Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 4

Ablutions (Wudu')

كتاب الوضوء

From Sahih al-Bukhari - 113 hadiths in this chapter

Hadith 135

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُقْبَلُ صَلاَةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ‏.‏

Narrated Abu Huraira:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "The prayer of a person who does Hadath (passes urine, stool or wind) is not accepted till he performs the ablution." A person from Hadaramout asked Abu Huraira, "What is 'Hadath'?" Abu Huraira replied, " 'Hadath' means the passing of wind."

ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا ۔ انہیں عبدالرزاق نے خبر دی ، انہیں معمر نے ہمام بن منبہ کے واسطے سے بتلایا کہ انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حدث کرے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ( دوبارہ ) وضو نہ کر لے ۔ حضرموت کے ایک شخص نے پوچھا کہ حدث ہونا کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( پاخانہ کے مقام سے نکلنے والی ) آواز والی یا بےآواز والی ہوا ۔

আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ ‘যে ব্যক্তির হাদাস হয় তার সালাত কবুল হবে না, যতক্ষণ না সে উযূ করে। হাযরা-মাওতের জনৈক ব্যক্তি বলল, ‘হে আবূ হুরাইরা! হাদাস কী? হাদাস কী?’ তিনি বললেন, ‘নিঃশব্দে বা সশব্দে বায়ু বের হওয়া।’ (৬৯৫৪; মুসলিম ২/২, হাঃ ২২৫, আহমাদ ৮০৮৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৩৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 1
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 137
Hadith 136

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ، قَالَ رَقِيتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، فَتَوَضَّأَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ ‏"‏‏.‏

Narrated Nu`am Al-Mujmir:

Once I went up the roof of the mosque, along with Abu Huraira. He perform ablution and said, "I heard the Prophet (ﷺ) saying, "On the Day of Resurrection, my followers will be called "Al-Ghurr-ul- Muhajjalun" from the trace of ablution and whoever can increase the area of his radiance should do so (i.e. by performing ablution regularly).' "

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے لیث نے خالد کے واسطے سے نقل کیا ، وہ سعید بن ابی ہلال سے نقل کرتے ہیں ، وہ نعیم المجمر سے ، وہ کہتے ہیں کہ

میں ( ایک مرتبہ ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا ۔ تو آپ نے وضو کیا اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت کے لوگ وضو کے نشانات کی وجہ سے قیامت کے دن سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والوں کی شکل میں بلائے جائیں گے ۔ تو تم میں سے جو کوئی اپنی چمک بڑھانا چاہتا ہے تو وہ بڑھا لے ( یعنی وضو اچھی طرح کرے ) ۔

নু’আয়ম মুজমির (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি আবূ হুরায়রা (রাঃ)-এর সঙ্গে মসজিদের ছাদে উঠলাম। অতঃপর তিনি উযূ করে বললেনঃ ‘আমি আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি, কিয়ামতের দিন আমার উম্মাতকে এমন অবস্থায় আহ্বান করা হবে যে, উযূর প্রভাবে তাদের হাত-পা ও মুখমণ্ডল উজ্জ্বল থাকবে। তাই তোমাদের মধ্যে যে এ উজ্জ্বলতা বাড়িয়ে নিতে পারে, সে যেন তা করে।’ (মুসলিম ২/১২, হাঃ ২৪৬, আহমাদ ৯২০৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৩৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 2
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 138
Hadith 137

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّىْءَ فِي الصَّلاَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْفَتِلْ ـ أَوْ لاَ يَنْصَرِفْ ـ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ‏"‏‏.‏

Narrated `Abbad bin Tamim:

My uncle asked Allah's Messenger (ﷺ) about a person who imagined to have passed wind during the prayer. Allah' Apostle replied: "He should not leave his prayers unless he hears sound or smells something."

ہم سے علی نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے زہری نے سعید بن المسیب کے واسطے سے نقل کیا ، وہ عبادہ بن تمیم سے روایت کرتے ہیں ، وہ اپنے چچا ( عبداللہ بن زید ) سے روایت کرتے ہیں کہ

انھوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز ( یعنی ہوا نکلتی ) معلوم ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نماز سے ) نہ پھرے یا نہ مڑے ، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے ۔

‘আব্বাদ ইব্‌নু তামীম (রহঃ)-এর চাচা থেকে বর্ণিতঃ একদা আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট এক ব্যক্তি সম্পর্কে বলা হল যে, তার মনে হয়েছিল যেন সালাতের মধ্যে কিছু হয়ে গিয়েছিল। তিনি বললেনঃ সে যেন ফিরে না যায়, যতক্ষণ না শব্দ শোনে বা দুর্গন্ধ পায়। (১৭৭, ২০৫৬; মুসলিম ৩/২৬, হাঃ ৩৬১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৩৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 3
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 139
Hadith 138

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ صَلَّى ـ وَرُبَّمَا قَالَ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ ـ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى‏.‏ ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا ـ يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ ـ وَقَامَ يُصَلِّي فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ـ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ شِمَالِهِ ـ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ، فَقَامَ مَعَهُ إِلَى الصَّلاَةِ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏ قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنُهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ رُؤْيَا الأَنْبِيَاءِ وَحْىٌ، ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ‏}‏‏.‏

Narrated Kuraib:

Ibn `Abbas said, "The Prophet (ﷺ) slept till he snored and then prayed (or probably lay till his breath sounds were heard and then got up and prayed)." Ibn `Abbas added: "I stayed overnight in the house of my aunt, Maimuna, the Prophet (ﷺ) slept for a part of the night, (See Fath-al-Bari page 249, Vol. 1), and late in the night, he got up and performed ablution from a hanging water skin, a light (perfect) ablution and stood up for the prayer. I, too, performed a similar ablution, then I went and stood on his left. He drew me to his right and prayed as much as Allah wished, and again lay and slept till his breath sounds were heard. Later on the Mu'adh-dhin (call maker for the prayer) came to him and informed him that it was time for Prayer. The Prophet (ﷺ) went with him for the prayer without performing a new ablution." (Sufyan said to `Amr that some people said, "The eyes of Allah's Messenger (ﷺ) sleep but his heart does not sleep." `Amr replied, "I heard `Ubaid bin `Umar saying that the dreams of Prophets were Divine Inspiration, and then he recited the verse: 'I (Abraham) see in a dream, (O my son) that I offer you in sacrifice (to Allah)." (37.102) (See Hadith No. 183)

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے عمرو کے واسطے سے نقل کیا ، انہیں کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور کبھی ( راوی نے یوں ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے ۔ پھر خراٹے لینے لگے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس کے بعد نماز پڑھی ۔ پھر سفیان نے ہم سے دوسری مرتبہ یہی حدیث بیان کی عمرو سے ، انھوں نے کریب سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ وہ کہتے تھے کہ ( ایک مرتبہ ) میں نے اپنی خالہ ( ام المؤمنین ) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری ، تو ( میں نے دیکھا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے ۔ جب تھوڑی رات باقی رہ گئی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو کیا ۔ عمرو اس کا ہلکا پن اور معمولی ہونا بیان کرتے تھے اور آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، تو میں نے بھی اسی طرح وضو کیا ۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔ پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا اور کبھی سفیان نے «عن يساره» کی بجائے «عن شماله» کا لفظ کہا ( مطلب دونوں کا ایک ہی ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھیر لیا اور اپنی داہنی جانب کر لیا ۔ پھر نماز پڑھی جس قدر اللہ کو منظور تھا ۔ پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے ۔ حتیٰ کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی ۔ پھر آپ کی خدمت میں مؤذن حاضر ہوا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے ۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ ( سفیان کہتے ہیں کہ ) ہم نے عمرو سے کہا ، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں ، دل نہیں سوتا تھا ۔ عمرو نے کہا میں نے عبید بن عمیر سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں ۔ پھر ( قرآن کی یہ ) آیت پڑھی ۔ ” میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں ۔ “

ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ঘুমিয়েছিলেন, এমনকি তাঁর নিঃশ্বাসের শব্দ হতে লাগল। অতঃপর তিনি সালাত আদায় করলেন। সুফিয়ান (রহঃ) আবার কখনো বলেছেন, তিনি শুয়ে পড়লেন, এমনকি নাক ডাকার আওয়ায হতে লাগল। অতঃপর দাঁড়িয়ে সালাত আদায় করলেন। অন্য সূত্রে সুফিয়ান (রহঃ) ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) হতে বর্ণনা করেন, তিনি বলেনঃ আমি এক রাতে আমার খালা মাইমূনা (রাঃ)-এর নিকট রাত কাটালাম। রাতে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ঘুম থেকে উঠলেন এবং রাতের কিছু অংশ চলে যাবার পর আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একটি ঝুলন্ত মশক হতে হালকা ধরনের উযূ করলেন। রাবী ‘আমর (রহঃ) বলেন যে, হালকাভাবে ধুলেন, পানি কম ব্যবহার করলেন এবং সালাতে দাঁড়িয়ে গেলেন। ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) বলেন, তখন তিনি যেভাবে উযূ করেছেন আমিও সেভাবে উযূ করলাম এবং এসে তাঁর বাঁয়ে দাঁড়িয়ে গেলাম। সুফিয়ান (রহঃ) কখনো কখনো يسار (বাম) শব্দের স্থলে شمال বলতেন। তারপর আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাকে ধরে তাঁর ডান দিকে দাঁড় করালেন। অতঃপর আল্লাহ্‌র যতক্ষণ ইচ্ছা ততক্ষণ পর্যন্ত তিনি সালাত আদায় করলেন। অতঃপর কাত হলেন আর ঘুমিয়ে পড়লেন, এমনকি তাঁর নাক ডাকালেন। অতঃপর মুয়াযযিন এসে তাঁকে সালাতের কথা জানিয়ে দিলেন। তিনি তার সঙ্গে সালাতের জন্য চললেন এবং সালাত আদায় করলেন, কিন্তু উযূ করলেন না। আমরা ‘আমর (রহঃ)-কে বললামঃ লোকে বলে যে, আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর চোখ ঘুমায় কিন্তু তাঁর অন্তর ঘুমায় না। তখন ‘আমর (রহঃ) বললেন, ‘আমি ‘উবায়দ ইব্‌নু ‘উমায়র (রহঃ) কে বলতে শুনেছি, নবীগণের স্বপ্ন ওয়াহী। অতঃপর তিনি তিলাওয়াত করলেন, إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ “আমি স্বপ্নে দেখেছি যে, তোমাকে কুরবাণী করছি” – (সূরা আস সাফ্‌ফাত ৩৭/১০২)। (১১৭ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪০)

In-book reference : Book 4, Hadith 4
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 140
Hadith 139

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ‏.‏ فَقُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ‏"‏‏.‏ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا‏.‏

Narrated Usama bin Zaid:

Allah's Messenger (ﷺ) proceeded from `Arafat till when he reached the mountain pass, he dismounted, urinated and then performed ablution but not a perfect one. I said to him, ("Is it the time for) the prayer, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "The (place of) prayer is ahead of you." He rode till when he reached Al-Muzdalifa, he dismounted and performed ablution and a perfect one, The (call for) Iqama was pronounced and he led the Maghrib prayer. Then everybody made his camel kneel down at its place. Then the Iqama was pronounced for the `Isha' prayer which the Prophet (ﷺ) led and no prayer was offered in between the two . prayers (`Isha' and Maghrib).

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے موسیٰ بن عقبہ کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس سے ، انھوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے واپس ہوئے ۔ جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پہلے ) پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا ۔ تب میں نے کہا ، یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ( آ گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز ، تمہارے آگے ہے ( یعنی مزدلفہ چل کر پڑھیں گے ) جب مزدلفہ میں پہنچے تو آپ نے خوب اچھی طرح وضو کیا ، پھر جماعت کھڑی کی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی جگہ بٹھلایا ، پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی ۔

উসামাহ ইব্‌নু যায়দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ‘আরাফার ময়দান হতে রওনা হলেন এবং উপত্যকায় পৌঁছে নেমে তিনি পেশাব করলেন। অতঃপর উযূ করলেন কিন্তু উত্তমরূপে উযূ করলেন না। আমি বললাম, ‘হে আল্লাহ্‌র রসূল! সালাত আদায় করবেন কি?’ তিনি বললেনঃ ‘সালাতের স্থান তোমার সামনে’। অতঃপর তিনি আবার সওয়ার হলেন। অতঃপর মুযদালিফায় এসে সাওয়ারী থেকে নেমে উযূ করলেন। এবার পূর্ণরূপে উযূ করলেন। তখন সালাতের জন্য ইক্বামাত দেওয়া হল। তিনি মাগরিবের সালাত আদায় করলেন। অতঃপর সকলে তাদের অবতরণস্থলে নিজ নিজ উট বসিয়ে দিল। পুনরায় ‘ইশার ইক্বামাত দেয়া হল। অতঃপর তিনি ‘ইশার সালাত আদায় করলেন এবং উভয় সালাতের মধ্যে অন্য কোন সালাত আদায় করলেন না। (১৮১, ১৬৬৭, ১৬৬৯, ১৬৭২; মুসলিম ১৫/৪৫, হাঃ ১২৮০, আহমাদ ২১৮০১, ২১৮০৮, ২১৮৯০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪১)

In-book reference : Book 4, Hadith 5
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 141
Hadith 140

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلاَلٍ ـ يَعْنِي سُلَيْمَانَ ـ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا، أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الأُخْرَى، فَغَسَلَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى، فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ ـ يَعْنِي الْيُسْرَى ـ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ‏.‏

Narrated `Ata' bin Yasar:

Ibn `Abbas performed ablution and washed his face (in the following way): He ladled out a handful of water, rinsed his mouth and washed his nose with it by putting in water and then blowing it out. He then, took another handful (of water) and did like this (gesturing) joining both hands, and washed his face, took another handful of water and washed his right forearm. He again took another handful of water and washed his left forearm, and passed wet hands over his head and took another handful of water and poured it over his right foot (up to his ankles) and washed it thoroughly and similarly took another handful of water and washed thoroughly his left foot (up to the ankles) and said, "I saw Allah's Messenger (ﷺ) performing ablution in this way."

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے روایت کیا ، انھوں نے کہا مجھ کو ابوسلمہ الخزاعی منصور بن سلمہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا ہم کو ابن بلال یعنی سلیمان نے زید بن اسلم کے واسطے سے خبر دی ، انھوں نے عطاء بن یسار سے سنا ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ

( ایک مرتبہ ) انھوں نے ( یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ) وضو کیا تو اپنا چہرہ دھویا ( اس طرح کہ پہلے ) پانی کے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی دیا ۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا ، پھر اس کو اس طرح کیا ( یعنی ) دوسرے ہاتھ کو ملایا ۔ پھر اس سے اپنا چہرہ دھویا ۔ پھر پانی کا دوسرا چلو لیا اور اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا ۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لے کر اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا ۔ اس کے بعد اپنے سر کا مسح کیا ۔ پھر پانی کا چلو لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا ۔ پھر دوسرے چلو سے اپنا پاؤں دھویا ۔ یعنی بایاں پاؤں اس کے بعد کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔

ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি উযূ করলেন এবং তাঁর মুখমণ্ডল ধুলেন। এক আঁজলা পানি নিয়ে তা দিয়ে কুলি করলেন ও নাকে পানি দিলেন। অতঃপর আর এক আঁজলা পানি নিয়ে তা দিয়ে অনুরূপ করলেন অর্থাৎ আরেক হাতের সাথে মিলিয়ে মুখমণ্ডল ধুলেন। অতঃপর আর এক আঁজলা পানি নিয়ে তা দিয়ে ডান হাত ধুলেন। অতঃপর আর এক আঁজলা পানি নিয়ে তা দিয়ে তাঁর বা হাত ধুলেন। অতঃপর তিনি মাথা মাস্‌হ করলেন। অতঃপর আর এক আঁজলা পানি নিয়ে তা দিয়ে ডান পায়ের উপর চেলে দিয়ে তা ধুয়ে ফেললেন। অতঃপর আর এক আঁজলা পানি নিয়ে তা দিয়ে বাম পা ধুলেন। অতঃপর বললেনঃ ‘আমি আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কে এভাবে উযূ করতে দেখেছি।’ (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪২)

In-book reference : Book 4, Hadith 6
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 142
Hadith 141

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا‏.‏ فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ، لَمْ يَضُرَّهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:

The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you on having sexual relations with his wife said (and he must say it before starting) 'In the name of Allah. O Allah! Protect us from Satan and also protect what you bestow upon us (i.e. the coming offspring) from Satan, and if it is destined that they should have a child then, Satan will never be able to harm that offspring."

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے روایت کیا ، انھوں نے سالم ابن ابی الجعد سے نقل کیا ، وہ کریب سے ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، وہ اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرے تو کہے «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا‏» ” اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! ہمیں شیطان سے بچا اور شیطان کو اس چیز سے دور رکھ جو تو ( اس جماع کے نتیجے میں ) ہمیں عطا فرمائے ۔ “ یہ دعا پڑھنے کے بعد ( جماع کرنے سے ) میاں بیوی کو جو اولاد ملے گی اسے شیطان نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔

ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী করীম (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তোমাদের কেউ তার স্ত্রীর সাথে মিলনের পূর্বে যদি বলে, بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا‏‏ (আল্লাহর নামে আরম্ভ করছি। আল্লাহ! তুমি আমাদেরকে শয়তান থেকে দূরে রাখ এবং যা আমাদেরকে দান করবে তাকেও শয়তান থেকে দূরে রাখ)- তারপর (এ মিলনের দ্বারা) তাদের কিসমতে কোন সন্তান থাকলে শয়তান তার কোন ক্ষতি করতে পারবে না। (৩২৭১, ৩২৮৩, ৫১৬৫, ৬৩৮৮, ৭৩৯৬; মুসলিম ত্বলাক অধ্যায়, অনুচ্ছেদ ১৭ হাঃ ১৪৩৪, আহমাদ ১৯০৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 7
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 143
Hadith 142

حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ عَرْعَرَةَ عَنْ شُعْبَةَ‏.‏ وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ إِذَا أَتَى الْخَلاَءَ‏.‏ وَقَالَ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ إِذَا دَخَلَ‏.‏ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ‏.‏

Narrated Anas:

Whenever the Prophet (ﷺ) went to answer the call of nature, he used to say, "Allah-umma inni a`udhu bika minal khubuthi wal khaba'ith i.e. O Allah, I seek Refuge with You from all offensive and wicked things (evil deeds and evil spirits).

ہم سے آدم نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے عبدالعزیز بن صہیب کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ( قضائے حاجت کے لیے ) بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ ( دعا ) پڑھتے «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» اے اللہ ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন প্রকৃতির ডাকে শৌচাগারে যেতেন তখন বলতেন, اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ (“হে আল্লাহ্ ! আমি মন্দ কাজ ও শয়তান থেকে আপনার আশ্রয় চাচ্ছি।”) ইব্‌ন ‘আর‘আরা (রহঃ) শুবা (রহঃ) সূত্রেও অনুরূপ বর্ণনা করেন। গুনদার (রহঃ) শুবা (রহঃ) থেকে বর্ণনা করেন, إِذَا أَتَى الْخَلاَءَ (যখন শৌচাগারে যেতেন)। মূসা (রহঃ) হাম্মাদ (রহঃ) থেকে বর্ণনা করেন, إِذَا دَخَلَ (যখন প্রবেশ করতেন)। সা‘ঈদ ইব্‌ন যায়দ (রহঃ) ‘আবদুল ‘আযীয (রহঃ) থেকে বর্ণনা করেন, ‘যখন প্রবেশ করার ইচ্ছা করতেন।’ (৬৩২২; মুসলিম ৩/৪২, হাঃ ৩৭৫, আহমাদ ১১৯৪৭, ১১৯৮৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 8
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 144
Hadith 143

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْخَلاَءَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا قَالَ ‏"‏ مَنْ وَضَعَ هَذَا ‏"‏‏.‏ فَأُخْبِرَ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:

Once the Prophet (ﷺ) entered a lavatory and I placed water for his ablution. He asked, "Who placed it?" He was informed accordingly and so he said, "O Allah! Make him (Ibn `Abbas) a learned scholar in religion (Islam).

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہاشم ابن القاسم نے ، کہا کہ ان سے ورقاء بن یشکری نے عبیداللہ بن ابی یزید سے نقل کیا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں تشریف لے گئے ۔ میں نے ( بیت الخلاء کے قریب ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا ۔ ( باہر نکل کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس نے رکھا ؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا تو آپ نے ( میرے لیے دعا کی اور ) فرمایا «اللهم فقهه في الدين» اے اللہ ! اس کو دین کی سمجھ عطا فرمائیو ۔

ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একবার নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) শৌচাগারে গেলেন, তখন আমি তাঁর জন্য উযূর পানি রাখলাম। তিনি জিজ্ঞাসা করলেনঃ ‘এটা কে রেখেছে?’ তাঁকে জানানো হলে তিনি বললেনঃ ‘ইয়া আল্লাহ! আপনি তাকে দ্বীনের জ্ঞান দান করুন।’ (৭৫; মুসলিম ৪৪/৩০, হাঃ ২৪৭৭, আহমাদ ২৩৯৭, ২৮৮১, ৩০২৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 9
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 145
Hadith 144

حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ يُوَلِّهَا ظَهْرَهُ، شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Aiyub Al-Ansari:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you goes to an open space for answering the call of nature he should neither face nor turn his back towards the Qibla; he should either face the east or the west."

ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے ، کہا کہ ہم سے زہری نے عطاء بن یزید اللیثی کے واسطے سے نقل کیا ، وہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کرے نہ اس کی طرف پشت کرے ( بلکہ ) مشرق کی طرف منہ کر لو یا مغرب کی طرف ۔

আবূ আইয়ুব আনসারী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তোমাদের কেউ যখন শৌচাগারে যায়, তখন সে যেন ক্বিবলার দিকে মুখ না করে এবং তার দিকে পিঠও না করে, বরং তোমরা পূর্ব দিক এবং পশ্চিম দিকে ফিরে বসবে (এই নির্দেশ মদীনার বাসিন্দাদের জন্য) [১]। ৩৯৪; মুসলিম ২/১৭, হাঃ ২৬৪, আহমাদ ২৩৫৮৩, ২৩৫৯৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 10
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 146
Hadith 145

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ، فَلاَ تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ يَوْمًا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ‏.‏ وَقَالَ لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ، فَقُلْتُ لاَ أَدْرِي وَاللَّهِ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ يَعْنِي الَّذِي يُصَلِّي وَلاَ يَرْتَفِعُ عَنِ الأَرْضِ، يَسْجُدُ وَهُوَ لاَصِقٌ بِالأَرْضِ‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar:

People say, "Whenever you sit for answering the call of nature, you should not face the Qibla or Baitul-Maqdis (Jerusalem)." I told them. "Once I went up the roof of our house and I saw Allah's Apostle answering the call of nature while sitting on two bricks facing Baitul-Maqdis (Jerusalem) (but there was a screen covering him. ' (Fath-al-Bari, Page 258, Vol. 1).

