حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ".
Narrated Ibn 'Umar:
Allah's Messenger (ﷺ) said: Islam is based on (the following) five
(principles):
1. To testify that none has the right to be worshipped but Allah and
Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ).
2. To offer the (compulsory congregational) prayers dutifully and
perfectly.
3. To pay Zakat (i.e. obligatory charity) .
4. To perform Hajj. (i.e. Pilgrimage to Mecca)
5. To observe fast during the month of Ramadan.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے یہ حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کی بابت حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی۔ انھوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔
ইবন ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেন, ইসলামের স্তম্ভ হচ্ছে পাঁচটি।
১. আল্লাহ ব্যতীত প্রকৃত কোন উপাস্য নেই এবং নিশ্চয়ই মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আল্লাহর রসূল-এ কথার সাক্ষ্য প্রদান করা।
২. সলাত কায়িম করা।
৩. যাকাত আদায় করা।
৪. হাজ্জ সম্পাদন করা এবং
৫. রমযানের সিয়ামব্রত পালন করা (রোজা রাখা)।
(৪৫১৪; মুসলিম ১/৫ হাঃ ১৬, আহমাদ ৬০২২, ৬৩০৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৭)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 8
Hadith 9
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ".
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "Faith (Belief) consists of more than sixty branches
(i.e. parts). And Haya (This term "Haya" covers a large number of
concepts which are to be taken together; amongst them are self
respect, modesty, bashfulness, and scruple, etc.) is a part of
faith."
ہم سے بیان کیا عبداللہ بن محمد جعفی نے ، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابوعامر عقدی نے ، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا سلیمان بن بلال نے ، انھوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے روایت کیا ابوصالح سے ، انہوں نے نقل کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نقل فرمایا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں ۔ اور حیاء ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, ঈমানের ষাটেরও অধিক শাখা আছে। আর লজ্জা হচ্ছে ঈমানের একটি শাখা।
(মুসলিম ১/১২ হাঃ ৩৫, আহমাদ ৯৩৭২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৮)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 9
Hadith 10
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
The Prophet (ﷺ) said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with
his tongue and hands. And a Muhajir (emigrant) is the one who gives up
(abandons) all what Allah has forbidden."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے یہ حدیث بیان کی ، ان کو شعبہ نے وہ عبداللہ بن ابی السفر اور اسماعیل سے روایت کرتے ہیں ، وہ دونوں شعبی سے نقل کرتے ہیں ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے فرمایا اور ابومعاویہ نے کہ ہم کو حدیث بیان کی داؤد بن ابی ہند نے ، انھوں نے روایت کی عامر شعبی سے ، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، وہ حدیث بیان کرتے ہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( وہی مذکورہ حدیث ) اور کہا کہ عبدالاعلیٰ نے روایت کیا داؤد سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
‘আবদুল্লাহ্ ইব্নু ‘আমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেন, সে-ই মুসলিম, যার জিহবা ও হাত হতে সকল মুসলিম নিরাপদ এবং সে-ই প্রকৃত মুহাজির, আল্লাহ যা নিষেধ করেছেন তা যে ত্যাগ করে।
(৬৪৮৪; মুসলিম ১/১৪ হাঃ ৪০, আহমাদ ৬৭৬৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৯)
Some people asked Allah's Messenger (ﷺ), "Whose Islam is the best? i.e. (Who
is a very good Muslim)?" He replied, "One who avoids harming the
Muslims with his tongue and hands."
ہم کو سعید بن یحییٰ بن سعید اموی قریشی نے یہ حدیث سنائی ، انھوں نے اس حدیث کو اپنے والد سے نقل کیا ، انھوں نے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے ، انھوں نے ابی بردہ سے ، انھوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ
لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں ۔
আবূ মূসা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, তারা (সাহাবাগণ) জিজ্ঞেস করলেন, হে আল্লাহর রসূল! ইসলামে কোন্ জিনিসটি উত্তম? তিনি বললেনঃ যার জিহবা ও হাত হতে মুসলিমগণ নিরাপদ থাকে।
(মুসলিম ১/১৪ হাঃ ৪২, আহমাদ ৬৭৬৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১০)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 11
Hadith 12
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ
" تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ".
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
A man asked the Prophet (ﷺ) , "What sort of deeds or (what qualities of)
Islam are good?" The Prophet (ﷺ) replied, 'To feed (the poor) and greet
those whom you know and those whom you do not Know (See
Hadith No. 27).
ہم سے حدیث بیان کی عمرو بن خالد نے ، ان کو لیث نے ، وہ روایت کرتے ہیں یزید سے ، وہ ابوالخیر سے ، وہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہ
ایک دن ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی ، الغرض سب کو سلام کرو ۔
‘আবদুল্লাহ্ ইব্নু ‘আমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ জনৈক ব্যক্তি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে জিজ্ঞেস করল, ইসলামে কোন্ জিনিসটি উত্তম? তিনি বললেন, তুমি খাদ্য খাওয়াবে ও চেনা অচেনা সকলকে সালাম দিবে।
(২৮, ৬২৩৬; মুসলিম ১/১৪ হাঃ ৪২, আহমাদ ৬৭৬৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১১)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 12
Hadith 13
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
وَعَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "None of you will have faith till he wishes for his
(Muslim) brother what he likes for himself."
ہم سے حدیث بیان کی مسدد نے ، ان کو یحییٰ نے ، انھوں نے شعبہ سے نقل کیا ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ خادم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔ اور شعبہ نے حسین معلم سے بھی روایت کیا ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ তোমাদের কেউ প্রকৃত মু’মিন হতে পারবে না, যতক্ষণ না সে তার ভাইয়ের জন্য সেটাই পছন্দ করবে, যা তার নিজের জন্য পছন্দ করে।
(মুসলিম ১/১৭ হাঃ ৪৫, আহমাদ ১২৮০১, ১৩৮৭৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১২)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 13
Hadith 14
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ ".
Narrated Abu Huraira:
"Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my life is, none of you
will have faith till he loves me more than his father and his
children."
ہم سے ابوالیمان نے حدیث بیان کی ، ان کو شعیب نے ، ان کو ابولزناد نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ
بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ সেই আল্লাহর শপথ, যাঁর হাতে আমার প্রাণ, তোমাদের কেউ প্রকৃত মু’মিন হতে পারবে না, যতক্ষন না আমি তার নিকট তার পিতা ও সন্তানাদির চেয়ে অধিক ভালবাসার পাত্র হই।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৩)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 14
Hadith 15
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said "None of you will have faith till he loves me more
than his father, his children and all mankind."
ہمیں حدیث بیان کی یعقوب بن ابراہیم نے ، ان کو ابن علیہ نے ، وہ عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں اور ہم کو آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی ، ان کو شعبہ نے ، وہ قتادہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ তোমাদের কেউ প্রকৃত মু’মিন হতে পারবে না, যতক্ষন না আমি তার নিকট তার পিতা, তার সন্তান ও সব মানুষের অপেক্ষা অধিক প্রিয়পাত্র হই।
(মুসলিম ১/১৬ হাঃ ৪৪, আহমাদ ১২৮১৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৪)
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever possesses the following three qualities
will have the sweetness (delight) of faith:
1. The one to whom Allah and His Apostle becomes dearer than anything
else.
2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake.
3. Who hates to revert to Atheism (disbelief) as he hates to be thrown
into the fire."
ہمیں محمد بن مثنیٰ نے یہ حدیث بیان کی ، ان کو عبدالوہاب ثقفی نے ، ان کو ایوب نے ، وہ ابوقلابہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ناقل ہیں
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں ، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے ۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তিনটি গুন যার মধ্যে আছে, সে ঈমানের স্বাদ আস্বাদন করতে পারেঃ
১. আল্লাহ ও তাঁর রসূল তার নিকট অন্য সকল কিছু হতে অধিক প্রিয় হওয়া;
২. কাউকে একমাত্র আল্লাহর জন্যই ভালবাসা;
৩. কুফ্রীতে প্রত্যাবর্তনকে আগুনে নিক্ষিপ্ত হবার মত অপছন্দ করা।
(২১, ৬০৪১, ৬৯৪১; মুসলিম ১/১৫ হাঃ ৪৩, আহমাদ ১২০০২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 16
Hadith 17
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" آيَةُ الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "Love for the Ansar is a sign of faith and hatred
for the Ansar is a sign of hypocrisy."
ہم سے اس حدیث کو ابوالولید نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، انہیں عبداللہ بن جبیر نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کو سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے ۔
আনাস ইব্নু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেনঃ ঈমানের আলামত হল আনসারকে ভালবাসা এবং মুনাফিকীর চিহ্ন হল আনসারের প্রতি শত্রুতা পোষণ করা।
(৩৭৮৪; মুসলিম ১/৩৩ হাঃ ৭৪, আহমাদ ১৩৬০৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৬)
who took part in the battle of Badr and was a Naqib (a person heading
a group of six persons), on the night of Al-'Aqaba pledge: Allah's
Apostle said while a group of his companions were around him, "Swear
allegiance to me for:
1. Not to join anything in worship along with Allah.
2. Not to steal.
3. Not to commit illegal sexual intercourse.
4. Not to kill your children.
5. Not to accuse an innocent person (to spread such an accusation
among people).
6. Not to be disobedient (when ordered) to do good deed."
The Prophet (ﷺ) added: "Whoever among you fulfills his pledge will be
rewarded by Allah. And whoever indulges in any one of them (except the
ascription of partners to Allah) and gets the punishment in this
world, that punishment will be an expiation for that sin. And if one
indulges in any of them, and Allah conceals his sin, it is up to Him
to forgive or punish him (in the Hereafter)." 'Ubada bin As-Samit
added: "So we swore allegiance for these." (points to Allah's
Apostle)
ہم سے اس حدیث کو ابوالیمان نے بیان کیا ، ان کو شعیب نے خبر دی ، وہ زہری سے نقل کرتے ہیں ، انہیں ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے اور لیلۃالعقبہ کے ( بارہ ) نقیبوں میں سے تھے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو اس بات پر کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے ، چوری نہ کرو گے ، زنا نہ کرو گے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور نہ عمداً کسی پر کوئی ناحق بہتان باندھو گے اور کسی بھی اچھی بات میں ( خدا کی ) نافرمانی نہ کرو گے ۔ جو کوئی تم میں ( اس عہد کو ) پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان ( بری باتوں ) میں سے کسی کا ارتکاب کرے اور اسے دنیا میں ( اسلامی قانون کے تحت ) سزا دے دی گئی تو یہ سزا اس کے ( گناہوں کے ) لیے بدلا ہو جائے گی اور جو کوئی ان میں سے کسی بات میں مبتلا ہو گیا اور اللہ نے اس کے ( گناہ ) کو چھپا لیا تو پھر اس کا ( معاملہ ) اللہ کے حوالہ ہے ، اگر چاہے معاف کرے اور اگر چاہے سزا دیدے ۔ ( عبادہ کہتے ہیں کہ ) پھر ہم سب نے ان ( سب باتوں ) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی ۔
‘উবাদাহ ইবনু সামিত (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ ‘উবাদাহ ইবনু সামিত (রাঃ) যিনি বদ্র যুদ্ধে অংশগ্রহণকারী ও লায়লাতুল ‘আকাবার একজন নকীব। ‘উবাদাহ ইব্নুস সামিত (রাঃ) বর্ণনা করেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর পাশে একজন সহাবীর উপস্থিতিতে তিনি বলেনঃ তোমরা আমার নিকট এই মর্মে বায়’আত গ্রহণ কর যে, আল্লাহর সঙ্গে কোন কিছুকে অংশীদার সাব্যস্ত করবে না, চুরি করবে না, ব্যভিচার করবে না, তোমাদের সন্তানদের হত্যা করবে না, কারো প্রতি মিথ্যা অপবাদ আরোপ করবে না এবং সৎকাজে নাফরমানী করবে না। তোমাদের মধ্যে যে তা পূর্ণ করবে, তার পুরস্কার আল্লাহর নিকট রয়েছে। আর কেউ এর কোন একটিতে লিপ্ত হলো এবং দুনিয়াতে তার শাস্তি পেয়ে গেলে, তবে তা হবে তার জন্য কাফ্ফারা। আর কেউ এর কোন একটিতে লিপ্ত হয়ে পড়লে এবং আল্লাহ তা অপ্রকাশিত রাখলে, তবে তা আল্লাহর ইচ্ছাধীন। তিনি যদি চান, তাকে মার্জনা করবেন আর যদি চান, তাকে শাস্তি প্রদান করবেন। আমরা এর উপর বায়’আত গ্রহণ করলাম।
(৩৮৯২, ৩৮৯৩, ৩৯৯৯, ৪৮৯৪, ৬৭৮৪, ৬৮০১, ৬৮৭৩, ৭০৫৫, ৭১৯৯, ৭২১৩, ৭৪৬৮; মুসলিম ২৯/১০ হাঃ ১৭০৯, আহমাদ ২২৭৪১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৭)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A time will soon come when the best property of a Muslim will be sheep which he will take on the top of mountains and the places of rainfall (valleys) so as to flee with his religion from afflictions."
