেন ভেঙ্গে দেন। [৭৪৬৬; মুসলিম ৫০/১৪, হাঃ ২৮০৯] আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩২, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১২৮)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Allah wants to do good to somebody, He afflicts him with trials."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے سعید بن یسار ابو الحباب سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ আল্লাহ্ যে ব্যক্তির কল্যাণ কামনা করেন তাকে তিনি দুঃখকষ্টে পতিত করেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১২৯)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 548
Hadith 5646
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ،. حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Aisha:
I never saw anybody suffering so much from sickness as Allah's Messenger (ﷺ).
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان سے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ( دوسری سند ) اور حضرت امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابووائل نے ، انہیں مسروق نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے ( مرض وفات کی تکلیف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کسی میں نہیں دیکھی ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এর চেয়ে বেশী রোগ যন্ত্রণা ভোগকারী অন্য কাকেও দেখিনি। [১][মুসলিম ৪৫/১৪, হাঃ ২৫৭০, আহমাদ ২৫৪৫৩]আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩০)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 549
Hadith 5647
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ وَهْوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. قُلْتُ إِنَّ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ. قَالَ
" أَجَلْ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، إِلاَّ حَاتَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ، كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ ".
Narrated `Abdullah:
I visited the Prophet (ﷺ) during his ailments and he was suffering from a high fever. I said, "You have a
high fever. Is it because you will have a double reward for it?" He said, "Yes, for no Muslim is
afflicted with any harm but that Allah will remove his sins as the leaves of a tree fall down."
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے مرض کے زمانہ میں حاضر ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بڑے تیز بخار میں تھے ۔ میں نے عرض کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا تیز بخار ہے ۔ میں نے یہ بھی کہا کہ یہ بخار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے اتنا تیز ہے کہ آپ کا ثواب بھی دو گنا ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں گرفتار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔
আবদুল্লাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর অসুস্থ অবস্থায় তাঁর কাছে গেলাম। এ সময় তিনি ভীষণ জ্বরে আক্রান্ত হয়েছিলেন। আমি বললামঃ নিশ্চয়ই আপনি ভীষণ জ্বরে আক্রান্ত। আমি এও বললাম যে, এটা এজন্য যে, আপনার জন্য দ্বিগুণ সাওয়াব। তিনি বললেনঃ হ্যাঁ। যে কেউ রোগাক্রান্ত হয়, তাথেকে গুনাহসমূহ এভাবে ঝরে যায়, যেভাবে গাছ হতে তার পাতাগুলো ঝরে যায়। [৫৬৪৮, ৫৬৬০, ৫৬৬১, ৫৬৬৭; মুসলিম ৪৫/১৪, হাঃ ২৫৭১] আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩৫, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩১)
I visited Allah's Messenger (ﷺ) while he was suffering from a high fever. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You
have a high fever." He said, "Yes, I have as much fever as two men of you." I said, "Is it because you
will have a double reward?" He said, "Yes, it is so. No Muslim is afflicted with any harm, even if it
were the prick of a thorn, but that Allah expiates his sins because of that, as a tree sheds its leaves."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو شدید بخار تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو بہت تیز بخار ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں کے دو آدمی کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا یہ اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ثواب بھی دو گنا ہے ؟ فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے ، مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے کاٹنا ہو یا اس سے زیادہ تکلیف دینے والی کوئی چیز تو جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا تا ہے اسی طرح اللہ پاک اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے ۔
আবদুল্লাহ (রাঃ থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে গেলাম। তখন তিনি জ্বরে ভুগছিলেন। আমি বললামঃ হে আল্লাহর রসূল! আপনি তো ভীষণ জ্বরে আক্রান্ত। তিনি বললেনঃ হাঁ। তোমাদের দু’ব্যক্তি যতটুকু জ্বরে আক্রান্ত হয়, আমি একাই ততটুকু জ্বরে আক্রান্ত হই। আমি বললামঃ এটি এজন্য যে, আপনার জন্য দ্বিগুণ সাওয়াব। তিনি বললেনঃ হ্যাঁ তাই। কেননা যেকোন মুসলিম দুঃখ কষ্টে পতিত হয়, তা একটা কাঁটা কিংবা আরো ক্ষুদ্র কিছু হোক না কেন, এর মাধ্যমে আল্লাহ তার গুনাহগুলোকে মুছে দেন, যেমন গাছ থেকে তার পাতাগুলো ঝরে পড়ে।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩২)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 551
Hadith 5649
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ ".
Narrated Abu Muisa Al-Ash`ari:
The Prophet (ﷺ) said, "Feed the hungry, visit the sick, and set free the captives."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور مریض کی عیادت یعنی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ ۔
আবূ মূসা আশ’আরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তোমরা ক্ষুধার্তকে অন্ন দাও, রোগীর সেবা কর এবং কষ্টে পতিতকে উদ্ধার কর। [৫৫](আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩৭, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩৩)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 552
Hadith 5650
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَتْبَعَ الْجَنَائِزَ، وَنَعُودَ الْمَرِيضَ، وَنُفْشِيَ السَّلاَمَ.
Narrated Al-Bara bin Azib:
Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to do seven things and forbade us to do seven other things. He forbade us
to wear gold rings, silk, Dibaj, Istabriq, Qissy, and Maithara; and ordered us to accompany funeral
processions, visit the sick and greet everybody. (See Hadith No. 104)
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے اشعث بن سلیم نے خبر دی ، کہا کہ میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا ، ان سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات باتوں سے منع فرمایا تھا ۔ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ، ریشم ، دیبا ، استبرق ( ریشمی کپڑے ) پہننے سے اور قسی اور مثیرہ ( ریشمی ) کپڑوں کی دیگر جملہ قسمیں پہننے سے منع فرمایا تھا اور آپ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم جنازہ کے پیچھے چلیں ، مریض کی مزاج پرسی کریں اور سلام کو پھیلائیں ۔
বারাআ ইবনু ‘আযিব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাদের সাতটি জিনিসের নির্দেশ দিয়েছেন এবং সাতটি বিষয়ে নিষেধ করেছেন। তিনি আমাদের নিষেধ করেছেনঃ সোনার আংটি, মোটা ও পাতলা এবং কারুকার্য খচিত রেশমী কাপড় ব্যবহার করতে এবং কাস্সী ও মীসারাহ [৫৬] কাপড় ব্যবহার করতে। আর তিনি আমাদের আদেশ করেছেনঃ আমরা যেন জানাযার পশ্চাতে যাই, পীড়িতের সেবা করি এবং সালামের প্রসার ঘটাই।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩৮, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩৪)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 553
Hadith 5651
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ مَرِضْتُ مَرَضًا، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ، فَوَجَدَانِي أُغْمِيَ عَلَىَّ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَبَّ وَضُوءَهُ عَلَىَّ، فَأَفَقْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَىْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:
Once I fell ill. The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr came walking to pay me a visit and found me unconscious.
The Prophet (ﷺ) performed ablution and then poured the remaining water on me, and I came to my senses
to see the Prophet. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What shall I do with my property? How shall I dispose
of (distribute) my property?" He did not reply till the Verse of inheritance was revealed.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابن المنکدر نے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں ایک مرتبہ بیمار پڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پیدل میری عیادت کوتشریف لائے ان بزرگوں نے دیکھا کہ مجھ پر بے ہوشی غالب ہے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا ، اس سے مجھے ہوش آ گیا تو میں نے دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے مال میں کیا کروں کس طرح اس کا فیصلہ کروں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ۔ یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی ۔
জাবির ইবনু ‘আবদুল্লাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, একবার আমি ভীষণভাবে পীড়িত হয়ে গেলাম। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ও আবু বাক্র (রাঃ) পায়ে হেঁটে আমার খোঁজ খবর নেয়ার জন্য আমার নিকট আসলেন। তাঁরা আমাকে সংজ্ঞাহীন অবস্থায় আমাকে পেলেন। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) অযূ করলেন। তারপর তিনি তাঁর অবশিষ্ট পানি আমার গায়ের উপর ছিটিয়ে দিলেন। ফলে আমি জ্ঞান ফিরার পর দেখলাম, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) উপস্থিত। আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে বললামঃ হে আল্লাহর রসূল! আমার সম্পদের ব্যাপারে আমি কী করব? আমার সম্পদ সম্পর্কে কীভাবে আমি সিদ্ধান্ত গ্রহন করব? তিনি তখন আমাকে কোন জবাব দিলেন না। শেষে মীরাসের আয়াত অবতীর্ণ হল। [১৯৪; মুসলিম ২৩/২, হাঃ ১৬১৬, আহমাদ ১৪৩০২] আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৩৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩৫)
Ibn `Abbas said to me, "Shall I show you a woman of the people of Paradise?" I said, "Yes." He said,
"This black lady came to the Prophet (ﷺ) and said, 'I get attacks of epilepsy and my body becomes
uncovered; please invoke Allah for me.' The Prophet (ﷺ) said (to her), 'If you wish, be patient and you will
have (enter) Paradise; and if you wish, I will invoke Allah to cure you.' She said, 'I will remain
patient,' and added, 'but I become uncovered, so please invoke Allah for me that I may not become
uncovered.' So he invoked Allah for her."