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے خبر دی ۔ وہ محمد بن یحییٰ بن حبان سے ، وہ اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کرتے ہیں ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے تھے کہ

لوگ کہتے تھے کہ جب قضاء حاجت کے لیے بیٹھو تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو نہ بیت المقدس کی طرف ( یہ سن کر ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے دو اینٹوں پر قضاء حاجت کے لیے بیٹھے ہیں ۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ( واسع سے ) کہا کہ شاید تم ان لوگوں میں سے ہو جو اپنے چوتڑوں کے بل نماز پڑھتے ہیں ۔ تب میں نے کہا خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا ( کہ آپ کا مطلب کیا ہے ) امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے وہ شخص مراد لیا جو نماز میں زمین سے اونچا نہ رہے ، سجدہ میں زمین سے چمٹ جائے ۔

‘আবদুল্লাহ্‌ ইব্‌নু ‘উমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ‘লোকে বলে পেশাব পায়খানা করার সময় ক্বিবলার দিকে এবং বাইতুল মুকাদ্দাসের দিকে মুখ করে বসবে না।’ ‘আবদুল্লাহ্‌ ইব্‌ন ‘উমর (রাঃ) বলেন, ‘আমি একদা আমাদের ঘরের ছাদে উঠলাম। অতঃপর রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে দেখলাম বাইতুল মুকাদ্দাসের দিকে মুখ করে দু’টি ইটের উপর স্বীয় প্রয়োজনে বসেছেন। তিনি [ওয়াসী (রহঃ)-কে] বললেন, তুমি বোধ হয় তাদের মধ্যে শামিল, যারা পাছায় ভর দিয়ে সালাত আদায় করে। আমি বললাম, ‘আল্লাহ্‌র কসম! আমি জানি না।’ মালিক (রহঃ) বলেন, (এর অর্থ হলো) যারা সালাত আদায় করে এবং মাটি থেকে পাছা না উঠিয়ে সাজদা দেয়। (১৪৮,১৪৯,৩১০২ ; মুসলিম ২/১৭, হাঃ ২৬৬, আহমাদ ৪৮১২, ৪৯৯১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪২ হাদীসের শেষাংশ নেই, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 11
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 147
Hadith 146

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ ـ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ ـ فَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم احْجُبْ نِسَاءَكَ‏.‏ فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً، فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلاَ قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ‏.‏ حِرْصًا عَلَى أَنْ يَنْزِلَ الْحِجَابُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ‏.‏

Narrated `Aisha:

The wives of the Prophet (ﷺ) used to go to Al-Manasi, a vast open place (near Baqi` at Medina) to answer the call of nature at night. `Umar used to say to the Prophet (ﷺ) "Let your wives be veiled," but Allah's Apostle did not do so. One night Sauda bint Zam`a the wife of the Prophet (ﷺ) went out at `Isha' time and she was a tall lady. `Umar addressed her and said, "I have recognized you, O Sauda." He said so, as he desired eagerly that the verses of Al-Hijab (the observing of veils by the Muslim women) may be revealed. So Allah revealed the verses of "Al-Hijab" (A complete body cover excluding the eyes).

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ابن شہاب کے واسطے سے نقل کیا ، وہ عروہ بن زبیر سے ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رات میں مناصع کی طرف قضاء حاجت کے لیے جاتیں اور مناصع ایک کھلا میدان ہے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ اپنی بیویوں کو پردہ کرائیے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل نہیں کیا ۔ ایک روز رات کو عشاء کے وقت حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ جو دراز قد عورت تھیں ، ( باہر ) گئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں آواز دی ( اور کہا ) ہم نے تمہیں پہچان لیا اور ان کی خواہش یہ تھی کہ پردہ ( کا حکم ) نازل ہو جائے ۔ چنانچہ ( اس کے بعد ) اللہ نے پردہ ( کا حکم ) نازل فرما دیا ۔

‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এর স্ত্রীগণ রাতের বেলায় প্রকৃতির ডাকে সাড়া দিতে খোলা ময়দানে যেতেন। আর ‘উমর (রাঃ) নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতেন, ‘আপনার স্ত্রীগণকে পর্দায় রাখুন।’ কিন্তু আল্লাহ্‌র রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তা করেননি। এক রাতে ‘ইশার সময় নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর স্ত্রী সওদা বিনতু যাম’আ (রাঃ) প্রাকৃতিক প্রয়োজনে বের হন। তিনি ছিলেন দীর্ঘাঙ্গী। ‘উমর (রাঃ) তাঁকে ডেকে বললেন, ‘হে সওদা! আমি কিন্তু তোমাকে চিনে ফেলেছি।’ যেন পর্দার হুকুম অবতীর্ণ হয় সেই উদ্দেশ্যেই তিনি এ কথা বলেছিলেন। অতঃপর আল্লাহ্‌ তা’আলা পর্দার হুকুম অবতীর্ণ করেন। (১৪৭, ৪৭৯৫, ৫২৩৭, ৬২৪০ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 12
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 148
Hadith 147

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَدْ أُذِنَ أَنْ تَخْرُجْنَ فِي حَاجَتِكُنَّ ‏"‏‏.‏ قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ‏.‏

Narrated `Aisha:

The Prophet (ﷺ) said to his wives, "You are allowed to go out to answer the call of nature. "

ہم سے زکریا نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے بیان کیا ، وہ اپنے باپ سے ، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی بیویوں سے ) فرمایا کہ تمہیں قضاء حاجت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ہے ۔ ہشام کہتے ہیں کہ حاجت سے مراد پاخانے کے لیے ( باہر ) جانا ہے ۔

‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ ‘তোমাদের প্রয়োজনের জন্য বের হবার অনুমতি দেয়া হয়েছে।’ হিশাম (রহঃ) বলেন, অর্থাৎ পেশাব পায়খানার জন্য। (১৪৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 13
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 149
Hadith 148

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْضِي حَاجَتَهُ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar:

I went up to the roof of Hafsa's house for some job and I saw Allah's Messenger (ﷺ) answering the call of nature facing Sham (Syria, Jordan, Palestine and Lebanon regarded as one country) with his back towards the Qibla. (See Hadith No. 147).

ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے عبیداللہ بن عمر کے واسطے سے بیان کیا ، وہ محمد بن یحییٰ بن حبان سے نقل کرتے ہیں ، وہ واسع بن حبان سے ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ

( ایک دن میں اپنی بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ ) حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت پر اپنی کسی ضرورت سے چڑھا ، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کرتے وقت قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کئے ہوئے نظر آئے ۔

‘আবদুল্লাহ্ ইব্‌নু ‘উমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, ‘আমি আমার বিশেষ এক প্রয়োজনে হাফসা (রাঃ)-এর ঘরের ছাদে উঠলাম। তখন দেখলাম, রসূলুল্লাহ্ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ক্বিবলার দিকে পিঠ দিয়ে শাম-এর দিকে মুখ করে তাঁর প্রয়োজনে বসেছেন।’ (১৪৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫০)

In-book reference : Book 4, Hadith 14
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 150
Hadith 149

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَمَّهُ، وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ قَالَ لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar:

Once I went up the roof of our house and saw Allah's Messenger (ﷺ) answering the call of nature while sitting over two bricks facing Baitul-Maqdis (Jerusalem). (See Hadith No. 147).

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ، ہمیں یحییٰ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی ، انہیں ان کے چچا واسع بن حبان نے بتلایا ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں کہ

ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو اینٹوں پر ( قضاء حاجت کے وقت ) بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے نظر آئے ۔

‘আবদুল্লাহ্ ইব্‌নু ‘উমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ‘একদা আমি আমাদের ঘরের উপর উঠে দেখলাম, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) দু’টি ইটের উপর বাইতুল মুকাদ্দাসের দিকে মুখ করে প্রাকৃতিক প্রয়োজনে বসেছেন। (১৪৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫১)

In-book reference : Book 4, Hadith 15
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 151
Hadith 150

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ـ وَاسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ أَجِيءُ أَنَا وَغُلاَمٌ مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ‏.‏ يَعْنِي يَسْتَنْجِي بِهِ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to answer the call of nature, I along with another boy used to accompany him with a tumbler full of water. (Hisham commented, "So that he might wash his private parts with it.)"

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ابومعاذ سے جن کا نام عطاء بن ابی میمونہ تھا نقل کیا ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے نکلتے تو میں اور ایک لڑکا اپنے ساتھ پانی کا برتن لے آتے تھے ۔ مطلب یہ ہے کہ اس پانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طہارت کیا کرتے تھے ۔

আনাস ইব্‌নু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন প্রকৃতির ডাকে সাড়া দিতে বের হতেন তখন আমি ও অপর একটি ছেলে পানির পাত্র নিয়ে আসতাম। অর্থাৎ তিনি তা দিয়ে শৌচকার্য সারতেন। (১৫১, ১৫২, ২১৭, ৫০০; মুসলিম ২/২১, হাঃ ২৭০, আহমাদ ১৩৭১৯, ১৩১০৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫২)

In-book reference : Book 4, Hadith 16
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 152
Hadith 151

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ـ هُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلاَمٌ مِنَّا مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ‏.‏

Narrated Anas:

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to answer the call of nature, I along with another boy from us used to go behind him with a tumbler full of water.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، وہ عطاء بن ابی میمونہ سے نقل کرتے ہیں ، انھوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے نکلتے ، میں اور ایک لڑکا دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاتے تھے اور ہمارے ساتھ پانی کا ایک برتن ہوتا تھا ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন প্রকৃতির ডাকে সাড়া দিতে বের হতেন তখন আমি এবং আমাদের অন্য একটি ছেলে তাঁর পিছনে পানির পাত্র নিয়ে যেতাম। (১৫০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 17
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 153
Hadith 152

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ الْخَلاَءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ، وَعَنَزَةً، يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ‏.‏ تَابَعَهُ النَّضْرُ وَشَاذَانُ عَنْ شُعْبَةَ‏.‏ الْعَنَزَةُ عَصًا عَلَيْهِ زُجٌّ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to answer the call of nature, I along with another boy used to carry a tumbler full of water (for cleaning the private parts) and a short spear (or stick).

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، ان سے محمد بن جعفر نے ، ان سے شعبہ نے عطاء بن ابی میمونہ کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے انس بن مالک سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن اور نیزہ لے کر چلتے تھے ۔ پانی سے آپ طہارت کرتے تھے ، ( دوسری سند سے ) نضر اور شاذان نے اس حدیث کی شعبہ سے متابعت کی ہے ۔ عنزہ لاٹھی کو کہتے ہیں جس پر پھلکا لگا ہوا ہو ۔

আনাস ইব্‌নু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন শৌচাগারে যেতেন তখন আমি এবং একটি ছেলে পানির পাত্র এবং ‘আনাযা’ নিয়ে যেতাম। তিনি পানি দ্বারা শৌচকার্য করতেন। (১৫০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪৯) নাযর (রহঃ) ও শাযান (রহঃ) শু’বা (রহঃ) থেকে অনুরূপ বর্ণনা করেন। হাদীসে বর্ণিত عَنَزَةً শব্দের অর্থ এমন লাঠি যার মাথায় লোহা লাগানো থাকে। (ই.ফা. ১৫৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 18
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 154
Hadith 153

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ـ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ ـ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلاَءَ فَلاَ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Qatada:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whenever anyone of you drinks water, he should not breathe in the drinking utensil, and whenever anyone of you goes to a lavatory, he should neither touch his penis nor clean his private parts with his right hand."

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، وہ اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب بیت الخلاء میں جائے تو اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ۔

আবূ ক্বাতাদা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেন, তোমাদের কেউ যখন পান করে, তখন সে যেন পাত্রের মধ্যে নিঃশ্বাস না ছাড়ে। আর যখন শৌচাগারে যায় তখন তার পুরুষাঙ্গ যেন ডান হাত দিয়ে স্পর্শ না করে এবং ডান হাত দিয়ে যেন শৌচকার্য না করে। (১৫৪, ৫৬৩০; মুসলিম ২/১৮, হাঃ ২৬৭, আহমাদ ২২৬২৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 19
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 155
Hadith 154

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَأْخُذَنَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Qatada:

The Prophet (ﷺ) said, "Whenever anyone of you makes water he should not hold his penis or clean his private parts with his right hand. (And while drinking) one should not breathe in the drinking utensil ."

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے اوزاعی نے یحییٰ بن کثیر کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنا عضو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے ، نہ داہنے ہاتھ سے طہارت کرے ، نہ ( پانی پیتے وقت ) برتن میں سانس لے ۔

আবূ ক্বাতাদা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ তোমাদের কেউ যখন পেশাব করে তখন সে যেন কখনো ডান হাত দিয়ে তার পুরুষাঙ্গ না ধরে এবং ডান হাত দিয়ে শৌচকার্য না করে এবং পান করার সময় যেন পাত্রের মধ্যে শ্বাস না ছাড়ে। (১৫৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 20
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 156
Hadith 155

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اتَّبَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَكَانَ لاَ يَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ ‏ "‏ ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا ـ أَوْ نَحْوَهُ ـ وَلاَ تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلاَ رَوْثٍ ‏"‏‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ بِطَرَفِ ثِيَابِي فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَعْرَضْتُ عَنْهُ، فَلَمَّا قَضَى أَتْبَعَهُ بِهِنَّ‏.‏

Narrated Abu Huraira:

I followed the Prophet (ﷺ) while he was going out to answer the call of nature. He used not to look this way or that. So, when I approached near him he said to me, "Fetch for me some stones for ' cleaning the privates parts (or said something similar), and do not bring a bone or a piece of dung." So I brought the stones in the corner of my garment and placed them by his side and I then went away from him. When he finished (from answering the call of nature) he used, them .

ہم سے احمد بن محمد المکی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو المکی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا ۔ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک مرتبہ ) رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( چلتے وقت ) ادھر ادھر نہیں دیکھا کرتے تھے ۔ تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا ۔ ( مجھے دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پتھر ڈھونڈ دو ، تاکہ میں ان سے پاکی حاصل کروں ، یا اسی جیسا ( کوئی لفظ ) فرمایا اور فرمایا کہ ہڈی اور گوبر نہ لانا ۔ چنانچہ میں اپنے دامن میں پتھر ( بھر کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں رکھ دئیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹ گیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( قضاء حاجت سے ) فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھروں سے استنجاء کیا ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) প্রকৃতির ডাকে সাড়া দিতে বের হলে আমি তাঁর অনুসরণ করলাম। আর তিনি এদিক-ওদিক চাইতেন না। যখন আমি তাঁর নিকটবর্তী হলাম তখন তিনি আমাকে বললেনঃ ‘আমাকে কিছু পাথর কুড়িয়ে দাও, আমি তা দিয়ে শৌচকার্য সারব’ (বর্ণনাকারী বলেন), বা এ ধরনের কোন কথা বললেন, আর আমার জন্য হাড্ডি বা গোবর আনবে না।’ তখন আমি আমার কাপড়ের কোচায় করে কয়েকটি পাথর এনে তাঁর পাশে রেখে আমি তাঁর নিকট হতে সরে গেলাম। তিনি প্রয়োজন মিটিয়ে সেগুলো কাজে লাগালেন। (৩৮৬০ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 21
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 157
Hadith 156

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ ‏ "‏ هَذَا رِكْسٌ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ‏.‏

Narrated `Abdullah:

The Prophet (ﷺ) went out to answer the call of nature and asked me to bring three stones. I found two stones and searched for the third but could not find it. So took a dried piece of dung and brought it to him. He took the two stones and threw away the dung and said, "This is a filthy thing."

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے ابواسحاق کے واسطے سے نقل کیا ، ابواسحاق کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابوعبیدہ نے ذکر نہیں کیا ۔ لیکن عبدالرحمٰن بن الاسود نے اپنے باپ سے ذکر کیا ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے گئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں تین پتھر تلاش کر کے آپ کے پاس لاؤں ۔ لیکن مجھے دو پتھر ملے ۔ تیسرا ڈھونڈا مگر مل نہ سکا ۔ تو میں نے خشک گوبر اٹھا لیا ۔ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر ( تو ) لے لیے ( مگر ) گوبر پھینک دیا اور فرمایا یہ خود ناپاک ہے ۔ ( اور یہ حدیث ) ابراہم بن یوسف نے اپنے باپ سے بیان کی ۔ انھوں نے ابواسحاق سے سنا ، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ۔

‘আবদুল্লাহ্ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদা শৌচ কাজে যাবার সময় তিনটি পাথর কুড়িয়ে দিতে আমাকে নির্দেশ করলেন। তখন আমি দু’টি পাথর পেলাম এবং আরেকটি খুঁজলাম কিন্তু পেলাম না। তাই একখন্ড শুকনো গোবর নিয়ে তাঁর নিকট গেলাম। তিনি পাথর দু’টি নিলেন এবং গোবর খন্ড ফেলে দিয়ে বললেন, এটা অপবিত্র। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 22
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 158
Hadith 157

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرَّةً مَرَّةً‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:

The Prophet (ﷺ) performed ablution by washing the body parts only once.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے زید بن اسلم کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا ۔

ইব্‌নু আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ‘নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক উযূতে একবার করে ধুয়েছেন। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 23
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 159
Hadith 158

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Zaid:

The Prophet (ﷺ) performed ablution by washing the body parts twice.

ہم سے حسین بن عیسیٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عباد بن تمیم سے نقل کرتے ہیں ، وہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء کو دو دو بار دھویا ۔

‘আবদুল্লাহ্ ইব্‌ন যায়দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ‘নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) উযূতে দু’বার করে ধুয়েছেন।’ (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬০)

In-book reference : Book 4, Hadith 24
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 160
Hadith 159

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثَ مِرَارٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Humran:

(the slave of 'Uthman) I saw 'Uthman bin 'Affan asking for a tumbler of water (and when it was brought) he poured water over his hands and washed them thrice and then put his right hand in the water container and rinsed his mouth, washed his nose by putting water in it and then blowing it out. then he washed his face and forearms up to the elbows thrice, passed his wet hands over his head and washed his feet up to the ankles thrice. Then he said, "Allah's Messenger (ﷺ) said 'If anyone performs ablution like that of mine and offers a two-rak'at prayer during which he does not think of anything else (not related to the present prayer) then his past sins will be forgiven.' "

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ الاویسی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں ، انہیں عطاء بن یزید نے خبر دی ، انہیں حمران حضرت عثمان کے مولیٰ نے خبر دی کہ

انھوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انھوں نے ( حمران سے ) پانی کا برتن مانگا ۔ ( اور لے کر پہلے ) اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر انہیں دھویا ۔ اس کے بعد اپنا داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا ۔ اور ( پانی لے کر ) کلی کی اور ناک صاف کی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر ( پانی لے کر ) ٹخنوں تک تین مرتبہ اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے ، پھر دو رکعت پڑھے ، جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کرے ۔ تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔

হুমরান (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি ‘উসমান ইব্‌নু আফ্‌ফান (রাঃ)-কে দেখেছেন যে, তিনি পানির পাত্র আনিয়ে উভয় হাতের তালুতে তিনবার ঢেলে তা ধুয়ে নিলেন। অতঃপর ডান হাত পাত্রের মধ্যে ঢুকালেন। তারপর কুলি করলেন ও নাকে পানি দিয়ে নাক পরিস্কার করলেন। তারপর তাঁর মুখমন্ডল তিনবার ধুয়ে এবং দু’হাত কনুই পর্যন্ত তিনবার ধুলেন। অতঃপর মাথা মাস্‌হ করলেন। অতঃপর দুই পা টাখনু পর্যন্ত তিনবার ধুলেন। পরে বললেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ ‘যে ব্যক্তি আমার মত এ রকম উযূ করবে, অতঃপর দু’রাক’আত সালাত আদায় করবে, যাতে দুনিয়ার কোন খেয়াল করবে না, তার পূর্বের গুনাহ্ ক্ষমা করে দেয়া হবে। (১৬০, ১৬৪, ১৯৩৪, ৬৪৩৩; মুসলিম ২/৩, হাঃ ২২৬, আহমাদ ৪৯৩, ৫১৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬১)

In-book reference : Book 4, Hadith 25
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 161
Hadith 160

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ عَنْ حُمْرَانَ،، فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا لَوْلاَ آيَةٌ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّي الصَّلاَةَ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ حَتَّى يُصَلِّيَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ‏}‏‏.‏

After performing the ablution 'Uthman said, "I am going to tell you a Hadith which I would not have told you, had I not been compelled by a certain Holy Verse (the sub narrator 'Urwa said:

This verse is: "Verily, those who conceal the clear signs and the guidance which we have sent down...)" (2:159). I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'If a man performs ablution perfectly and then offers the compulsory congregational prayer, Allah will forgive his sins committed between that (prayer) and the (next) prayer till he offers it.

اور روایت کی عبدالعزیز نے ابراہیم سے ، انھوں نے صالح بن کیسان سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، لیکن عروہ حمران سے روایت کرتے ہیں کہ

جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو فرمایا میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں ، اگر قرآن پاک کی ایک آیت ( نازل ) نہ ہوتی تو میں یہ حدیث تم کو نہ سناتا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب بھی کوئی شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے اور ( خلوص کے ساتھ ) نماز پڑھتا ہے تو اس کے ایک نماز سے دوسری نماز کے پڑھنے تک کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔ عروہ کہتے ہیں وہ آیت یہ ہے «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات‏» ( جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ) جو لوگ اللہ کی اس نازل کی ہوئی ہدایت کو چھپاتے ہیں جو اس نے لوگوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ( دوسرے ) لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے ۔

ইব্‌নু শিহাব (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, ‘উরওয়াহ হুমরান থেকে বর্ণনা করেন, ‘উসমান (রাঃ) উযূ করে বললেন, আমি তোমাদের নিকট একটি হাদীস পেশ করব। যদি একটি আয়াতে কারীমা না হত, তবে আমি তোমাদের নিকট এ হাদীস বলতাম না। আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি, যে কোন ব্যক্তি সুন্দর করে উযূ করবে এবং সালাত আদায় করবে, পরবর্তী সালাত আদায় করা পর্যন্ত তার মধ্যবর্তী সকল গুনাহ ক্ষমা করে দেয়া হবে। ‘উরওয়াহ (রহঃ) বলেন, إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ‏ সে আয়াতটি হল : “আমি যে সব স্পষ্ট নিদর্শন অবতীর্ণ করেছি তা যারা গোপন করে...।” (সূরা বাক্বারাহ : ১৫৯) (১৫৯; মুসলিম ২/৪, হাঃ ২২৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫৬ শেষাংশ, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬১ শেষাংশ)

In-book reference : Book 4, Hadith 26
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 161
Hadith 161

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:

The Prophet (ﷺ) said, "Whoever performs ablution should clean his nose with water by putting the water in it and then blowing it out, and whoever cleans his private parts with stones should do it with odd number of stones."

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا انہیں یونس نے زہری کے واسطے سے خبر دی ، کہا انہیں ابوادریس نے بتایا ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے چاہیے کہ ناک صاف کرے اور جو پتھر سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد ( یعنی ایک یا تین یا پانچ ہی ) سے کرے ۔

আবূ ইদরিস (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি আবূ হুরায়রা (রাঃ)-কে বলতে শুনেছেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ যে ব্যক্তি উযূ করে সে যেন নাকে পানি দিয়ে নাক পরিস্কার করে। আর যে শৌচকার্য করে সে যেন বিজোড় সংখ্যক ঢিলা ব্যবহার করে। (১৬২; মুসলিম ২/৮, হাঃ ২৩৭, আহমাদ ১০৭২৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬২)

In-book reference : Book 4, Hadith 27
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 162
Hadith 162

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْثُرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you performs ablution he should put water in his nose and then blow it out and whoever cleans his private parts with stones should do so with odd numbers. And whoever wakes up from his sleep should wash his hands before putting them in the water for ablution, because nobody knows where his hands were during sleep."

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو مالک نے ابوالزناد کے واسطے سے خبر دی ، وہ اعرج سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی دے پھر ( اسے ) صاف کرے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ بے جوڑ عدد ( یعنی ایک یا تین ) سے استنجاء کرے اور جب تم میں سے کوئی سو کر اٹھے ، تو وضو کے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اسے دھو لے ۔ کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তোমাদের মধ্যে কেউ যখন উযূ করে তখন সে যেন তার নাকে পানি দিয়ে ঝাড়ে। আর যে শৌচকার্য করে সে যেন বিজোড় সংখ্যায় ঢিলা ব্যবহার করে। আর তোমাদের কেউ যখন ঘুম থেকে জাগে তখন সে যেন উযূর পানিতে হাত ঢুকানোর পূর্বে তা ধুয়ে নেয়; কারণ তোমাদের কেউ জানে না যে, ঘুমন্ত অবস্থায় তার হাত কোথায় থাকে। (১৬১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 28
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 163
Hadith 163

حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تَخَلَّفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنَّا فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقْنَا الْعَصْرَ، فَجَعَلْنَا نَتَوَضَّأُ وَنَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Amr:

The Prophet (ﷺ) remained behind us on a journey. He joined us while we were performing ablution for the `Asr prayer which was overdue and we were just passing wet hands over our feet (not washing them thoroughly) so he addressed us in a loud voice saying twice , "Save your heels from the fire."