ہم سے ( اس حدیث کو ) عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انھوں نے اسے مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا ، انھوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ سے ، انھوں نے اپنے باپ ( عبداللہ رحمہ اللہ ) سے ، وہ ابو سعید خدری سے نقل کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کا ( سب سے ) عمدہ مال ( اس کی بکریاں ہوں گی ) ۔ جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں اپنے دین کو بچانے کے لیے بھاگ جائے گا ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ সেদিন দূরে নয়, যেদিন মুসলিমের উত্তম সম্পদ হবে কয়েকটি বকরী, যা নিয়ে সে পাহাড়ের চূড়ায় অথবা বৃষ্টিপাতের স্থানে চলে যাবে। ফিতনা হতে সে তার ধর্ম সহকারে পলায়ন করবে।
(৩৩০০, ৩৬০০, ৬৪৯৫, ৭০৮৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৮)
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) ordered the Muslims to do something, he used
to order them deeds which were easy for them to do, (according to
their strength and endurance). They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are not
like you. Allah has forgiven your past and future sins." So Allah's
Apostle became angry and it was apparent on his face. He said, "I am
the most Allah fearing, and know Allah better than all of you do."
یہ حدیث ہم سے محمد بن سلام نے بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس کی عبدہ نے خبر دی ، وہ ہشام سے نقل کرتے ہیں ، ہشام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کسی کام کا حکم دیتے تو وہ ایسا ہی کام ہوتا جس کے کرنے کی لوگوں میں طاقت ہوتی ( اس پر ) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم لوگ تو آپ جیسے نہیں ہیں ( آپ تو معصوم ہیں ) اور آپ کی اللہ پاک نے اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف فرما دی ہیں ۔ ( اس لیے ہمیں اپنے سے کچھ زیادہ عبادت کرنے کا حکم فرمائیے ) ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے حتیٰ کہ خفگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہونے لگی ۔ پھر فرمایا کہ بیشک میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اسے جانتا ہوں ۔ ( پس تم مجھ سے بڑھ کر عبادت نہیں کر سکتے ) ۔
‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সহাবীদের যখন কোন কাজের নির্দেশ দিতেন, তাঁদের সামর্থ্য অনুযায়ী নির্দেশ দিতেন। একবার তাঁরা বললেন, ‘হে আল্লাহর রসূল্! আমরা তো আপনার মত নই। আল্লাহ তা’আলা আপনার পূর্ববর্তী এবং পরবর্তী সকল গুনাহ ক্ষমা করে দিয়েছেন।’ তা শুনে তিনি রাগ করলেন, এমনকি তাঁর চেহারায় রাগের চিহ্ন ফুটে উঠল। অতঃপর তিনি বললেনঃ তোমাদের চেয়ে আমিই আল্লাহকে অধিক ভয় করি ও বেশী জানি।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ১৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৯)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 20
Hadith 21
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever possesses the following three qualities
will taste the sweetness of faith:
1. The one to whom Allah and His Apostle become dearer than anything
else.
2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake.
3. Who hates to revert to disbelief (Atheism) after Allah has brought
(saved) him out from it, as he hates to be thrown in fire."
اس حدیث کو ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس شخص میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پالے گا ، ایک یہ کہ وہ شخص جسے اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ عزیز ہوں اور دوسرے یہ کہ جو کسی بندے سے محض اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور تیسری بات یہ کہ جسے اللہ نے کفر سے نجات دی ہو ، پھر دوبارہ کفر اختیار کرنے کو وہ ایسا برا سمجھے جیسا آگ میں گر جانے کو برا جانتا ہے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তিনটি গুণ যার মধ্যে বিদ্যমান, সে ঈমানের স্বাদ পায়- (১) যার নিকট আল্লাহ ও তাঁর রসূল অন্য সকল বস্তু হতে অধিক প্রিয় ; (২) যে একমাত্র আল্লাহরই জন্য কোন বান্দাকে ভালবাসে এবং (৩) আল্লাহ তা’আলা কুফর হতে মুক্তি প্রদানের পর যে কুফর-এ প্রত্যাবর্তনকে আগুনে নিক্ষিপ্ত হবার মতোই অপছন্দ করে।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ২০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২০)
The Prophet (ﷺ) said, "When the people of Paradise will enter Paradise and
the people of Hell will go to Hell, Allah will order those who have
had faith equal to the weight of a grain of mustard seed to be taken
out from Hell. So they will be taken out but (by then) they will be
blackened (charred). Then they will be put in the river of Haya'
(rain) or Hayat (life) (the Narrator is in doubt as to which is the
right term), and they will revive like a grain that grows near the
bank of a flood channel. Don't you see that it comes out yellow and
twisted"
ہم سے اسماعیل نے یہ حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں ان سے مالک نے ، وہ عمرو بن یحییٰ المازنی سے نقل کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے ۔ اللہ پاک فرمائے گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ( بھی ) ایمان ہو ، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو ۔ تب ( ایسے لوگ ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے ۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے ۔ ( یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا ) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے ۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( «حياء» کی بجائے ) «حياة» ، اور («خردل من ايمان» ) کی بجائے ( «خردل من خير» ) کا لفظ بیان کیا ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ জান্নাতবাসীরা জান্নাতে এবং জাহান্নামীরা জাহান্নামে প্রবেশ করবে। অতঃপর আল্লাহ তা’আলা ফেরেশতাদের বলবেন, যার অন্তরে সরিষার দানা পরিমাণও ঈমান আছে, তাকে জাহান্নাম হতে বের করে আনো। তারপর তাদের জাহান্নাম হতে এমন অবস্থায় বের করা হবে যে, তারা (পুড়ে) কালো হয়ে গেছে। অতঃপর তাদের বৃষ্টিতে বা হায়াতের [বর্ণনাকারী মালিক (রহঃ) শব্দ দু’টির কোনটি এ সম্পর্কে সন্দেহ প্রকাশ করেছেন] নদীতে নিক্ষেপ করা হবে। ফলে তারা সতেজ হয়ে উঠবে, যেমন নদীর তীরে ঘাসের বীজ গজিয়ে উঠে। তুমি কি দেখতে পাও না সেগুলো কেমন হলুদ বর্ণের হয় ও ঘন হয়ে গজায়? উহাইব (রহঃ) বলেন, 'আমর (রহঃ) আমাদের কাছে حيا এর স্থলে حياة এবং خردل من ايمان এর স্থলে خردل من خير বর্ণনা করেছেন।
(৪৫৮১, ৪৯১৯,৬৫৬০,৬৫৭৪,৭৪৩৮,৭৪৩৯; মুসলিম ১/৮২ হাঃ ১৮৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২১)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping I saw (in a dream) some
people wearing shirts of which some were reaching up to the breasts
only while others were even shorter than that. Umar bin Al-Khattab was
shown wearing a shirt that he was dragging." The people asked, "How
did you interpret it? (What is its interpretation) O Allah's Messenger (ﷺ)?"
He (the Prophet (ﷺ) ) replied, "It is the Religion."
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے یہ حدیث بیان کی ، ان سے ابراہیم بن سعد نے ، وہ صالح سے روایت کرتے ہیں ، وہ ابن شہاب سے ، وہ ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے راوی ہیں ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک وقت سو رہا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں ۔ کسی کا کرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچا ہے ۔ ( پھر ) میرے سامنے عمر بن الخطاب لائے گئے ۔ ان ( کے بدن ) پر ( جو ) کرتا تھا ۔ اسے وہ گھسیٹ رہے تھے ۔ ( یعنی ان کا کرتہ زمین تک نیچا تھا ) صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اس کی کیا تعبیر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اس سے ) دین مراد ہے ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ একবার আমি নিদ্রাবস্থায় (স্বপ্নে) দেখলাম যে, লোকদেরকে আমার সামনে আনা হচ্ছে। আর তাদের পরণে রয়েছে জামা। কারো জামা বুক পর্যন্ত আর কারো জামা এর নীচ পর্যন্ত। আর ‘উমার ইব্নুল খাত্তাব (রাঃ)-কে আমার সামনে আনা হল এমন অবস্থায় যে, তিনি তাঁর জামা (অধিক লম্বা হওয়ায়) টেনে ধরে নিয়ে যাচ্ছিলেন। সাহাবীগণ আরয করলেন, হে আল্লাহর রসূল! আপনি এর কী তা’বীর করেছেন? তিনি বললেনঃ (এ জামা অর্থ) দ্বীন।
(৩৬৯১, ৭০০৮, ৭০০৯; মুসলিম ৪৪/২ হাঃ ২৩৯০, আহমাদ ১১৮১৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২২)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 23
Hadith 24
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ ".
Narrated 'Abdullah (bin 'Umar):
Once Allah's Messenger (ﷺ) passed by an Ansari (man) who was admonishing
his brother regarding Haya'. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Leave him
as Haya' is a part of faith." (See Hadith 9)
عبداللہ ابن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مالک ابن انس نے ابن شہاب سے خبر دی ، وہ سالم بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) سے کہ
ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیاء بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے ۔
'আবদুল্লাহ্ ইব্নু ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক আনসারীর পাশ দিয়ে অতিক্রম করছিলেন। তিনি তাঁর ভাইকে তখন (অধিক) লজ্জা ত্যাগের নাসীহাত করছিলেন। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাকে বললেনঃ ওকে ছেড়ে দাও। কারণ লজ্জা ঈমানের অঙ্গ।
(৬১১৮; মুসলিম ১/১২ হাঃ ৩৬, আহমাদ ৪৫৫৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৩)
Allah's Messenger (ﷺ) said: "I have been ordered (by Allah) to fight against
the people until they testify that none has the right to be worshipped
but Allah and that Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ), and offer the prayers
perfectly and give the obligatory charity, so if they perform that,
then they save their lives and property from me except for Islamic laws
and then their reckoning (accounts) will be done by Allah."
اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، ان سے ابوروح حرمی بن عمارہ نے ، ان سے شعبہ نے ، وہ واقد بن محمد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے سنی ، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں ، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے ، سوائے اسلام کے حق کے ۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے ۔
ইব্নু ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ আমি লোকদের সাথে যুদ্ধ চালিয়ে যাবার জন্য নির্দেশিত হয়েছি, যতক্ষন না তারা সাক্ষ্য দেয় যে, আল্লাহ ব্যতীত প্রকৃত কোন উপাস্য নেই ও মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আল্লাহর রসূল, আর সালাত প্রতিষ্ঠা করে ও যাকাত আদায় করে। তারা যদি এগুলো করে, তবে আমার পক্ষ হতে তাদের জান ও মালের ব্যাপারে নিরাপত্তা লাভ করলো; অবশ্য ইসলামের বিধান অনুযায়ী যদি কোন কারণ থাকে, তাহলে স্বতন্ত্র কথা। আর তাদের হিসাবের ভার আল্লাহর উপর অর্পিত।
(মুসলিম ১/৮ হাঃ ২২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৪)
Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "What is the best deed?" He replied, "To
believe in Allah and His Apostle (Muhammad). The questioner then
asked, "What is the next (in goodness)? He replied, "To participate in
Jihad (religious fighting) in Allah's Cause." The questioner again
asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, "To perform Hajj
(Pilgrim age to Mecca) 'Mubrur, (which is accepted by Allah and is
performed with the intention of seeking Allah's pleasure only and not
to show off and without committing a sin and in accordance with the
traditions of the Prophet)."
ہم سے احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل دونوں نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، وہ سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا “ کہا گیا ، اس کے بعد کون سا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا “ کہا گیا ، پھر کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حج مبرور “ ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে জিজ্ঞেস করা হল, ‘কোন্ ‘আমলটি উত্তম?’ তিনি বললেনঃ ‘আল্লাহ ও তাঁর রসূলের উপর বিশ্বাস স্থাপন করা।‘ [১] জিজ্ঞেস করা হলো, ‘অতঃপর কোন্টি?’ তিনি বললেনঃ ‘আল্লাহর রাস্তায় জিহাদ করা।‘ প্রশ্ন করা হল, ‘অতঃপর কোন্টি?’ তিনি বললেনঃ ‘মাকবূল হাজ্জ সম্পাদন করা।"
(১৫১৯; মুসলিম ১/৩৬ হাঃ ৮৩) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৫, .ফা. ২৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 26
Hadith 27
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا. فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". فَسَكَتُّ قَلِيلاً، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي وَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا سَعْدُ، إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ". وَرَوَاهُ يُونُسُ وَصَالِحٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Sa'd:
Allah's Messenger (ﷺ) distributed (Zakat) amongst (a group of) people while
I was sitting there but Allah's Messenger (ﷺ) left a man whom I thought the
best of the lot. I asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why have you left that
person? By Allah I regard him as a faithful believer." The Prophet (ﷺ)
commented: "Or merely a Muslim." I remained quiet for a while, but
could not help repeating my question because of what I knew about him.
And then asked Allah's Messenger (ﷺ), "Why have you left so and so? By
Allah! He is a faithful believer." The Prophet (ﷺ) again said, "Or merely
a Muslim." And I could not help repeating my question because of what
I knew about him. Then the Prophet (ﷺ) said, "O Sa'd! I give to a person
while another is dearer to me, for fear that he might be thrown on his
face in the Fire by Allah."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے سن کر یہ خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ عطیہ دیا اور سعد وہاں موجود تھے ۔ ( وہ کہتے ہیں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہ دیا ۔ حالانکہ وہ ان میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ۔ میں نے کہا حضور آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ میں اسے مومن گمان کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن یا مسلمان ؟ میں تھوڑی دیر چپ رہ کر پھر پہلی بات دہرانے لگا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سعد ! باوجود یہ کہ ایک شخص مجھے زیادہ عزیز ہے ( پھر بھی میں اسے نظرانداز کر کے ) کسی اور دوسرے کو اس خوف کی وجہ سے یہ مال دے دیتا ہوں کہ ( وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اسلام سے پھر جائے اور ) اللہ اسے آگ میں اوندھا ڈال دے ۔ اس حدیث کو یونس ، صالح ، معمر اور زہری کے بھتیجے عبداللہ نے زہری سے روایت کیا ۔
সা‘দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদল লোককে কিছু দান করলেন। সা‘দ (রাঃ) সেখানে বসেছিলেন। সা‘দ (রাঃ) বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাদের এক ব্যক্তিকে কিছু দিলেন না। সে ব্যক্তি আমার নিকট তাদের চেয়ে অধিক পছন্দের ছিল। তাই আমি আরয করলাম, হে আল্লাহর রসূল! অমুক ব্যক্তিকে আপনি বাদ দিলেন কেন? আল্লাহর শপথ! আমি তো তাকে মু’মিন বলেই জানি। তিনি বললেনঃ না, মুসলিম। তখন আমি কিছুক্ষণ নীরব থাকলাম। অতঃপর আমি তার সম্পর্কে যা জানি, তা (ব্যক্ত করার) প্রবল ইচ্ছা হলো। তাই আমি আমার বক্তব্য আবার বললাম, আপনি অমুককে দান থেকে বাদ রাখলেন? আল্লাহর শপথ! আমি তো তাকে মু‘মিন বলেই জানি। তিনি বললেনঃ ‘না, মুসলিম?’ তখন আমি কিছুক্ষণ নীরব থাকলাম। তারপর আমি তার সম্পর্কে যা জানি তা (ব্যক্ত করার) প্রবল ইচ্ছা হলো। তাই আমি আবার বললাম, আপনি অমুককে দান হতে বাদ রাখলেন? আল্লাহর শপথ! আমি তো তাকে মু‘মিন বলেই জানি। তিনি বললেনঃ ‘না, মুসলিম?’ তখন আমি কিছুক্ষণ চুপ থাকলাম। তারপর আমি তার সম্পর্কে যা জানি তা (ব্যক্ত করার) প্রবল ইচ্ছা হলো। তাই আমি আমার বক্তব্য আবার বললাম। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) পুনরায় সেই একই জবাব দিলেন। তারপর বললেনঃ ‘সা’দ! আমি কখনো ব্যক্তি বিশেষকে দান করি, অথচ অন্যলোক আমার নিকট তার চেয়ে অধিক প্রিয়। তা এ আশঙ্কায় যে (সে ঈমান থেকে ফিরে যেতে পারে পরিণামে), আল্লাহ তা‘আলা তাকে অধঃমুখে জাহান্নামে নিক্ষিপ্ত করবেন।
এ হাদীস ইউনুস, সালিহ, মা‘মার এবং যুহরী (রহঃ)-এর ভ্রাতুস্পুত্র যুহরী (রহঃ) হতে বর্ণনা করেছেন।
(১৪৭৮; মুসলিম ১/৬৮ হাঃ ১৫০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৬)
A person asked Allah's Messenger (ﷺ) . "What (sort of) deeds in or (what
qualities of) Islam are good?" He replied, "To feed (the poor) and
greet those whom you know and those whom you don't know."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابوالخیر سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ۔
‘আবদুল্লাহ্ ইব্নু ‘আম্র (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ এক ব্যক্তি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে জিজ্ঞেস করল, ‘ইসলামের কোন্ কাজ সবচেয়ে উত্তম?’ তিনি বললেনঃ তুমি লোকদের খাদ্য খাওয়াবে এবং চেনা অচেনা সকলকে সালাম দিবে।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৭)
The Prophet (ﷺ) said: "I was shown the Hell-fire and that the majority of
its dwellers were women who were ungrateful." It was asked, "Do they
disbelieve in Allah?" (or are they ungrateful to Allah?) He replied,
"They are ungrateful to their husbands and are ungrateful for the
favors and the good (charitable deeds) done to them. If you have
always been good (benevolent) to one of them and then she sees
something in you (not of her liking), she will say, 'I have never
received any good from you."
اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، وہ امام مالک سے ، وہ زید بن اسلم سے ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں ۔ کہا گیا حضور کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں ۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں ۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو ۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔
ইব্নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ আমাকে জাহান্নাম দেখানো হয়। (আমি দেখি), তার অধিবাসীদের বেশির ভাগই নারীজাতি; (কারণ) তারা কুফরী করে। জিজ্ঞেস করা হল, ‘তারা কি আল্লাহর সঙ্গে কুফরী করে?’ তিনি বললেনঃ ‘তারা স্বামীর অবাধ্য হয় এবং অকৃতজ্ঞ হয়।’ তুমি যদি দীর্ঘদিন তাদের কারো প্রতি ইহসান করতে থাক, অতঃপর সে তোমার সামান্য অবহেলা দেখতে পেলেই বলে ফেলে, ‘আমি কক্ষণো তোমার নিকট হতে ভালো ব্যবহার পাইনি।’
(৪৩১,৭৪৮,১০৫২,৩২০২,৫১৯৭; মুসলিম ৮/১ হাঃ ৮৮৪, আহমাদ ৩০৬৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৮,ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৮)
At Ar-Rabadha I met Abu Dhar who was wearing a cloak, and his slave,
too, was wearing a similar one. I asked about the reason for it. He
replied, "I abused a person by calling his mother with bad names." The
Prophet said to me, 'O Abu Dhar! Did you abuse him by calling his
mother with bad names You still have some characteristics of
ignorance. Your slaves are your brothers and Allah has put them under
your command. So whoever has a brother under his command should feed
him of what he eats and dress him of what he wears. Do not ask them
(slaves) to do things beyond their capacity (power) and if you do so,
then help them.' "
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے اسے واصل احدب سے ، انھوں نے معرور سے ، کہا
میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا ۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی ( یعنی گالی دی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر ! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی ، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے ۔ ( یاد رکھو ) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں ۔ اللہ نے ( اپنی کسی مصلحت کی بنا پر ) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو ۔
মা‘রূর (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি একবার রাবাযা নামক স্থানে আবূ যর (রাঃ)-এর সঙ্গে দেখা করলাম। তখন তাঁর পরনে ছিল এক জোড়া কাপড় (লুঙ্গি ও চাদর) আর তাঁর ভৃত্যের পরনেও ছিল ঠিক একই ধরনের এক জোড়া কাপড়। আমি তাঁকে এর কারণ জিজ্ঞেস করলে তিনি বললেনঃ একবার আমি জনৈক ব্যক্তিকে গালি দিয়েছিলাম এবং আমি তাকে তার মা সম্পর্কে লজ্জা দিয়েছিলাম। তখন আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাকে বললেন, আবূ যার! তুমি তাকে তার মা সম্পর্কে লজ্জা দিয়েছ? তুমি তো এমন ব্যক্তি, তোমার মধ্যে এখনো অন্ধকার যুগের স্বভাব বিদ্যমান। জেনে রেখো, তোমাদের দাস-দাসী তোমাদেরই ভাই। আল্লাহ তা‘আলা তাদের তোমাদের অধীনস্থ করে দিয়েছেন। তাই যার ভাই তার অধীনে থাকবে, সে যেন নিজে যা খায় তাকে তা-ই খাওয়ায় এবং নিজে যা পরিধান করে, তাকেও তা-ই পরায়। তাদের উপর এমন কাজ চাপিয়ে দিও না, যা তাদের জন্য অধিক কষ্টদায়ক। যদি এমন কষ্টকর কাজ করতে দাও, তাহলে তোমরাও তাদের সে কাজে সহযোগিতা করবে।
(২৫৪৫, ৬০৫০; মুসলিম ২৭/১০ হাঃ ১৬৬১, আহমাদ ২১৪৮৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩০)
While I was going to help this man ('Ali Ibn Abi Talib), Abu Bakra met
me and asked, "Where are you going?" I replied, "I am going to help
that person." He said, "Go back for I have heard Allah's Messenger (ﷺ)
saying, 'When two Muslims fight (meet) each other with their swords,
both the murderer as well as the murdered will go to the Hell-fire.' I
said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! It is all right for the murderer but what
about the murdered one?' Allah's Messenger (ﷺ) replied, "He surely had the
intention to kill his companion."