Narrated 'Ata:
That he had seen Um Zafar, the tall black lady, at (holding) the curtain of the Ka`ba.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عمران ابوبکرنے بیان کیا ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا ، کہا کہ
مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ، تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھا دوں ؟ میں نے عرض کیا کہ ضرور دکھائیں ، کہا کہ ایک سیاہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے ۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبر کر تجھے جنت ملے گی اور اگر چاہے تو میں تیرے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دوں ۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی پھر اس نے عرض کیا کہ مرگی کے وقت میرا ستر کھل جاتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کر دیں کہ ستر نہ کھلا کرے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی ۔
আত্বা ইবনু আবূ রাবাহ্ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) আমাকে বললেনঃ আমি কি তোমাকে একজন জান্নাতী মহিলা দেখাব না? আমি বললামঃ অবশ্যই। তখন তিনি বললেনঃ এই কালো রঙের মহিলাটি, সে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর নিকট এসেছিল। তারপর সে বললঃ আমি মৃগী রোগে আক্রান্ত হই এবং এ অবস্থায় আমার লজ্জাস্থান খুলে যায়। সুতরাং আপনি আমার জন্য আল্লাহ্র কাছে দু’আ করুন। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ তুমি যদি চাও ধৈর্যধারণ করতে পার। তোমার জন্য আছে জান্নাত। আর তুমি যদি চাও, তাহলে আমি আল্লাহ্র কাছে দু’আ করি, যেন তোমাকে আরোগ্য করেন। স্ত্রীলোকটি বললঃ আমি ধৈর্যধারণ করব। সে বললঃ ঐ অবস্থায় আমার লজ্জাস্থান খুলে যায়, কাজেই আল্লাহর নিকট দু’আ করুন যেন আমার লজ্জাস্থান খুলে না যায়। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর জন্য দু’আ করলেন।
‘আত্বা (রহ:) হতে বর্ণিত যে, তিনি সেই উম্মু যুফার (রাঃ) -কে দেখেছেন কা’বার গিলাফ ধরা অবস্থায়। সে ছিল দীর্ঘ দেহী কৃষ্ণ বর্ণের এক মহিলা।[মুসলিম ৪৫/১৪, হাঃ ২৫৭৬, আহমাদ ৩২৪০]আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩৭)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 555
Hadith 5653
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ ". يُرِيدُ عَيْنَيْهِ. تَابَعَهُ أَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ وَأَبُو ظِلاَلٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas bin Malik:
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Allah said, 'If I deprive my slave of his two beloved things (i.e., his
eyes) and he remains patient, I will let him enter Paradise in compensation for them.'"
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بیان کیا ، ان سے مطلب بن عبداللہ بن جذب کے غلام عمرو نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کے دو محبوب اعضاء ( آنکھوں ) کے بارے میں آزماتا ہوں ( یعنی نابینا کر دیتا ہوں ) اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دیتا ہوں ۔
আনাস ইবনু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে বলতে শুনেছি যে, আল্লাহ বলেছেনঃ আমি যদি আমার কোন বান্দাকে তার অতি প্রিয় দু’টি বস্তু সম্পর্কে পরীক্ষায় ফেলি, আর সে তাতে ধৈর্য ধরে, তাহলে আমি তাকে সে দু’টির বিনিময়ে জান্নাত দান করব। আনাস (রাঃ) বলেন, দু’টি প্রিয় বস্তু হল সে ব্যক্তির চক্ষুদ্বয়। এরকম বর্ণনা করেছেন ‘আশ্’আস ইবনু জাবির ও আবূ যিলাল (রহ:) আনাস (রাঃ) -এর সূত্রে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) থেকে। [৫৭](আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪২, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩৮)
When Allah's Messenger (ﷺ) emigrated to Medina, Abu Bakr and Bilal got a fever. I entered upon them and
asked, "O my father! How are you? O Bilal! How are you?" Whenever fever attacked Abu Bakr, he
would recite the following poetic verses: 'Everybody is staying alive among his people, yet death is
nearer to him than his shoe laces." And whenever the fever deserted Bilal, he would recite (two poetic
lines): 'Would that I could stay overnight in a valley wherein I would be surrounded by Idhkhir and
Jalil (two kinds of good smelling grass). Would that one day I would drink of the water of Majinna
and would that Shama and Tafil (two mountains at Mecca) would appear to me.' Then I came and
informed Allah's Messenger (ﷺ) about that, whereupon he said, "O Allah! Make us love Medina as much or
more than we love Mecca. O Allah! Make it healthy and bless its Mudd and Sa for us, and take away
its fever and put it in Al Juhfa."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا ۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گئی اور پوچھا ، محترم والد بزرگوار آپ کا مزاج کیسا ہے ؟ بلال رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے ؟ بیان کیا کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے ” ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ “ اور بلال رضی اللہ عنہ کو جب افاقہ ہوتا تو یہ شعر پڑھتے تھے ” کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کیا پھر ایک رات وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( مکہ مکرمہ کی گھاس ) کے جنگل ہوں گے اور کیا میں کبھی مجنہ ( مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک بازار ) کے پانی پر اترو ں گا اور کیا پھر کبھی شامہ اور طفیل ( مکہ کے قریب دو پہاڑوں ) کو میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا ۔ ” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مےںحاضر ہوئی اور آپ کو اس کی اطلاع دی آپ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ہمارے دل میں مدینہ کی محبت بھی اتنی ہی کر دے جتنی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما ، اللہ اس کا بخار کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے مقام جحفہ میں بھیج دے ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, যখন রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মদিনায় আসলেন, তখন আবূ বকর (রাঃ) ও বিলাল (রাঃ) জ্বরে আক্রান্ত হলেন। তিনি বলেনঃ আমি তাঁদের কাছে গেলাম এবং বললামঃ হে আব্বাজান! আপনাকে কেমন লাগছে? হে বিলাল! আপনাকে কেমন লাগছে? আবূ বকর (রাঃ) -এর অবস্থা ছিল, তিনি যখন জ্বরে আক্রান্ত হতেন তখন তিনি আওড়াতেনঃ
“সব মানুষ সুপ্রভাত ভোগ করে আপন পরিবার পরিজনের মধ্যে,
আর মৃত্যু অপেক্ষা করে তার জুতার ফিতার চেয়ে নিকটে।”
বিলাল (রাঃ) -এর জ্বর যখন থামত তখন তিনি বলতেনঃ
“হায়! আমি যদি লাভ করতাম একটি রাত কাটানোর সুযোগ
এমন উপত্যকায় যে আমার পাশে আছে ইয্খির ও জালীল ঘাস।
যদি আমার অবতরণ হতো কোন দিন মাজিন্নার কূপের কাছে।
হায়! আমি কি কখনো দেখা পাব শামাহ্ ও ত্বফীলের[১]।”
‘আয়িশা (রাঃ) বলেন, এরপর আমি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে এসে তাঁকে এদের অবস্থা অবগত করলাম। তখন তিনি দু’আ করে বললেনঃ হে আল্লাহ! মাদীনাহ্কে আমাদের কাছে প্রিয় করে দাও, যেমন তুমি আমাদের কাছে মাক্কাহ প্রিয় করে দিয়েছিলে কিংবা সে অপেক্ষা আরো অধিক প্রিয় করে দাও। হে আল্লাহ! আর মাদীনাহকে উপযোগী করে দাও এবং মাদীনাহ্র মুদ্দ ও সা’ এর ওযনে বারাকাত দান কর। আর এখানকার জ্বরকে সরিয়ে দাও জুহ্ফা এলাকায়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৩৯)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 558
Hadith 5655
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ ابْنَةً لِلنَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَهْوَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَعْدٍ وَأُبَىٍّ نَحْسِبُ أَنَّ ابْنَتِي قَدْ حُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا السَّلاَمَ وَيَقُولُ " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى فَلْتَحْتَسِبْ وَلْتَصْبِرْ ". فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقُمْنَا، فَرُفِعَ الصَّبِيُّ فِي حَجْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، وَلاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلاَّ الرُّحَمَاءَ ".