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے ابوعوانہ نے ، وہ ابوبشر سے ، وہ یوسف بن ماہک سے ، وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ

( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے ۔ پھر ( تھوڑی دیر بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پا لیا اور عصر کا وقت آ پہنچا تھا ۔ ہم وضو کرنے لگے اور ( اچھی طرح پاؤں دھونے کی بجائے جلدی میں ) ہم پاؤں پر مسح کرنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ويل للأعقاب من النار» ’’ ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ‘‘ دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا ۔

‘আবদুল্লাহ্ ইব্‌নু ‘আমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক সফরে আমাদের পিছনে রয়ে গিয়েছিলেন, অতঃপর তিনি আমাদের নিকট পৌঁছে গেলেন। তখন আমরা আসরের সালাত শুরু করতে দেরী করে ফেলেছিলাম। তাই আমরা উযূ করছিলাম এবং (তাড়াতাড়ির কারণে) আমাদের পা মাস্‌হ করার মতো হালকাভাবে ধুয়ে নিচ্ছিলাম। তখন তিনি উচ্চৈস্বঃরে বললেনঃ ‘পায়ের গোড়ালিগুলোর জন্য জাহান্নামের শাস্তি রয়েছে।’ দু’বার অথবা তিনবার তিনি একথার পুনরাবৃত্তি করলেন। (৬০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 29
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 164
Hadith 164

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ، فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ ثَلاَثًا، ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Humran:

(the freed slave of `Uthman bin `Affan) I saw `Uthman bin `Affan asking (for a tumbler of water) to perform ablution (and when it was brought) he poured water from it over his hands and washed them thrice and then put his right hand in the water container and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out. Then he washed his face thrice and (then) forearms up to the elbows thrice, then passed his wet hands over his head and then washed each foot thrice. After that `Uthman said, "I saw the Prophet (ﷺ) performing ablution like this of mine, and he said, 'If anyone performs ablution like that of mine and offers a two-rak`at prayer during which he does not think of anything else (not related to the present prayer) then his past sins will be forgiven. '

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے زہری کے واسطے سے خبر دی ، کہا ہم کو عطاء بن یزید نے حمران مولیٰ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ

انھوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی ( لے کر ) ڈالا ۔ پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا ۔ پھر اپنا داہنا ہاتھ وضو کر کے پانی میں ڈالا ۔ پھر کلی کی ، پھر ناک میں پانی دیا ، پھر ناک صاف کی ۔ پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا اور کہنیوں تک تین دفعہ ہاتھ دھوئے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ۔ پھر ہر ایک پاؤں تین دفعہ دھویا ۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ میرے اس وضو جیسا وضو فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور ( حضور قلب سے ) دو رکعت پڑھے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے ۔

‘উসমান ইব্‌নু ‘আফ্‌ফান (রাঃ)-এর মুক্ত করা দাস হুমরান (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি ‘উসমান (রাঃ)-কে উযূর পানি আনাতে দেখলেন। অতঃপর তিনি সে পাত্র হতে উভয় হাতের উপর পানি ঢেলে তা তিনবার ধুলেন। অতঃপর তাঁর ডান হাত পানিতে ঢুকালেন। অতঃপর কুলি করলেন এবং নাকে পানি দিয়ে নাক ঝাড়লেন। অতঃপর তাঁর মুখমন্ডল তিনবার এবং উভয় হাত কনুই পর্যন্ত তিনবার ধুলেন, অতঃপর মাথা মাস্‌হ করলেন। অতঃপর উভয় পা তিনবার ধোয়ার পর বললেনঃ আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে আমার এ উযূর ন্যায় উযূ করতে দেখেছি এবং আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ ‘যে ব্যক্তি আমার এ উযূর ন্যায় উযূ করে দু’রাক’আত সালাত আদায় করবে এবং তার মধ্যে অন্য কোন চিন্তা মনে আনবে না, আল্লাহ্ তা’আলা তার পূর্বকৃত সকল গুনাহ ক্ষমা করে দেবেন।’ (১৫৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 30
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 165
Hadith 165

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ ـ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏

Narrated Muhammad Ibn Ziyad:

I heard Abu Huraira saying as he passed by us while the people were performing ablution from a utensil containing water, "Perform ablution perfectly and thoroughly for Abul-Qasim (the Prophet) said, 'Save your heels from the Hell-fire.' "

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا

وہ ہمارے پاس سے گزرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے ۔ آپ نے کہا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( خشک ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔

মুহাম্মাদ ইব্‌নু যিয়াদ (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আবূ হুরায়রা (রাঃ) আমাদের নিকট দিয়ে অতিক্রম করছিলেন। লোকেরা সে সময় পাত্র থেকে উযূ করছিল। তখন তাঁকে বলতে শুনেছি, তোমরা উত্তমরূপে উযূ কর। কারণ আবুল কাসিম (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ পায়ের গোড়ালিগুলোর জন্য জাহান্নামের ‘আযাব রয়েছে। (মুসলিম ২/৯, হাঃ ২৪২, আহমাদ ৯২৭৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 31
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 166
Hadith 166

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا‏.‏ قَالَ وَمَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النَّعْلَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ‏.‏

Narrated `Ubaid Ibn Juraij:

I asked `Abdullah bin `Umar, "O Abu `Abdur-Rahman! I saw you doing four things which I never saw being done by anyone of you companions?" `Abdullah bin `Umar said, "What are those, O Ibn Juraij?" I said, "I never saw you touching any corner of the Ka`ba except these (two) facing south (Yemen) and I saw you wearing shoes made of tanned leather and dyeing your hair with Hinna (a kind of red dye). I also noticed that whenever you were in Mecca, the people assume Ihram on seeing the new moon crescent (1st of Dhul-Hijja) while you did not assume the Ihlal (Ihram) -(Ihram is also called Ihlal which means 'Loud calling' because a Muhrim has to recite Talbiya aloud when assuming the state of Ihram) - till the 8th of Dhul-Hijja (Day of Tarwiya). `Abdullah replied, "Regarding the corners of Ka`ba, I never saw Allah's Messenger (ﷺ) touching except those facing south (Yemen) and regarding the tanned leather shoes, no doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) wearing non-hairy shoes and he used to perform ablution while wearing the shoes (i.e. wash his feet and then put on the shoes). So I love to wear similar shoes. And about the dyeing of hair with Hinna; no doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) dyeing his hair with it and that is why I like to dye (my hair with it). Regarding Ihlal, I did not see Allah's Messenger (ﷺ) assuming Ihlal till he set out for Hajj (on the 8th of Dhul-Hijja).

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو مالک نے سعید المقبری کے واسطے سے خبر دی ، وہ عبیداللہ بن جریج سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عمر سے کہا

اے ابوعبدالرحمن ! میں نے تمہیں چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جنھیں تمہارے ساتھیوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ وہ کہنے لگے ، اے ابن جریج ! وہ کیا ہیں ؟ ابن جریج نے کہا کہ میں نے طواف کے وقت آپ کو دیکھا کہ دو یمانی رکنوں کے سوا کسی اور رکن کو آپ نہیں چھوتے ہو ۔ ( دوسرے ) میں نے آپ کو بستی جوتے پہنے ہوئے دیکھا اور ( تیسرے ) میں نے دیکھا کہ آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہو اور ( چوتھی بات ) میں نے یہ دیکھی کہ جب آپ مکہ میں تھے ، لوگ ( ذی الحجہ کا ) چاند دیکھ کر لبیک پکارنے لگتے ہیں ۔ ( اور ) حج کا احرام باندھ لیتے ہیں اور آپ آٹھویں تاریخ تک احرام نہیں باندھتے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ ( دوسرے ) ارکان کو تو میں یوں نہیں چھوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور رہے جوتے ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا کہ جن کے چمڑے پر بال نہیں تھے اور آپ انہیں کو پہنے پہنے وضو فرمایا کرتے تھے ، تو میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کی بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ رنگتے ہوئے دیکھا ہے ۔ تو میں بھی اسی رنگ سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور احرام باندھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا جب تک آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ چل پڑتی ۔

‘উবায়দ ইব্‌নু জুরায়জ (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি ‘আবদুল্লাহ্ ইব্‌নু ‘উমর (রাঃ)-কে বললেন, ‘হে আবূ ‘আবদুর রহমান! আমি আপনাকে এমন চারটি কাজ করতে দেখি, যা আপনার অন্য কোন সাথীকে দেখি না।’ তিনি বললেন, ‘ইব্‌নু জুরায়জ, সেগুলো কী?’ তিনি বললেন, আমি দেখি, (১) আপনি ত্বওয়াফ করার সময় দুই রুকনে ইয়ামানী ব্যতীত অন্য রুক্‌ন স্পর্শ করেন না। (২) আপনি ‘সিবতী’ (পশমবিহীন) জুতা পরিধান করেন; (৩) আপনি (কাপড়ে) হলুদ রং ব্যবহার করেন এবং (৪) আপনি যখন মক্কায় থাকেন লোকে চাঁদ দেখে ইহ্‌রাম বাঁধে; কিন্তু আপনি তারবিয়ার দিন (৮ই যিলহজ্জ) না এলে ইহরাম বাঁধেন না। ‘আবদুল্লাহ্ (রাঃ) বললেনঃ রুক্‌নের কথা যা বলেছ, তা এজন্য করি যে আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে ইয়ামানী রুকনদ্বয় ব্যতীত আর কোনটি স্পর্শ করতে দেখিনি। আর ‘সিবতী’ জুতা, আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে সিবতী জুতা পরতে এবং তা পরিহিত অবস্থায় উযূ করতে দেখেছি, তাই আমি তা পরতে ভালবাসি। আর হলুদ রং, আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে তা দিয়ে কাপড় রঙিন করতে দেখেছি, তাই আমিও তা দিয়ে রঙিন করতে ভালবাসি। আর ইহরাম, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে নিয়ে তাঁর সওয়ারী রওনা না হওয়া পর্যন্ত আমি তাঁকে ইহরাম বাঁধতে দেখিনি। (১৫১৪, ১৫৫২, ১৬০৯, ২৮৬৫, ৫৮৫১; মুসলিম ১৫/৫, হাঃ ১১৮৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 32
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 167
Hadith 167

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَهُنَّ فِي غُسْلِ ابْنَتِهِ ‏ "‏ ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ‏"‏‏.‏

Narrated Um-`Atiya:

That the Prophet (ﷺ) at the time of washing his deceased daughter had said to them, "Start from the right side beginning with those parts which are washed in ablution."

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے ، ان سے خالد نے حفصہ بنت سیرین کے واسطے سے نقل کیا ، وہ ام عطیہ سے روایت کرتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( مرحومہ ) صاحبزادی ( حضرت زینب رضی اللہ عنہا ) کو غسل دینے کے وقت فرمایا تھا کہ غسل داہنی طرف سے دو ، اور اعضاء وضو سے غسل کی ابتداء کرو ۔

উম্মু আতিয়্যাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর মেয়ে [ যায়নাব (রাঃ) ]-কে গোসল করানোর সময় তাঁদের বলেছিলেনঃ তোমরা তার ডান দিক হতে এবং উযূর অংগ হতে আরম্ভ কর। (১২৫৩ হতে ১২৬৩ পর্যন্ত) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 33
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 168
Hadith 168

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي تَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَطُهُورِهِ وَفِي شَأْنِهِ كُلِّهِ‏.‏

Narrated `Aisha:

The Prophet (ﷺ) used to like to start from the right side on wearing shoes, combing his hair and cleaning or washing himself and on doing anything else.

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، انہیں اشعث بن سلیم نے خبر دی ، ان کے باپ نے مسروق سے سنا ، وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے ، کنگھی کرنے ، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتداء کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے ۔

‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) জুতা পরা, চুল আচঁড়ানো এবং পবিত্রতা অর্জন করা তথা প্রত্যেক কাজই ডান দিক হতে আরম্ভ করতে পছন্দ করতেন। (৪২৬, ৫৩৮০, ৫৮৫৪, ৫৯২৬; মুসলিম ১৫/৫, হাঃ ১১৮৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 34
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 169
Hadith 169

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

saw Allah's Messenger (ﷺ) when the `Asr prayer was due and the people searched for water to perform ablution but they could not find it. Later on (a pot full of) water for ablution was brought to Allah's Apostle . He put his hand in that pot and ordered the people to perform ablution from it. I saw the water springing out from underneath his fingers till all of them performed the ablution (it was one of the miracles of the Prophet).

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم کو مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے خبر دی ، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز عصر کا وقت آ گیا ، لوگوں نے پانی تلاش کیا ، جب انہیں پانی نہ ملا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ایک برتن میں ) وضو کے لیے پانی لایا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اسی ( برتن ) سے وضو کریں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ( چشمے کی طرح ) ابل رہا تھا ۔ یہاں تک کہ ( قافلے کے ) آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا ۔

আনাস ইব্‌নু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে দেখলাম, তখন আসরের সালাতের সময় হয়ে গিয়েছিল। আর লোকজন উযূর পানি খুঁজতে লাগল কিন্তু পেল না। তারপর আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট কিছু পানি আনা হল। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সে পাত্রে তাঁর হাত রাখলেন এবং লোকজনকে তা থেকে উযূ করতে বললেন। আনাস (রাঃ) বলেন, সে সময় আমি দেখলাম, তাঁর আঙ্গুলের নীচ থেকে পানি উপচে পড়ছে। এমনকি তাদের শেষ ব্যক্তি পর্যন্ত তার দ্বারা উযূ করল। (১৯৫, ২০০, ৩৫৭২ হতে ৩৫৭৫ পর্যন্ত; মুসলিম ৪৩/৩, হাঃ ২২৭৯, আহমাদ ১২৪৯৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭০)

In-book reference : Book 4, Hadith 35
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 170
Hadith 170

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبِيدَةَ عِنْدَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ، أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ فَقَالَ لأَنْ تَكُونَ عِنْدِي شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا‏.‏

Narrated Ibn Seereen:

I said to `Abida, "I have some of the hair of the Prophet (ﷺ) which I got from Anas or from his family." `Abida replied. "No doubt if I had a single hair of that it would have been dearer to me than the whole world and whatever is in it."

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے عاصم کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابن سیرین سے نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ

ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال ( مبارک ) ہیں ، جو ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یا انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں ۔ ( یہ سن کر ) عبیدہ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے ۔

ইব্‌নু সীরীন (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি আবীদাকে বললাম, আমাদের নিকট নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর চুল রয়েছে যা আমরা আনাস (রাঃ)-এর নিকট হতে কিংবা আনাস (রাঃ)-এর পরিবারের নিকট হতে পেয়েছি। তিনি বললেন, তাঁর একটি চুল আমার নিকট থাকাটা দুনিয়া এবং দুনিয়ার মধ্যে যা কিছু রয়েছে তা অর্জনের চেয়ে অধিক পছন্দের। (১৭১ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭১)

In-book reference : Book 4, Hadith 36
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 171
Hadith 171

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا حَلَقَ رَأْسَهُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَوَّلَ مَنْ أَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ‏.‏

Narrated Anas:

When Allah's Messenger (ﷺ) got his head shaved, Abu- Talha was the first to take some of his hair.

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی انھوں نے ، کہا ہم سے عباد نے ابن عون کے واسطے سے بیان کیا ۔ وہ ابن سیرین سے ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) جب سر کے بال منڈوائے تو سب سے پہلے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال لیے تھے ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর মাথা মুন্ডন করলে আবূ তালহা (রাঃ)-ই প্রথমে তাঁর চুল সংগ্রহ করেন। (১৭০; মুসলিম ১৫/৫৬, হাঃ ১৩০৫, আহমাদ ১২০৯৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭২)

In-book reference : Book 4, Hadith 37
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 172
Hadith 172

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a dog drinks from the utensil of anyone of you it is essential to wash it seven times."

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی ، وہ اعرج سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے ( کچھ ) پی لے تو اس کو سات مرتبہ دھو لو ( تو پاک ہو جائے گا ) ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, তোমাদের কারো পাত্রে যদি কুকুর পান করে তা যেন সাতবার ধুয়ে নেয়। (মুসলিম ২/২৭, হাঃ ২৭৯, আহমাদ ৭৩৫০, ৭৩৫১,৭৪৫১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 38
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 173
Hadith 173

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّ رَجُلاً رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:

The Prophet (ﷺ) said, "A man saw a dog eating mud from (the severity of) thirst. So, that man took a shoe (and filled it) with water and kept on pouring the water for the dog till it quenched its thirst. So Allah approved of his deed and made him to enter Paradise."

ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی ، کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، انھوں نے اپنے باپ سے سنا ، وہ ابوصالح سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا ، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا ۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا ، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا ۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ (পূর্ব যুগে) জনৈক ব্যক্তি একটি কুকুরকে তৃষ্ণার্ত অবস্থায় ভিজা মাটি চাটতে দেখতে পেয়ে তার মোজা নিল এবং কুকুরটির জন্য কুয়া হতে পানি এনে দিতে লাগল যতক্ষণ না সে ওর তৃষ্ণা মিটাল। আল্লাহ্‌ এর বিনিময় দিলেন এবং তাকে জান্নাতে প্রবেশ করালেন। (২৩৬৩, ২৪৬৬, ৬০০৯ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 39
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 174
Hadith 174

وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتِ الْكِلاَبُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ‏.‏

And narrated Hamza bin 'Abdullah:

My father said. "During the lifetime of Allah's Apostle, the dogs used to urinate, and pass through the mosques (come and go), nevertheless they never used to sprinkle water on it (urine of the dog.)"

احمد بن شبیب نے کہا کہ ہم سے میرے والد نے یونس کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں ، انھوں نے کہا مجھ سے حمزہ بن عبداللہ نے اپنے باپ ( یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کے واسطے سے بیان کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے ۔

‘আবদুল্লাহ্‌ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর যামানায় কুকুর মসজিদের ভিতর দিয়ে আসা-যাওয়া করত অথচ এজন্য তাঁরা কোথাও পানি ছিটিয়ে দিতেন না। (আ.প্র. ১৬৯ শেষাংশ, ই.ফা. ১৭৪ শেষাংশ)

In-book reference : Book 4, Hadith 40
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 174
Hadith 175

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِذَا أَكَلَ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى كَلْبٍ آخَرَ ‏"‏‏.‏

Narrated `Adi bin Hatim:

I asked the Prophet (about the hunting dogs) and he replied, "If you let loose (with Allah's name) your tamed dog after a game and it hunts it, you may eat it, but if the dog eats of (that game) then do not eat it because the dog has hunted it for itself." I further said, "Sometimes I send my dog for hunting and find another dog with it. He said, "Do not eat the game for you have mentioned Allah's name only on sending your dog and not the other dog."

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ابن ابی السفر کے واسطے سے بیان کیا ، وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں ، وہ عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کتے کے شکار کے متعلق ) دریافت کیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور وہ شکار کر لے تو ، تو اس ( شکار ) کو کھا اور اگر وہ کتا اس شکار میں سے خود ( کچھ ) کھا لے تو ، تو ( اس کو ) نہ کھائیو ۔ کیونکہ اب اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے ۔ میں نے کہا کہ بعض دفعہ میں ( شکار کے لیے ) اپنے کتے چھوڑتا ہوں ، پھر اس کے ساتھ دوسرے کتے کو بھی پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ پھر مت کھا ۔ کیونکہ تم نے «بسم الله» اپنے کتے پر پڑھی تھی ۔ دوسرے کتے پر نہیں پڑھی ۔

‘আদী ইব্‌নু হাতিম (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি (প্রশিক্ষণপ্রাপ্ত কুকুর সম্পর্কে) নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে প্রশ্ন করলে তিনি বলেনঃ তুমি যখন তোমার প্রশিক্ষণপ্রাপ্ত কুকুর শিকার ধরতে ছেড়ে দাও, তখন সে হত্যা করলে তা তুমি খেতে পার। আর সে তার অংশবিশেষ খেয়ে ফেললে তুমি তা খাবে না। কারণ সে তা নিজের জন্যই শিকার করেছে। আমি বললামঃ কখনো কখনো আমি আমার কুকুর (শিকারে) পাঠিয়ে দেই, অতঃপর তার সঙ্গে অন্য এক কুকুরও দেখতে পাই (এমতাবস্থায় শিকারকৃত প্রাণীর কী হুকুম)? তিনি বললেনঃ তবে খেও না। কারণ তুমি বিসমিল্লাহ্‌ বলেছ কেবল তোমার কুকুরের বেলায়, অন্য কুকুরের বেলায় বিসমিল্লাহ্‌ বলনি। (২০৫৪, ৫৪৭৫, ৫৪৭৬, ৫৪৭৭, ৫৪৮৩ হতে ৫৪৮৭,৭৩৯৭ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 41
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 175
Hadith 176

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ، مَا لَمْ يُحْدِثْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَعْجَمِيٌّ مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ الصَّوْتُ‏.‏ يَعْنِي الضَّرْطَةَ‏.‏

Narrated Abu Huraira:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "A person is considered in prayer as long as he is waiting for the prayer in the mosque as long as he does not do Hadath." A non-Arab man asked, "O Abu Huraira! What is Hadath?" I replied, "It is the passing of wind (from the anus) (that is one of the types of Hadath).

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے سعید المقبری نے بیان کیا ، وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے ۔ تاوقیتکہ وہ حدث نہ کرے ۔ ایک عجمی آدمی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ ! حدث کیا چیز ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہوا جو پیچھے سے خارج ہو ۔ ( جسے عرف عام میں گوز مارنا کہتے ہیں ) ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ বান্দা যে সময়টা মসজিদে সালাতের অপেক্ষায় থাকে, তার সে পুরো সময়টাই সালাতের মধ্যে গণ্য হয় যতক্ষণ না সে হাদাস করে। জনৈক অনারব বলল, হে আবূ হুরায়রা ! ‘হাদাস কি?’ তিনি বললেন, ‘শব্দ করে বায়ু বের হওয়া।’ (৪৪৫, ৪৭৭, ৬৪৭, ৬৪৮, ৬৫৯, ২১১৯, ৩২২৯, ৪৭১৭ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 42
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 176
Hadith 177

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ‏"‏‏.‏

Narrated `Abbad bin Tamim:

My uncle said: The Prophet (ﷺ) said, "One should not leave his prayer unless he hears sound or smells something."

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عیینہ نے ، وہ زہری سے ، وہ عباد بن تمیم سے ، وہ اپنے چچا سے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نمازی نماز سے ) اس وقت تک نہ پھرے جب تک ( ریح کی ) آواز نہ سن لے یا اس کی بو نہ پا لے ۔

‘আব্বাস ইব্‌নু তামীম (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি তাঁর চাচার সূত্রে বর্ণনা করেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ (কোন মুসল্লী) সালাত থেকে সরে থাকবে না যতক্ষণ না সে শব্দ শুনতে পায় কিংবা গন্ধ পায়। (১৩৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 43
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 177
Hadith 178

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏ "‏ فِيهِ الْوُضُوءُ ‏"‏‏.‏ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏

Narrated `Ali:

I used to get emotional urethral discharges frequently and felt shy to ask Allah's Messenger (ﷺ) about it. So I requested Al-Miqdad bin Al-Aswad to ask (the Prophet (ﷺ) ) about it. Al-Miqdad asked him and he replied, "One has to perform ablution (after it)."