ہم سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن مبارک نے ، کہا ہم سے بیان کیا حماد بن زید نے ، کہا ہم سے بیان کیا ایوب اور یونس نے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے احنف بن قیس سے ، کہا کہ
میں اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو چلا ۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے ۔ پوچھا کہاں جاتے ہو ؟ میں نے کہا ، اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں ۔ ابوبکرہ نے کہا اپنے گھر کو لوٹ جاؤ ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قاتل تو خیر ( ضرور دوزخی ہونا چاہیے ) مقتول کیوں ؟ فرمایا ’’ وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا ۔ ‘‘ ( موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا دل کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ہوا ) ۔
আহনাফ ইব্নু কায়স (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি (সিফফীনের যুদ্ধে) এক ব্যক্তিকে [আলী (রাঃ)-কে] সাহায্য করতে যাচ্ছিলাম। আবূ বাক্রাহ্ (রাঃ)-এর সঙ্গে আমার দেখা হলে তিনি বললেনঃ ‘তুমি কোথায় যাচ্ছ?’ আমি বললাম, ‘আমি এ ব্যক্তিকে সাহায্য করতে যাচ্ছি।’ তিনি বললেনঃ ‘ফিরে যাও। কারণ আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কে বলতে শুনেছি যে, দু’জন মুসলমান তাদের তরবারি নিয়ে মুখোমুখি হলে হত্যাকারী এবং নিহত ব্যক্তি উভয়ে জাহান্নামে যাবে।’ আমি বললাম, ‘হে আল্লাহর রসূল! এ হত্যাকারী (তো অপরাধী), কিন্তু নিহত ব্যক্তির কী অপরাধ? তিনি বললেন, (নিশ্চয়ই) সেও তার সাথীকে হত্যা করার জন্য উদগ্রীব ছিল।’
(৬৮৭৫, ৭০৮৩; মুসলিম ৫২/৪ হাঃ ২৮৮৮, আহমাদ ২০৪৪৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ২৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ২৯)
When the following Verse was revealed: "It is those who believe and
confuse not their belief with wrong (worshipping others besides
Allah.)" (6:83), the companions of Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Who is
amongst us who had not done injustice (wrong)?" Allah revealed: "No
doubt, joining others in worship with Allah is a great injustice
(wrong) indeed." (31.13)
ہمارے سامنے ابوالولید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ( اسی حدیث کو ) بشر نے بیان کیا ، ان سے محمد نے ، ان سے شعبہ نے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے
جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو بہت ہی مشکل ہے ۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا ۔ تب اللہ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری «إن الشرك لظلم عظيم» کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔
‘আবদুল্লাহ্ (ইব্নু মাস‘ঊদ) (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ ‘‘যারা ঈমান এনেছে এবং নিজেদের ঈমানকে শিরকের সাথে মিশ্রিত করেনি’’- (সূরা আন্‘আম ৬/৮২); এ আয়াত নাযিল হলে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সাহাবীগণ বললেন, ‘আমাদের মধ্যে এমন কে আছে যে যুল্ম করেনি?’ তখন আল্লাহ তা‘আলা এ আয়াত নাযিল করেনঃ ‘‘নিশ্চয়ই শির্ক হচ্ছে অধিকতর যুল্ম’’-(সূরা লুকমান ৩১/১৩)
(৩৩৬০ ৩৪২৮, ৩৪২৯, ৪৬২৯, ৪৭৭৬, ৬৯১৮, ৬৯৩৭; মুসলিম ১/৫৬ হাঃ ১২৬, আহমাদ ৪০৩১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩১)
The Prophet (ﷺ) said, "The signs of a hypocrite are three:
1. Whenever he speaks, he tells a lie.
2. Whenever he promises, he always breaks it (his promise ).
3. If you trust him, he proves to be dishonest. (If you keep something
as a trust with him, he will not return it.)"
ہم سے سلیمان ابوالربیع نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن جعفر نے ، ان سے نافع بن ابی عامر ابوسہیل نے ، وہ اپنے باپ سے ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، منافق کی علامتیں تین ہیں ۔ جب بات کرے جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, মুনাফিকের চিহ্ন তিনটিঃ
১. যখন কথা বলে মিথ্যা বলে;
২. যখন অঙ্গীকার করে ভঙ্গ করে এবং
৩. আমানত রাখা হলে খিয়ানত করে।
(২৬৮২,২৭৪৯,৬০৯৫; মুসলিম ১/২৫ হাঃ ৫৯, আহমাদ ৯১৬২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩২)
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has the following four (characteristics)
will be a pure hypocrite and whoever has one of the following four
characteristics will have one characteristic of hypocrisy unless and
until he gives it up.
1. Whenever he is entrusted, he betrays.
2. Whenever he speaks, he tells a lie.
3. Whenever he makes a covenant, he proves treacherous.
4. Whenever he quarrels, he behaves in a very imprudent, evil and
insulting manner."
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے یہ حدیث بیان کی ، ان سے سفیان نے ، وہ اعمش بن عبیداللہ بن مرہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ مسروق سے ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ ( بھی ) نفاق ہی ہے ، جب تک اسے نہ چھوڑ دے ۔ ( وہ یہ ہیں ) جب اسے امین بنایا جائے تو ( امانت میں ) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب ( کسی سے ) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب ( کسی سے ) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے ۔ اس حدیث کو شعبہ نے ( بھی ) سفیان کے ساتھ اعمش سے روایت کیا ہے ۔
‘আবদুল্লাহ ইব্নু ‘আম্র (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেনঃ চারটি স্বভাব যার মধ্যে বিদ্যমান সে হচ্ছে খাঁটি মুনাফিক। যার মধ্যে এর কোন একটি স্বভাব থাকবে, তা পরিত্যাগ না করা পর্যন্ত তার মধ্যে মুনাফিকের একটি স্বভাব থেকে যায়। ১. আমানত রাখা হলে খিয়ানত করে;
২. কথা বললে মিথ্যা বলে;
৩. অঙ্গীকার করলে ভঙ্গ করে; এবং
৪. বিবাদে লিপ্ত হলে অশ্লীলভাবে গালাগালি করে।
শু‘বা আ‘মাশ (রহঃ) থেকে হাদীস বর্ণনায় সুফিয়ান (রহঃ)-এর অনুসরণ করেছেন।
(২৪৫৯,৩১৭৮; মুসলিম ১/২৫ হাঃ ৫৮, আহমাদ ৬৭৮২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৩)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 34
Hadith 35
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever establishes the prayers on the night of
Qadr out of sincere faith and hoping to attain Allah's rewards (not to
show off) then all his past sins will be forgiven."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہیں شعیب نے خبر دی ، کہا ان سے ابوالزناد نے اعرج کے واسطے سے بیان کیا ، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص شب قدر ایمان کے ساتھ محض ثواب آخرت کے لیے ذکر و عبادت میں گزارے ، اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এরশাদ করেনঃ যে ব্যক্তি ঈমানের সঙ্গে নেকির আশায় কদরের রাতে ইবাদতের মধ্যে রাত্রি জাগবে, তার পূর্বের গুনাহ্ ক্ষমা করে দেয়া হবে।
(৩৭, ৩৮, ১৯০১, ২০০৮, ২০০৯, ২০১৪; মুসলিম ২/২৫ হাঃ ৭৬০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৪)
The Prophet (ﷺ) said, "The person who participates in (Holy battles) in
Allah's cause and nothing compels him to do so except belief in Allah
and His Apostles, will be recompensed by Allah either with a reward,
or booty (if he survives) or will be admitted to Paradise (if he is
killed in the battle as a martyr). Had I not found it difficult for my
followers, then I would not remain behind any sariya going for Jihad
and I would have loved to be martyred in Allah's cause and then made
alive, and then martyred and then made alive, and then again martyred
in His cause."
ہم سے حرمی بن حفص نے بیان کیا ، ان سے عبدالواحد نے ، ان سے عمارہ نے ، ان سے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں ( جہاد کے لیے ) نکلا ، اللہ اس کا ضامن ہو گیا ۔ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) اس کو میری ذات پر یقین اور میرے پیغمبروں کی تصدیق نے ( اس سرفروشی کے لیے گھر سے ) نکالا ہے ۔ ( میں اس بات کا ضامن ہوں ) کہ یا تو اس کو واپس کر دوں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ ، یا ( شہید ہونے کے بعد ) جنت میں داخل کر دوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اور اگر میں اپنی امت پر ( اس کام کو ) دشوار نہ سمجھتا تو لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا اور میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں ۔
আবূ যুর‘আহ ইব্নু ‘আম্র ইব্নু জারীর (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি আবূ হুরাইরা (রাঃ)-কে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে বলতে শুনেছি, তিনি বলেনঃ যে ব্যক্তি আল্লাহর রাস্তায় বের হয়, যদি সে শুধু আল্লাহর উপর ঈমান এবং তাঁর রসূলগণের প্রতি ঈমানের কারণে বের হয়ে থাকে, তবে আল্লাহ তা‘আলা ঘোষণা দেন যে, আমি তাকে তার পুণ্য বা গানীমাত (ও বাহন) সহ ঘরে ফিরিয়ে আনব কিংবা তাকে জান্নাতে প্রবেশ করাব।
আর আমার উম্মতের উপর কষ্টদায়ক হবে বলে যদি মনে না করতাম তবে কোন সেনাদলের সঙ্গে না গিয়ে বসে থাকতাম না। আমি অবশ্যই এটা ভালবাসি যে, আল্লাহর রাস্তায় নিহত হই, পুনরায় জীবিত হই, পুনরায় নিহত হই, পুনরায় জীবিত হই, পুনরায় নিহত হই।
(২৭৮৭, ২৭৯৭, ২৯৭২, ৩১২৩, ৭২২৬, ৭২২৭, ৭৪৫৭, ৭৪৬৩; মুসলিম ৩৩/২৮ হাঃ ১৮৭৬, আহমাদ ৯১৯৮, ৯৪৮১, ৯৪৮৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 36
Hadith 37
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said: "Whoever establishes prayers during the nights
of Ramadan faithfully out of sincere faith and hoping to attain
Allah's rewards (not for showing off), all his past sins will be
forgiven."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، انھوں نے ابن شہاب سے نقل کیا ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں ( راتوں کو ) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন যে, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেনঃ যে ব্যক্তি রমযানের রাতে ঈমানসহ পূণ্যের আশায় রাত জেগে ইবাদত করে, তার পূর্বের গুনাহ্ ক্ষমা করে দেয়া হয়।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৬)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever observes fasts during the month of
Ramadan out of sincere faith, and hoping to attain Allah's rewards,
then all his past sins will be forgiven."