Narrated Abu `Uthman:
Usama bin Zaid said that while he. Sa`d and Ubai bin Ka`b were with the Prophet (ﷺ) a daughter of the
Prophet sent a message to him, saying. 'My daughter is dying; please come to us." The Prophet (ﷺ) sent
her his greetings and added "It is for Allah what He takes, and what He gives; and everything before
His sight has a limited period. So she should hope for Allah's reward and remain patient." She again
sent a message, beseeching him by Allah, to come. So the Prophet (ﷺ) got up. and so did we (and went
there). The child was placed on his lap while his breath was irregular. Tears flowed from the eyes of
the Prophet. Sa`d said to him, "What is this, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said. "This Is Mercy which Allah
has embedded in the hearts of whomever He wished of His slaves. And Allah does not bestow His
Mercy, except on the merciful among His slaves. (See Hadith No. 373 Vol. 2)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عاصم نے خبر دی ، کہا کہ میں نے ابوعثمان سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( حضرت زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ کو کہلوا بھیجا ۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور ہمارا خیال ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے کہ میری بچی بستر مرگ پر پڑی ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جو چاہے دے اور جو چاہے لے لے ہر چیز اس کے یہاں متعین ومعلوم ہے ۔ اس لیے اللہ سے اس مصبیت پر اجر کی امیدوار رہو اور صبر کرو ۔ صاحبزادی نے پھر دوبارہ قسم دے کر ایک آدمی بلانے کو بھیجا ۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر بچی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں اٹھا کر رکھی گئی اور وہ جانکنی کے عالم میں پریشان تھی ۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ کیا ہے ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رحمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو خود بھی رحم کرنے والے ہوتے ہیں ۔
উসামাহ ইবনু যায়দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর এক কন্যা (যাইনাব) তাঁর কাছে খবর দিয়েছেন, এ সময় উসামাহ, সা’দ ও সম্ভবতঃ ‘উবাই (রাঃ) নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর সঙ্গে ছিলেন। খবর এই ছিল যে, (যায়নাব বলেছেন) আমার এক শিশুকন্যা মৃত্যুর দুয়ারে উপনীত। কাজেই আপনি আমাদের এখানে আসুন। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর কাছে সালাম পাঠিয়ে বলে দিলেনঃ আল্লাহ যা চান নিয়ে নেন, যা চান দিয়ে যান। তাঁর কাছে সব কিছুরই একটা নির্দিষ্ট সময় আছে। কাজেই তুমি ধৈর্য ধর এবং উত্তম বিনিময়ের আশা পোষণ কর। অতঃপর পুনরায় তিনি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর নিকট কসম ও তাগিদ দিয়ে প্রেরণ করলে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) উঠে দাঁড়ালেন। আমরাও দাঁড়িয়ে গেলাম। এরপরে শিশুটিকে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কোলে তুলে দেয়া হল। এ সময় তার নিঃশ্বাস দ্রুত উঠানামা করছিল। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর দু’চোখ দিয়ে অশ্রু ঝরতে লাগল। সা’দ (রাঃ) বললেনঃ হে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)! এটা কী? তিনি উত্তর দিলেনঃ এটা হল রাহমাত। আল্লাহ তাঁর বান্দাদের মধ্য থেকে যাকে ইচ্ছা করেন তার হৃদয়ে এটি দিয়ে দেন। আর আল্লাহ তাঁর দয়াদ্র বান্দাদের প্রতিই দয়া করে থাকেন(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪০)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 559
Hadith 5656
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ ـ قَالَ ـ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ " لاَ بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". قَالَ قُلْتَ طَهُورٌ، كَلاَّ بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ ـ أَوْ تَثُورُ ـ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَنَعَمْ إِذًا ".
Narrated Ibn `Abbas:
The Prophet (ﷺ) went to visit a sick bedouin. Whenever the Prophet (ﷺ) went to a patient, he used to say to
him, "Don't worry, if Allah will, it will be expiation (for your sins):" The bedouin said, "You say
expiation? No, it is but a fever that is boiling or harassing an old man and will lead him to his grave
without his will." The Prophet (ﷺ) said, "Then, yes, it is so."
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ راوی نے بیان کیا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو مریض سے فرماتے کوئی فکر کی بات نہیں ۔ انشاءاللہ یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہے لیکن اس دیہاتی نے آپ کے ان مبارک کلمات کے جواب میں کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ پاک کرنے والا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ بخار ایک بوڑھے پر غالب آ گیا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہو گا ۔
ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক বেদুঈনের নিকট গিয়েছিলেন, তার রোগ সম্পর্কে জানার জন্য। বর্ণনাকারী বলেন, আর নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর নিয়ম ছিল, তিনি যখন কোন রোগীকে দেখতে যেতেন তখন তাকে বলতেনঃ কোন ক্ষতি নেই। ইন্শাআল্লাহ তুমি তোমার গুনাহসমূহ থেকে পবিত্রতা লাভ করবে। তখন বেদুঈন বললঃ আপনি বলেছেন, এটা গুনাহ থেকে পবিত্র করে দেবে? কক্ষনো না, বরং এটা এমন এক জ্বর যা এক অতি বৃদ্ধকে গরম করছে কিংবা সে বলেছে উত্তপ্ত করছে, যা তাকে কবরে পৌঁছাবে। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ হাঁ তাহলে তেমনই।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪৫, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪১)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 560
Hadith 5657
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ غُلاَمًا، لِيَهُودَ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَرِضَ. فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ فَقَالَ
" أَسْلِمْ ". فَأَسْلَمَ. وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ، لَمَّا حُضِرَ أَبُو طَالِبٍ جَاءَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas:
A Jewish boy used to serve the Prophet (ﷺ) and became ill. The Prophet (ﷺ) went to pay him a visit and said
to him, "Embrace Islam," and he did embrace Islam. Al-Musaiyab said: When Abu Talib was on his
deathbed, the Prophet (ﷺ) visited him.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک یہودی لڑکا ( عبدوس نامی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام قبول کر لے چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سعیدبن مسیب نے بیان کیااپنے والد سے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ এক ইয়াহূদীর ছেলে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর সেবা করত। ছেলেটির অসুখ হলে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)) তাঁর অসুখের খোঁজ নিতে এলেন। এরপর তিনি বললেনঃ তুমি ইসলাম গ্রহণ কর। সে ইসলাম গ্রহণ করল। সা’ঈদ ইবনু মুসায়্যাব (রহ:) তাঁর পিতা থেকে বর্ণনা করেছেন যে, আবূ ত্বলিব মারা গেলে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তার কাছে এসেছিলেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪২)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 561
Hadith 5658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ يَعُودُونَهُ فِي مَرَضِهِ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ
" إِنَّ الإِمَامَ لَيُؤْتَمُّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ هَذَا الْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم آخِرَ مَا صَلَّى صَلَّى قَاعِدًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ.
Narrated `Aisha:
During the ailment of the Prophet (ﷺ) some people came to visits him. He led them in prayer while sitting.
but they prayed standing, so he waved to them to sit down. When he had finished the prayer, he said,
"An Imam is to be followed, so when he bows, you should bow. and when he raises his head, you
should raise yours, and if he prays sitting. you should pray sitting." Abu `Abdullah said Al-Humaidi
said, (The order of ) "This narration has been abrogated by the last action of the Prophet (ﷺ) as he led the
prayer sitting, while the people prayed standing behind him.'
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
کچھ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کے ایک مرض کے دوران مزاج پرسی کرنے آئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن صحابہ کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھ رہے تھے ۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، جب وہ سر اٹھائے تو تم ( مقتدی ) بھی اٹھا ؤ اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوعبداللہ حضرت امام بخاری نے کہا کہ مطابق قول حضرت حمیدی یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر ( مرض الوفات ) میں نماز بیٹھ کر پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর অসুস্থতার সময় লোকজন তাঁকে দেখার জন্য তাঁর কাছে আসলে তিনি তাঁদের নিয়ে বসা অবস্থায় সলাত আদায় করেন। লোকজন দাঁড়িয়ে সলাত শুরু করেছিল, ফলে তিনি তাদের ইঙ্গিত করলেন, বসে যাও। সলাত শেষ করে তিনি বলেনঃ ইমাম হল এমন ব্যক্তি যাকে অনুসরণ করতে হয়। সে রুকু করলে তোমরাও রুকু করবে। সে যখন মাথা উঠাবে, তোমরাও মাখা উঠাবে। সে যখন বসে সলাত আদায় করবে, তখন তোমরাও বসে সলাত আদায় করবে। হুমাইদী (রহ:) বলেছেনঃ এ হাদীসটি রহিত হয়ে গেছে।
আবূ ‘আবদুল্লাহ বুখারী (রহ:) বলেন, কেননা, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) জীবনে শেষ যে সলাত আদায় করেন তাতে তিনি নিজে বসে সলাত আদায় করেন আর লোকজন তাঁর পেছনে দাঁড়ানো অবস্থায় ছিল।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪৭, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪৩)
I became seriously ill at Mecca and the Prophet (ﷺ) came to visit me. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I shall
leave behind me a good fortune, but my heir is my only daughter; shall I bequeath two third of my
property to be spent in charity and leave one third (for my heir)?" He said, "No." I said, "Shall I
bequeath half and leave half?" He said, "No." I said, "Shall I bequeath one third and leave two thirds?"