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا ، وہ منذر سے ، وہ ابویعلیٰ ثوری سے ، وہ محمد ابن الحنفیہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ

میں ایسا آدمی تھا جس کو سیلان مذی کی شکایت تھی ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے مجھے شرم آئی ۔ تو میں نے ابن الاسود کو حکم دیا ، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں وضو کرنا فرض ہے ۔ اس روایت کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا ۔

মুহাম্মাদ ইব্‌নুল হানাফিয়্যাহ (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আলী (রাঃ) বলেছেন, আমার অধিক পরিমাণে মযী বের হতো। কিন্তু আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট এ সম্পর্কে জিজ্ঞেস করতে লজ্জাবোধ করছিলাম। তাই আমি মিকদাদ ইব্‌নু আসওয়াদ (রাঃ) কে অনুরোধ করলাম, তিনি যেন আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-নিকট জিজ্ঞেস করেন। তিনি তাঁকে জিজ্ঞেস করলেন। তিনি বলেনঃ এতে শুধু উযূ করতে হয়। হাদীসটি শু’বাহ (রহঃ) আ’মাশ (রহঃ) থেকে বর্ণনা করেছেন। (১৩২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 44
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 178
Hadith 179

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنْ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ـ رضى الله عنه ـ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ فَلَمْ يُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ‏.‏ قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا، وَالزُّبَيْرَ، وَطَلْحَةَ، وَأُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ ـ رضى الله عنهم ـ فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ‏.‏

Narrated Zaid bin Khalid:

I asked `Uthman bin `Affan about a person who engaged in intercourse but did no discharge. `Uthman replied, "He should perform ablution like the one for an ordinary prayer but he must wash his penis." `Uthman added, "I heard it from Allah's Messenger (ﷺ)." I asked `Ali Az-Zubair, Talha and Ubai bin Ka`b about it and they, too, gave the same reply. (This order was canceled later on and taking a bath became necessary for such cases).

ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ عطاء بن یسار سے نقل کرتے ہیں ، انہیں زید بن خالد نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ

اگر کوئی شخص صحبت کرے اور منی نہ نکلے ۔ فرمایا کہ وضو کرے جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے اور اپنے عضو کو دھولے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( یہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ ( زید بن خالد کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے اس کے بارے میں حضرت علی ، زبیر ، طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا ۔ سب نے اس شخص کے بارے میں یہی حکم دیا ۔

যায়দ ইব্‌নু খালিদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি ‘উসমান ইব্‌নু আফফান (রাঃ)-কে জিজ্ঞেস করলেনঃ কেউ যদি স্ত্রী সহবাস করে, কিন্তু মনী (বীর্য) বের না হয় (তবে তার হুকুম কী)? ‘উসমান (রাঃ) বললেনঃ ‘সে সালাতের ন্যায় উযূ করে নেবে এবং তার লজ্জাস্থান ধুয়ে ফেলবে। উসমান (রাঃ) বলেন, আমি এ কথা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) থেকে শুনেছি। (যায়দ বলেন) তারপর আমি এ সম্পর্কে আলী (রাঃ), যুবায়র (রাঃ), তালহা (রাঃ) ও উবাই ইব্‌নু কা’ব (রাঃ)-কে জিজ্ঞেস করেছি। তাঁরা আমাকে এ নির্দেশেই দিয়েছেন। [১] (২৯২; মুসলিম ৩/২১, হাঃ ৩৪৭, আহমাদ ৪৫৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 45
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 179
Hadith 180

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ، فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ وَهْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ غُنْدَرٌ وَيَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ‏.‏

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:

Allah's Messenger (ﷺ) sent for a Ansari man who came with water dropping from his head. The Prophet (ﷺ) said, "Perhaps we have forced you to hurry up, haven't we?" The Ansari replied, "Yes." Allah's Messenger (ﷺ) further said, "If you are forced to hurry up (during intercourse) or you do not discharge then ablution is due on you (This order was canceled later on, i.e. one has to take a bath).

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہمیں نضر نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے حکم کے واسطے سے بتلایا ، وہ ذکوان سے ، وہ ابوصالح سے ، وہ ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا ۔ وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا ۔ انھوں نے کہا ، جی ہاں ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی جلدی ( کا کام ) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے ( غسل ضروری نہیں ) ۔

আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) জনৈক আনসারীর নিকট লোক পাঠালেন। তিনি আসলেন। তখন তাঁর মাথা থেকে পানির ফোঁটা ঝরছিল। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ ‘সম্ভবত আমরা তোমাকে তাড়াহুড়া করতে বাধ্য করেছি।’ তিনি বললেন, ‘জী’। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ যখন তাড়াহুড়ার কারণে মনী বের না হবে (অথবা বললেন), মনীর অভাবজনিত কারণে তা বের না হবে তখন উযূ করে নিবে। ওয়াহ্‌ব (রহঃ) শু’বাহ (রহঃ) সূত্রে এ রকমই বর্ণনা করেন। তিনি [ শু’বাহ (রহঃ)] বলেন, আবূ ‘আবদুল্লাহ (রহঃ) বলেছেনঃ গুনদার (রহঃ) ও ইয়াহ্‌ইয়া (রহঃ) শু’বাহ (রহঃ)- এর সূত্রে বর্ণনায় উযূর কথা উল্লেখ করেন নি। [২] (মুসলিম ৩/২১, হাঃ ৩৪৫, আহমাদ ১১১৬২, ১১২০৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮০)

In-book reference : Book 4, Hadith 46
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 180
Hadith 181

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ عَدَلَ إِلَى الشِّعْبِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ‏.‏ قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي فَقَالَ ‏ "‏ الْمُصَلَّى أَمَامَكَ ‏"‏‏.‏

Narrated Usama bin Zaid:

"When Allah's Messenger (ﷺ) departed from `Arafat, he turned towards a mountain pass where he answered the call of nature. (After he had finished) I poured water and he performed ablution and then I said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will you offer the prayer?" He replied, "The Musalla (place of the prayer) is ahead of you (in Al-Muzdalifa).

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے یحییٰ سے خبر دی ، وہ موسیٰ بن عقبہ سے ، وہ کریب ابن عباس کے آزاد کردہ غلام سے ، وہ اسامہ بن زید سے نقل کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے ، تو ( پہاڑ کی ) گھاٹی کی جانب مڑ گئے ، اور رفع حاجت کی ۔ اسامہ کہتے ہیں کہ پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( اعضاء ) پر پانی ڈالنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے رہے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ ( اب ) نماز پڑھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا مقام تمہارے سامنے ( یعنی مزدلفہ میں ) ہے ۔ وہاں نماز پڑھی جائے گی ۔

‘উসামা ইব্‌নু যায়দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন ‘আরাফা হতে ফিরছিলেন, তখন তিনি একটি গিরিপথের দিকে গিয়ে প্রকৃতির ডাকে সাড়া দিলেন। উসামা (রাঃ) বলেন, পরে আমি তাঁকে পানি ঢেলে দিচ্ছিলাম আর তিনি উযূ করেছিলেন। অতঃপর আমি বললাম, হে আল্লাহর রসূল ! আপনি কি সালাত আদায় করবেন? তিনি বললেনঃ সালাতের স্থান তোমার সম্মুখে (অর্থাৎ মুযদালিফায়)।’ (১৩৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮১)

In-book reference : Book 4, Hadith 47
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 181
Hadith 182

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَأَنَّهُ ذَهَبَ لِحَاجَةٍ لَهُ، وَأَنَّ مُغِيرَةَ جَعَلَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَيْهِ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ‏.‏

Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:

I was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) on one of the journeys and he went out to answer the call of nature (and after he finished) I poured water and he performed ablution; he washed his face, forearms and passed his wet hand over his head and over the two Khuff (socks made from thick fabric or leather).

ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، انھوں نے کہا مجھے سعد بن ابراہیم نے نافع بن جبیر بن مطعم سے بتلایا ۔ انھوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے سنا ، وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ

وہ ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ ( وہاں ) آپ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( جب آپ واپس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو شروع کیا ) تو مغیرہ بن شعبہ آپ کے ( اعضاء وضو ) پر پانی ڈالنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے آپ نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو دھویا ، سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا ۔

মুগীরা ইব্‌নু শু’বাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি কোন এক সফরে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)- এর সাথে ছিলেন। এক সময় তিনি প্রকৃতির ডাকে সাড়া দিতে গেলেন। (প্রয়োজন সেরে আসার পর) মুগীরা (রাঃ) তাঁকে পানি ঢেলে দিচ্ছিলেন এবং তিনি উযূ করছিলেন। তিনি তাঁর মুখমন্ডল এবং দু’হাত ধুলেন এবং তাঁর মাথা মাস্‌হ করলেন ও উভয় মোজার উপর মাস্‌হ করলেন। (২০৩, ২০৬, ৩৬৩, ৩৮৮, ২৯১৮, ৪৪২১, ৫৭৯৮, ৫৭৯৯; মুসলিম ২/২২, হাঃ ২৭৪, আহমাদ ১৮১৮৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮২)

In-book reference : Book 4, Hadith 48
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 182
Hadith 183

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ خَالَتُهُ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى، يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Abbas:

That he stayed overnight in the house of Maimuna the wife of the Prophet, his aunt. He added : I lay on the bed (cushion transversally) while Allah's Messenger (ﷺ) and his wife lay in the lengthwise direction of the cushion. Allah's Messenger (ﷺ) slept till the middle of the night, either a bit before or a bit after it and then woke up, rubbing the traces of sleep off his face with his hands. He then, recited the last ten verses of Sura Al-`Imran, got up and went to a hanging water-skin. He then Performed the ablution from it and it was a perfect ablution, and then stood up to offer the prayer. I, too, got up and did as the Prophet had done. Then I went and stood by his side. He placed his right hand on my head and caught my right ear and twisted it. He prayed two rak`at then two rak`at and two rak`at and then two rak`at and then two rak`at and then two rak`at (separately six times), and finally one rak`a (the witr). Then he lay down again in the bed till the Mu'adh-dhin came to him where upon the Prophet (ﷺ) got up, offered a two light rak`at prayer and went out and led the Fajr prayer.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان کے واسطے سے نقل کیا ، وہ کریب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ

انھوں نے ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری ۔ ( وہ فرماتے ہیں کہ ) میں تکیہ کے عرض ( یعنی گوشہ ) کی طرف لیٹ گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ نے ( معمول کے مطابق ) تکیہ کی لمبائی پر ( سر رکھ کر ) آرام فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے اور جب آدھی رات ہو گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد آپ بیدار ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی نیند کو دور کرنے کے لیے آنکھیں ملنے لگے ۔ پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں ، پھر ایک مشکیزہ کے پاس جو ( چھت میں ) لٹکا ہوا تھا آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا ، خوب اچھی طرح ، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا ، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا ۔ پھر جا کر میں بھی آپ کے پہلوئے مبارک میں کھڑا ہو گیا ۔ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے ۔ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں ۔ اس کے بعد پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں پڑھ کر اس کے بعد آپ نے وتر پڑھا اور لیٹ گئے ، پھر جب مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے اٹھ کر دو رکعت معمولی ( طور پر ) پڑھیں ۔ پھر باہر تشریف لا کر صبح کی نماز پڑھی ۔

‘আবদুল্লাহ্‌ ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি একদা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর স্ত্রী মাইমূনা (রাঃ)-এর ঘরে রাত কাটান। তিনি ছিলেন ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ)-এর খালা। ইব্‌নু আব্বাস (রাঃ) বলেনঃ অতঃপর আমি বিছানায় প্রশস্ত দিকে শুলাম এবং আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)- ও তার স্ত্রী বিছানার লম্বা দিকে শুলেন; আর আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ঘুমিয়ে পড়লেন। এমনিভাবে রাত যখন অর্ধেক হয়ে গেল তার কিছু পূর্বে কিংবা কিছু পরে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) জাগলেন। তিনি বসে হাত দিয়ে তার মুখমন্ডল থেকে ঘুমের আবেশ মুছতে লাগলেন। অতঃপর সূরা আল-‘ইমরানের শেষ দশটি আয়াত তিলাওয়াত করলেন। অতঃপর দাঁড়িয়ে একটি ঝুলন্ত মশক হতে সুন্দরভাবে উযূ করলেন। অতঃপর সালাতে দাড়িঁয়ে গেলেন। ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) বলেন, আমিও উঠে তিনি যেরূপ করেছেন তদ্রুপ করলাম। তারপর গিয়ে তাঁর বাম পাশে দাঁড়ালাম। তিনি তাঁর ডান হাত আমার মাথার উপর রাখলেন এবং আমার ডান কান ধরে একটু নাড়া দিয়ে ডান পাশে এনে দাঁড় করালেন। অতঃপর তিনি দু’রাক’আত সালাত আদায় করলেন। তারপর দু’রাক’আত, তারপর দু’রাক’আত, তারপর দু’রাক’আত, তারপর দু’রাক’আত, তারপর দু’রাক’আত, তারপর বিতর আদায় করলেন। তারপর শুয়ে পড়লেন। কিছুক্ষণ পর তাঁর নিকট মুয়ায্‌যিন এলে তিনি দাঁড়িয়ে হাল্কাভাবে দু’রাক’আত সালাত আদায় করলেন। তারপর বেরিয়ে গিয়ে ফাজরের সালাত আদায় করলেন। (১১৭; মুসলিম ৬/২৬, হাঃ ৭৬৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 49
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 183
Hadith 184

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ امْرَأَتِهِ، فَاطِمَةَ عَنْ جَدَّتِهَا، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ، وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَاءِ وَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ‏.‏ فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ أَىْ نَعَمْ‏.‏ فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْىُ، وَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِي مَاءً، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ شَىْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ـ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ـ أَوِ الْمُوقِنُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا، فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا، فَقَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ـ أَوِ الْمُرْتَابُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Asma' bint Abu Bakr:

I came to `Aisha the wife of the Prophet (ﷺ) during the solar eclipse. The people were standing and offering the prayer and she was also praying. I asked her, "What is wrong with the people?" She beckoned with her hand towards the sky and said, "Subhan Allah." I asked her, "Is there a sign?" She pointed out, "Yes." So I, too, stood for the prayer till I fell unconscious and later on I poured water on my head. After the prayer, Allah's Messenger (ﷺ) praised and glorified Allah and said, "Just now I have seen something which I never saw before at this place of mine, including Paradise and Hell. I have been inspired (and have understood) that you will be put to trials in your graves and these trials will be like the trials of Ad-Dajjal, or nearly like it (the sub narrator is not sure of what Asma' said). Angels will come to every one of you and ask, 'What do you know about this man?' A believer will reply, 'He is Muhammad, Allah's Messenger (ﷺ) , and he came to us with self-evident truth and guidance. So we accepted his teaching, believed and followed him.' Then the angels will say to him to sleep in peace as they have come to know that he was a believer. On the other hand a hypocrite or a doubtful person will reply, 'I do not know but heard the people saying something and so I said the same.' "

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ اپنی بیوی فاطمہ سے ، وہ اپنی دادی اسماء بنت ابی بکر سے روایت کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایسے وقت آئی جب کہ سورج کو گہن لگ رہا تھا اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ، کیا دیکھتی ہوں وہ بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہی ہیں ۔ میں نے کہا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ تو انھوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا ، سبحان اللہ ! میں نے کہا ( کیا یہ ) کوئی ( خاص ) نشانی ہے ؟ تو انھوں نے اشارے سے کہا کہ ہاں ۔ تو میں بھی آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہو گئی ۔ ( آپ نے اتنا فرمایا کہ ) مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا ، آج کوئی چیز ایسی نہیں رہی جس کو میں نے اپنی اسی جگہ نہ دیکھ لیا ہو حتیٰ کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا ۔ اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا ۔ دجال جیسی آزمائش یا اس کے قریب قریب ۔ ( راوی کا بیان ہے کہ ) میں نہیں جانتی کہ اسماء نے کون سا لفظ کہا ۔ تم میں سے ہر ایک کے پاس ( اللہ کے فرشتے ) بھیجے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ تمہارا اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ پھر اسماء نے لفظ ایماندار کہا یا یقین رکھنے والا کہا ۔ مجھے یاد نہیں ۔ ( بہرحال وہ شخص ) کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ وہ ہمارے پاس نشانیاں اور ہدایت کی روشنی لے کر آئے ۔ ہم نے ( اسے ) قبول کیا ، ایمان لائے ، اور ( آپ کا ) اتباع کیا ۔ پھر ( اس سے ) کہہ دیا جائے گا تو سو جا درحالیکہ تو مرد صالح ہے اور ہم جانتے تھے کہ تو مومن ہے ۔ اور بہرحال منافق یا شکی آدمی ، اسماء نے کون سا لفظ کہا مجھے یاد نہیں ۔ ( جب اس سے پوچھا جائے گا ) کہے گا کہ میں ( کچھ ) نہیں جانتا ، میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا ، وہی میں نے بھی کہہ دیا ۔

আসমা বিনতু আবূ বক্‌র (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি একদা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এর স্ত্রী ‘আয়িশা (রাঃ)- এর নিকট আসলাম। তখন সূর্যে গ্রহণ লেগেছিল। দেখলাম সব মানুষ দাড়িঁয়ে সালাত আদায় করছে এবং ‘আয়িশা (রাঃ)-ও দাড়িঁয়ে সালাত আদায় করছেন। আমি বললাম, লোকদের কী হয়েছে? তিনি তার হাত আকাশের দিকে ইঙ্গিত করে বললেন ‘সুবাহান্নালাহ্‌’! আমি বললাম, এটা কি কোন আলামত? তিনি ইঙ্গিত করে বললেনঃ ‘হাঁ’। অতঃপর আমিও সালাতে দাড়িঁয়ে গেলাম। এমনকি আমার জ্ঞান হারিয়ে ফেলার উপক্রম হলো এবং আমি আমার মাথায় পানি দিতে লাগলাম। অতঃপর আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) [মুসল্লীদের দিকে] ফিরে আল্লাহর হাম্‌দ ও সানা বর্ণনা করে বললেনঃ “যেসব জিনিস আমি ইতোপূর্বে দেখিনি সেসব আমার এ স্থানে আমি দেখতে পেয়েছি, এমনকি জান্নাত এবং জাহান্নামও। আর আমার নিকট ওয়াহী পাঠানো হয়েছে যে , কবরে তোমাদের পরীক্ষা করা হবে দাজ্জালের ফিতনার ন্যায় অথবা কাছাকাছি।” বর্ণনাকারী বলেনঃ আসমা (রাঃ) কোন্‌টি বলেছিলেন, আমি জানি না। তোমাদের প্রত্যকের নিকট (ফেরেশতাগণ) উপস্থিত হবে এবং তাকে জিজ্ঞেস করা হবে, “এ ব্যক্তি সম্পর্কে তুমি কি জান?”- তারপর ‘মু’মিন,’ বা ‘মু’কিন ব্যক্তি বলবে- আসমা ‘মুমিন’ বলেছিলেন না ‘মুকিন’ তা আমি জানি না- ইনি আল্লাহর রসূল মুহাম্মদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)। তিনি আমাদের নিকট মু’জিযা ও হিদায়াত নিয়ে আগমন করেছিলেন। আমরা তাঁর ডাকে সাড়া দিয়েছি, তাঁর প্রতি বিশ্বাস স্থাপন করেছি এবং তাঁর ইত্তেবা’ করেছি। তারপর তাকে বলা হবে, নিশ্চিন্তে ঘুমাও। আমরা জানলাম যে, তুমি মু’মিন ছিলে। আর ‘মুনাফিক’ বা ‘মুরতাব’ বলবে- আমি জানি না আসমা এর কোন্‌টি বলেছিলেন- লোকজনকে এর সম্পর্কে কিছু একটা বলতে শুনেছি আর আমিও তা-ই বলেছি। (৮৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 50
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 184
Hadith 185

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ـ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ـ أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ نَعَمْ‏.‏ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ‏.‏

Narrated Yahya Al-Mazini:

A person asked `Abdullah bin Zaid who was the grandfather of `Amr bin Yahya, "Can you show me how Allah's Messenger (ﷺ) used to perform ablution?" `Abdullah bin Zaid replied in the affirmative and asked for water. He poured it on his hands and washed them twice, then he rinsed his mouth thrice and washed his nose with water thrice by putting water in it and blowing it out. He washed his face thrice and after that he washed his forearms up to the elbows twice and then passed his wet hands over his head from its front to its back and vice versa (beginning from the front and taking them to the back of his head up to the nape of the neck and then brought them to the front again from where he had started) and washed his feet (up to the ankles).

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم کو امام مالک نے عمرو بن یحییٰ المازنی سے خبر دی ، وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ، سے پوچھا کہ

کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا ہے ؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں ! پھر انھوں نے پانی کا برتن منگوایا پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دو مرتبہ ہاتھ دھوئے ۔ پھر تین مرتبہ کلی کی ، تین بار ناک صاف کی ، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا ۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے ۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا ۔ اس طور پر اپنے ہاتھ ( پہلے ) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے ۔ ( مسح ) سر کے ابتدائی حصے سے شروع کیا ۔ پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے ( مسح ) شروع کیا تھا ، پھر اپنے پیر دھوئے ۔

ইয়াহ্‌ইয়া আল-মাযিনী (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ জনৈক ব্যক্তি ‘আবদুল্লাহ ইব্‌নু যায়দ (রাঃ)-কে (তিনি ‘আমর ইব্‌নু ইয়াহ্‌ইয়ার দাদা) জিজ্ঞেস করলঃ আপনি কি আমাদেরকে দেখাতে পারেন, কীভাবে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) উযূ করতেন? ‘আবদুল্লাহ্‌ ইব্‌নু যায়দ (রাঃ) বললেনঃ ‘হাঁ’। অতঃপর তিনি পানি আনালেন। হাতের উপর সে পানি ঢেলে দু’বার তাঁর হাত ধুলেন। তারপর কুলি করলেন এবং তিনবার নাকে পানি দিয়ে নাক ঝাড়লেন। অতঃপর চেহারা তিনবার ধুলেন। তারপর দু’হাত কনুই পর্যন্ত দু’বার করে ধুলেন। তারপর দু’হাত দিয়ে মাথা মাস্‌হ করলেন। অর্থাৎ হাত দু’টি সামনে ও পেছনে নিলেন। মাথার সম্মুখ ভাগ থেকে শুরু করে উভয় হাত পেছনের চুলের শেষ পর্যন্ত নিলেন। তারপর আবার যেখান থেকে শুরু করেছিলেন, সেখানেই ফিরিয়ে আনলেন। তারপর দু’পা ধুলেন। (১৮৬, ১৯১, ১৯২, ১৯৭, ১৯৯; মুসলিম ২/৭, হাঃ ২৩৫, আহমাদ ১৬৪৪৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 51
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 185
Hadith 186

حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ‏.‏

Narrated `Amr:

My father saw `Amr bin Abi Hasan asking `Abdullah bin Zaid about the ablution of the Prophet. `Abdullah bin Zaid asked for earthenware pot containing water and in front of them performed ablution like that of the Prophet (ﷺ) . He poured water from the pot over his hand and washed his hands thrice and then he put his hands in the pot and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out with three handfuls of water. Again he put his hand in the water and washed his face thrice and washed his forearms up to the elbows twice; and then put his hands in the water and then passed them over his head by bringing them to the front and then to the rear of the head once, and then he washed his feet up to the ankles.

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، انھوں نے عمرو سے ، انھوں نے اپنے باپ ( یحییٰ ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا کہ میری موجودگی میں عمرو بن حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے پانی کا طشت منگوایا اور ان ( پوچھنے والوں ) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سا وضو کیا ۔ ( پہلے طشت سے ) اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا ۔ پھر تین بار ہاتھ دھوئے ، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا ( اور پانی لیا ) پھر کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، ناک صاف کی ، تین چلوؤں سے ، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور تین مرتبہ منہ دھویا ۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو بار دھوئے ۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور سر کا مسح کیا ۔ ( پہلے ) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے ، ایک بار ۔ پھر ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔

‘আমর ইব্‌নু আবূ হাসান (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি ‘আবদুল্লাহ ইব্‌নু যায়দ (রাঃ)- কে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)- এর উযূ সম্পর্কে প্রশ্ন করলে তিনি এক পাত্র পানি আনলেন এবং তাঁদের (দেখাবার) জন্য নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)- এর মত উযূ করলেন। তিনি পাত্র থেকে দু’হাতে পানি ঢাললেন। তা দিয়ে হাত দু’টি তিনবার ধুলেন। অতঃপর পাত্রের মধ্যে হাত ঢুকিয়ে তিন খাবল পানি নিয়ে কুলি করলেন এবং নাকে পানি দিয়ে নাক ঝাড়লেন। তারপর আবার হাত ঢুকালেন। তিনবার তাঁর মুখমন্ডল ধুলেন। তারপর আবার হাত ঢুকিয়ে (পানি নিয়ে) দুই হাত কনুই পর্যন্ত দু’বার ধুলেন। তারপর আবার হাত ঢুকিয়ে উভয় হাত দিয়ে সামনে এবং পেছনে একবার মাত্র মাথা মাস্‌হ করলেন। তারপর দু’পা টাখনু পর্যন্ত ধুলেন। (১৮৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 52
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 186
Hadith 187

حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْهَاجِرَةِ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ‏.‏

Narrated Abu Juhaifa:

Allah's Messenger (ﷺ) came to us at noon and water for ablution was brought to him. After he had performed ablution, the remaining water was taken by the people and they started smearing their bodies with it (as a blessed thing). The Prophet (ﷺ) offered two rak`at of the Zuhr prayer and then two rak`at of the `Asr prayer while a short spear (or stick) was there (as a Sutra) in front of him.