ہم نے ابن سلام نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن فضیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے ابوسلمہ سے روایت کی ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ যে ব্যক্তি ঈমানসহ পূণ্যের আশায় রমযানের সিয়াম ব্রত পালন করে, তার পূর্বের গুনাহ ক্ষমা করে দেয়া হয়।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৭)
The Prophet (ﷺ) said, "Religion is very easy and whoever overburdens
himself in his religion will not be able to continue in that way. So
you should not be extremists, but try to be near to perfection and
receive the good tidings that you will be rewarded; and gain strength
by worshipping in the mornings, the afternoons, and during the last hours of the nights." (See Fath-ul-Bari, Page
102, Vol 1).
ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم کو عمر بن علی نے معن بن محمد غفاری سے خبر دی ، وہ سعید بن ابوسعید مقبری سے ، وہ ابوہریرہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ( اور اس کی سختی نہ چل سکے گی ) پس ( اس لیے ) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو ۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ ( کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے ) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں ( عبادت سے ) مدد حاصل کرو ۔ ( نماز پنج وقتہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ پابندی سے ادا کرو ۔ )
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ নিশ্চয়ই দ্বীন সহজ। দ্বীন নিয়ে যে বাড়াবাড়ি করে দ্বীন তার উপর জয়ী হয়। কাজেই তোমরা মধ্যপন্থা অবলম্বন কর এবং (মধ্যপন্থার) নিকটে থাক, আশান্বিত থাক এবং সকাল-সন্ধ্যায় ও রাতের কিছু অংশে (‘ইবাদাত সহযোগে) সাহায্য চাও।
(৫৬৭৩, ৬৪৬৩, ৭২৩৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৮)
When the Prophet (ﷺ) came to Medina, he stayed first with his grandfathers
or maternal uncles from Ansar. He offered his prayers facing
Baitul-Maqdis (Jerusalem) for sixteen or seventeen months, but he
wished that he could pray facing the Ka'ba (at Mecca). The first
prayer which he offered facing the Ka'ba was the 'Asr prayer in the
company of some people. Then one of those who had offered that prayer
with him came out and passed by some people in a mosque who were
bowing during their prayers (facing Jerusalem). He said addressing
them, "By Allah, I testify that I have prayed with Allah's Messenger (ﷺ)
facing Mecca (Ka'ba).' Hearing that, those people changed their
direction towards the Ka'ba immediately. Jews and the people of the
scriptures used to be pleased to see the Prophet (ﷺ) facing Jerusalem in
prayers but when he changed his direction towards the Ka'ba, during
the prayers, they disapproved of it.
Al-Bara' added, "Before we changed our direction towards the Ka'ba
(Mecca) in prayers, some Muslims had died or had been killed and we
did not know what to say about them (regarding their prayers.) Allah
then revealed: And Allah would never make your faith (prayers) to be
lost (i.e. the prayers of those Muslims were valid).' " (2:143).
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ، ان کو حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنی نانہال میں اترے ، جو انصار تھے ۔ اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو ( جب بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہو گیا ) تو سب سے پہلی نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف پڑھی عصر کی نماز تھی ۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی ، پھر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی نکلا اور اس کا مسجد ( بنی حارثہ ) کی طرف گزر ہوا تو وہ لوگ رکوع میں تھے ۔ وہ بولا کہ میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے ۔ ( یہ سن کر ) وہ لوگ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ، یہود اور عیسائی خوش ہوتے تھے مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ پھیر لیا تو انہیں یہ امر ناگوار ہوا ۔ زہیر ( ایک راوی ) کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسحاق نے براء سے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ قبلہ کی تبدیلی سے پہلے کچھ مسلمان انتقال کر چکے تھے ۔ تو ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کی نمازوں کے بارے میں کیا کہیں ۔ تب اللہ نے یہ آیت نازل کی «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ( البقرہ : 143 ) ۔
বারাআ (ইব্নু ‘আযিব) (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মদীনায় হিজরত করে সর্বপ্রথম আনসারদের মধ্যে তাঁর নানাদের গোত্র [আবূ ইসহাক (রহঃ) বলেন] বা মামাদের গোত্রে এসে ওঠেন। তিনি ষোল-সতের মাস বাইতুল মাকদিসের দিকে ফিরে সালাত আদায় করেন। কিন্তু তাঁর পছন্দ ছিল যে, তাঁর কিবলা বাইতুল্লাহ্র দিকে হোক। আর তিনি (বাইতুল্লাহ্র দিকে) প্রথম যে সালাত আদায় করেন, তা ছিল আসরের সালাত এবং তাঁর সঙ্গে একদল লোক সে সালাত আদায় করেন। তাঁর সঙ্গে যাঁরা সালাত আদায় করেছিলেন তাঁদের একজন লোক বের হয়ে এক মাসজিদে মুসল্লীদের কাছ দিয়ে যাচ্ছিলেন, তাঁরা তখন রুকূ‘ অবস্থায় ছিলেন। তখন তিনি বললেনঃ “আমি আল্লাহকে সাক্ষী রেখে বলছি যে, এইমাত্র আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সঙ্গে মক্কার দিকে ফিরে সালাত আদায় করে এসেছি। তখন তাঁরা যে অবস্থায় ছিলেন সে অবস্থায়ই বাইতুল্লাহ্র দিকে ঘুরে গেলেন। রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) যখন বায়তুল মাকদিস-এর দিকে সালাত আদায় করতেন তখন ইয়াহুদীদের ও আহলি-কিতাবদের নিকট এটা খুব ভাল লাগত; কিন্তু তিনি যখন বায়তুল্লাহ্র দিকে তাঁর মুখ ফিরালেন তখন তারা এটা খুব অপছন্দ করল। যুহায়র (রহঃ) বলেন, আবূ ইসহাক (রহঃ) বারাআ (রাঃ) থেকে আমার নিকট যে হাদীস বর্ণনা করেছেন, তাতে এ কথাও রয়েছে যে, কিবলা পরিবর্তনের পূর্বে বেশ কিছু লোক মৃত্যুবরণ করেছিলেন এবং শাহাদাত বরণ করেছিলেন, তাঁদের ব্যাপারে আমরা কি বলব, সেটা আমাদের জানা ছিল না। তখন আল্লাহ তা‘আলা অবতীর্ণ করেনঃ (وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ) “আল্লাহ তা‘আলা তোমাদের সালাতকে বিনষ্ট করবেন না”।
(৩৯৯, ৪৪৭৬, ৪৪৯২, ৭২৫২; মুসলিম ৫/২ হাঃ ৫২৫, আহমাদ ১৮৫৬৪, ১৮৭৩২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৯)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a person embraces Islam sincerely, then Allah shall forgive all his past sins, and after that starts the settlement of accounts, the reward of his good deeds will be ten times to seven hundred times for each good deed and one evil deed will be recorded as it is unless Allah forgives it."
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہیں عطاء بن یسار نے ، ان کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جب ( ایک ) بندہ مسلمان ہو جائے اور اس کا اسلام عمدہ ہو ( یقین و خلوص کے ساتھ ہو ) تو اللہ اس کے گناہ کو جو اس نے اس ( اسلام لانے ) سے پہلے کیا معاف فرما دیتا ہے اور اب اس کے بعد کے لیے بدلا شروع ہو جاتا ہے ( یعنی ) ایک نیکی کے عوض دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ( ثواب ) اور ایک برائی کا اسی برائی کے مطابق ( بدلا دیا جاتا ہے ) مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس برائی سے بھی درگزر کرے ۔ ( اور اسے بھی معاف فرما دے ۔ یہ بھی اس کے لیے آسان ہے ۔ )
আবূ সা‘ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছেন, বান্দা যখন ইসলাম গ্রহণ করে এবং তার ইসলাম উত্তম হয়, আল্লাহ তা‘আলা তার পূর্বের পাপসমূহ ক্ষমা করে দেন। অতঃপর শুরু হয় প্রতিফল; একটি পূণ্যের বিনিময়ে দশ হতে সাতশ গুণ পর্যন্ত; আর একটি পাপ কাজের বিনিময়ে ঠিক ততটুকু মন্দ প্রতিফল। অবশ্য আল্লাহ যদি ক্ষমা করে দেন তবে তা অন্য ব্যাপার।
(৩৯৯, ৪৪৭৬, ৪৪৯২, ৭২৫২; মুসলিম ৫/২ হাঃ ৫২৫, আহমাদ ১৮৫৬৪, ১৮৭৩২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৯)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If any one of you improve (follows strictly)
his Islamic religion then his good deeds will be rewarded ten times to
seven hundred times for each good deed and a bad deed will be recorded
as it is."
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، ان سے عبدالرزاق نے ، انہیں معمر نے ہمام سے خبر دی ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص جب اپنے اسلام کو عمدہ بنا لے ( یعنی نفاق اور ریا سے پاک کر لے ) تو ہر نیک کام جو وہ کرتا ہے اس کے عوض دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہر برا کام جو کرتا ہے تو وہ اتنا ہی لکھا جاتا ہے ( جتنا کہ اس نے کیا ہے ) ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেনঃ তোমাদের মধ্যে কেউ যখন উত্তমরূপে ইসলামের উপর প্রতিষ্ঠিত থাকে তখন সে যে আমালে সালেহ (নেক আমল) করে তার প্রত্যেকটির বিনিময়ে সাতশ গুণ পর্যন্ত (পুণ্য) লেখা হয়। আর সে যে পাপ কাজ করে তার প্রত্যেকটির বিনিময়ে তার জন্য ঠিক ততটুকুই পাপ লেখা হয়।
(মুসলিম ১/৫৯ হাঃ ১২৯, আহমাদ ৮২২৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪০, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪০)
Once the Prophet (ﷺ) came while a woman was sitting with me. He said, "Who
is she?" I replied, "She is so and so," and told him about her
(excessive) praying. He said disapprovingly, "Do (good) deeds which is
within your capacity (without being overtaxed) as Allah does not get
tired (of giving rewards) but (surely) you will get tired and the best
deed (act of Worship) in the sight of Allah is that which is done
regularly."