He said, "One third is alright, though even one third is too much." Then he placed his hand on his
forehead and passed it over my face and `Abdomen and said, "O Allah! Cure Sa`d and complete his
emigration." I feel as if I have been feeling the coldness of his hand on my liver ever since.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم کوجعید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، انہیں عائشہ بنت سعد نے کہ
ان کے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بہت سخت بیمار پڑ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ( اگر وفات ہو گئی تو ) میں مال چھوڑوں گا اور میرے پاس سوا ایک لڑکی کے اور کوئی وارث نہیں ہے ۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کر دوں اور ایک تہائی چھوڑ دوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں میں نے عرض کیا پھر آدھے کی وصیت کر دوں اورآدھا ( اپنی بچی کے لیے ) چھوڑ دوں فرمایا کہ نہیں پھر میں نے کہا کہ ایک تہائی کی وصیت کر دوں اور باقی دو تہائی لڑکی کے لیے چھوڑ دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی پیشانی پر رکھا ( حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ) اور میرے چہرے اور پیٹ پر آپ نے اپنا مبارک ہاتھ پھیرا پھر فرمایا اے اللہ ! سعد کو شفاء عطا فرما اور اس کی ہجرت کو مکمل کر ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک اپنے جگر کے حصہ پر میں اب تک پا رہا ہوں ۔
আয়িশা বিন্ত সা’দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তাঁর পিতা বলেছেন, আমি যখন মক্কায় ভীষণ অসুস্থ হয়ে পড়ি তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাকে দেখার জন্য আসেন। আমি বললামঃ হে আল্লাহ্র নবী! আমি সম্পদ রেখে যাচ্ছি। আর আমার একটি মাত্র কন্যা ব্যতীত আর কেউ নেই। এ অবস্থায় আমি কি আমার দু’তৃতীয়াংশ সম্পদ অসীয়ত করে এক-তৃতীয়াংশ রেখে যাব? তিনি উত্তর দিলেনঃ না। আমি বললামঃ তা হলে অর্ধেক রেখে দিয়ে আর অর্ধেক অসীয়ত করে যেতে পারি? তিনি বললেনঃ না। আমি বললামঃ তাহলে দু’তৃতীয়াংশ রেখে দিয়ে এক-তৃতীয়াংশ অসীয়ত করে যেতে পারি? তিনি উত্তর দিলেনঃ এক-তৃতীয়াংশ পার, তবে এক-তৃতীয়াংশও অনেক। তারপর তিনি আমার কপালের উপর তাঁর হাত রাখলেন এবং আমার চেহারা ও পেটের উপর তাঁর হাত বুলিয়ে বললেনঃ হে আল্লাহ, সা’দকে তুমি আরোগ্য কর। তাঁর হিজরাত পূর্ণ করে দাও। আমি তাঁর হাতের শীতল স্পর্শ এখনও পাচ্ছি এবং মনে করি আমি তা ক্বিয়ামাত পর্যন্ত পাব।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪৮, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪৪)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 563
Hadith 5660
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ ". فَقُلْتُ ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجَلْ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ لَهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ".
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:
I visited Allah's Messenger (ﷺ) while he was suffering from a high fever. I touched him with my hand and
said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You have a high fever." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes, I have as much fever as
two men of you have." I said, "Is it because you will get a double reward?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes,
no Muslim is afflicted with harm because of sickness or some other inconvenience, but that Allah will
remove his sins for him as a tree sheds its leaves."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا ، ان سے حارث بن سوید نے بیان کیا کہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے اپنے ہاتھ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم چھوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے تم میں کے دو آدمیو ں کے برابر بخار چڑھتا ہے ۔ میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دگنا اجر ملتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی مسلمان کو مرض کی تکلیف یا کوئی اور کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح گراتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرادیتا ہے ۔
আবদুল্লাহ ইবনু মাস’ঊদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে প্রবেশ করলাম। তখন তিনি ভয়ানক জ্বরে আক্রান্ত ছিলেন। আমি তাঁর গায়ে হাত বুলিয়ে দিলাম এবং বললামঃ হে আল্লাহ্র রসূল! আপনি ভীষণ জ্বরে আক্রান্ত। রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেন, হ্যাঁ আমি এমন কঠিন জ্বরে আক্রান্ত হই, যা তোমাদের দু’জনের হয়ে থাকে। আমি বললামঃ এটা এজন্য যে, আপনার জন্য বিনিময়ও দ্বিগুণ। রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেন, হ্যাঁ! এরপর রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ যে কোন মুসলিমের উপর কোন কষ্ট বা রোগ-ব্যাধি হলে আল্লাহ তাঁর গুনাহগুলো ঝরিয়ে দেন, যেমনভাবে গাছ তার পাতাগুলো ঝরিয়ে দেয়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৪৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 564
Hadith 5661
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ فَمَسِسْتُهُ وَهْوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا فَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ. قَالَ
" أَجَلْ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى إِلاَّ حَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ ".
Narrated `Abdullah:
I visited the Prophet (ﷺ) during his illness and touched him while he was having a fever. I said to him,
"You have a high fever; is it because you will get a double reward?" He said, "Yes. No Muslim is
afflicted with any harm, but that his sins will be annulled as the leave of a tree fall down."
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ بیمار تھے حاضر ہوا ۔ میں نے آپ کا جسم چھوا ، آپ کو تیز بخار تھا ۔ میں نے عرض کیا آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے یہ اس لیے ہو گا کہ آپ کو دگنا ثواب ملے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کسی مسلمان کو بھی جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔
আবদুল্লাহ ইবনু মাস’ঊদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর অসুস্থতার সময় তাঁর কাছে এলাম। এরপর তাঁর শরীরে হাত বুলিয়ে দিলাম। এ সময় তিনি ভীষণ জ্বরে আক্রান্ত ছিলেন। আমি বললামঃ আপনি ভীষণ জ্বরে আক্রান্ত এবং এটা এজন্য যে, আপনার জন্য আছে দ্বিগুণ সাওয়াব। তিনি বললেনঃ হাঁ! কোন মুসলিমের উপর কোন কষ্ট আপতিত হলে তাত্থেকে গুনাহ্গুলো এমনভাবে ঝরে যায়, যেভাবে গাছ হতে পাতা ঝরে যায়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫০, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪৬)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 565
Hadith 5662
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ يَعُودُهُ فَقَالَ " لاَ بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". فَقَالَ كَلاَّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ كَيْمَا تُزِيرَهُ الْقُبُورَ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَنَعَمْ إِذًا ".
Narrated Ibn `Abbas:
Allah's Messenger (ﷺ) entered upon sick man to pay him a visit, and said to him, "Don't worry, Allah willing,
(your sickness will be) an expiation for your sins." The man said, "No, it is but a fever that is boiling
within an old man and will send him to his grave." On that, the Prophet (ﷺ) said, "Then yes, it is so."