ہم سے آدم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے حکم نے بیان کیا ، انھوں نے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا ۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر اسے ( اپنے بدن پر ) پھیرنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( آڑ کے لیے ) ایک نیزہ تھا ۔

আবূ জুহাইফা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন একদা দুপুর বেলা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাদের নিকট এলেন। তাঁকে উযূর পানি এনে দেয়া হলে তিনি উযূ করলেন। লোকে তার উযুর ব্যবহৃত পানি নিয়ে গায়ে মাখতে লাগল। অতঃপর নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যুহরের দু’রাক‘আত এবং ‘আসরের দু’রাক‘আত সালাত আদায় করলেন। আর তাঁর সামনে ছিল একটি লাঠি। (৩৭৬, ৪৯৫, ৪৯৯, ৫০১, ৬৩৩, ৬৩৪, ৩৫৫৩, ৩৫৬৬, ৫৭৮৬, ৫৮৫৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 53
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 187
Hadith 188

وَقَالَ أَبُو مُوسَى دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهُمَا اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا‏.‏

Abu Musa said:

The Prophet asked for a tumbler containing water and washed both his hands and face in it and then threw a mouthful of water in the tumbler and said to both of us (Abu Musa and Bilal), "Drink from the tumbler and pour some of its water on your faces and chests."

( اور ایک دوسری حدیث میں ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا ۔ جس میں پانی تھا ۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی ، پھر فرمایا ، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو ۔

আবূ মূসা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একটি পাত্র আনালেন যাতে পানি ছিল। অতঃপর তিনি তার মধ্যে উভয় হাত ও মুখমন্ডল ধুলেন এবং তার দ্বারা কুলি করলেন। অতঃপর তাদের দু’জন [আবূ মূসা (রাঃ) ও বিলাল (রাঃ)]-কে বললেনঃ ‘তোমরা এ থেকে পান কর এবং তোমাদের মুখমন্ডলে ও বুকে ঢাল।’ (১৯৬, ৪৩২৮; মুসলিম ৪/৪৭, হাঃ ৫০৩, আহমাদ ১৮৭৬৯, ১৮৭৮২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮২ শেষাংশ, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮৭ শেষাংশ)

In-book reference : Book 4, Hadith 54
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 187
Hadith 189

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ وَهُوَ الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِهِ وَهْوَ غُلاَمٌ مِنْ بِئْرِهِمْ‏.‏ وَقَالَ عُرْوَةُ عَنِ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِهِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ‏.‏

Narrated Ibn Shihab:

Mahmud bin Ar-Rabi` who was the person on whose face the Prophet (ﷺ) had ejected a mouthful of water from his family's well while he was a boy, and `Urwa (on the authority of Al-Miswar and others) who testified each other, said, "Whenever the Prophet (ﷺ) , performed ablution, his companions were nearly fighting for the remains of the water."

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ، کہا ہم سے میرے باپ نے ، انھوں نے صالح سے سنا ۔ انھوں نے ابن شہاب سے ، کہا انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی ، ابن شہاب کہتے ہیں

محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کے کنویں ( کے پانی ) سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی اور عروہ نے اسی حدیث کو مسور وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے اور ہر ایک ( راوی ) ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے وضو کے پانی پر صحابہ رضی اللہ عنہم جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے ۔

মাহমূদ ইব্‌নুর-রবী’ ‘(রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ বর্ণনাকারী বলেনঃ তিনি সে ব্যক্তি, যার মুখমন্ডলে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাদের কুয়া হতে পানি নিয়ে কুলির পানি দিয়েছিলেন। তিনি তখন বালক ছিলেন। ‘উরওয়া (রহঃ) মিসওয়ার (রহঃ) প্রমুখের নিকট হতে হাদীস বর্ণনা করেন। এ উভয় বর্ণনা একটি অন্যটির সত্যায়ন স্বরূপ। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন উযূ করতেন তখন তাঁর ব্যবহৃত পানির উপর তাঁরা (সাহাবায়ে কিরাম) যেন হুমড়ি খেয়ে পড়তেন। (১৯৬, ৪৩২৮ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮৩ কিন্তু প্রথমাংশ নেই, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 55
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 188
Hadith 190

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْجَعْدِ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ‏.‏ فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلِ زِرِّ الْحَجَلَةِ‏.‏

Narrated As-Sa'ib bin Yazid:

My aunt took me to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This son of my sister has got a disease in his legs." So he passed his hands on my head and prayed for Allah's blessings for me; then he performed ablution and I drank from the remaining water. I stood behind him and saw the seal of Prophethood between his shoulders, and it was like the "Zir-al-Hijla" (means the button of a small tent, but some said 'egg of a partridge.' etc.)

ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے جعد کے واسطے سے بیان کیا ، کہا انھوں نے سائب بن یزید سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

میری خالہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا ۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں کے درمیان ایسی تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی ۔ ( یا کبوتر کا انڈا ) ۔

সায়িব ইব্‌নু ইয়াযীদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আমার খালা আমাকে নিয়ে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট উপস্থিত হয়ে বললেনঃ ‘হে আল্লাহর রসূল! আমার ভাগিনা অসুস্থ’। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার মাথায় হাত বুলালেন এবং বরকতের দু‘আ করলেন। অতঃপর উযূ করলেন। আমি তাঁর উযুর (অবশিষ্ট) পানি পান করলাম। তারপর তাঁর পিছনে দাঁড়ালাম। তখন আমি তাঁর উভয় কাঁধের মধ্যস্থলে নবুওয়াতের মোহর দেখতে পেলাম। তা ছিল পর্দার ঘুণ্টির মত। (৩৫৪০, ৩৫৪১, ৫৬৭০, ৬৩৫২; মুসলিম ৪৩/৩০, হাঃ ২৩৪৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 56
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 189
Hadith 191

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ أَفْرَغَ مِنَ الإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ غَسَلَ أَوْ مَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفَّةٍ وَاحِدَةٍ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثًا، فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَا أَقْبَلَ وَمَا أَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated `Amr bin Yahya:

(on the authority of his father) `Abdullah bin Zaid poured water on his hands from a utensil containing water and washed them and then with one handful of water he rinsed his mouth and cleaned his nose by putting water in it and then blowing it out. He repeated it thrice. He, then, washed his hands and forearms up to the elbows twice and passed wet hands over his head, both forwards and backwards, and washed his feet up to the ankles and said, "This is the ablution of Allah's Messenger (ﷺ)."

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ ( یحییٰ ) کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ

( وضو کرتے وقت ) انھوں نے برتن سے ( پہلے ) اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۔ پھر انہیں دھویا ۔ پھر دھویا ۔ ( یا یوں کہا کہ ) کلی کی اور ناک میں ایک چلو سے پانی ڈالا ۔ اور تین مرتبہ اسی طرح کیا ۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے ۔ پھر سر کا مسح کیا ۔ اگلی جانب اور پچھلی جانب کا اور ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح ہوا کرتا تھا ۔

‘আবদুল্লাহ্‌ ইব্‌নু যায়দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদা তিনি পাত্র হতে দু’হাতে পানি ঢেলে দু’হাত ধৌত করলেন। অতঃপর এক খাবল পানি দিয়ে (মুখ) ধুলেন বা কুলি করলেন এবং নাকে পানি দিলেন। তিনবার এরূপ করলেন। তারপর দু’ হাত কনুই পর্যন্ত দু’-দু’বার ধুলেন এবং মাথার সামনের অংশ এবং পেছনের অংশ মাস্‌হ করলেন। আর টাখনু পর্যন্ত দু’ পা ধুলেন। অতঃপর বললেনঃ “আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর উযূ এরূপ ছিল।” (১৮৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯০)

In-book reference : Book 4, Hadith 57
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 190
Hadith 192

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ، فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا بِثَلاَثِ غَرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ‏.‏ وَحَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ مَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً‏.‏

Narrated `Amr bin Yahya:

My father said, "I saw `Amr bin Abi Hasan asking `Abdullah bin Zaid about the ablution of the Prophet. `Abdullah bin Zaid asked for an earthenware pot containing water and performed ablution in front of them. He poured water over his hands and washed them thrice. Then he put his (right) hand in the pot and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out thrice with three handfuls of water Again he put his hand in the water and washed his face thrice. After that he put his hand in the pot and washed his forearms up to the elbows twice and then again put his hand in the water and passed wet hands over his head by bringing them to the front and then to the back and once more he put his hand in the pot and washed his feet (up to the ankles.)" Narrated Wuhaib: That he (the Prophet (ﷺ) in narration 191 above) had passed his wet hands on the head once only.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ ( یحییٰ ) کے واسطے سے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ

میری موجودگی میں عمرو بن حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا ۔ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پانی کا ایک طشت منگوایا ، پھر ان ( لوگوں ) کے دکھانے کے لیے وضو ( شروع ) کیا ۔ ( پہلے ) طشت سے اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا ۔ پھر انہیں تین بار دھویا ۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا ، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کی ، تین چلوؤں سے تین دفعہ ۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا اور اپنے منہ کو تین بار دھویا ۔ پھر اپنا ہاتھ برتن کے اندر ڈالا اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ( پھر ) سر پر مسح کیا اس طرح کہ ( پہلے ) آگے کی طرف اپنا ہاتھ لائے پھر پیچھے کی طرف لے گئے ۔ پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ( دوسری روایت میں ) ہم سے موسیٰ نے ، ان سے وہیب نے بیان کیا کہ آپ نے سر کا مسح ایک دفعہ کیا ۔

ইয়াহইয়া (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ‘আমি একদা ‘আমর ইব্‌নু আবূ হাসান (রাঃ)-এর নিকট উপস্থিত ছিলাম। তিনি ‘আবদুল্লাহ ইব্‌নু যায়দ (রাঃ)-কে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর উযূ সম্পর্কে প্রশ্ন করলেন। অতঃপর তিনি পানির একটি পাত্র এনে তাঁদের উযূ করে দেখালেন। তিনি পাত্রটি কাত করে উভয় হাতের উপর পানি ঢেলে তিনবার তা ধুয়ে ফেলেন। তারপর পাত্রের মধ্যে হাত ঢুকালেন এবং তিন খাবল পানি দিয়ে তিনবার করে কুলি করলেন এবং নাকে পানি দিয়ে তা ঝাড়লেন। অতঃপর পুনরায় পাত্রের মধ্যে হাত ঢুকিয়ে তিনবার মুখমন্ডল ধুলেন। অতঃপর পুনরায় পাত্রের মধ্যে হাত ঢুকিয়ে উভয় হাত কনুই পর্যন্ত দু’-দু’বার ধুলেন। অতঃপর পুনরায় পাত্রের মধ্যে হাত ঢুকিয়ে তাঁর মাথা হাত দিয়ে সামনে এবং পেছনে মাস্‌হ করলেন। তারপর আবার পাত্রের মধ্যে তাঁর হাত ঢুকিয়ে দুই পা ধুলেন।’ [১] (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯১) উহায়ব (রহ.) সূত্রে মূসা (রহ.) বর্ণনা করেন, মাথা একবার মাসেহ করেন। (১৮৫) (ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯২)

In-book reference : Book 4, Hadith 58
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 191
Hadith 193

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمِيعًا‏.‏

Narrated 'Abdullah bin 'Umar:

"During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) men and women used to perform ablution together."

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو مالک نے نافع سے خبر دی ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورت اور مرد سب ایک ساتھ ( ایک ہی برتن سے ) وضو کیا کرتے تھے ۔ ( یعنی وہ مرد اور عورتیں جو ایک دوسرے کے محرم ہوتے ) ۔

‘আবদুল্লাহ ইব্‌নু ‘উমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আল্লাহর রসূল –এর সময় পুরুষ এবং মহিলা একত্রে (এক পাত্র হতে) উযূ করতেন। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 59
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 192
Hadith 194

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي، وَأَنَا مَرِيضٌ لاَ أَعْقِلُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ، فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنِ الْمِيرَاثُ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلاَلَةٌ‏.‏ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ‏.‏

Narrated Jabir:

Allah's Messenger (ﷺ) came to visit me while I was sick and unconscious. He performed ablution and sprinkled the remaining water on me and I became conscious and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! To whom will my inheritance go as I have neither ascendants nor descendants?" Then the Divine verses regarding Fara'id (inheritance) were revealed.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے محمد بن المنکدر کے واسطے سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ۔ میں بیمار تھا ایسا کہ مجھے ہوش تک نہیں تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا ، تو مجھے ہوش آ گیا ۔ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میرا وارث کون ہو گا ؟ میرا تو صرف ایک کلالہ وارث ہے ۔ اس پر آیت میراث نازل ہوئی ۔

জাবির (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি অসুস্থ থাকা অবস্থায় একবার আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার খোঁজ-খবর নিতে এলেন। আমি তখন এতই অসুস্থ ছিলাম যে আমার জ্ঞান ছিল না। তারপর তিনি উযূ করলেন এবং তাঁর উযূর পানি আমার উপর ছিঁটিয়ে দিলেন। তখন আমার জ্ঞান ফিরে এল। আমি বললামঃ হে আল্লাহর রসূল! (আমার) ‘মীরাস’ কে পাবে? আমার একমাত্র ওয়ারিস হল কালালাহ [১]। তখন ফারায়েযের আয়াত অবতীর্ণ হল। (৪৫৭৭, ৫৬৫১, ৫৬৬৪, ৫৬৭৬, ৫৭২৩, ৬৭২৩, ৬৭৪৩, ৭৩০৯ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 60
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 193
Hadith 195

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ، وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ‏.‏ قُلْنَا كَمْ كُنْتُمْ قَالَ ثَمَانِينَ وَزِيَادَةً‏.‏

Narrated Anas:

It was the time for prayer, and those whose houses were near got up and went to their people (to perform ablution), and there remained some people (sitting). Then a painted stove pot (Mikhdab) containing water was brought to Allah's Messenger (ﷺ)s The pot was small, not broad enough for one to spread one's hand in; yet all the people performed ablution. (The sub narrator said, "We asked Anas, 'How many persons were you?' Anas replied 'We were eighty or more"). (It was one of the miracles of Allah's Messenger (ﷺ)).

ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ، انھوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا ، کہا ہم کو حمید نے یہ حدیث بیان کی ۔ انھوں نے انس سے نقل کیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ

( ایک مرتبہ ) نماز کا وقت آ گیا ، تو جس شخص کا مکان قریب ہی تھا وہ وضو کرنے اپنے گھر چلا گیا اور کچھ لوگ ( جن کے مکان دور تھے ) رہ گئے ۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک لگن لایا گیا ۔ جس میں کچھ پانی تھا اور وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ اس میں اپنی ہتھیلی نہیں پھیلا سکتے تھے ۔ ( مگر ) سب نے اس برتن کے پانی سے وضو کر لیا ، ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم کتنے نفر تھے ؟ کہا اسی ( 80 ) سے کچھ زیادہ ہی تھے ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ একদা সালাতের সময় উপস্থিত হলে যাঁদের বাড়ি নিকটে ছিল তাঁরা (উযূ করার জন্য) বাড়ি চলে গেলেন। আর কিছু লোক রয়ে গেলেন (তাঁদের কোন উযূর ব্যবস্থা ছিল না)। তখন আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর জন্য একটি পাথরের পাত্রে পানি আনা হল। পাত্রটি এত ছোট ছিল যে, তার মধ্যে তাঁর উভয় হাত মেলে দেয়া সম্ভব ছিল না। তা থেকেই কওমের সকল লোক উযূ করলেন। আমরা জিজ্ঞেস করলামঃ ‘আপনারা কতজন ছিলেন’? তিনি বললেনঃ ‘আশিজন বা তারও কিছু অধিক।’ (১৬৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 61
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 194
Hadith 196

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ‏.‏

Narrated Abu Musa:

Once the Prophet (ﷺ) asked for a tumbler containing water. He washed his hands and face in it and also threw a mouthful of water in it.

ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے برید کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابوبردہ سے ، وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا ۔ پھر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی کی ۔

আবূ মূসা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একটি পানি ভর্তি পাত্র আনালেন। তাতে তাঁর উভয় হাত ও মুখমন্ডল ধুলেন এবং কুলি করলেন। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯০)

In-book reference : Book 4, Hadith 62
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 195
Hadith 197

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِ وَأَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Zaid:

Once Allah's Messenger (ﷺ) came to us and we brought out water for him in a brass pot. He performed ablution thus: He washed his face thrice, and his forearms to the elbows twice, then passed his wet hands lightly over the head from front to rear and brought them to front again and washed his feet (up to the ankles).

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عبداللہ بن زید سے نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہمارے گھر ) تشریف لائے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تانبے کے برتن میں پانی نکالا ۔ ( اس سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ۔ تین بار چہرہ دھویا ، دو دو بار ہاتھ دھوئے اور سر کا مسح کیا ۔ ( اس طرح کہ ) پہلے آگے کی طرف ( ہاتھ ) لائے ۔ پھر پیچھے کی جانب لے گئے اور پیر دھوئے ۔

‘আবদুল্লাহ ইব্‌নু যায়দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাদের বাড়ি এলেন। আমরা তাঁকে পিতলের একটি পাত্রে পানি দিলে তা দিয়ে তিনি উযূ করলেন। তাঁর মুখমন্ডল তিনবার ও উভয় হাত দু’-দু’বার করে ধুলেন এবং তাঁর হাত সামনে ও পেছনে এনে মাথা মাস্‌হ করলেন আর উভয় পা ধুলেন। (১৮৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 63
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 196
Hadith 198

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ قُلْتُ لاَ‏.‏ قَالَ هُوَ عَلِيٌّ‏.‏ وَكَانَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ ‏ "‏ هَرِيقُوا عَلَىَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ، لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ ‏"‏‏.‏ وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ تِلْكَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ‏.‏

Narrated `Aisha:

When the ailment of the Prophet (ﷺ) became aggravated and his disease became severe, he asked his wives to permit him to be nursed (treated) in my house. So they gave him the permission. Then the Prophet came (to my house) with the support of two men, and his legs were dragging on the ground, between `Abbas, and another man." 'Ubaidullah (the sub narrator) said, "I informed `Abdullah bin `Abbas of what `Aisha said. Ibn `Abbas said: 'Do you know who was the other man?' I replied in the negative. Ibn `Abbas said, 'He was `Ali (bin Abi Talib)." `Aisha further said, "When the Prophet (ﷺ) came to my house and his sickness became aggravated he ordered us to pour seven skins full of water on him, so that he might give some advice to the people. So he was seated in a Mikhdab (brass tub) belonging to Hafsa, the wife of the Prophet. Then, all of us started pouring water on him from the water skins till he beckoned to us to stop and that we have done (what he wanted us to do). After that he went out to the people."

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی ، کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی تحقیق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ

جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( دوسری ) بیویوں سے اس بات کی اجازت لے لی کہ آپ کی تیمارداری میرے ہی گھر کی جائے ۔ انھوں نے آپ کو اجازت دے دی ، ( ایک روز ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) گھر سے نکلے ۔ آپ کے پاؤں ( کمزوری کی وجہ سے ) زمین پر گھسٹتے جاتے تھے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی کے درمیان ( آپ باہر ) نکلے تھے ۔ عبیداللہ ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی ، تو وہ بولے ، تم جانتے ہو دوسرا آدمی کون تھا ، میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ کہنے لگے وہ علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی تھیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اوپر ایسی سات مشکوں کا پانی ڈالو ، جن کے سربند نہ کھولے گئے ہوں ۔ تاکہ میں ( سکون کے بعد ) لوگوں کو کچھ وصیت کروں ۔ ( چنانچہ ) آپ کو حضرت حفصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( دوسری ) بیوی کے لگن میں ( جو تانبے کا تھا ) بیٹھا دیا گیا اور ہم نے آپ پر ان مشکوں سے پانی بہانا شروع کیا ۔ جب آپ ہم کو اشارہ فرمانے لگے کہ بس اب تم نے اپنا کام پورا کر دیا تو اس کے بعد آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے ۔

‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর অসুস্থতা বেড়ে গেলে তিনি আমার ঘরে শুশ্রূষার জন্য তাঁর স্ত্রীদের নিকট অনুমতি চাইলে তাঁরা অনুমতি দিলেন। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) (আমার ঘরে আসার জন্য) দু’ব্যক্তির উপর ভর করে বের হলেন। আর তাঁর পা দু’খানি তখন মাটিতে চিহ্ন রেখে যাচ্ছিল। তিনি ‘আব্বাস (রাঃ) ও অন্য এক ব্যক্তির মাঝখানে ছিলেন। ‘উবাইদুল্লাহ (রহঃ) বলেনঃ আমি ‘আবদুল্লাহ্‌ ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ)-কে এ কথা জানালাম। তিনি বললেনঃ সে অন্য ব্যক্তিটি কে তা কি তুমি জান? আমি বললাম, না। তিনি বললেনঃ তিনি হলেন ‘আলী ইব্‌নু আবূ ত্বলিব (রাঃ)। ‘আয়িশা (রাঃ) বর্ণনা করেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর ঘরে আসলে অসুস্থতা আরো বৃদ্ধি পেল। তিনি বললেনঃ ‘তোমরা আমার উপর মুখের বাঁধন খোলা হয়নি এমন সাতটি মশকের পানি ঢেলে দাও, তাহলে হয়ত আমি মানুষকে কিছু উপদেশ দিতে পারব।‘ তাঁকে তাঁর স্ত্রী হাফসা (রাঃ)–এর একটি বড় পাত্রে বসিয়ে দেয়া হল। অতঃপর আমরা তাঁর উপর সেই সাত মশক পানি ঢালতে লাগলাম। এভাবে ঢালার পর এক সময় তিনি আমাদের প্রতি ইঙ্গিত করলেন, (এখন থাম) তোমরা তোমাদের কাজ করেছ। অতঃপর তিনি বের হয়ে জনসম্মুক্ষে গেলেন। (৬৬৪, ৬৬৫, ৬৭৯, ৬৮৩, ৬৮৭, ৭১২, ৭১৩, ৭১৬, ২৫৮৮, ৩০৯৯, ৩৩৮৪, ৪৪৪২, ৪৪৪৫, ৫৭১৪, ৭৩০৩ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 64
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 197
Hadith 199

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ عَمِّي يُكْثِرُ مِنَ الْوُضُوءِ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبِرْنِي كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثَ مِرَارٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاغْتَرَفَ بِهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَدْبَرَ بِيَدَيْهِ وَأَقْبَلَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ‏.‏

Narrated `Amr bin Yahya:

(on the authority of his father) My uncle used to perform ablution extravagantly and once he asked `Abdullah bin Zaid to tell him how he had seen the Prophet (ﷺ) performing ablution. He asked for an earthenware pot containing water, and poured water from it on his hands and washed them thrice, and then put his hand in the earthenware pot and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out thrice with one handful of water; he again put his hand in the water and took a handful of water and washed his face thrice, then washed his hands up to the elbows twice, and took water with his hand, and passed it over his head from front to back and then from back to front, and then washed his feet (up to the ankles) and said, "I saw the Prophet (ﷺ) performing ablution in that way."