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ہشام کے واسطے سے نقل کیا ، وہ کہتے ہیں مجھے میرے باپ ( عروہ ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن ) ان کے پاس آئے ، اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی ، آپ نے دریافت کیا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ، فلاں عورت اور اس کی نماز ( کے اشتیاق اور پابندی ) کا ذکر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ ( سن لو کہ ) تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے ۔ خدا کی قسم ( ثواب دینے سے ) اللہ نہیں اکتاتا ، مگر تم ( عمل کرتے کرتے ) اکتا جاؤ گے ، اور اللہ کو دین ( کا ) وہی عمل زیادہ پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جا سکے ۔ ( اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے ) ۔
‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একবার তাঁর নিকট আসেন, তাঁর নিকট তখন এক মহিলা ছিলেন। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) জিজ্ঞেস করলেনঃ ‘ইনি কে?’ ‘আয়িশা (রাঃ) উত্তর দিলেন, অমুক মহিলা, এ বলে তিনি তাঁর সলাতের উল্লেখ করলেন। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ ‘থাম, তোমরা যতটুকু সামর্থ্য রাখ, ততটুকুই তোমাদের করা উচিত। আল্লাহর শপথ! আল্লাহ তা‘আলা ততক্ষণ পর্যন্ত (সওয়াব দিতে) বিরত হন না, যতক্ষন না তোমরা নিজেরা পরিশ্রান্ত হয়ে পড়। আল্লাহর নিকট অধিক পছন্দনীয় আমল সেটাই, যা আমলকারী নিয়মিত করে থাকে।
(১১৫১; মুসলিম ২/৩১ হাঃ ৭৮৫, আহমাদ ২৪৯৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪১)
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever said "None has the right to be worshipped
but Allah and has in his heart good (faith) equal to the weight of a
barley grain will be taken out of Hell. And whoever said: "None has
the right to be worshipped but Allah and has in his heart good (faith)
equal to the weight of a wheat grain will be taken out of Hell. And
whoever said, "None has the right to be worshipped but Allah and has
in his heart good (faith) equal to the weight of an atom will be taken
out of Hell."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے قتادہ نے حضرت انس کے واسطے سے نقل کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے «لا إله إلا الله» کہہ لیا اور اس کے دل میں جو برابر بھی ( ایمان ) ہے تو وہ ( ایک نہ ایک دن ) دوزخ سے ضرور نکلے گا اور دوزخ سے وہ شخص ( بھی ) ضرور نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر خیر ہے اور دوزخ سے وہ ( بھی ) نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں اک ذرہ برابر بھی خیر ہے ۔ حضرت امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے «خير» کی جگہ «ايمان» کا لفظ نقل کیا ہے ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ যে ‘লা- ইলা-হা ইল্লাল্লাহ’ বলবে আর তার অন্তরে একটি যব পরিমাণও পূণ্য বিদ্যমান থাকবে, তাকে জাহান্নাম হতে বের করা হবে এবং যে ‘লা- ইলা-হা ইল্লাল্লাহ’ বলবে আর তার অন্তরে একটি গম পরিমাণও পূণ্য বিদ্যমান থাকবে তাকে জাহান্নাম হতে বের করা হবে এবং যে ‘লা-ইলাহা ইল্লাল্লাহ’ বলবে আর তার অন্তরে একটি অণু পরিমানও নেকী থাকবে তাকে জাহান্নাম থেকে বের করা হবে।
আবূ ‘আবদুল্লাহ বলেন, আবান (রহঃ) বর্ণনা করেছেন, আনাস (রাঃ) হতে এবং তিনি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে নেকী –এর স্থলে ‘ঈমান’ শব্দটি রিওয়ায়াত করেছেন।
(৪৪৭৬, ৬৫৬৫, ৭৪১০, ৭৪৪০, ৭৫০৯, ৭৫১০, ৭৫১৬; মুসলিম ১/৮৪ হাঃ ১৯৩, আহমাদ ১২১৫৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪২)
Once a Jew said to me, "O the chief of believers! There is a verse in
your Holy Book Which is read by all of you (Muslims), and had it been
revealed to us, we would have taken that day (on which it was revealed
as a day of celebration." 'Umar bin Al-Khattab asked, "Which is that
verse?" The Jew replied, "This day I have perfected your religion For
you, completed My favor upon you, And have chosen for you Islam as
your religion." (5:3) 'Umar replied,"No doubt, we know when and where
this verse was revealed to the Prophet. It was Friday and the Prophet (ﷺ)
was standing at 'Arafat (i.e. the Day of Hajj)"
ہم سے اس حدیث کو حسن بن صباح نے بیان کیا ، انھوں نے جعفر بن عون سے سنا ، وہ ابوالعمیس سے بیان کرتے ہیں ، انہیں قیس بن مسلم نے طارق بن شہاب کے واسطے سے خبر دی ۔ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! تمہاری کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو ۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس ( کے نزول کے ) دن کو یوم عید بنا لیتے ۔ آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے جواب دیا ( سورۃ المائدہ کی یہ آیت کہ ) ’’ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو ( خوب ) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے ۔
‘উমার ইবনুল খাত্তাব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ জনৈক ইয়াহূদী তাঁকে বললঃ হে আমীরুল মু’মিনীন! আপনাদের কিতাবে একটি আয়াত আছে, যা আপনারা পাঠ করে থাকেন, তা যদি আমাদের ইয়াহূদী জাতির উপর অবতীর্ণ হত, তবে অবশ্যই আমরা সে দিনকে খুশীর দিন হিসেবে পালন করতাম। তিনি বললেন, কোন আয়াত? সে বললঃ “আজ তোমাদের জন্য তোমাদের দ্বীন পরিপূর্ণ করলাম ও তোমাদের প্রতি আমার নিয়ামত সম্পূর্ণ করলাম এবং ইসলামকে তোমাদের দ্বীন মনোনীত করলাম” –(সূরাহ্ মায়িদাহ্ ৫/৩)। ‘উমার (রাঃ) বললেন, এটি যে দিনে এবং যে স্থানে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর উপর অবতীর্ণ হয়েছিল তা আমরা জানি; তিনি সেদিন ‘আরাফায় দাঁড়িয়েছিলেন আর সেটা ছিল জুমু‘আহ্র দিন।
(৪৪০৭, ৪৬০৬, ৭২৬৮; মুসলিম ৪৩/১ হাঃ ৩০১৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪৩)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 44
Hadith 46
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، ثَائِرُ الرَّأْسِ، يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ، وَلاَ يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ". فَقَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ " لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَصِيَامُ رَمَضَانَ ". قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُ قَالَ " لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ". قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الزَّكَاةَ. قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ " لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ". قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ".
Narrated Talha bin 'Ubaidullah:
A man from Najd with unkempt hair came to Allah's Messenger (ﷺ) and we heard
his loud voice but could not understand what he was saying, till he
came near and then we came to know that he was asking about Islam.
Allah's Messenger (ﷺ) said, "You have to offer prayers perfectly five times
in a day and night (24 hours)." The man asked, "Is there any more
(praying)?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, but if you want to offer the
Nawafil prayers (you can)." Allah's Messenger (ﷺ) further said to him: "You
have to observe fasts during the month of Ramadan." The man asked,
"Is there any more fasting?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, but if you
want to observe the Nawafil fasts (you can.)" Then Allah's Messenger (ﷺ)
further said to him, "You have to pay the Zakat (obligatory charity)."
The man asked, "Is there any thing other than the Zakat for me to
pay?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, unless you want to give alms of
your own." And then that man retreated saying, "By Allah! I will
neither do less nor more than this." Allah's Messenger (ﷺ) said, "If what he
said is true, then he will be successful (i.e. he will be granted
Paradise)."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، انھوں نے اپنے چچا ابوسہیل بن مالک سے ، انھوں نے اپنے باپ ( مالک بن ابی عامر ) سے ، انھوں نے طلحہ بن عبیداللہ سے وہ کہتے تھے
نجد والوں میں ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، سر پریشان یعنی بال بکھرے ہوئے تھے ، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ نزدیک آن پہنچا ، جب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے ، اس نے کہا بس اس کے سوا تو اور کوئی نماز مجھ پر نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل پڑھے ( تو اور بات ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔ اس نے کہا اور تو کوئی روزہ مجھ پر نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل روزے رکھے ( تو اور بات ہے ) طلحہ نے کہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بیان کیا ۔ وہ کہنے لگا کہ بس اور کوئی صدقہ مجھ پر نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل صدقہ دے ( تو اور بات ہے ) راوی نے کہا پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا ۔ یوں کہتا جاتا تھا ، قسم خدا کی میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ۔
ত্বলহা ইব্নু ‘উবাইদুল্লাহ্ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, জনৈক নাজ্দবাসী আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট এলো। তার মাথার চুল ছিল এলোমেলো। আমরা তার কথার মৃদু আওয়ায শুনতে পাচ্ছিলাম, কিন্তু সে কি বলছিল, আমরা তা বুঝতে পারছিলাম না। এভাবে সে নিকটে এসে ইসলাম সম্পর্কে প্রশ্ন করতে লাগল। আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ ‘দিন-রাতে পাঁচ ওয়াক্ত সালাত’ ; সে বলল, ‘আমার উপর এ ছাড়া আরো সালাত আছে?’ তিনি বললেনঃ ‘না, তবে নফল আদায় করতে পার।’ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ ‘আর রমযানের সাওম।’ সে বলল, ‘আমার উপর এছাড়া আরো সাওম আছে?’ তিনি বললেনঃ ‘না, তবে নফল আদায় করতে পার।’ বর্ণনাকারী বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তার নিকট যাকাতের কথা বললেন। সে বলল, ‘আমার উপর এছাড়া আরো আছে?’ তিনি বললেনঃ ‘না, তবে নফল হিসেবে দিতে পার।’ বর্ননাকারী বলেন, ‘সে ব্যক্তি এই বলে চলে গেলেন; ‘আল্লাহর শপথ’ আমি এর চেয়ে অধিকও করব না এবং কমও করব না।’ তখন আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ ‘সে কৃতকার্য হবে যদি সত্য বলে থাকে।’
(১৮৯১, ২৬৭৮, ৬৯৫৬; মুসলিম ১/২ হাঃ ১১, আহমাদ ১৩৯০) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪৪)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "(A believer) who accompanies the funeral
procession of a Muslim out of sincere faith and hoping to attain
Allah's reward and remains with it till the funeral prayer is offered
and the burial ceremonies are over, he will return with a reward of
two Qirats. Each Qirat is like the size of the (Mount) Uhud. He who
offers the funeral prayer only and returns before the burial, will
return with the reward of one Qirat only."
ہم سے احمد بن عبداللہ بن علی منجونی نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا ، انھوں نے حسن بصری اور محمد بن سیرین سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ ، اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ۔ روح کے ساتھ اس حدیث کو عثمان مؤذن نے بھی روایت کیا ہے ۔ کہا ہم سے عوف نے بیان کیا ، انھوں نے محمد بن سیرین سے سنا ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اگلی روایت کی طرح ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইরশাদ করেনঃ যে ব্যক্তি ঈমানের সাথে ও পুণ্যের আশায় কোন মুসলমানের জানাযার অনুগমন করে এবং তার সালাত-ই-জানাযা আদায় করে ও দাফন সম্পন্ন হওয়া পর্যন্ত সঙ্গে থাকে, সে দুই কীরাত সওয়াব নিয়ে ফিরবে। প্রতিটি কীরাত হল উহুদ পর্বতের মতো। আর যে ব্যক্তি শুধু তার জানাযা আদায় করে, তারপর দাফন সম্পন্ন হবার পূর্বেই চলে আসে, সে এক কীরাত সওয়াব নিয়ে ফিরবে। ‘উসমান আল-মুয়ায্যিন (রহঃ)....আবূ হুরাইরা (রাঃ) সূত্রে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে অনুরূপ হাদীস বর্ণনা করেছেন।
(১৩২৩, ১৩২৫) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 46
Hadith 48
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنِ الْمُرْجِئَةِ،، فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ".
Narrated 'Abdullah:
The Prophet (ﷺ) said, "Abusing a Muslim is Fusuq (an evil doing) and
killing him is Kufr (disbelief)."