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے خالد حذاء نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا کہ کوئی فکر نہیں اگر اللہ نے چاہا ۔ ( یہ مرض ) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ ہرگز نہیں یہ تو ایسا بخار ہے جو ایک بوڑھے پر غالب آ چکا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کر ہی رہے گا ، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہو گا ۔
ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক রোগীকে দেখার জন্য তার কাছে প্রবেশ করলেন। তখন তিনি বলেনঃ কোন ক্ষতি নেই, ইন্শাআল্লাহ গুনাহ থেকে তুমি পবিত্রতা লাভ করবে। রোগী বলে উঠলঃ কক্ষনো না বরং এটি এমন জ্বর, যা এক অতি বৃদ্ধের শরীরে টগবগ করে ফুটছে এন তাকে কবরে পৌঁছাবে। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ হাঁ, তবে তাই।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪৭)
The Prophet (ﷺ) rode a donkey having a saddle with a Fadakiyya velvet covering. He mounted me behind
him and went to visit Sa`d bin 'Ubada, and that had been before the battle of Badr. The Prophet (ﷺ)
proceeded till he passed by a gathering in which `Abdullah bin Ubai bin Salul was present, and that
had been before `Abdullah embraced Islam. The gathering comprised of Muslims, polytheists, i.e.,
isolators and Jews. `Abdullah bin Rawaha was also present in that gathering. When dust raised by the
donkey covered the gathering, `Abdullah bin Ubai covered his nose with his upper garment and said,
"Do not trouble us with dust." The Prophet (ﷺ) greeted them, stopped and dismounted. Then he invited
them to Allah (i.e., to embrace Islam) and recited to them some verses of the Holy Qur'an. On that,
`Abdullah bin Ubai said, "O man ! There is nothing better than what you say if it is true. Do not
trouble us with it in our gathering, but return to your house, and if somebody comes to you, teach him
there." On that `Abdullah bin Rawaha said, Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)! Bring your teachings to our
gathering, for we love that." So the Muslims, the pagans and the Jews started abusing each other till
they were about to fight. The Prophet (ﷺ) kept on quietening them till they became calm. Thereupon the
Prophet mounted his animal and proceeded till he entered upon Sa`d bin Ubada. He said to him "O
Sa`d! Have you not heard what Abu Hubab (i.e., `Abdullah bin Ubai) said?" Sa`d said, 'O Allah's
Apostle! Excuse and forgive him, for Allah has given you what He has given you. The people of this
town (Medina decided unanimously to crown him and make him their chief by placing a turban on his
head, but when that was prevented by the Truth which Allah had given you he (`Abdullah bin Ubai)
was grieved out of jealously, and that was the reason which caused him to behave in the way you have
seen."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے ، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے کی پالان پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کو تشریف لے جا رہے تھے ، یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا ۔ عبداللہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا اس مجلس میں ہر گروہ کے لوگ تھے مسلمان بھی ، مشرکین بھی یعنی بت پرست اور یہودی بھی ۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سواری کی گرد جب مجلس تک پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر اپنی ناک پر رکھ لی اور کہا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور سواری روک کر وہاں اترگئے پھر آپ نے انہیں اللہ کے طرف بلایا اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا ۔ اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا میاں تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں اگر حق ہیں تو ہماری مجلس میں انہیں بیان کر کے ہم کو تکلیف نہ پہنچایا کرو ، اپنے گھر جاؤ وہاں جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو ۔ اس پر حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلسوں میں ضرور تشریف لائیں کیونکہ ہم ان باتوں کو پسند کرتے ہیں ۔ اس پر مسلمانوں ، مشرکوں اور یہودیوں میں جھگڑ ے بازی ہو گئی اورقریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کر بیٹھتے لیکن آپ انہیں خاموش کرتے رہے یہاں تک کہ سب خاموش ہو گئے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا سعد ! تم نے سنا نہیں ابوحباب نے کیا کہا ، آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا ۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ ! اسے معاف کر دیجئیے اور اس سے درگزر فرمایئے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ نعمت عطا فرما دی جو عطا فرمانی تھی ( آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ) اس بستی کے لوگ اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنادیں اور اپنا سردار بنا لیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کے ذریعہ جو آپ کو اس نے عطا فرمایا ہے ختم کر دیا تو وہ اس پر بگڑ گیا یہ جو کچھ معاملہ اس نے آپ کے ساتھ کیا ہے اسی کا نتیجہ ہے ۔
উসামাহ ইবনু যায়দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একটি গাধার পিঠে আরোহণ করলেন। গাধাটির পিঠে ছিল ‘ফাদক’ এলাকায় তৈরী চাদর মোড়ানো একটি গদি। তিনি নিজের পেছনে উসামাহ (রাঃ) -কে বসিয়ে অসুস্থ সা’দ ইবনু ‘উবাদাহ (রাঃ) -কে দেখতে গিয়েছিলেন। এটা বদ্র যুদ্ধের পূর্বেকার ঘটনা। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) চলতে চলতে এক পর্যায়ে এক মজলিসের পার্শ্ব অতিক্রম করতে লাগলেন। সেখানে ছিল ‘আবদুল্লাহ ইবনু উবাই ইবনু সালূল। এ ঘটনা ছিল ‘আবদুল্লাহর ইসলাম গ্রহণের আগের। মজলিসটির মধ্যে মুসলিম, মুশরিক, মূর্তিপূজক ও ইয়াহূদী সম্প্রদায়ের লোকও ছিল। ‘আবদুল্লাহ ইবনু রাওয়াহা (রাঃ) -ও সে মজলিসে উপস্থিত ছিলেন। সাওয়ারী জানোয়ারটির পায়ের ধূলা-বালু যখন মজলিসের লোকদের মাঝে উড়তে লাগল, তখন ‘আবদুল্লাহ ইবনু উবাই তার চাদর দিয়ে নিজের নাক চেপে ধরল এবং বললঃ আমাদের উপর ধূলাবালু উড়াবেন না। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সালাম দিলেন এবং নীচে অবতরণ করে তাদের আল্লাহ্র প্রতি আহ্বান জানালেন। এরপর তিনি তাদের সামনে কুরআন পাঠ করলেন। তখন ‘আবদুল্লাহ ইবনু উবাই তাঁকে বললঃ জনাব, আপনি যা বলেছেন আমার কাছে তা পছন্দনীয় নয়। যদি এসব কথা সত্য হয়, তাহলে আপনি এ মজলিসে আমাদের কষ্ট দিবেন না। বরং আপনি নিজের বাড়ীতে চলে যান এবং সেখানে যে আপনার কাছে যাবে, তার কাছে এসব বিবরণ প্রকাশ করবেন। ইবনু রাওয়াহা বলে উঠলেনঃ অবশ্য, হে আল্লাহ্র রসূল! এসব কথাবার্তা নিয়ে আমাদের মজলিসে আসবেন। আমরা এগুলো পছন্দ করি। এরপর মুসলিম, মুশরিক ও ইয়াহূদীদের মধ্যে বাকবিতন্ডা শুরু হয়ে গেল, এমনকি তারা পরস্পর মারামারি করতে উদ্যত হলো। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাদের শান্ত ও নীরব করার জন্য চেষ্টা করতে থাকেন। অবশেষে সবাই শান্ত হলে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সাওয়ারীর উপর আরোহন করেন এবং সা’দ ইবনু ‘উবাদাহ (রাঃ) -এর বাড়ীতে প্রবেশ করেন। এরপর তিনি তাঁকে অর্থাৎ সা’দ (রাঃ) -কে বললেনঃ তুমি কি শুনতে পাওনি আবূ হুবাব অর্থাৎ ‘আবদুল্লাহ ইবনু উবাই কী উক্তি করেছে? সা’দ (রাঃ) উত্তর দিলেনঃ হে আল্লাহ্র রসূল! তাকে ক্ষমা করুন এবং উপেক্ষা করুন। আল্লাহ আপনাকে যে মর্যাদা দান করার ইচ্ছে করেছেন তা দান করেছেন। আমাদের এ উপ-দ্বীপ এলাকার লোকজন একমত হয়েছিল তাকে রাজমুকুট পরিয়ে দেয়ার জন্য এবং তাকে নেতৃত্ব দান করার জন্য। এরপর যখন আপনাকে আল্লাহ যে হক ও সত্য দান করেছেন তখন এর দ্বারা তার ইচ্ছে বরবাদ হয়ে গেল। এতে সে ভীষণ মনোক্ষুণ্ন হল। আর আপনি তার যে ব্যবহার দেখলেন, এটিই তার কারণ।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫২, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪৮)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 567
Hadith 5664
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدٍ ـ هُوَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ـ عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلاَ بِرْذَوْنٍ.
Narrated Jabir:
The Prophet (ﷺ) came to visit me (while I was sick) and he was riding neither a mule, nor a horse.
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے محمد نے جو منکدر کے بیٹے ہیں اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ کسی گھوڑے پر ۔ ( بلکہ آپ پیدل تشریف لائے تھے ۔ )
জাবির (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার অসুস্থতা দেখার জন্য আমার কাছে এসেছিলেন। এ সময় তিনি গাধার পিঠে আরোহী ছিলেন না, ঘোড়ার পিঠেও ছিলেন না।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৪৯)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 568
Hadith 5665
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه. مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ فَقَالَ
" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ". قُلْتُ نَعَمْ. فَدَعَا الْحَلاَّقَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ أَمَرَنِي بِالْفِدَاءِ.
Narrated Ka`b bin 'Ujara:
The Prophet (ﷺ) passed by me while I was kindling a fire under a (cooking) pot. He said, "Do the lice of
your head trouble you?" I said, "Yes." So he called a barber to shave my head and ordered me to make
expiation for that."
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی نجیح اور ایوب نے ، ان سے مجاہد نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب سے گزر ے اور میں ہانڈی کے نیچے آگ سلگا رہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے سر کی جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں ۔ میں نے عرض کیا جی ہاں پھر آپ نے حجام بلوایا اور اس نے میرا سر مونڈ دیا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ ادا کر دینے کا حکم فرمایا ۔
কা’ব ইবনু ‘উজরাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) পথ অতিক্রম করছিলেন, এ সময় আমি হাঁড়ির নীচে লাকড়ি জ্বালাচ্ছিলাম। তিনি বললেনঃ তোমার মাথার উকুন কি তোমাকে খুব কষ্ট দিচ্ছে। আমি বললামঃ জ্বি, হ্যাঁ। তখন তিনি নাপিত ডাকলেন। সে মাথা মুড়িয়ে দিল। তারপর নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাকে ‘ফিদ্ইয়া’ আদায় করার নির্দেশ দিলেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫০)
`Aisha, (complaining of headache) said, "Oh, my head"! Allah's Messenger (ﷺ) said, "I wish that had
happened while I was still living, for then I would ask Allah's Forgiveness for you and invoke Allah
for you." Aisha said, "Wa thuklayah! By Allah, I think you want me to die; and If this should happen,
you would spend the last part of the day sleeping with one of your wives!" The Prophet (ﷺ) said, "Nay, I
should say, 'Oh my head!' I felt like sending for Abu Bakr and his son, and appoint him as my
successor lest some people claimed something or some others wished something, but then I said (to
myself), 'Allah would not allow it to be otherwise, and the Muslims would prevent it to be otherwise".