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے سلیمان نے ، کہا مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ ( یحییٰ ) کے واسطے سے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ

میرے چچا بہت زیادہ وضو کیا کرتے تھے ( یا یہ کہ وضو میں بہت پانی بہاتے تھے ) ایک دن انھوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے بتلائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے ۔ انھوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا ۔ اس کو ( پہلے ) اپنے ہاتھوں پر جھکایا ۔ پھر دونوں ہاتھ تین بار دھوئے ۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈال کر ( پانی لیا اور ) ایک چلو سے کلی کی اور تین مرتبہ ناک صاف کی ۔ پھر اپنے ہاتھوں سے ایک چلو ( پانی ) لیا اور تین بار اپنا چہرہ دھویا ۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے ۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر اپنے سر کا مسح کیا ۔ تو ( پہلے اپنے ہاتھ ) پیچھے لے گئے ، پھر آگے کی طرف لائے ۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے ۔

ইয়াহ্‌ইয়া (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ আমার চাচা উযূর পানি অধিক খরচ করতেন। একদা তিনি ‘আব্দুল্লাহ্‌ ইব্‌নু যায়দ (রাঃ)-কে বললেনঃ ‘নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কীভাবে উযূ করতেন আপনি কি তা দেখেছেন?’ তিনি এক গামলা পানি আনালেন। সেটি উভয় হাতে কাত করে (তা থেকে পানি ঢেলে) হাত দু’টি তিনবার ধুলেন, অতঃপর তার হাত গামলায় ঢুকালেন। অতঃপর এক খাবল (করে) পানি দিয়ে তিনবার কুলি করলেন এবং নাক ঝাড়লেন। তারপর পানিতে তাঁর হাত ঢুকালেন। উভয় হাতে এক খাবল (করে) পানি নিয়ে মুখমন্ডল তিনবার ধুলেন। অতঃপর উভয় হাত কনুই পর্যন্ত দু’বার করে ধুলেন। অতঃপর উভয় হাতে পানি নিয়ে মাথার সামনে এবং পেছনে মাস্‌হ করলেন এবং দু’ পা ধুলেন। তারপর বললেনঃ ‘আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে এভাবেই উযূ করতে দেখেছি।’ (১৮৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 65
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 198
Hadith 200

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ شَىْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، قَالَ أَنَسٌ فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ‏.‏

Narrated Thabit:

Anas said, "The Prophet (ﷺ) asked for water and a tumbler with a broad base and no so deep, containing a small quantity of water, was brought to him whereby he put his fingers in it." Anas further said, ' noticed the water springing out from amongst his fingers." Anas added, ' estimated that the people who performed ablution with it numbered between seventy to eighty."

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے ، وہ ثابت سے ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں کچھ تھوڑا پانی تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں ۔ انس کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا ۔ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ( ایک پیالہ ) پانی سے جن لوگوں نے وضو کیا ، وہ ستر ( 70 ) سے اسی ( 80 ) تک تھے ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একপাত্র পানি চাইলে একটি বড় পাত্র তাঁর নিকট আনা হল, তাতে সামান্য পানি ছিল। তারপর তিনি তার মধ্যে তাঁর আঙ্গুল রাখলেন। আনাস (রাঃ) বলেনঃ আমি পানির দিকে তাকাতে লাগলাম। তাঁর আঙ্গুলের ভেতর দিয়ে পানি উপচে পড়তে লাগল। আনাস (রাঃ) বলেনঃ যারা উযূ করেছিল, আমি অনুমান করলাম তাদের সংখ্যা ছিল সত্তর হতে আশি জনের মত। (১৬৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০০)

In-book reference : Book 4, Hadith 66
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 199
Hadith 201

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَغْسِلُ ـ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ ـ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ، وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ‏.‏

Narrated Anas:

The Prophet (ﷺ) used to take a bath with one Sa` up to five Mudds (1 Sa` = [??] Mudds) of water and used to perform ablution with one Mudd of water.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسعر نے ، کہا مجھ سے ابن جبیر نے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دھوتے یا ( یہ کہا کہ ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک ( پانی استعمال فرماتے تھے ) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد ( پانی ) سے ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক সা‘ (৪ মুদ) হতে পাঁচ মুদ পর্যন্ত পানি দিয়ে গোসল করতেন এবং উযূ করতেন এক মুদ দিয়ে। (মুসলিম ৩/১০, হাঃ ৩২৫, আহমাদ ১৪০০২, ১৪০৯৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০১)

In-book reference : Book 4, Hadith 67
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 200
Hadith 202

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرٌو، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ‏.‏ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سَأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا حَدَّثَكَ شَيْئًا سَعْدٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَهُ‏.‏ وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعْدًا حَدَّثَهُ فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ‏.‏ نَحْوَهُ‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar:

Sa`d bin Abi Waqqas said, "The Prophet (ﷺ) passed wet hands over his Khuffs (socks made from thick fabric or leather)." `Abdullah bin `Umar asked `Umar about it. `Umar replied in the affirmative and added, "Whenever Sa`d narrates a Hadith from the Prophet, there is no need to ask anyone else about it."

ہم سے اصبغ ابن الفرج نے بیان کیا ، وہ ابن وہب سے کرتے ہیں ، کہا مجھ سے عمرو نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابوالنضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے نقل کیا ، وہ عبداللہ بن عمر سے ، وہ سعد بن ابی وقاص سے ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد ماجد عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا ( سچ ہے اور یاد رکھو ) جب تم سے سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرمائیں ۔ تو اس کے متعلق ان کے سوا ( کسی ) دوسرے آدمی سے مت پوچھو اور موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوالنضر نے بتلایا ، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی کہ سعد بن ابی وقاص نے ان سے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ) حدیث بیان کی ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے بیٹے ) عبداللہ سے ایسا کہا ۔

সা‘দ ইব্‌নু আবূ ওয়াককাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর উভয় মোজার উপর মাস্‌হ করেছেন। ‘আবদুল্লাহ্‌ ইব্‌নু ‘উমর (তাঁর পিতা) ‘উমর (রাঃ)-কে এ ব্যাপারে জিজ্ঞেস করলে তিনি বললেনঃ ‘হাঁ! সা’দ (রাঃ) নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে কিছু বর্ণনা করলে সে ব্যাপারে আর অন্যকে জিজ্ঞেস করো না।’ মূসা ইব্‌নু ‘উকবাহ (রহঃ)....সা’দ (রাঃ) হতে বর্ণিত। তিনি বলেনঃ অতঃপর ‘উমর (রাঃ) ‘আবদুল্লাহ (রাঃ)-কে অনুরূপ বললেন। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০২)

In-book reference : Book 4, Hadith 68
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 201
Hadith 203

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ‏.‏

Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:

Once Allah's Messenger (ﷺ) went out to answer the call of nature and I followed him with a tumbler containing water, and when he finished, I poured water and he performed ablution and passed wet hands over his Khuffs (socks made from thick fabric or leather).

ہم سے عمرو بن خالد الحرانی نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے نقل کیا ، وہ سعد بن ابراہیم سے ، وہ نافع بن جبیر سے وہ عروہ ابن المغیرہ سے وہ اپنے باپ مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں ۔

( ایک دفعہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے باہر گئے تو مغیرہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت سے فارغ ہو گئے تو مغیرہ نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتے ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے اعضاء مبارکہ ) پر پانی ڈالا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا ۔

মুগীরা ইব্‌নু শু‘বাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ একদা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) প্রাকৃতিক প্রয়োজনে বাইরে গেলে তিনি [ মুগীরা (রাঃ) ] পানি সহ একটা পাত্র নিয়ে তাঁর অনুসরণ করলেন। অতঃপর আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) প্রাকৃতিক প্রয়োজন শেষ করে এলে তিনি তাঁকে পানি ঢেলে দিলেন। আর তিনি (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) উযূ করলেন এবং উভয় মোজার উপর মাস্‌হ করলেন। (১৮২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 69
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 202
Hadith 204

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ‏.‏ وَتَابَعَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبَانُ عَنْ يَحْيَى‏.‏

Narrated Ja`far bin `Amr bin Umaiya Ad-Damri:

My father said, "I saw the Prophet (ﷺ) passing wet hands over his Khuffs (socks made from thick fabric or leather)."

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ ابوسلمہ سے ، انھوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری سے نقل کیا ، انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ

انھوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔ اس حدیث کی متابعت میں حرب اور ابان نے یحییٰ سے حدیث نقل کی ہے ۔

উমাইয়া যামরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে উভয় মোজার উপর মাস্‌হ করতে দেখেছেন। হার্‌ব ও আবান (রহঃ) ইয়াহ্‌ইয়া (রহঃ) হতে অনুরূপ বর্ণনা করেছেন। (২০৫ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 70
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 203
Hadith 205

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ‏.‏ وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Ja`far bin `Amr:

My father said, "I saw the Prophet (ﷺ) passing wet hands over his turban and Khuffs (socks made from thick fabric or leather).

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو اوزاعی نے یحییٰ کے واسطے سے خبر دی ، وہ ابوسلمہ سے ، وہ جعفر بن عمرو سے ، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ

میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عمامے اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا ۔ اس کو روایت کیا معمر نے یحییٰ سے ، وہ ابوسلمہ سے ، انھوں نے عمرو سے متابعت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ واقعی ایسا ہی کیا کرتے تھے ) ۔

উমাইয়া (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ‘আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে তাঁর পাগড়ীর উপর এবং উভয় মোজার উপর মাস্‌হ করতে দেখেছি’। মা‘মার (রহঃ) ‘আম্‌র (রহঃ) হতে অনুরূপ বর্ণনা করেনঃ ‘আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে তা করতে দেখেছি।’ (২০৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 71
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 204
Hadith 206

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَأَهْوَيْتُ لأَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ‏"‏‏.‏ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا‏.‏

Narrated `Urwa bin Al-Mughira:

My father said, "Once I was in the company of the Prophet (ﷺ) on a journey and I dashed to take off his Khuffs (socks made from thick fabric or leather). He ordered me to leave them as he had put them after performing ablution. So he passed wet hands over them.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ عامر سے وہ عروہ بن مغیرہ سے ، وہ اپنے باپ ( مغیرہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ

میں ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، تو میں نے چاہا ( کہ وضو کرتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار ڈالوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو ۔ چونکہ جب میں نے انہیں پہنا تھا تو میرے پاؤں پاک تھے ۔ ( یعنی میں وضو سے تھا ) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا ۔

মুগীরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সঙ্গে কোন এক সফরে ছিলাম। (উযূ করার সময়) আমি তাঁর মোজা দু’টি খুলতে চাইলে তিনি বললেনঃ ‘ও দু’টো থাক, আমি পবিত্র অবস্থায় ও দু’টি পরেছিলাম’। (এই বলে) তিনি তার উপর মাস্‌হ করলেন। (১৮২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 72
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 205
Hadith 207

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Abbas:

Allah's Messenger (ﷺ) ate a piece of cooked mutton from the shoulder region and prayed without repeating ablution.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں امام مالک نے زید بن اسلم سے خبر دی ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا ۔ پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔

‘আবদুল্লাহ ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ একদা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বকরীর কাঁধের গোশত খেলেন। অতঃপর সালাত আদায় করলেন; কিন্তু উযূ করলেন না। (৫৪০৪, ৫৪০৫; মুসলিম ৩/২৪, হাঃ ৩৫৪, আহমাদ ১৯৯৪, ১৯৮৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 73
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 206
Hadith 208

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَلْقَى السِّكِّينَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated Ja`far bin `Amr bin Umaiya:

My father said, "I saw Allah's Messenger (ﷺ) taking a piece of (cooked) mutton from the shoulder region and then he was called for prayer. He put his knife down and prayed without repeating ablution."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہمیں لیث نے عقیل سے خبر دی ، وہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں ، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ نے اپنے باپ عمرو سے خبر دی کہ

انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے شانہ سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی ، نیا وضو نہیں کیا ۔

উমাইয়া (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে একটি বকরীর কাঁধের গোশ্‌ত কেটে খেতে দেখলেন। এ সময় সালাতের জন্য আহ্বান হল। তিনি ছুরিটি ফেলে দিলেন, অতঃপর সালাত আদায় করলেন; কিন্তু উযূ করলেন না। (৬৭৫, ২৯২৩, ৫৪০৮, ৫৪২২, ৫৪৬২; মুসলিম ৩/২৪, হাঃ ৩৫৫, আহমাদ ১৭২৫০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 74
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 207
Hadith 209

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَهُ‏.‏ أَنَّهُ، خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ ـ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ ـ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالأَزْوَادِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلاَّ بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated Suwaid bin Al-Nu`man:

In the year of the conquest of Khaibar I went with Allah's Messenger (ﷺ) till we reached Sahba, a place near Khaibar, where Allah's Messenger (ﷺ) offered the `Asr prayer and asked for food. Nothing but saweeq was brought. He ordered it to be moistened with water. He and all of us ate it and the Prophet (ﷺ) got up for the evening prayer (Maghrib prayer), rinsed his mouth with water and we did the same, and he then prayed without repeating the ablution.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھے امام مالک نے یحیٰی بن سعید کے واسطے سے خبر دی ، وہ بشیر بن یسار بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ

فتح خیبر والے سال وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صہبا کی طرف ، جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی ، پھر ناشتہ منگوایا گیا تو سوائے ستو کے اور کچھ نہیں لایا گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ بھگو دیے گئے ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور ہم نے ( بھی ) کھایا ۔ پھر مغرب ( کی نماز ) کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ہم نے ( بھی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا ۔

সুওয়াইদ ইব্‌নু নু’মান (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ খায়বার যুদ্ধের বছর তিনি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সাথে বের হলেন। চলতে চলতে তাঁরা সাহবা-য় পৌঁছলেন, এটি খায়বরের নিকটবর্তী অঞ্চল, তখন তিনি আসরের সালাত আদায় করলেন। অতঃপর খাবার আনতে বললেনঃ কিন্তু ছাতু ব্যতীত আর কিছুই আনা হল না। অতঃপর তিনি নির্দেশ দিলে তাতে পানি মেশানো হয়। আল্লাহর রসূল তা খেলেন এবং আমরাও খেলাম। অতঃপর তিনি মাগরিবের জন্য দাঁড়ালেন এবং কুলি করলেন এবং আমরাও কুলি করলাম। পরে তিনি সালাত আদায় করলেন; উযূ করলেন না। (২১৫, ২৯৮১, ৪১৭৫, ৪১৯৫, ৫৩৮৪, ৫৩৯০, ৫৪৫৪, ৫৪৫৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 75
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 208
Hadith 210

وَحَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated Maimuna:

The Prophet (ﷺ) ate (a piece of) mutton from the shoulder region and then prayed without repeating the ablution.

ہم سے اصبغ نے بیان کیا ، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی ، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے ، انھوں نے کریب سے ، ان کو حضرت میمونہ زوجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں ( بکری کا ) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا ۔

উম্মুল মু’মিনীন মাইমূনা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর (বকরীর) কাঁধের গোশত খেলেন, অতঃপর সালাত আদায় করলেন অথচ উযূ করলেন না। (মুসলিম ৩/২৪, হাঃ ৩৫৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১০)

In-book reference : Book 4, Hadith 76
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 209
Hadith 211

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ لَبَنًا، فَمَضْمَضَ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ لَهُ دَسَمًا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:

Allah's Messenger (ﷺ) drank milk, rinsed his mouth and said, "It has fat."

ہم سے یحییٰ بن بکیر اور قتیبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، وہ عقیل سے ، وہ ابن شہاب سے ، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا ، پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔ اس حدیث میں عقیل کی یونس اور صالح بن کیسان نے زہری سے متابعت کی ہے ۔

ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) দুধ পান করলেন। অতঃপর কুলি করলেন এবং বললেনঃ ‘এতে রয়েছে তৈলাক্ত বস্তু’ (কাজেই কুলি করা উত্তম)। ইউনুস ও সালিহ ইব্‌নু কায়সার (রাঃ) যুহরী (রহঃ) হতে অনুরূপ বর্ণনা করেছেন। (৫৬০৯; মুসলিম ৩/২৪, হাঃ ৩৫৮, আহমাদ ১৯৫১, ৩০৫১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১১)

In-book reference : Book 4, Hadith 77
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 210
Hadith 212

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لاَ يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you feels drowsy while praying he should go to bed (sleep) till his slumber is over because in praying while drowsy one does not know whether one is asking for forgiveness or for a bad thing for oneself."

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا مجھ کو مالک نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے باپ سے خبر دی ، انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آ جائے ، تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند ( کا اثر ) اس سے ختم ہو جائے ۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور وہ اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ ( خدا سے ) مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے ۔

‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ সালাতরত অবস্থায় তোমাদের কেউ তন্দ্রাচ্ছন্ন হয়ে পড়লে সে যেন ঘুমের আমেজ চলে না যাওয়া পর্যন্ত ঘুমিয়ে নেয়। কারণ, যে তন্দ্রাচ্ছন্ন সালাত আদায় করে সে জানে না যে, সে কি ইস্তেগফার করছে নাকি নিজেকে গালি দিচ্ছে। (মুসলিম ৬/৩১, হাঃ ৭৮৬, আহমাদ ২৪৩৪১, ২৫৭৫৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১২)

In-book reference : Book 4, Hadith 78
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 211
Hadith 213

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقْرَأُ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas:

The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you feels drowsy while praying, he should sleep till he understands what he is saying (reciting).

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے ، کہا ہم سے ایوب نے ابوقلابہ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز میں اونگھنے لگو تو سو جانا چاہیے ۔ پھر اس وقت نماز پڑھے جب جان لے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ কেউ যদি সালাতে তন্দ্রাচ্ছন্ন হয়ে পড়ে, সে যেন ততক্ষণ ঘুমিয়ে নেয়, যতক্ষণ না সে কী পড়ছে, তা অনুধাবন করতে সক্ষম হয়। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 79
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 212
Hadith 214

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ‏.‏ قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ قَالَ يُجْزِئُ أَحَدَنَا الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ‏.‏

Narrated `Amr bin `Amir:

Anas said, "The Prophet (ﷺ) used to perform ablution for every prayer." I asked Anas, "What did you used to do?' Anas replied, "We used to pray with the same ablution until we break it with Hadath."

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے عمرو بن عامر کے واسطے سے بیان کیا ، کہا میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ ( دوسری سند سے ) ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے ، وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں ، ان سے عمرو بن عامر نے بیان کیا ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ انھوں نے فرمایا کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے نیا وضو فرمایا کرتے تھے ۔ میں نے کہا تم لوگ کس طرح کرتے تھے ، کہنے لگے ہم میں سے ہر ایک کو اس کا وضو اس وقت تک کافی ہوتا ، جب تک کوئی وضو توڑنے والی چیز پیش نہ آ جاتی ۔ ( یعنی پیشاب ، پاخانہ ، یا نیند وغیرہ ) ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) প্রত্যেক সালাতের সময় উযূ করতেন। আমি বললাম : আপনারা কী করতেন? তিনি বললেনঃ হাদাস (উযূ ভঙ্গের কারণ) না হওয়া পর্যন্ত আমাদের (পূর্বের) উযূ যথেষ্ট হত। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 80
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 213
Hadith 215

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَا بِالأَطْعِمَةِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلاَّ بِالسَّوِيقِ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated Suwaid bin Nu`man:

In the year of the conquest of Khaibar I went with Allah's Messenger (ﷺ) till we reached As-Sahba' where Allah's Messenger (ﷺ) led the `Asr prayer and asked for the food. Nothing but saweeq was brought and we ate it and drank (water). The Prophet (ﷺ) got up for the (Maghrib) Prayer, rinsed his mouth with water and then led the prayer without repeating the ablution.

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھے یحییٰ بن سعید نے خبر دی ، انہیں بشیر بن یسار نے خبر دی ، انھوں نے کہا مجھے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بتلایا انھوں نے کہا کہ

ہم خیبر والے سال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جب صہباء میں پہنچے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ۔ جب نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے منگوائے ۔ مگر ( کھانے میں ) صرف ستو ہی لایا گیا ۔ سو ہم نے ( اسی کو ) کھایا اور پیا ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی ، پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور ( نیا ) وضو نہیں کیا ۔

সুওয়াইদ ইব্‌নু নু’মান (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ খায়বার যুদ্ধের বছর আমরা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সাথে বের হলাম। সহ্‌বা নামক স্থানে পৌঁছে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাদের নিয়ে আসরের সালাত আদায় করলেন। সালাত শেষে তিনি খাবার আনতে বললেন। ছাতু ব্যতীত আর কিছুই আনা হল না। আমরা তা খেলাম এবং পান করলাম। অতঃপর নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মাগরিবের জন্য দাঁড়ালেন, অতঃপর কুলি করলেন; অতঃপর আমাদের নিয়ে মাগরিবের সালাত আদায় করলেন অথচ তিনি (নতুন) উযূ করলেন না। (২০৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 81
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 214
Hadith 216

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ‏"‏، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً‏.‏ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ ‏"‏ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:

Once the Prophet, while passing through one of the graveyards of Medina or Mecca heard the voices of two persons who were being tortured in their graves. The Prophet (ﷺ) said, "These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid)." The Prophet (ﷺ) then added, "Yes! (they are being tortured for a major sin). Indeed, one of them never saved himself from being soiled with his urine while the other used to go about with calumnies (to make enmity between friends). The Prophet (ﷺ) then asked for a green leaf of a date-palm tree, broke it into two pieces and put one on each grave. On being asked why he had done so, he replied, "I hope that their torture might be lessened, till these get dried."

ہم سے عثمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے نقل کیا ، وہ مجاہد سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مدینہ یا مکے کے ایک باغ میں تشریف لے گئے ۔ ( وہاں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب کیا جا رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کھجور کی ) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کیا اور ان میں سے ( ایک ایک ٹکڑا ) ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا ۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں شاید اس وقت تک ان پر عذاب کم ہو جائے ۔

ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদা মদীনা বা মক্কার বাগানগুলোর মধ্য হতে কোন এক বাগানের পাশ দিয়ে যাচ্ছিলেন। তিনি এমন দু’ ব্যক্তির আওয়ায শুনতে পেলেন যে, তাদেরকে কবরে আযাব দেয়া হচ্ছিল। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ এদের দু’জনকে আযাব দেয়া হচ্ছে, অথচ কোন গুরুতর অপরাধে তাদের শাস্তি দেয়া হচ্ছে না। তারপর তিনি বললেনঃ ‘হ্যাঁ, এদের একজন পেশাব করতে গিয়ে সতর্কতা অবলম্বন করত না। অপর ব্যক্তি চোগলখোরী করত। অতঃপর তিনি একটি খেজুরের ডাল আনতে বললেন, এবং তা ভেঙ্গে দু’ টুকরা করে প্রত্যেকের কবরের উপর এক টুকরা করে রাখলেন। তাঁকে বলা হল, ‘হে আল্লাহর রসূল! কেন এমন করলেন?’ তিনি বললেনঃ আশা করা যেতে পারে যতক্ষণ পর্যন্ত এ দু’টি শুকিয়ে না যায় তাদের আযাব কিছুটা হালকা করা হবে। (২১৮, ১৩৬১, ১৩৭৮, ৬০৫২, ৬০৫৫; মুসলিম ২/৩৪, হাঃ ২৯২, আহমাদ ১৯৮০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 82
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 215
Hadith 217

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

Whenever the Prophet (ﷺ) went to answer the call of nature, I used to bring water with which he used to clean his private parts.

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی ، کہا مجھے روح بن القاسم نے بتلایا ، کہا مجھ سے عطاء بن ابی میمونہ نے بیان کیا ، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رفع حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لاتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استنجاء فرماتے ۔

আনাস ইব্‌নু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) প্রাকৃতিক প্রয়োজনে বের হলে আমি তাঁর নিকট পানি নিয়ে যেতাম। তিনি তা দিয়ে শৌচকার্য করতেন। (১৫০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 83
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 216
Hadith 218

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ ‏"‏ لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا مِثْلَهُ ‏"‏ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:

The Prophet (ﷺ) once passed by two graves and said, "These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid). One of them never saved himself from being soiled with his urine, while the other used to go about with calumnies (to make enmity between friends)." The Prophet (ﷺ) then took a green leaf of a date-palm tree, split it into (pieces) and fixed one on each grave. They said, "O Allah's Apostle! Why have you done so?" He replied, "I hope that their punishment might be lessened till these (the pieces of the leaf) become dry." (See the footnote of Hadith 215).

ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے محمد بن حازم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے اعمش نے مجاہد کے واسطے سے روایت کیا ، وہ طاؤس سے ، وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ

( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ پر نہیں ۔ ایک تو ان میں سے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لے کر بیچ سے اس کے دو ٹکڑے کئے اور ہر ایک قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا ۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایسا ) کیوں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شاید جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں ان پر عذاب میں کچھ تخفیف رہے ۔ ابن المثنی نے کہا کہ اس حدیث کو ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، انھوں نے مجاہد سے اسی طرح سنا ۔

ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদা দু’টি কবরের পাশ দিয়ে অতিক্রম করছিলেন। এ সময় তিনি বললেনঃ এদের ‘আযাব দেয়া হচ্ছে, কোন গুরুতর অপরাধের জন্য তাদের শাস্তি দেয়া হচ্ছে না। তাদের একজন পেশাব হতে সতর্ক থাকত না। আর অপরজন চোগলখোরী করে বেড়াত। তারপর তিনি একখানি কাঁচা খেজুরের ডাল নিয়ে ভেঙ্গে দু’ভাগ করলেন এবং প্রত্যেক কবরের উপর একখানি গেড়ে দিলেন। সাহাবীগণ জিজ্ঞেস করলেন, হে আল্লাহর রসূল! কেন এমন করলেন? তিনি বললেনঃ আশা করা যেতে পারে যতক্ষণ পর্যন্ত এ দু’টি শুকিয়ে না যায় তাদের আযাব কিছুটা হালকা করা হবে। ইব্‌নুল মুসান্না (রহঃ) আ’মাশ (রহঃ) বলেনঃ আমি মুজাহিদ (রহঃ) হতে অনুরূপ শুনেছি। সে তার পেশাব হতে সতর্ক থাকত। (২১৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 84
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 217
Hadith 219

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى أَعْرَابِيًّا يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏ "‏ دَعُوهُ ‏"‏‏.‏ حَتَّى إِذَا فَرَغَ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

The Prophet (ﷺ) saw a Bedouin making water in the mosque and told the people not to disturb him. When he finished, the Prophet (ﷺ) asked for some water and poured it over (the urine).

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے ، کہا ہم سے اسحاق نے انس بن مالک کے واسطے سے نقل کیا کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کو مسجد میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو جب وہ فارغ ہو گیا تو پانی منگا کر آپ نے ( اس جگہ ) بہا دیا ۔

আনাস ইব্‌নু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক বেদুঈনকে মসজিদে পেশাব করতে দেখলেন। তখন তিনি বললেনঃ ‘তাকে ছেড়ে দাও’। সে পেশাব শেষ করলে পানি নিয়ে আসতে বললেন, অতঃপর তা সেখানে ঢেলে দিলেন। (২২১, ৬০২৫ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 85
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 218
Hadith 220

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دَعُوهُ وَهَرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلاً مِنْ مَاءٍ، أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:

A Bedouin stood up and started making water in the mosque. The people caught him but the Prophet (ﷺ) ordered them to leave him and to pour a bucket or a tumbler of water over the place where he had passed the urine. The Prophet (ﷺ) then said, "You have been sent to make things easy and not to make them difficult."

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں شعیب نے زہری کے واسطے سے خبر دی ، انھوں نے کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ

ایک اعرابی کھڑا ہو کر مسجد میں پیشاب کرنے لگا ۔ تو لوگ اس پر جھپٹنے لگے ۔ ( یہ دیکھ کر ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا کچھ کم بھرا ہوا ڈول بہا دو ۔ کیونکہ تم نرمی کے لیے بھیجے گئے ہو ، سختی کے لیے نہیں ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ একদা জনৈক বেদুঈন দাঁড়িয়ে মসজিদে পেশাব করল। তখন লোকেরা তাকে বাধা দিতে গেলে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাদের বললেনঃ তোমরা তাকে ছেড়ে দাও এবং ওর পেশাবের উপর এক বালতি পানি ঢেলে দাও। কারণ তোমাদেরকে কোমল ও সুন্দর আচরণ করার জন্য পাঠানো হয়েছে, রূঢ় আচরণ করার জন্য পাঠানো হয়নি। (৬১২৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২০)

In-book reference : Book 4, Hadith 86
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 219
Hadith 221

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

The Prophet (ﷺ) said as above (219).

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہمیں یحییٰ بن سعید نے خبر دی ، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ

ایک دیہاتی شخص آیا اور اس نے مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کر دیا ۔ لوگوں نے اس کو منع کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا ۔ جب وہ پیشاب کر کے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے پیشاب ) پر ایک ڈول پانی بہانے کا حکم دیا ۔ چنانچہ بہا دیا گیا ۔

আনাস ইব্‌নু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে অনুরূপ হাদীস বর্ণনা করেছেন। (২১৯) আনাস ইব্‌নু মালিক (রাঃ) হতে বর্ণিত। তিনি বলেনঃ একবার এক বেদুঈন এসে মসজিদের এক পাশে পেশাব করে দিল। তা দেখে লোকজন তাকে ধমকাতে লাগল। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাদের নিষেধ করলেন। তার পেশাব শেষ হলে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর আদেশে এর উপর এক বালতি পানি ঢেলে দেওয়া হল। (২১৯ নম্বর হাদিসের অনুরুপ)

In-book reference : Book 4, Hadith 87
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 220
Hadith 222

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ‏.‏

Narrated `Aisha:

(the mother of faithful believers) A child was brought to Allah's Messenger (ﷺ) and it urinated on the garment of the Prophet. The Prophet (ﷺ) asked for water and poured it over the soiled place.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے باپ ( عروہ ) سے ، انھوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا ۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور اس پر ڈال دیا ۔

উম্মুল মু’মিনীন মা ‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট একটি ছেলে শিশুকে আনা হল। শিশুটি তাঁর কাপড়ে পেশাব করে দিল। তিনি পানি আনালেন এবং এর উপর ঢেলে দিলেন। (৫৪৬৮, ৬০০২, ৬৩৫৫ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২২)

In-book reference : Book 4, Hadith 88
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 222
Hadith 223

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ‏.‏

Narrated Um Qais bint Mihsin:

I brought my young son, who had not started eating (ordinary food) to Allah's Messenger (ﷺ) who took him and made him sit in his lap. The child urinated on the garment of the Prophet, so he asked for water and poured it over the soiled (area) and did not wash it.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہمیں مالک نے ابن شہاب سے خبر دی ، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ( بن مسعود ) سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں ، وہ ام قیس بنت محصن نامی ایک خاتون سے کہ

وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئیں ۔ جو کھانا نہیں کھاتا تھا ۔ ( یعنی شیرخوار تھا ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا ۔ اس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا ۔

উম্মু কায়স বিন্‌ত মিহসান (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি তাঁর এমন একটি ছোট ছেলেকে নিয়ে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট এলেন যে তখনো খাবার খেতে শিখেনি। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) শিশুটিকে তাঁর কোলে বসালেন। তখন সে তাঁর কাপড়ে পেশাব করে দিল। তিনি পানি আনিয়ে এর উপর ছিটিয়ে দিলেন এবং তা ধৌত করলেন না। [১] (৫৬৯৩; মুসলিম ২/৩১, হাঃ ২৮৭, আহমাদ ২৭০৬৪, ২৭০৭২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 89
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 223
Hadith 224

حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَجِئْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ‏.‏

Narrated Hudhaifa:

Once the Prophet (ﷺ) went to the dumps of some people and passed urine while standing. He then asked for water and so I brought it to him and he performed ablution.

ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے اعمش کے واسطے سے نقل کیا ، وہ ابووائل سے ، وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑی پر تشریف لائے ( پس ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔ پھر پانی منگایا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا ۔

হুযাইফা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদা গোত্রের ময়লা আবর্জনা ফেলার স্থানে আসলেন। তিনি সেখানে দাঁড়িয়ে পেশাব করলেন। [১] অতঃপর পানি আনতে বললেন। আমি তাঁকে পানি এনে দিলে তিনি উযূ করলেন।[১] (২২৫, ২২৬, ২৪৭১ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 90
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 224
Hadith 225

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُنِي أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَىَّ فَجِئْتُهُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ‏.‏

Narrated Hudhaifa':

The Prophet (ﷺ) and I walked till we reached the dumps of some people. He stood, as any one of you stands, behind a wall and urinated. I went away, but he beckoned me to come. So I approached him and stood near his back till he finished.

ہم سے عثمان ابن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابووائل سے ، وہ حذیفہ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ

( ایک مرتبہ ) میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے کہ ایک قوم کی کوڑی پر ( جو ) ایک دیوار کے پیچھے ( تھی ) پہنچے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح ہم تم میں سے کوئی ( شخص ) کھڑا ہوتا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور میں ایک طرف ہٹ گیا ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( پردہ کی غرض سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے قریب کھڑا ہو گیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے ۔ ( بوقت ضرورت ایسا بھی کیا جا سکتا ہے ۔ )

হুযাইফা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমার স্মরণ আছে যে, একদা আমি ও নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক সাথে চলছিলাম। তিনি দেয়ালের পিছনে মহল্লার একটি আবর্জনা ফেলার জায়গায় এলেন। অতঃপর তোমাদের কেউ যেভাবে দাঁড়ায় সে ভাবে দাঁড়িয়ে তিনি পেশাব করলেন। এ সময় আমি তাঁর নিকট হতে সরে যাচ্ছিলাম কিন্তু তিনি আমাকে ইঙ্গিত করলেন। আমি এসে তাঁর পেশাব করা শেষ না হওয়া পর্যন্ত তাঁর পিছনে দাঁড়িয়ে রইলাম। (২২৪; মুসলিম ২/২২, হাঃ ২৭৩, আহমাদ ২৩৩০১, ২৩৪০৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 91
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 225
Hadith 226

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ أَحَدِهِمْ قَرَضَهُ‏.‏ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَيْتَهُ أَمْسَكَ، أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا‏.‏

Narrated Abu Wail:

Abu Musa Al-Ash`ari used to lay great stress on the question of urination and he used to say, "If anyone from Bani Israel happened to soil his clothes with urine, he used to cut that portion away." Hearing that, Hudhaifa said to Abu Wail, "I wish he (Abu Musa) didn't (lay great stress on that matter)." Hudhaifa added, "Allah's Messenger (ﷺ) went to the dumps of some people and urinated while standing."

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے منصور کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابووائل سے نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ

ابوموسیٰ اشعری پیشاب ( کے بارہ ) میں سختی سے کام لیتے تھے اور کہتے تھے کہ بنی اسرائیل میں جب کسی کے کپڑے کو پیشاب لگ جاتا ۔ تو اسے کاٹ ڈالتے ۔ ابوحذیفہ کہتے ہیں کہ کاش ! وہ اپنے اس تشدد سے رک جاتے ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑی پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔

আবূ ওয়াইল (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আবূ মূসা (রাঃ) পেশাবের ব্যাপারে খুব কঠোরতা আরোপ করতেন এবং বলতেন : বনী ইসরাঈলের কারো কাপড়ে (পেশাব) লাগলে তা কেটে ফেলত। হুযায়ফা (রাঃ) বললেন, আবূ মূসা (রাঃ) যদি এ হতে বিরত থাকতেন (তবে ভাল হত)। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মহল্লার আবর্জনা ফেলার স্থানে গিয়ে দাঁড়িয়ে পেশাব করেছেন। (২২৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 92
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 226
Hadith 227

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ ‏ "‏ تَحُتُّهُ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ، وَتَنْضَحُهُ وَتُصَلِّي فِيهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Asma':

A woman came to the Prophet (ﷺ) and said, "If anyone of us gets menses in her clothes then what should she do?" He replied, "She should (take hold of the soiled place), rub it and put it in the water and rub it in order to remove the traces of blood and then pour water over it. Then she can pray in it."

ہم سے محمد ابن المثنی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا ، ان سے فاطمہ نے اسماء کے واسطے سے ، وہ کہتی ہیں کہ

ایک عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور فرمائیے ہم میں سے کسی عورت کو کپڑے میں حیض آ جائے ( تو ) وہ کیا کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ پہلے ) اسے کھرچے ، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے ۔

আসমা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, জনৈকা মহিলা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট এসে বললেনঃ (হে আল্লাহর রসূল!) বলুন, আমাদের কারো কাপড়ে হায়যের রক্ত লেগে গেলে সে কী করবে? তিনি বললেনঃ সে তা ঘষে ফেলবে, তারপর পানি দিয়ে রগড়াবে এবং ভাল করে ধুয়ে ফেলবে। অতঃপর সেই কাপড়ে সালাত আদায় করবে। (৩০৭; মুসলিম ২/৩৩, হাঃ ২৯১, আহমাদ ৬৯৯৮, ২৭০৪৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 93
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 227
Hadith 228

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَالَ أَبِي ‏"‏ ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ، حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha:

Fatima bint Abi Hubaish came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ) I get persistent bleeding from the uterus and do not become clean. Shall I give up my prayers?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, because it is from a blood vessel and not the menses. So when your real menses begins give up your prayers and when it has finished wash off the blood (take a bath) and offer your prayers." Hisham (the sub narrator) narrated that his father had also said, (the Prophet (ﷺ) told her): "Perform ablution for every prayer till the time of the next period comes."

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابومعاویہ نے ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ ( عروہ ) کے واسطے سے ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں ، وہ فرماتی ہیں کہ

ابوحبیش کی بیٹی فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے ۔ اس لیے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے ۔ تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے ( بدن اور کپڑے ) سے خون کو دھو ڈال پھر نماز پڑھ ۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ عروہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( بھی ) فرمایا کہ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی ( حیض کا ) وقت پھر آ جائے ۔

‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ফাতিমা বিন্‌তু আবূ হুবায়শ (রাঃ) নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট এসে বললেন, ‘হে আল্লাহর রসূল! আমি একজন রক্ত-প্রদর রোগগ্রস্তা (ইস্তিহাযাহ) মহিলা। আমি কখনো পবিত্র হতে পারি না। এমতাবস্থায় আমি কি সালাত পরিত্যাগ করবো?’ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ না, এতো শিরা হতে নির্গত রক্ত; হায়য নয়। তাই যখন তোমার হায়য আসবে তখন সালাত ছেড়ে দিও। আর যখন তা বন্ধ হবে তখন রক্ত ধুয়ে ফেলবে, তারপর সালাত আদায় করবে। বর্ণনাকারী বলেন, আমার পিতা বলেছেনঃ অতঃপর এভাবে আরেক হায়য না আসা পর্যন্ত প্রত্যেক সালাতের জন্য উযূ করবে। (মুসলিম ৩/১৪, হাঃ ৩৩৩, আহমাদ ২৪৫৭৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২৮)

In-book reference : Book 4, Hadith 94
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 228
Hadith 229

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ، وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ‏.‏

Narrated `Aisha:

I used to wash the traces of Janaba (semen) from the clothes of the Prophet (ﷺ) and he used to go for prayers while traces of water were still on it (water spots were still visible).

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا مجھے عبداللہ ابن مبارک نے خبر دی ، کہا مجھے عمرو بن میمون الجزری نے بتلایا ، وہ سلیمان بن یسار سے ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ۔ آپ فرماتی ہیں کہ

میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کو دھوتی تھی ۔ پھر ( اس کو پہن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں ہوتے تھے ۔

‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাপড় হতে অপবিত্রতার চিহ্ন ধুয়ে দিতাম এবং কাপড়ে ভিজা চিহ্ন নিয়ে তিনি সালাতে বের হতেন। (২৩০, ২৩১, ২৩২; মুসলিম ২/৩২, হাঃ ২৮৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 95
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 229
Hadith 230

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ بُقَعُ الْمَاءِ‏.‏

Narrated Sulaiman bin Yasar:

I asked `Aisha about the clothes soiled with semen. She replied, "I used to wash it off the clothes of Allah's Messenger (ﷺ) and he would go for the prayer while water spots were still visible. "

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید نے ، کہا ہم سے عمرو نے سلیمان سے روایت کیا ، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ( دوسری سند یہ ہے ) ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد نے ، کہا ہم سے عمرو بن میمون نے سلیمان بن یسار کے واسطے سے نقل کیا ، وہ کہتے ہیں کہ

میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس منی کے بارہ میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے ۔ تو انھوں نے فرمایا کہ میں منی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھو ڈالتی تھی پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے اور دھونے کا نشان ( یعنی ) پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں باقی ہوتے ۔

সুলাইমান ইব্‌নু ইয়াসার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ ‘আমি ‘আয়িশা (রাঃ)-কে কাপড়ে লাগা বীর্য সম্পর্কে জিজ্ঞেস করলাম।’ তিনি বললেনঃ আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাপড় হতে তা ধুয়ে ফেলতাম। তিনি কাপড় ধোয়ার ভিজা দাগ নিয়ে সালাতে বের হতেন। (২২৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩০)

In-book reference : Book 4, Hadith 96
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 230
Hadith 231

حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ فِي الثَّوْبِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِيهِ بُقَعُ الْمَاءِ‏.‏

Narrated `Amr bin Maimun:

I heard Sulaiman bin Yasar talking about the clothes soiled with semen. He said that `Aisha had said, "I used to wash it off the clothes of Allah's Messenger (ﷺ) and he would go for the prayers while water spots were still visible on them.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عمرو بن میمون نے ، وہ کہتے ہیں کہ

میں نے اس کپڑے کے متعلق جس میں جنابت ( ناپاکی ) کا اثر آ گیا ہو ، سلیمان بن یسار سے سنا وہ کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر نکلتے اور دھونے کا نشان یعنی پانی کے دھبے کپڑے میں ہوتے ۔

‘আমর ইব্‌নু মায়মূন (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ কাপড়ে জানাবাতের অপবিত্রতা লাগা সম্পর্কে আমি সুলায়মান ইব্‌নু ইয়াসার (রহঃ)-কে জিজ্ঞেস করলে তিনি বললেনঃ ‘আয়িশা (রাঃ) বলেছেনঃ আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাপড় হতে তা ধুয়ে ফেলতাম। অতঃপর তিনি সালাতে বেরিয়ে যেতেন আর তাতে পানি দিয়ে ধোয়ার চিহ্ন অবশিষ্ট থাকত। (২২৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩১)

In-book reference : Book 4, Hadith 97
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 231
Hadith 232

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ أَرَاهُ فِيهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا‏.‏

Narrated `Aishah:

I used to wash the semen off the clothes of the Prophet (ﷺ) and even then I used to notice one or more spots on them.

ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے ، کہا ہم سے عمرو بن میمون بن مہران نے ، انھوں نے سلیمان بن یسار سے ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ

وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھیں ( وہ فرماتی ہیں کہ ) پھر ( کبھی ) میں ایک دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی تھی ۔

‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাপড় হতে বীর্য ধুয়ে ফেলতেন। ‘আয়িশা (রাঃ) বললেনঃ তারপর আমি তাতে পানির একটি বা কয়েকটি দাগ দেখতে পেতাম। (২২৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩২)

In-book reference : Book 4, Hadith 98
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 232
Hadith 233

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلِقَاحٍ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَجَاءَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ‏.‏ قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ فَهَؤُلاَءِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏

Narrated Abu Qilaba:

Anas said, "Some people of `Ukl or `Uraina tribe came to Medina and its climate did not suit them. So the Prophet (ﷺ) ordered them to go to the herd of (Milch) camels and to drink their milk and urine (as a medicine). So they went as directed and after they became healthy, they killed the shepherd of the Prophet and drove away all the camels. The news reached the Prophet (ﷺ) early in the morning and he sent (men) in their pursuit and they were captured and brought at noon. He then ordered to cut their hands and feet (and it was done), and their eyes were branded with heated pieces of iron, They were put in 'Al-Harra' and when they asked for water, no water was given to them." Abu Qilaba said, "Those people committed theft and murder, became infidels after embracing Islam and fought against Allah and His Apostle ."

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انھوں نے حماد بن زید سے ، وہ ایوب سے ، وہ ابوقلابہ سے ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

کچھ لوگ عکل یا عرینہ ( قبیلوں ) کے مدینہ میں آئے اور بیمار ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لقاح میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں ۔ چنانچہ وہ لقاح چلے گئے اور جب اچھے ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے وہ جانوروں کو ہانک کر لے گئے ۔ علی الصبح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اس واقعہ کی ) خبر آئی ۔ تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے ۔ دن چڑھے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کر لائے گئے ۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر دی گئیں اور ( مدینہ کی ) پتھریلی زمین میں ڈال دئیے گئے ۔ ( پیاس کی شدت سے ) وہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا ۔ ابوقلابہ نے ( ان کے جرم کی سنگینی ظاہر کرتے ہوئے ) کہا کہ ان لوگوں نے چوری کی اور چرواہوں کو قتل کیا اور ( آخر ) ایمان سے پھر گئے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ‘উকল বা ‘উরাইনাহ গোত্রের কিছু লোক (ইসলাম গ্রহণের উদ্দেশে) মদীনায় এলে তারা অসুস্থ হয়ে পড়ল। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাদের (সদকার) উটের নিকট যাবার এবং উটের পেশাব ও দুধ পান করার নির্দেশ দিলেন। তারা সেখানে চলে গেল। অতঃপর তারা সুস্থ হয়ে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর রাখালকে হত্যা করল এবং উটগুলো তাড়িয়ে নিয়ে গেল। এ সংবাদ দিনের প্রথম ভাগেই (তাঁর নিকট) এসে পৌঁছল। তিনি তাদের পশ্চাদ্ধাবন করার জন্য লোক পাঠালেন। বেলা বাড়লে তাদেরকে পাকড়াও করে আনা হল। অতঃপর তাঁর আদেশে তাদের হাত পা কেটে ফেলা হল। উত্তপ্ত শলাকা দিয়ে তাদের চোখ ফুটিয়ে দেয়া হল এবং গরম পাথুরে ভূমিতে তাদের নিক্ষেপ করা হল। তারা পানি চাইছিল, কিন্তু তাদেরকে পানি দেয়া হয়নি। আবূ কিলাবাহ (রহঃ) বলেন, এরা চুরি করেছিল, হত্যাকান্ড ঘটিয়েছিল, ঈমান আনার পর কুফরী করেছিল এবং আল্লাহ ও তাঁর রসূলের বিরুদ্ধে যুদ্ধে লিপ্ত হয়েছিল। (১৫০১, ৩০১৮, ৪১৯২, ৪১৯৩, ৪৬১০, ৫৬৮৫, ৫৬৮৬, ৫৭২৭, ৬৮০২, ৬৮০৩, ৬৮০৪, ৬৮০৫, ৬৮৯৯; মুসলিম ২৮/২, হাঃ ১৬৭১, আহমাদ ১২৯৩৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 99
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 234
Hadith 234

حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ‏.‏

Narrated Anas:

Prior to the construction of the mosque, the Prophet (ﷺ) offered the prayers at sheep-folds.

ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا مجھے ابوالتیاح یزید بن حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، وہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی تعمیر سے پہلے نماز بکریوں کے باڑے میں پڑھ لیا کرتے تھے ۔ ( معلوم ہوا کہ بکریوں وغیرہ کے باڑے میں بوقت ضرورت نماز پڑھی جا سکتی ہے ) ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ মসজিদে নাবাবী নির্মিত হবার পূর্বে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বকরীর খোঁয়াড়ে সালাত আদায় করতেন। [১] (৪২৮, ৪২৯, ১৮৬৪, ২১০৬, ২৭৭১, ২৭৭৪, ২৭৭৯, ৩৯৩২; মুসলিম ৫/১, হাঃ ৫২৪, আহমাদ ১৩০১৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 100
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 235
Hadith 235

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ ‏ "‏ أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ‏.‏ وَكُلُوا سَمْنَكُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated Maimuna:

Allah's Messenger (ﷺ) was asked regarding ghee (cooking butter) in which a mouse had fallen. He said, "Take out the mouse and throw away the ghee around it and use the rest."