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے زبید بن حارث سے ، کہا میں نے ابووائل سے مرجیہ کے بارے میں پوچھا ، ( وہ کہتے ہیں گناہ سے آدمی فاسق نہیں ہوتا ) انھوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے ۔
যুবায়দ (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি আবূ ওয়াইল (রহঃ)-কে মুরজিআ’ [১] সম্পর্কে জিজ্ঞেস করলাম, তিনি বললেন, ‘আবদুল্লাহ (ইব্ন মাস‘ঊদ) আমার নিকট বলেছেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ মুসলিমকে গালি দেয়া ফাসিকী এবং তার সাথে লড়াই করা কুফরী।
(৬০৪৪,৭০৭৬; মুসলিম ১/২৮, হাঃ ৬৪, আহমাদ ৩৬৪৭ ) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪৬)
"Allah's Messenger (ﷺ) went out to inform the people about the (date of the)
night of decree (Al-Qadr) but there happened a quarrel between two
Muslim men. The Prophet (ﷺ) said, "I came out to inform you about (the
date of) the night of Al-Qadr, but as so and so and so and so
quarrelled, its knowledge was taken away (I forgot it) and maybe it
was better for you. Now look for it in the 7th, the 9th and the 5th
(of the last 10 nights of the month of Ramadan)."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، انھوں نے حمید سے ، انھوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ، کہا مجھ کو عبادہ بن صامت نے خبر دی کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے نکلے ، لوگوں کو شب قدر بتانا چاہتے تھے ( وہ کون سی رات ہے ) اتنے میں دو مسلمان آپس میں لڑ پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں تو اس لیے باہر نکلا تھا کہ تم کو شب قدر بتلاؤں اور فلاں فلاں آدمی لڑ پڑے تو وہ میرے دل سے اٹھا لی گئی اور شاید اسی میں کچھ تمہاری بہتری ہو ۔ ( تو اب ایسا کرو کہ ) شب قدر کو رمضان کی ستائیسویں ، انتیسویں و پچیسویں رات میں ڈھونڈا کرو ۔
‘উবাদাহ ইব্নু সামিত (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) লায়লাতুল কদ্র সম্পর্কে জানানোর জন্য বের হলেন। তখন দু’জন মুসলমান বিবাদ করছিল। তিনি বললেনঃ আমি তোমাদের লাইলাতুল কদ্র সম্পর্কে জানানোর জন্য বেরিয়েছিলাম; কিন্তু তখন অমুক অমুক বিবাদে লিপ্ত থাকায় তা (লাইলাতুল কদরের নির্দিষ্ট তারিখ সম্পর্কিত জ্ঞান) উঠিয়ে নেয়া হয়েছে। আর হয়তো বা এটাই তোমাদের জন্য মঙ্গলজনক হবে। তোমরা তা অনুসন্ধান কর (রমযানের) ২৭, ২৯ ও ২৫ তম রাতে।
(২০২৩, ৬০৪৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪৭, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪৭)
One day while the Prophet (ﷺ) was sitting in the company of some people,
(The angel) Gabriel came and asked, "What is faith?" Allah's Messenger (ﷺ)
replied, 'Faith is to believe in Allah, His angels, (the) meeting with
Him, His Apostles, and to believe in Resurrection." Then he further
asked, "What is Islam?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "To worship Allah
Alone and none else, to offer prayers perfectly to pay the compulsory
charity (Zakat) and to observe fasts during the month of Ramadan."
Then he further asked, "What is Ihsan (perfection)?" Allah's Messenger (ﷺ)
replied, "To worship Allah as if you see Him, and if you cannot
achieve this state of devotion then you must consider that He is
looking at you." Then he further asked, "When will the Hour be
established?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "The answerer has no better
knowledge than the questioner. But I will inform you about its
portents.
1. When a slave (lady) gives birth to her master.
2. When the shepherds of black camels start boasting and competing
with others in the construction of higher buildings. And the Hour is
one of five things which nobody knows except Allah.
The Prophet (ﷺ) then recited: "Verily, with Allah (Alone) is the knowledge
of the Hour--." (31. 34) Then that man (Gabriel) left and the Prophet (ﷺ)
asked his companions to call him back, but they could not see him.
Then the Prophet (ﷺ) said, "That was Gabriel who came to teach the people
their religion." Abu 'Abdullah said: He (the Prophet) considered all
that as a part of faith.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم کو ابوحیان تیمی نے ابوزرعہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ
ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس ( اللہ ) کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاؤ ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو ۔ اور زکوٰۃ فرض ادا کرو ۔ اور رمضان کے روزے رکھو ۔ پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احسان یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ تو سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے ۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا ( البتہ ) میں تمہیں اس کی نشانیاں بتلا سکتا ہوں ۔ وہ یہ ہیں کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے ( دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے ) مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں گے ( یاد رکھو ) قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے کہ وہ کب ہو گی ( آخر آیت تک ) پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر جانے لگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔ امام ابوعبداللہ بخاری فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام باتوں کو ایمان ہی قرار دیا ہے ۔
আবূ হুরাইরা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, একদা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) জনসমক্ষে উপবিষ্ট ছিলেন, এমন সময় তাঁর নিকট জনৈক ব্যক্তি এসে জিজ্ঞেস করলেন ‘ঈমান কি?’ তিনি বললেনঃ ‘ঈমান হল, আপনি বিশ্বাস রাখবেন আল্লাহর প্রতি, তাঁর ফেরেশতাগণের প্রতি, (ক্বিয়ামাতের দিন) তাঁর সঙ্গে সাক্ষাতের প্রতি এবং তাঁর রসূলগণের প্রতি। আপনি আরো বিশ্বাস রাখবেন পুনরুত্থানের প্রতি।’ তিনি জিজ্ঞেস করলেন, ‘ইসলাম কি?’ তিনি বললেনঃ ‘ইসলাম হল, আপনি আল্লাহর ইবাদত করবেন এবং তাঁর সাথে অংশীদার স্থাপন করবেন না, সালাত প্রতিষ্ঠা করবেন, ফরয যাকাত আদায় করবেন এবং রমযান-এর সিয়ামব্রত পালন করবেন।’ ঐ ব্যক্তি জিজ্ঞেস করলেন, ‘ইহসান কি?’ তিনি বললেনঃ ‘আপনি এমনভাবে আল্লাহর ‘ইবাদত করবেন যেন আপনি তাঁকে দেখছেন, আর যদি আপনি তাঁকে দেখতে না পান তবে (মনে করবেন) তিনি আপনাকে দেখছেন।’ ঐ ব্যক্তি জিজ্ঞেস করলেন, ‘কিয়ামত কবে?’ তিনি বললেনঃ ‘এ ব্যাপারে যাকে জিজ্ঞেস করা হচ্ছে, তিনি জিজ্ঞেসকারী অপেক্ষা অধিক জ্ঞাত নন। তবে আমি আপনাকে ক্বিয়ামাতের আলামতসমূহ বলে দিচ্ছিঃ বাঁদী যখন তার প্রভুকে প্রসব করবে এবং উটের নগণ্য রাখালেরা যখন বড় বড় অট্টালিকা নির্মাণে প্রতিযোগিতা করবে। (ক্বিয়ামাতের জ্ঞান) সেই পাঁচটি জিনিসের অন্তর্ভুক্ত, যা আল্লাহ ব্যতীত কেউ জানে না।’ অতঃপর আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এই আয়াতটি শেষ পর্যন্ত তিলাওয়াত করলেনঃ ‘কিয়ামাতের জ্ঞান কেবল আল্লাহরই নিকট.......।’ (সূরা লুক্বমান ৩১/৩৪)
এরপর ঐ ব্যক্তি চলে গেলে তিনি বললেনঃ ‘তোমরা তাকে ফিরিয়ে আন।’ তারা কিছুই দেখতে পেল না। তখন তিনি বললেন, ‘ইনি জিবরীল (‘আঃ) ; লোকদেরকে তাদের দ্বীন শেখাতে এসেছিলেন।’ আবূ ‘আবদুল্লাহ বুখারী (রহঃ) বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এসব বিষয়কে ঈমানের অন্তর্ভুক্ত করেছেন।
(৪৭৭৭; মুসলিম ১/১ হাঃ ৯) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪৮, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪৮)
I was informed by Abu Sufyan that Heraclius said to him, "I asked you
whether they (followers of Muhammad) were increasing or decreasing.
You replied that they were increasing. And in fact, this is the way of
true Faith till it is complete in all respects. I further asked you
whether there was anybody, who, after embracing his (the Prophets)
religion (Islam) became displeased and discarded it. You replied in
the negative, and in fact, this is (a sign of) true faith. When its
delight enters the heart and mixes with them completely, nobody can be
displeased with it."
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے صالح بن کیسان سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، ان کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، ان کو ابوسفیان بن حرب نے کہ
ہرقل ( روم کے بادشاہ ) نے ان سے کہا ۔ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس رسول کے ماننے والے بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں ۔ تو نے جواب میں بتلایا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ۔ ( ٹھیک ہے ) ایمان کا یہی حال رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پورا ہو جائے اور میں نے تجھ سے پوچھا تھا کہ کوئی اس کے دین میں آ کر پھر اس کو برا جان کر پھر جاتا ہے ؟ تو نے کہا ۔ نہیں ، اور ایمان کا یہی حال ہے ۔ جب اس کی خوشی دل میں سما جاتی ہے تو پھر اس کو کوئی برا نہیں سمجھ سکتا ۔
‘আবদুল্লাহ ইব্নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আবূ সুফিয়ান ইব্নু হারব আমার নিকট বর্ণনা করেন, হিরাক্লিয়াস তাঁকে বলেছিল, আমি তোমাকে জিজ্ঞেস করেছিলাম তারা (ঈমানদারগণ) সংখ্যায় বাড়ছে না কমছে? তুমি উত্তর দিয়েছিলে, তারা সংখ্যায় বাড়ছে। প্রকৃতপক্ষে ঈমানের ব্যাপার এরূপই থাকে যতক্ষণ না তা পূর্ণতা লাভ করে। আর আমি তোমাকে জিজ্ঞেস করেছিলাম, কেউ তাঁর দ্বীন গ্রহণ করার পর তা অপছন্দ করে মুরতাদ হয়ে যায় কি-না? তুমি জবাব দিয়েছ, ‘না।’ প্রকৃত ঈমান এরূপই, ঈমানের স্বাদ অন্তরের সাথে মিশে গেলে কেউ তা অপছন্দ করে না।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ৪৯, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৪৯)
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'Both legal and illegal things are
evident but in between them there are doubtful (suspicious) things and
most of the people have no knowledge about them. So whoever saves
himself from these suspicious things saves his religion and his honor.
And whoever indulges in these suspicious things is like a shepherd who
grazes (his animals) near the Hima (private pasture) of someone else
and at any moment he is liable to get in it. (O people!) Beware! Every
king has a Hima and the Hima of Allah on the earth is His illegal
(forbidden) things. Beware! There is a piece of flesh in the body if
it becomes good (reformed) the whole body becomes good but if it gets
spoilt the whole body gets spoilt and that is the heart.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے ، انھوں نے عامر سے ، کہا میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے میں نے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی کھلا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے ( کہ حلال ہیں یا حرام ) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو ( شاہی محفوظ ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے ۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے ( اور شاہی مجرم قرار پائے ) سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے ۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں ۔ ( پس ان سے بچو اور ) سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا ۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے ۔
নু‘মান ইব্নু বশীর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি যে, ‘হালাল স্পষ্ট এবং হারামও স্পষ্ট। আর এ দু’য়ের মাঝে রয়েছে বহু সন্দেহজনক বিষয়- যা অনেকেই জানে না। যে ব্যক্তি সেই সন্দেহজনক বিষয় হতে বেঁচে থাকবে, সে তার দ্বীন ও মর্যাদা রক্ষা করতে পারবে। আর যে সন্দেহজনক বিষয়সমূহে লিপ্ত হয়ে পড়ে, তার উদাহরণ সে রাখালের ন্যায়, যে তার পশু বাদশাহ্ সংরক্ষিত চারণভূমির আশেপাশে চরায়, অচিরেই সেগুলোর সেখানে ঢুকে পড়ার আশংকা রয়েছে। জেনে রাখ যে, প্রত্যেক বাদশাহ্রই একটি সংরক্ষিত এলাকা রয়েছে। আরো জেনে রাখ যে, আল্লাহর যমীনে তাঁর সংরক্ষিত এলাকা হলো তাঁর নিষিদ্ধ কাজসমূহ। জেনে রাখ, শরীরের মধ্যে একটি গোশতের টুকরা আছে, তা যখন ঠিক হয়ে যায়, গোটা শরীরই তখন ঠিক হয়ে যায়। আর তা যখন খারাপ হয়ে যায়, গোটা শরীরই তখন খারাপ হয়ে যায়। জেনে রাখ, সে গোশতের টুকরোটি হল ক্বলব (অন্তর)।
(২০৫১; মুসলিম ২২/২০ হাঃ ১৫৯৯, আহমাদ ১৮৩৯৬, ১৮৪০২) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৫০,ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৫০)
I used to sit with Ibn 'Abbas and he made me sit on his sitting place.