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ ابو زکریا نے بیان کیا ، کہا ہم کو سلیمان بن بلال نے خبر دی ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
( سر کے شدید درد کی وجہ سے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہاہائے رے سر ! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ایسا میری زندگی میں ہو گیا ( یعنی تمہارا انتقال ہو گیا ) تو میں تمہارے لیے استغفار اور دعا کروں گا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا افسوس ، اللہ کی قسم ! میرا خیال ہے کہ آپ میرا مرجانا ہی پسند کرتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو آپ تو اسی دن رات اپنی کسی بیوی کے یہاں گزاریں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ میں خود درد سر میں مبتلاہوں ۔ میرا ارادہ ہوتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور انہیں ( خلافت کی ) وصیت کر دوں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد کہنے والے کچھ اور کہیں ( کہ خلافت ہمارا حق ہے ) یا آرزو کرنے والے کسی اور بات کی آرزو کریں ( کہ ہم خلیفہ ہو جائیں ) پھر میں نے اپنے جی میں کہا ( اس کی ضرورت ہی کیا ہے ) خود اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سو اورکسی کو خلیفہ نہ ہونے دے گا نہ مسلمان اور کسی کی خلافت ہی قبول کریں گے ۔
কাসিম ইবনু মুহাম্মাদ (রহ:) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, ‘আয়িশা (রাঃ) বলেছিলেন ‘হায় যন্ত্রণায় আমার মাথা গেল’। তখন রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ যদি এমনটি হয় আর আমি জীবিত থাকি তাহলে আমি তোমার জন্য ক্ষমা প্রার্থনা করব, তোমার জন্য দু’আ করব। ‘আয়িশা (রাঃ) বললেনঃ হায় আফসোস, আল্লাহর শপথ। আমার ধারণা আপনি আমার মৃত্যুকে পছন্দ করেন। আর তা হলে আপনি পরের দিনই আপনার অন্যান্য স্ত্রীদের সঙ্গে রাত কাটাতে পারবেন। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ বরং আমি আমার মাথা গেল বলার অধিক যোগ্য। আমি তো ইচ্ছে করেছিলাম কিংবা বলেছেন, আমি ঠিক করেছিলামঃ আবূ বকর (রাঃ) ও তার ছেলের নিকট সংবাদ পাঠাব এবং অসীয়ত করে যাব, যেন লোকদের কিছু বলার অবকাশ না থাকে কিংবা আকাঙ্খাকারীদের কোন আকাঙ্খা করার অবকাশ না থাকে। তারপর ভাবলাম। আল্লাহ (আবূ বাক্র ছাড়া অন্যের খলীফা হওয়া) তা অপছন্দ করবেন, মু’মিনগণ তা বর্জন করবেন। কিংবা তিনি বলেছেনঃ আল্লাহ তা প্রতিহত করবেন এবং মু’মিনগণ তা অপছন্দ করবেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫৫, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫১)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 570
Hadith 5667
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. قَالَ " أَجَلْ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ ". قَالَ لَكَ أَجْرَانِ قَالَ " نَعَمْ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ".
Narrated Ibn Mas`ud:
I visited the Prophet (ﷺ) while he was having a high fever. I touched him an said, "You have a very high
fever" He said, "Yes, as much fever as two me of you may have." I said. "you will have a double
reward?" He said, "Yes No Muslim is afflicted with hurt caused by disease or some other
inconvenience, but that Allah will remove his sins as a tree sheds its leaves."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے آپ کا جسم چھو کر عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا تیز بخار ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم میں کے دو آدمیوں کے برابر ہے ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر بھی دو گنا ہے ۔ کہا ہاں پھر آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو بھی جب کسی مرض کی تکلیف یا اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے گناہ کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑ تا ہے ۔
ইবনু মাস’ঊদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে গেলাম। তখন তিনি জ্বরে আক্রান্ত ছিলেন। আমি তাঁর গায়ে আমার হাত দিলাম এবং বললামঃ আপনি কঠিন জ্বরে আক্রান্ত। তিনি বললেনঃ হ্যাঁ, যেমন তোমাদের দু’জনকে ভুগতে হয়। ইবনু মাস’ঊদ (রাঃ) বললেনঃ আপনার জন্য আছে দ্বিগুণ সওয়াব। তিনি বললেনঃ হ্যাঁ, কোন মুসলিম কষ্ট বা রোগ-ব্যাধিতে আক্রান্ত হলে কিংবা অন্য কোন যন্ত্রণায় পতিত হলে, আল্লাহ তার গুনাহসমূহ মোচন করে দেন, যেমনভাবে বৃক্ষ তার পাতাগুলো ঝরিয়ে দেয়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫২)
Allah's Messenger (ﷺ) came to visit me during my ailment which had been aggravated during Hajjat-al-
Wada`. I said to him, "You see how sick I am. I have much property but have no heir except my only
daughter May I give two thirds of my property in charity?"! He said, "No." I said, "Half of it?" He
said, "No." I said "One third?" He said, "One third is too much, for to leave your heirs rich is better
than to leave them poor, begging of others. Nothing you spend seeking Allah's pleasure but you shall
get a reward for it, even for what you put in the mouth of your wife."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو زہری نے خبر دی ، انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اور ان سے ان کے والد نے کہ
ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں حجۃ الوداع کے زمانہ میں ایک سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا میں نے عرض کیا کہ میری بیماری جس حد کو پہنچ چکی ہے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے ہیں ، میں صاحب دولت ہوں اور میری وارث میری صرف ایک لڑکی کے سوا اور کوئی نہیں تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کروں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا پھر آدھا کر دوں ، آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کر دوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بہت کافی ہے اگر تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھر یں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہو گا اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا ۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی تمہیں ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو ۔
আমির ইবনু সা’দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, বিদায় হাজ্জের সময় আমার রোগ কঠিন আকার ধারণ করলে রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাদের কাছে আসলেন। আমি বললামঃ (মৃত্যু) আমার সন্নিকটে এসে গেছে যা আপনি দেখতে পাচ্ছেন অথচ আমি একজন বিত্তবান ব্যক্তি। একটি মাত্র কন্যা ব্যতীত আমার কোন ওয়ারিশ নেই। এখন আমি আমার সম্পদের দু’তৃতীয়াংশ সদাক্বাহ করতে পারি কি? তিনি উত্তর দিলেনঃ না। আমি বললামঃ তাহলে অর্ধেক? তিনি বললেনঃ না। আমি বললামঃ এক তৃতীয়াংশ। তিনি বললেনঃ এও অনেক অধিক। নিশ্চয়ই তোমার ওয়ারিশদের স্বাবলম্বী রেখে যাওয়াই শ্রেয় তাদের নিঃস্ব ও মানুষের দ্বারস্থ করে যাবার চেয়ে। আর তুমি আল্লাহ্র সন্তুষ্টি লাভে যে ব্যয়ই কর না কেন, তার বিনিময়ে তোমাকে সাওয়াব দেয়া হবে। এমনকি তুমি তোমার স্ত্রীর মুখে যে আহার তুলে দাও তাতেও।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫৭, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫৩)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 572
Hadith 5669
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ ". فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا، مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالاِخْتِلاَفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُومُوا ". قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنِ اخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
Narrated Ibn `Abbas:
When Allah's Messenger (ﷺ) was on his death-bed and in the house there were some people among whom
was `Umar bin Al-Khattab, the Prophet (ﷺ) said, "Come, let me write for you a statement after which you
will not go astray." `Umar said, "The Prophet (ﷺ) is seriously ill and you have the Qur'an; so the Book of
Allah is enough for us." The people present in the house differed and quarrelled. Some said "Go near
so that the Prophet (ﷺ) may write for you a statement after which you will not go astray," while the others
said as `Umar said. When they caused a hue and cry before the Prophet, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Go
away!" Narrated 'Ubaidullah: Ibn `Abbas used to say, "It was very unfortunate that Allah's Messenger (ﷺ)
was prevented from writing that statement for them because of their disagreement and noise."