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھ کو مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے روایت کی ، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے ، وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہے کے بارہ میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا ۔ فرمایا اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس ( کے گھی ) کو نکال پھینکو اور اپنا ( باقی ) گھی استعمال کرو ۔

মাইমূনা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে ‘ঘি’য়ে পতিত ইঁদুর সম্পর্কে জিজ্ঞেস করা হলে তিনি বললেনঃ ‘ইঁদুরটি এবং তার আশ পাশ হতে ফেলে দাও এবং তোমাদের অবশিষ্ট ঘি খাও। (২৩৬, ৫৫৩৮, ৫৫৩৯, ৫৫৪০ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 101
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 236
Hadith 236

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ ‏ "‏ خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ مَا لاَ أُحْصِيهِ يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ‏.‏

Narrated Maimuna:

The Prophet (ﷺ) was asked regarding ghee in which a mouse had fallen. He said, "Take out the mouse and throw away the ghee around it (and use the rest.)"

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے معن نے ، کہا ہم سے مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں گر گیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس چوہے کو اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال کر پھینک دو ۔ معن کہتے ہیں کہ مالک نے اتنی بار کہ میں گن نہیں سکتا ( یہ حدیث ) ابن عباس سے اور انھوں نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۔

মাইমূনা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে ‘ঘি’র মধ্যে ইঁদুর পড়ে যাওয়া সম্পর্কে জিজ্ঞেস করা হল। তিনি বললেনঃ তা ও তার আশপাশ হতে ফেলে দাও। (আ.প্র. ২৩০) মা’ন (রহঃ) বলেন, মালিক (রহঃ) আমার নিকট বহুবার এভাবে বর্ণনা করেছেন : ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) হতে এবং ইব্‌নু ‘আব্বাস (রাঃ) মাইমূনা (রাঃ) হতেও। (ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৬)

In-book reference : Book 4, Hadith 102
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 237
Hadith 237

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذْ طُعِنَتْ، تَفَجَّرُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:

The Prophet (ﷺ) said, "A wound which a Muslim receives in Allah's cause will appear on the Day of Resurrection as it was at the time of infliction; blood will be flowing from the wound and its color will be that of the blood but will smell like musk."

ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا مجھے معمر نے ہمام بن منبہ سے خبر دی اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر زخم جو اللہ کی راہ میں مسلمان کو لگے وہ قیامت کے دن اسی حالت میں ہو گا جس طرح وہ لگا تھا ۔ اس میں سے خون بہتا ہو گا ۔ جس کا رنگ ( تو ) خون کا سا ہو گا اور خوشبو مشک کی سی ہو گی ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে বর্ণনা করেন, তিনি বলেনঃ আল্লাহর রাস্তায় মুসলিমদের যে যখম হয়, ক্বিয়ামাতের দিন তার প্রতিটি যখম আঘাতকালীন সময়ে যে অবস্থায় ছিল সে অবস্থাতেই থাকবে। রক্ত ছুটে বের হতে থাকবে। তার রং হবে রক্তের রং কিন্তু গন্ধ হবে মিশকের মত। (২৮০৩, ৫৫৩৩; মুসলিম ৩৩/২৮, হাঃ ১৮৭৬, আহমাদ ৯১৯৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৭)

In-book reference : Book 4, Hadith 103
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 238
Hadith 238

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "We (Muslims) are the last (people to come in the world) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection)."

ہم سے ابوالیمان بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا مجھے ابوالزناد نے خبر دی کہ ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمزالاعرج نے بیان کیا ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ

ہم ( لوگ ) دنیا میں پچھلے زمانے میں آئے ہیں ( مگر آخرت میں ) سب سے آگے ہیں ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছেন যে, আমরা শেষে আগমনকারী এবং (ক্বিয়ামাত দিবসে) অগ্রবর্তী। (৮৭৬, ৮৯৬, ২৯৫৬, ৩৪৮৬, ৬৬২৪, ৬৮৮৭,৭০৩৬,৭৪৯৫ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ নাই, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৮) এ সনদেই তিনি বলেনঃ তোমাদের কেউ যেন স্থির- যা প্রবাহিত নয় এমন পানিতে কখনো পেশাব না করে। (সম্ভবত) পরে সে আবার তাতে গোসল করবে। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৮ শেষাংশ)

In-book reference : Book 4, Hadith 104
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 239
Hadith 239

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ ‏"‏‏.‏

The same narrator said that the Prophet (ﷺ) had said:

"You should not pass urine in stagnant water which is not flowing then (you may need to) wash in it."

اور اسی سند سے

( یہ بھی ) فرمایا کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے ۔ پھر اسی میں غسل کرنے لگے ؟

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তোমাদের কেউ যেন স্থির- যা প্রবাহিত নয় এমন পানিতে কখনো পেশাব না করে। (সম্ভবত) পরে সে আবার তাতে গোসল করবে। (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৮ শেষাংশ)

In-book reference : Book 4, Hadith 105
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 240
Hadith 240

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ، لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنْعَةٌ‏.‏ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ‏"‏‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ ـ قَالَ وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ـ ثُمَّ سَمَّى ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ‏"‏‏.‏ وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ‏.‏

Narrated `Abdullah:

While Allah's Messenger (ﷺ) was prostrating (as stated below). Narrated `Abdullah bin Mas`ud: Once the Prophet (ﷺ) was offering prayers at the Ka`ba. Abu Jahl was sitting with some of his companions. One of them said to the others, "Who amongst you will bring the Abdominal contents (intestines, etc.) of a camel of Bani so and so and put it on the back of Muhammad, when he prostrates?" The most unfortunate of them got up and brought it. He waited till the Prophet (ﷺ) prostrated and then placed it on his back between his shoulders. I was watching but could not do any thing. I wish I had some people with me to hold out against them. They started laughing and falling on one another. Allah's Messenger (ﷺ) was in prostration and he did not lift his head up till Fatima (Prophet's daughter) came and threw that (camel's Abdominal contents) away from his back. He raised his head and said thrice, "O Allah! Punish Quraish." So it was hard for Abu Jahl and his companions when the Prophet invoked Allah against them as they had a conviction that the prayers and invocations were accepted in this city (Mecca). The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Punish Abu Jahl, `Utba bin Rabi`a, Shaiba bin Rabi`a, Al-Walid bin `Utba, Umaiya bin Khalaf, and `Uqba bin Al Mu'it [??] (and he mentioned the seventh whose name I cannot recall). By Allah in Whose Hands my life is, I saw the dead bodies of those persons who were counted by Allah's Messenger (ﷺ) in the Qalib (one of the wells) of Badr.

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا مجھے میرے باپ ( عثمان ) نے شعبہ سے خبر دی ، انھوں نے ابواسحاق سے ، انھوں نے عمرو بن میمون سے ، انھوں نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں سجدہ میں تھے ۔ ( ایک دوسری سند سے ) ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے ، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں ۔ ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی ( بھی وہیں ) بیٹھے ہوئے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے جو قبیلے کی ( جو ) اونٹنی ذبح ہوئی ہے ( اس کی ) اوجھڑی اٹھا لائے اور ( لا کر ) جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جائیں تو ان کی پیٹھ پر رکھ دے ۔ یہ سن کر ان میں سے ایک سب سے زیادہ بدبخت ( آدمی ) اٹھا اور وہ اوجھڑی لے کر آیا اور دیکھتا رہا جب آپ نے سجدہ کیا تو اس نے اس اوجھڑی کو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ( عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں ) میں یہ ( سب کچھ ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا ۔ کاش ! ( اس وقت ) مجھے روکنے کی طاقت ہوتی ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے اور ( ہنسی کے مارے ) لوٹ پوٹ ہونے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے ( بوجھ کی وجہ سے ) اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے ۔ یہاں تک کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بوجھ آپ کی پیٹھ سے اتار کر پھینکا ، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا ۔ یا اللہ ! تو قریش کو پکڑ لے ، یہ ( بات ) ان کافروں پر بہت بھاری ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بددعا دی ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر ( مکہ ) میں جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے پھر آپ نے ( ان میں سے ) ہر ایک کا ( جدا جدا ) نام لیا کہ اے اللہ ! ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دے ۔ ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عتبہ ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو ۔ ساتویں ( آدمی ) کا نام ( بھی ) لیا مگر مجھے یاد نہیں رہا ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ جن لوگوں کے ( بددعا کرتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیے تھے ، میں نے ان کی ( لاشوں ) کو بدر کے کنویں میں پڑا ہوا دیکھا ۔

'আবদুল্লাহ ইব্‌নু মাস'ঊদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ একদা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সাজদারত অবস্থায় ছিলেন। অন্য সূত্রে আহমাদ ইব্‌নু 'উসমান (রহঃ)..... 'আবদুল্লাহ ইব্‌নু মাস'ঊদ (রাঃ) বর্ণনা করেন যে, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদা বায়তুল্লার (ক্বাবার) পাশে সালাত আদায় করছিলেন এবং সেখানে আবূ জাহেল ও তার সাথীরা বসা ছিল। এমন সময় তাদের একজন অন্যজনকে বলে উঠল 'তোমাদের মধ্যে কে অমুক গোত্রের উটনীর নাড়িভুঁড়ি এনে মুহাম্মাদ যখন সাজ্‌দা করেন তখন তার পিঠের উপর চাপিয়ে দিতে পারে'? তখন গোত্রের বড় পাষণ্ড ('উকবাহ) তাড়াতাড়ি গিয়ে তা নিয়ে এল এবং তাঁর প্রতি লক্ষ্য রাখল। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন সাজদায় গেলেন, তখন সে তাঁর পিঠের উপর দুই কাঁধের মাঝখানে তা রেখে দিল। ইব্‌নু মাস'ঊদ (রাঃ) বলেন, আমি (এ দৃশ্য) দেখছিলাম কিন্তু আমার কিছু করার ছিল না। হায়! আমার যদি বাধা দেবার শক্তি থাকত! তিনি বলেন, তারা হাসতে লাগল এবং একে অন্যের উপর লুটোপুটি খেতে লাগল। আর আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তখন সাজদায় থাকলেন, মাথা উঠালেন না। অবশেষে ফাতিমা (রাঃ) এসে সেটি তাঁর পিঠের উপর হতে ফেলে দিলেন। অতঃপর আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মাথা উঠিয়ে বললেনঃ হে আল্লাহ! আপনি কুরায়শকে ধ্বংস করুন। এরূপ তিনবার বললেন। তিনি যখন তাদের বদ দু'আ করেন তখন তা তাদের অন্তরে ভয় জাগিয়ে তুলল। বর্ণনাকারী বলেন, তারা জানত যে, এ শহরে দু'আ কবূল হয়। অতঃপর তিনি নাম ধরে বললেনঃ হে আল্লাহ! আবূ জাহেলকে ধ্বংস করুন এবং 'উতবাহ ইব্‌নু রবী'আহ, শায়বাহ ইব্‌নু রবী'আ, ওয়ালীদ ইব্‌নু 'উতবাহ, উমাইয়া বিন খালাফ ও 'উকবাহ ইব্‌নু আবী মু'আইতকে ধ্বংস করুন। রাবী বলেন, তিনি সপ্তম ব্যক্তির নামও বলেছিলেন কিন্তু তিনি স্মরণ রাখতে পারেননি। ইব্‌নু মাস'ঊদ (রাঃ) বলেনঃ সেই সত্তার কসম! যাঁর হাতে আমার প্রাণ, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যাদের নাম উচ্চারণ করেছিলেন, তাদের আমি বদরের কূপের মধ্যে নিহত অবস্থায় পড়ে থাকতে দেখেছি। (৫২০, ২৯৩৪, ৩১৮৫, ৩৮৫৪, ৩৯৬০; মুসলিম ৩২/৩৯, হাঃ ১৭৯৪, আহমাদ ৩৭২২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩৯)

In-book reference : Book 4, Hadith 106
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 241
Hadith 241

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ثَوْبِهِ‏.‏ طَوَّلَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Anas:

The Prophet (ﷺ) once spat in his clothes.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے حمید کے واسطے سے بیان کیا ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک مرتبہ ) اپنے کپڑے میں تھوکا ۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ سعید بن ابی مریم نے اس حدیث کو طوالت کے ساتھ بیان کیا انھوں نے کہا ہم کو خبر دی یحییٰ بن ایوب نے ، کہا مجھ سے حمید نے بیان کیا ، کہا میں نے انس سے سنا ، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদা তাঁর কাপড়ে থুথু ফেললেন। ইমাম বুখারী (রহঃ) বলেন যে, ইব্‌নু আবূ মারইয়াম এ হাদীসটি বিশদভাবে বর্ণনা করেছেন। (৪০৫, ৪১২, ৪১৩, ৪১৭, ৫৩১, ৫৩২, ৮২২, ১৬১৪ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৪০)

In-book reference : Book 4, Hadith 107
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 242
Hadith 242

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ‏"‏‏.‏

Narrated Aisha:

The Prophet (ﷺ) said, "All drinks that produce intoxication are Haram (forbidden to drink).

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، ان سے زہری نے ابوسلمہ کے واسطے سے بیان کیا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو حرام ہے ۔

'আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ যে সকল পানীয় নেশা সৃষ্টি করে, তা হারাম। (৫৫৮৫, ৫৫৮৬ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৪১)

In-book reference : Book 4, Hadith 108
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 243
Hadith 243

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ،، وَسَأَلَهُ النَّاسُ، وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَحَدٌ بِأَىِّ شَىْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَاءٌ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ‏.‏

Narrated Abu Hazim:

Sahl bin Sa`d As-Sa`idi, was asked by the people, "With what was the wound of the Prophet (ﷺ) treated? Sahl replied, "None remains among the people living who knows that better than I. `Ali [??] used to bring water in his shield and Fatima used to wash the blood off his face. Then straw mat was burnt and the wound was filled with it."

ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابن ابی حازم کے واسطے سے نقل کیا ، انھوں نے سہل بن سعد الساعدی سے سنا کہ

لوگوں نے ان سے پوچھا ، اور ( میں اس وقت سہل کے اتنا قریب تھا کہ ) میرے اور ان کے درمیان کوئی دوسرا حائل نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( احد کے ) زخم کا علاج کس دوا سے کیا گیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کا جاننے والا ( اب ) مجھ سے زیادہ کوئی نہیں رہا ۔ علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لاتے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے خون دھوتیں پھر ایک بوریا کا ٹکڑا جلایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم میں بھر دیا گیا ۔

আবূ হাযিম থেকে বর্ণিতঃ যখন আমার এবং সাহল ইব্‌নু সা'দ আস-সা'ঈদী (রাঃ)-র মাঝখানে কেউ ছিল না, তখন লোকে তার নিকট আরয করলঃ (উহুদ যুদ্ধে) কী দিয়ে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর যখমের চিকিৎসা করা হয়েছিল? তখন তিনি বললেনঃ এ ব্যাপারে আমার চেয়ে অধিক জানে এমন কেউ জীবিত নেই। 'আলী (রাঃ) তাঁর ঢালে করে পানি আনছিলেন আর ফাতিমাহ্‌ (রাঃ) তাঁর মুখমণ্ডল হতে রক্ত ধুয়ে দিলেন। অবশেষে চাটাই পুড়িয়ে (তার ছাই) তাঁর ক্ষতস্থানে দেয়া হল। (২৯০৩, ২৯১১, ৩০৩৭, ৪০৭৫, ৫২৪৮, ৫৭২২ দ্রষ্টব্য) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৪২)

In-book reference : Book 4, Hadith 109
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 244
Hadith 244

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ بِيَدِهِ يَقُولُ ‏ "‏ أُعْ أُعْ ‏"‏، وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ، كَأَنَّهُ يَتَهَوَّعُ‏.‏

Narrated Abu Burda:

My father said, "I came to the Prophet (ﷺ) and saw him carrying a Siwak in his hand and cleansing his teeth, saying, 'U' U'," as if he was retching while the Siwak was in his mouth."

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے غیلان بن جریر کے واسطے سے نقل کیا ، وہ ابوبردہ سے وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ

میں ( ایک مرتبہ ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو اپنے ہاتھ سے مسواک کرتے ہوئے پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے اع اع کی آواز نکل رہی تھی اور مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں تھی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم قے کر رہے ہوں ۔

আবূ বুরদাহ (রহঃ)-র পিতা [আবূ মূসা (রাঃ)] থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ একবার আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট এলাম। তখন তাঁকে দেখলাম তিনি মিসওয়াক করছেন এবং মিসওয়াক মুখে দিয়ে তিনি উ' উ' শব্দ করছেন যেন তিনি বমি করছেন। (মুসলিম ২/১৫, হাঃ ২৫৪, আহমাদ ১৯৭৫৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৪৩)

In-book reference : Book 4, Hadith 110
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 245
Hadith 245

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ‏.‏

Narrated Hudhaifa:

Whenever the Prophet (ﷺ) got up at night, he used to clean his mouth with Siwak.

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے ، وہ ابووائل سے ، وہ حضرت حذیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے ۔

হুযায়ফাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন রাতে (সালাতের জন্য) উঠতেন তখন মিসওয়াক দিয়ে মুখ পরিষ্কার করতেন। (৮৮৯, ১১৩৬; মুসলিম ২/১৫, হাঃ ২৫৫, আহমাদ ২৩৪৭৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৪৪)

In-book reference : Book 4, Hadith 111
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 246
Hadith 246

وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَرَانِي أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ، فَجَاءَنِي رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأَصْغَرَ مِنْهُمَا، فَقِيلَ لِي كَبِّرْ‏.‏ فَدَفَعْتُهُ إِلَى الأَكْبَرِ مِنْهُمَا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ اخْتَصَرَهُ نُعَيْمٌ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ‏.‏

Narrated Ibn 'Umar:

The Prophet (ﷺ) said, "I dreamt that I was cleaning my teeth with a Siwak and two persons came to me. One of them was older than the other and I gave the Siwak to the younger. I was told that I should give it to the older and so I did."

عفان نے کہا کہ ہم سے صخر بن جویریہ نے نافع کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ ( خواب میں ) مسواک کر رہا ہوں تو میرے پاس دو آدمی آئے ۔ ایک ان میں سے دوسرے سے بڑا تھا ، تو میں نے چھوٹے کو مسواک دے دی پھر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دو ۔ تب میں نے ان میں سے بڑے کو دی ۔ ابوعبداللہ بخاری کہتے ہیں کہ اس حدیث کو نعیم نے ابن المبارک سے ، وہ اسامہ سے ، وہ نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مختصر طور پر روایت کیا ہے ۔

ইব্‌নু ‘উমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ আমি (স্বপ্নে) দেখলাম যে, আমি মিসওয়াক করছি। আমার নিকট দু' ব্যক্তি এলেন। একজন অপরজন হতে বয়সে বড়। অতঃপর আমি তাদের মধ্যে কনিষ্ঠ ব্যক্তিকে মিসওয়াক দিতে গেলে আমাকে বলা হলো, 'বড়কে দাও'। তখন আমি তাদের মধ্যে বয়োজ্যেষ্ঠ ব্যক্তিকে দিলাম। আবূ 'আবদুল্লাহ বলেন, 'নু'আয়ম, ইব্‌নুল মুবারাক সূত্রে ইব্‌নু ‘উমর (রাঃ) হতে হাদীসটি সংক্ষেপে বর্ণনা করেছেন। (মুসলিম ৪২/৪, হাঃ ২২৭১, আহমাদ ৬১০৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭২ অনুচ্ছেদ)

In-book reference : Book 4, Hadith 112
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 246
Hadith 247

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلِ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ‏.‏ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا بَلَغْتُ ‏"‏ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَرَسُولِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‏"‏‏.‏

Narrated Al-Bara 'bin `Azib:

The Prophet (ﷺ) said to me, "Whenever you go to bed perform ablution like that for the prayer, lie or your right side and say, "Allahumma aslamtu wajhi ilaika, wa fauwadtu `Amri ilaika, wa alja'tu Zahri ilaika raghbatan wa rahbatan ilaika. La Malja'a wa la manja minka illa ilaika. Allahumma amantu bikitabika-l-ladhi anzalta wa bina-biyika-l ladhi arsalta" (O Allah! I surrender to You and entrust all my affairs to You and depend upon You for Your Blessings both with hope and fear of You. There is no fleeing from You, and there is no place of protection and safety except with You O Allah! I believe in Your Book (the Qur'an) which You have revealed and in Your Prophet (Muhammad) whom You have sent). Then if you die on that very night, you will die with faith (i.e. or the religion of Islam). Let the aforesaid words be your last utterance (before sleep)." I repeated it before the Prophet (ﷺ) and when I reached "Allahumma amantu bikitabika-l-ladhi anzalta (O Allah I believe in Your Book which You have revealed)." I said, "Wa-rasulika (and your Apostle)." The Prophet (ﷺ) said, "No, (but say): 'Wanabiyika-l-ladhi arsalta (Your Prophet whom You have sent), instead."

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا ہمیں سفیان نے منصور کے واسطے سے خبر دی ، انھوں نے سعد بن عبیدہ سے ، وہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر لیٹنے آؤ تو اس طرح وضو کرو جس طرح نماز کے لیے کرتے ہو ۔ پھر داہنی کروٹ پر لیٹ کر یوں کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وفوضت أمري إليك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وألجأت ظهري إليك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ رغبة ورهبة إليك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبنبيك الذي أرسلت‏» ” اے اللہ ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف جھکا دیا ۔ اپنا معاملہ تیرے ہی سپرد کر دیا ۔ میں نے تیرے ثواب کی توقع اور تیرے عذاب کے ڈر سے تجھے ہی پشت پناہ بنا لیا ۔ تیرے سوا کہیں پناہ اور نجات کی جگہ نہیں ۔ اے اللہ ! جو کتاب تو نے نازل کی میں اس پر ایمان لایا ۔ جو نبی تو نے بھیجا میں اس پر ایمان لایا ۔ “ تو اگر اس حالت میں اسی رات مر گیا تو فطرت پر مرے گا اور اس دعا کو سب باتوں کے اخیر میں پڑھ ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دعا کو دوبارہ پڑھا ۔ جب میں «اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت» پر پہنچا تو میں نے «ورسولك‏» ( کا لفظ ) کہہ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ( یوں کہو ) «ونبيك الذي أرسلت» ۔

বারাআ ইব্‌নু 'আযিব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ যখন তুমি বিছানায় যাবে তখন সালাতের উযূর মতো উযূ করে নেবে। তারপর ডান পাশে শুয়ে বলবেঃ "হে আল্লাহ! আমার জীবন আপনার নিকট সমর্পণ করলাম। আমার সকল কাজ তোমার নিকট অর্পণ করলাম এবং আমি তোমার আশ্রয় গ্রহণ করলাম তোমার প্রতি আগ্রহ ও ভয় নিয়ে। তুমি ব্যতীত প্রকৃত কোন আশ্রয়স্থল ও পরিত্রাণের স্থান নেই। হে আল্লাহ! আমি ঈমান আনলাম তোমার অবতীর্ণ কিতাবের উপর এবং তোমার প্রেরিত নবীর প্রতি।" অতঃপর যদি সে রাতেই তোমার মৃত্যু হয় তবে ইসলামের উপর তোমার মৃত্যু হবে। এ কথাগুলো তোমার সর্বশেষ কথায় পরিণত কর। তিনি বলেন, আমি রাসূলুল্লাহ্ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কে এ কথাগুলি পুনরায় শুনালাম। যখন اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ পর্যন্ত পৌছে وَرَسُولِكَ বললাম, তখন তিনি বললেনঃ না; বরং وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ বল। [১] (৬৩১১, ৬৩১৩, ৬৩১৫, ৭৪৮৮; মুসলিম ৪৮/১৭, হাঃ ২৭১০, আহমাদ ১৮৫৮৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৪০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৪৫)

In-book reference : Book 4, Hadith 113
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 4, Hadith 247
Ready to play
0:00 / 0:00