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے معمر نے ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں کئی صحابہ موجود تھے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ اس کے بعد تم غلط راہ پر نہ چلو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سخت تکلیف میں ہیں اور تمہارے پاس قرآن مجید تو موجود ہے ہی ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔ اس مسئلہ پر گھر میں موجود صحابہ کا اختلاف ہو گیا اور بحث کرنے لگے ۔ بعض صحابہ کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ( لکھنے کی چیزیں ) دے دو تاکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو اور بعض صحابہ وہ کہتے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختلاف اور بحث بڑھ گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ ۔ حضرت عبیداللہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ سب سے زیادہ افسوس یہی ہے کہ ان کے اختلاف اور بحث کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر نہیں لکھی جو آپ مسلمانوں کے لیے لکھنا چاہتے تھے ۔
আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, যখন রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর ইন্তিকালের সময় আগত হল, তখন ঘরের মধ্যে অনেক মানুষের জমায়েত ছিল। যাঁদের মধ্যে ‘উমার ইবনু খাত্তাব (রাঃ) -ও ছিলেন। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) (রোগ কাতর অবস্থায়) বললেনঃ লও, আমি তোমাদের জন্য কিছু লিখে দেব, যাতে পরবর্তীতে তোমরা পথভ্রষ্ট না হও। তখন ‘উমার (রাঃ) বললেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর উপর রোগ যন্ত্রণা তীব্র হয়ে উঠেছে, আর তোমাদের কাছে কুরআন মাওজুদ। আর আল্লাহ্র কিতাবই আমাদের জন্য যথেষ্ট। এ সময় আহলে বাইতের মধ্যে মতানৈক্যের সৃষ্টি হল। তাঁরা বাদানুবাদে প্রবৃত্ত হলেন, তন্মধ্যে কেউ কেউ বলতে লাগলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে কাগজ পৌঁছে দাও এবং তিনি তোমাদের জন্য কিছু লিখে দেবেন, যাতে পরবর্তীতে তোমরা কখনো পথভ্রষ্ট না হও। আবার তাদের মধ্যে ‘উমার (রাঃ) যা বললেন, তা বলে যেতে লাগলেন। এভাবে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে তাঁদের বাকবিতন্ডা ও মতভেদ বেড়ে চলল। তখন রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ তোমরা উঠে যাও।
‘উবাইদুল্লাহ (রাঃ) বলেনঃ ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) বলতেন, বড় মুসীবত হল লোকজনের সেই মতভেদ ও তর্ক-বিতর্ক, যা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ও তাঁর সেই লিখে দেয়ার মধ্যে বাধা হয়ে দাঁড়িয়েছিল।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫৮, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫৪)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 573
Hadith 5670
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ـ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ـ عَنِ الْجُعَيْدِ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ، يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ وَقُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ.
Narrated As-Sa'ib:
My aunt took me to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My nephew is- ill." The Prophet (ﷺ)
touched my head with his hand and invoked Allah to bless me. He then performed ablution and I
drank of the remaining water of his ablution and then stood behind his back and saw "Khatam An-
Nubuwwa" (The Seal of Prophethood) between his shoulders like a button of a tent.
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
مجھے میری خالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچپن میں لے گئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بھانجے کو درد ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی پھر آپ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا اور میں نے آپ کی پیٹھ کے پیچھے کھڑے ہو کر نبوت کی مہر آپ کے دونوں شانوں کے درمیان دیکھی ۔ یہ مہر نبوت حجلہ عروس کی گھنڈی جیسی تھی ۔
সায়িব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমার খালা আমাকে রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে নিয়ে গেলেন। এরপর তিনি বললেনঃ হে আল্লাহ্র রসূল! আমার বোনের ছেলে পীড়িত। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার মাথায় হাত বুলালেন এবং আমার জন্য বারাকাতের দু’আ করলেন। এরপর তিনি অযূ করলেন। আমি তাঁর অযূর বেঁচে যাওয়া পানি পান করলাম এবং তাঁর পৃষ্ঠের পশ্চাতে গিয়ে দাঁড়ালাম। তখন আমি মোহরে নবুওয়াতের পানে চেয়ে দেখলাম। সেটি তাঁর দু’স্কন্ধের মধ্যবর্তী স্থানে অবস্থিত এবং খাটিয়ার গোলাকৃতি ঘুন্টির মত।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৫৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 574
Hadith 5671
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ".
Narrated Anas bin Malik:
The Prophet (ﷺ) said, "None of you should wish for death because of a calamity befalling him; but if he
has to wish for death, he should say: "O Allah! Keep me alive as long as life is better for me, and let
me die if death is better for me.' "
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ثابت بنانی نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی تکلیف میں اگر کوئی شخص مبتلا ہو تو اسے موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیئے اور اگر کوئی موت کی تمنا کرنے ہی لگے تو یہ کہنا چاہیئے ، اے اللہ ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھ کو اٹھالے ۔
আনাস ইবনু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তোমাদের কেউ দুঃখ কষ্টে পতিত হবার কারণে যেন মৃত্যু কামনা না করে। যদি কিছু করতেই চায়, তা হলে সে যেন বলেঃ হে আল্লাহ! আমাকে জীবিত রাখ, যতদিন আমার জন্য বেঁচে থাকা কল্যাণকর হয় এবং আমাকে মৃত্যু দাও, যখন আমার জন্য মরে যাওয়া কল্যাণকর হয়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৬০, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫৬)
We went to pay a visit to Khabbab (who was sick) and he had been branded (cauterized) at seven
places in his body. He said, "Our companions who died (during the lifetime of the Prophet) left (this
world) without having their rewards reduced through enjoying the pleasures of this life, but we have
got (so much) wealth that we find no way to spend It except on the construction of buildings Had the
Prophet not forbidden us to wish for death, I would have wished for it.' We visited him for the second
time while he was building a wall. He said, A Muslim is rewarded (in the Hereafter) for whatever he
spends except for something that he spends on building."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ
ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کو گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے پھر انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وفات پا چکے وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ہم نے ( مال و دولت ) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہم نے مٹی کے سوا اور کوئی محل نہیں پایا ( لگے عمارتیں بنوانے ) اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مو ت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے انہوں نے کہا مسلمان کوہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے مگر اس ( کم بخت ) عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ۔
কায়স ইবনু আবূ হাযিম (রহ:) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমরা অসুস্থ খব্বাব (রাঃ) -কে দেখতে গেলাম। এ সময় (চিকিৎসার জন্য তাঁকে) সাতবার দাগ লাগানো হয়েছিল। তখন তিনি বললেনঃ আমাদের সাথীরা ইন্তিকাল করেছেন। তাঁরা এমন অবস্থায় চলে গেছেন যে, দুনিয়া তাঁদের ‘আমলের সাওয়াবে কোন রকম কমতি করতে পারেনি। আর আমরা এমন জিনিস লাভ করেছি, যা মাটি ভিন্ন অন্য কোথাও রাখার জায়গা পাচ্ছি না। যদি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাদের মৃত্যুর জন্য দু’আ কামনা করতে নিষেধ না করতেন, তবে আমি মৃত্যুর জন্য দু’আ করতাম। অতঃপর আমরা আরেকবার তাঁর কাছে এসেছিলাম। তখন তিনি তাঁর বাগানের দেয়াল তৈরী করছিলেন। তিনি বললেনঃ মুসলিমকে তাঁর যাবতীয় ব্যয়ের জন্য সাওয়াব দান করা হয়, তবে এ মাটিতে স্থাপিত জিনিসের কথা আলাদা।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৬১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫৭)
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The good deeds of any person will not make him enter Paradise."
(i.e., None can enter Paradise through his good deeds.) They (the Prophet's companions) said, 'Not
even you, O Allah's Messenger (ﷺ)?' He said, "Not even myself, unless Allah bestows His favor and mercy
on me." So be moderate in your religious deeds and do the deeds that are within your ability: and none
of you should wish for death, for if he is a good doer, he may increase his good deeds, and if he is an
evil doer, he may repent to Allah."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا ہمیں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کسی شخص کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کر سکے گا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کا بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، میرا بھی نہیں ، سوا اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازے اس لیے ( عمل میں ) میانہ روی اختیار کرو اورقریب قریب چلو اور تم میں کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ یا وہ نیک ہو گا تو امید ہے کہ اس کے اعمال میں اور اضافہ ہو جائے اور اگر وہ برا ہے تو ممکن ہے وہ توبہ ہی کرے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আবূ হুরায়রা (রাঃ) বলেন, আমি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে বলতে শুনেছিঃ তোমাদের কোন ব্যক্তিকে তার নেক ‘আমাল জান্নাতে প্রবেশ করাতে পারবে না। লোকজন প্রশ্ন করলঃ হে আল্লাহ্র রসূল! আপনাকেও নয়? তিনি বললেনঃ আমাকেও নয়, যতক্ষণ পর্যন্ত আল্লাহ আমাকে তাঁর করুণা ও দয়া দিয়ে আবৃত না করেন। কাজেই মধ্যমপন্থা গ্রহণ কর এবং নৈকট্য লাভের চেষ্টা চালিয়ে যাও। আর তোমাদের মধ্যে কেউ যেন মৃত্যু কামনা না করে। কেননা, সে ভাল লোক হলে (বয়স দ্বারা) তার নেক ‘আমাল বৃদ্ধি হতে পারে। আর খারাপ লোক হলে সে তাওবাহ করার সুযোগ পাবে।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৬২, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫৮)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 577
Hadith 5674
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُسْتَنِدٌ إِلَىَّ يَقُولُ
" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى ".
Narrated `Aisha:
I heard the Prophet (ﷺ) , who was resting against me, saying, "O Allah! Excuse me and bestow Your
Mercy on me and let me join with the highest companions (in Paradise)." See Qur'an (4.69)
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میراسہارا لیے ہوئے تھے ( مرض الموت میں ) اور فرما رہے تھے اے اللہ تعالیٰ ! میری مغفرت فرما مجھ پر رحم کر اور مجھ کو اچھے رفیقوں ( فرشتوں اور پیغمبروں ) کے ساتھ ملادے ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে আমার পায়ের উপর হেলান দেয়া অবস্থায় বলতে শুনেছিঃ হে আল্লাহ! আমাকে ক্ষমা কর, আমার প্রতি দয়া কর, আর আমাকে মহান বন্ধুর সঙ্গে মিলিত কর।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৬৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৫৯)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 578
Hadith 5675
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا ـ أَوْ أُتِيَ بِهِ ـ قَالَ
" أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ". قَالَ عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَأَبِي الضُّحَى إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ، وَقَالَ جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى وَحْدَهُ، وَقَالَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا.
Narrated `Aisha:
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) paid a visit to a patient, or a patient was brought to him, he used to invoke
Allah, saying, "Take away the disease, O the Lord of the people! Cure him as You are the One Who
cures. There is no cure but Yours, a cure that leaves no disease."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یاکوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ یہ دعا فرماتے ، اے پروردگار لوگوں کے ! بیماری دور کر دے ، اے انسانوں کے پالنے والے ! شفاء عطا فرما ، تو ہی شفاء دینے والا ہے ۔ تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء نہیں ، ایسی شفاء دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے ۔ اور عمرو بن ابی قیس اور ابراہیم بن طہمان نے منصور سے بیان کیا ، انہوں نے ابراہیم اور ابو الضحیٰ سے کہ ” جب کوئی مریض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا “
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম -এর নিয়ম ছিল, তিনি যখন কোন রোগীর কাছে আসতেন কিংবা তাঁর নিকট যখন কোন রোগীকে আনা হত, তখন তিনি বলতেনঃ কষ্ট দূর করে দাও। হে মানুষের রব, আরোগ্য দান কর, তুমিই একমাত্র আরোগ্যদানকারী। তোমার আরোগ্য ছাড়া অন্য কোন আরোগ্য নেই। এমন আরোগ্য দান কর যা সামান্যতম রোগকেও অবশিষ্ট না রাখে। [৫৭৪৩, ৫৭৪৪, ৫৭৫০; মুসলিম ৩৯/১৯, হাঃ ২১৯১, আহমাদ ২৪২৩০]
‘আমর ইবনু আবূ কায়স ও ইবরাহীম ইব্নু তুহমান হাদীসটি মানসূর, ইবরাহীম ও আবুয্ যুহা থেকে إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ ‘‘যখন কোন রোগীকে আনা হত’’, এভাবে বর্ণনা করেছেন।
জারীর হাদীসটি মানসূর, আবুয্ যুহা সূত্রে বর্ণনা করেছেন। তিনি إِذَا أَتٰى مَرِيضًا ‘‘যখন রোগীর কাছে আসতেন’’ এ শব্দসহ বর্ণনা করেছেন। আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৬৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৬০)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 70, Hadith 579
Hadith 5676
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّ عَلَىَّ أَوْ قَالَ صُبُّوا عَلَيْهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ لاَ يَرِثُنِي إِلاَّ كَلاَلَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:
The Prophet (ﷺ) came to me while I was ill. He performed ablution and threw the remaining water on me
(or said, "Pour it on him) " When I came to my senses I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have no son or
father to be my heir, so how will be my inheritance?" Then the Verse of inheritance was revealed.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر ( محمد بن جعفر ) نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے ، کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں بیمار تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا یا فرمایا کہ اس پر یہ پانی ڈال دواس سے مجھے ہوش آ گیا ۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو کلالہ ہوں ( جس کے والد اور اولاد نہ ہو ) میرے ترکہ میں تقسیم کیسے ہو گی اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی ۔
জাবির ইবনু ‘আবদুল্লাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার কাছে প্রবেশ করলেন, তখন আমি পীড়িত ছিলাম। তিনি অযূ করলেন। অতঃপর আমার গায়ের উপর অযূর পানি ছিটিয়ে দিলেন। কিংবা বর্ণনাকারী বলেছেনঃ এরপর তিনি উপস্থিত লোকদের বলেছেনঃ তার গায়ে পানি ছিটিয়ে দাও। এতে আমি সংজ্ঞা ফিরে পেলাম। আমি বললামঃ কালালাহ্ (পিতাও নেই, সন্তানও নেই) ছাড়া আমার কোন ওয়ারিশ নেই। কাজেই আমার রেখে যাওয়া সম্পদ কীভাবে বন্টন করা হবে? তখন ফারায়েয সম্বন্ধীয় আয়াত অবতীর্ণ হয়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৬৫, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৬১)
When Allah's Messenger (ﷺ) emigrated to Medina, Abu Bakr and Bilal had a fever. I entered upon them and
said, "O my father! How are you? O Bilal! How are you?" Whenever Abu Bakr got the fever he used
to say, "Everybody is staying alive with his people, yet death is nearer to him than his shoe laces."
And when fever deserted Bilal, he would recite (two poetic verses): "Would that I could stay
overnight in a valley wherein I would be surrounded by Idhkhir and Jalil (two kinds of good smelling
grass). Would that one day I could drink of the water of Majinna, and would that Shama and Tafil
(two mountains at Mecca) would appear to me!" I went to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him about
that. He said, "O Allah! Make us love Medina as much or more than we love Mecca, and make it
healthy, and bless its Sa and its Mudd, and take away its fever and put it in Al-Juhfa." (See Hadith No
558) .
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے توحضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا ۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس ( بیمار پرسی کے لیے ) گئی اور پوچھا کہ محترم والد بزرگوار ! آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال رضی اللہ عنہ ! آپ کا کیا حال ہے بیان کیا کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔ ” ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے “ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو بلند آواز سے وہ یہ اشعار پڑھتے ۔ ( ترجمہ ) کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات وادی ( مکہ ) میں اس طرح گزار سکوں گا کہ میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( گھاس ) کے درخت ہوں گے اور کیا کبھی پھر میں مجنہ کے گھاٹ پر اتر سکوں گا اور کیا کبھی شامہ اور طفیل میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا ۔ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کہا تو آپ نے یہ دعا فرمائی اے اللہ ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا کر جیسا کہ ہمیں ( اپنے وطن ) مکہ کی محبت تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ مدینہ کی محبت عطا کر اور اس کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے جحفہ نامی گاؤں میں بھیج دے ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, যখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) (মাদীনাহ) আসলেন, তখন আবূ বকর (রাঃ) ও বিলাল (রাঃ) জ্বরে আক্রান্ত হলেন। তিনি বলেনঃ আমি তাঁদের নিকট বললামঃ আব্বাজান, আপনি কেমন অনুভব করছেন? হে বিলাল! আপনি কেমন অনুভব করছেন? তিনি বলেনঃ আবূ বকর (রাঃ) যখন জ্বরে আক্রান্ত হতেন তখন তিনি আবৃত্তি করতেন,
“সব মানুষ সুপ্রভাত ভোগ করে আপন পরিবার পরিজন নিয়ে ,
আর মৃত্যু অপেক্ষা করে তার জুতার ফিতার চেয়েও নিকটে।”
আর বিলাল (রাঃ)–এর নিয়ম ছিল যখন তাঁর জ্বর ছেড়ে যেত, তিনি তখন উচ্চ আওয়াজে বলতেনঃ
হায়! আমি যদি পেতাম একটি রাত অতিবাহিত করার সুযোগ
এমন উপত্যকায় যেখানে আমার পাশে আছে ইয্খির ও জালীল ঘাস।
যদি আমার অবতরণ হত কোন দিন মাযিন্না এলাকার কূপের কাছে,
যদি আমার চোখে ভেসে উঠত শামা ও তাফীল।
‘আয়িশা (রাঃ) বলেন, এরপর আমি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে গেলাম এবং তাঁকে সংবাদ দিলাম। তখন তিনি বললেনঃ হে আল্লাহ্! আমাদের কাছে মাদীনাহ্কে প্রিয় করে দাও, যেভাবে আমাদের কাছে প্রিয় ছিল মাক্কাহ এবং মাদীনাহ্কে স্বাস্থ্যকর বানিয়ে দাও। আর মাদীনাহ্র মুদ্দ ও সা’তে বরকত দাও এবং মাদীনাহ্র জ্বরকে স্থানান্তরিত কর ‘জুহ্ফা’ এলাকায়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫২৬৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫১৬২)