He requested me to stay with him in order that he might give me a
share from his property. So I stayed with him for two months. Once he
told (me) that when the delegation of the tribe of 'Abdul Qais came to
the Prophet, the Prophet (ﷺ) asked them, "Who are the people (i.e. you)?
(Or) who are the delegate?" They replied, "We are from the tribe of
Rabi'a." Then the Prophet (ﷺ) said to them, "Welcome! O people (or O
delegation of 'Abdul Qais)! Neither will you have disgrace nor will
you regret." They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We cannot come to you
except in the sacred month and there is the infidel tribe of Mudar
intervening between you and us. So please order us to do something
good (religious deeds) so that we may inform our people whom we have
left behind (at home), and that we may enter Paradise (by acting on
them)." Then they asked about drinks (what is legal and what is
illegal). The Prophet (ﷺ) ordered them to do four things and forbade them
from four things. He ordered them to believe in Allah Alone and asked
them, "Do you know what is meant by believing in Allah Alone?" They
replied, "Allah and His Apostle know better." Thereupon the Prophet (ﷺ)
said, "It means:
1. To testify that none has the right to be worshipped but Allah and
Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ).
2. To offer prayers perfectly
3. To pay the Zakat (obligatory charity)
4. To observe fast during the month of Ramadan.
5. And to pay Al-Khumus (one fifth of the booty to be given in Allah's
Cause).
Then he forbade them four things, namely, Hantam, Dubba,' Naqir Ann
Muzaffat or Muqaiyar; (These were the names of pots in which Alcoholic
drinks were prepared) (The Prophet (ﷺ) mentioned the container of wine and
he meant the wine itself). The Prophet (ﷺ) further said (to them):
"Memorize them (these instructions) and convey them to the people whom
you have left behind."
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے ابوجمرہ سے نقل کیا کہ
میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا کرتا تھا وہ مجھ کو خاص اپنے تخت پر بٹھاتے ( ایک دفعہ ) کہنے لگے کہ تم میرے پاس مستقل طور پر رہ جاؤ میں اپنے مال میں سے تمہارا حصہ مقرر کر دوں گا ۔ تو میں دو ماہ تک ان کی خدمت میں رہ گیا ۔ پھر کہنے لگے کہ عبدالقیس کا وفد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا کہ یہ کون سی قوم کے لوگ ہیں یا یہ وفد کہاں کا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ ربیعہ خاندان کے لوگ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرحبا اس قوم کو یا اس وفد کو نہ ذلیل ہونے والے نہ شرمندہ ہونے والے ( یعنی ان کا آنا بہت خوب ہے ) وہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کی خدمت میں صرف ان حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا قبیلہ آباد ہے ۔ پس آپ ہم کو ایک ایسی قطعی بات بتلا دیجئیے جس کی خبر ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی کر دیں جو یہاں نہیں آئے اور اس پر عمل درآمد کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور انھوں نے آپ سے اپنے برتنوں کے بارے میں بھی پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار قسم کے برتنوں کو استعمال میں لانے سے منع فرمایا ۔ ان کو حکم دیا کہ ایک اکیلے خدا پر ایمان لاؤ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ جانتے ہو ایک اکیلے خدا پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے جو ملے اس کا پانچواں حصہ ( مسلمانوں کے بیت المال میں ) داخل کرنا اور چار برتنوں کے استعمال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرمایا ۔ سبز لاکھی مرتبان سے اور کدو کے بنائے ہوئے برتن سے ، لکڑی کے کھودے ہوئے برتن سے ، اور روغنی برتن سے اور فرمایا کہ ان باتوں کو حفظ کر لو اور ان لوگوں کو بھی بتلا دینا جو تم سے پیچھے ہیں اور یہاں نہیں آئے ہیں ۔
আবূ জামরাহ (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি ইব্নু ‘আব্বাস (রাঃ)-এর সাথে বসতাম। তিনি আমাকে তাঁর আসনে বসাতেন। একবার তিনি বললেনঃ তুমি আমার কাছে থেকে যাও, আমি তোমাকে আমার ধন-সম্পদ হতে কিয়দংশ প্রদান করব। আমি তাঁর সাথে দু’মাস থাকলাম। অতঃপর একদা তিনি বললেন, আবদুল কায়েস-এর একটি প্রতিনিধি দল আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট আগমন করলে তিনি বললেনঃ তোমরা কোন্ গোত্রের? কিংবা বললেন, কোন প্রতিনিধিদলের? তারা বলল, ‘রাবী‘আ গোত্রের।’ তিনি বললেনঃ স্বাগতম সে গোত্র বা সে প্রতিনিধি দলের প্রতি, যারা অপদস্থ ও লজ্জিত না হয়েই আগমন করেছে। তারা বলল, হে আল্লাহর রসূল! শাহরুল হারাম ব্যতীত অন্য কোন সময় আমরা আপনার নিকট আগমন করতে পারি না। আমাদের এবং আপনার মধ্যে মুযার গোত্রীয় কাফিরদের বসবাস। তাই আমাদের কিছু স্পষ্ট নির্দেশ দিন, যাতে করে আমরা যাদের পিছনে ছেড়ে এসেছি তাদের অবগত করতে পারি এবং যাতে করে আমরা জান্নাতে দাখিল হতে পারি। তারা পানীয় সম্বন্ধেও জিজ্ঞেস করল। তখন তিনি তাদেরকে চারটি বিষয়ের আদেশ এবং চারটি বিষয় হতে নিষেধ করলেন। তাদেরকে এক আল্লাহতে বিশ্বাস স্থাপনের নির্দেশ দিয়ে বললেনঃ ‘এক আল্লাহর প্রতি কিভাবে বিশ্বাস স্থাপন করা হয় তা কি তোমরা অবগত আছ?’ তাঁরা বলল, ‘আল্লাহ ও তাঁর রসূলই অধিক জ্ঞাত।’ তিনি বললেনঃ ‘তা হচ্ছে এ সাক্ষ্য দেয়া যে, আল্লাহ ব্যতীত প্রকৃত কোন উপাস্য নেই এবং মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আল্লাহর রসূল এবং সালাত প্রতিষ্ঠা করা, যাকাত আদায় করা, রমাযানের সিয়ামব্রত পালন করা; আর তোমরা গানীমাতের সম্পদ হতে এক-পঞ্চমাংশ আদায় করবে। তিনি তাদেরকে চারটি বিষয় হতে বিরত থাকতে বললেন। আর তা হচ্ছেঃ সবুজ কলস, শুকনো কদুর খোল, খেজুর বৃক্ষের গুড়ি হতে তৈরী বাসন এবং আলকাতরা দ্বারা রাঙানো পাত্র। রাবী বলেন, বর্ণনাকারী (মুযাফ্ফাত-এর স্থলে) কখনও আন্নাক্বীর উল্লেখ করেছেন (দু’টি শব্দের অর্থ একইরূপ) ; তিনি আরো বলেন, তোমরা এ বিষয়গুলো ভালো করে জেনে নাও এবং অন্যদেরও এগুলো অবগত কর।
(৮৭, ৫২৩, ১৩৯৮, ৩০৯৫, ৩৫১০, ৪৩৬৮, ৪২৬৯, ৬১৭৬, ৭২৬৬, ৭৫৫৬; মুসলিম ১/৬ হাঃ ১৭) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৫১, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৫১)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The reward of deeds depends upon the intention
and every person will get the reward according to what he has
intended. So whoever emigrated for Allah and His Apostle, then his
emigration was for Allah and His Apostle. And whoever emigrated for
worldly benefits or for a woman to marry, his emigration was for what
he emigrated for."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انھوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ بن وقاص سے ، انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل نیت ہی سے صحیح ہوتے ہیں ( یا نیت ہی کے مطابق ان کا بدلا ملتا ہے ) اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے گا ۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے ہجرت کرے اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی اور جو کوئی دنیا کمانے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت ان ہی کاموں کے لیے ہو گی ۔
‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ কর্মসমূহ সংকল্পের সাথে সম্পৃক্ত এবং প্রতিটি মানুষের প্রাপ্য তার সংকল্প অনুযায়ী। কাজেই যার হিজরত হবে আল্লাহ ও তদীয় রসূলের উদ্দেশ্যে, তার হিজরত আল্লাহ ও তদীয় রসূলের উদ্দেশ্যে হয়েছে বলেই ধরা হবে। আর যার হিজরত হয় দুনিয়া অর্জনের জন্য বা কোন নারীকে বিবাহ করার উদ্দেশ্যে, তার হিজরত সে উদ্দেশ্যেই হবে যে উদ্দেশ্যে সে হিজরত করেছে।
(১; মুসলিম ৩৩/৪৫ হাঃ ১৯০৭, আহমাদ ১৬৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৫২, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৫২)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 52
Hadith 55
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ".
Narrated Abu Mas'ud:
The Prophet (ﷺ) said, "If a man spends on his family (with the intention
of having a reward from Allah) sincerely for Allah's sake then it is a
(kind of) alms-giving in reward for him.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی ، انھوں نے عبداللہ بن یزید سے سنا ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ،
انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدمی ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے پس وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے ۔
আবূ মাস‘ঊদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ মানুষ স্বীয় পরিবার-পরিজনের জন্য পুণ্যের আশায় যখন ব্যয় করে তখন সেটা তার জন্য সদাকাহ হয়ে যায়।
(৪০০৬, ৫৩৫১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৫৩, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৫৩)
Allah's Messenger (ﷺ) said, "You will be rewarded for whatever you spend for
Allah's sake even if it were a morsel which you put in your wife's
mouth."
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے کہا کہ مجھ سے عامر بن سعد نے سعد بن ابی وقاص سے بیان کیا ، انھوں نے ان کو خبر دی کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک تو جو کچھ خرچ کرے اور اس سے تیری نیت اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو تو تجھ کو اس کا ثواب ملے گا ۔ یہاں تک کہ اس پر بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالے ۔
সা‘আদ ইব্নু আবূ ওয়াক্কাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ ‘তুমি আল্লাহর নৈকট্য অর্জনের উদ্দেশ্যে যা-ই ব্যয় কর না কেন, তোমাকে তার প্রতিদান নিশ্চিতরূপে প্রদান করা হবে। এমনকি তুমি তোমার স্ত্রীর মুখে যা তুলে দাও, তারও।’
(১২৯৫, ২৭৪২, ২৭৪৪, ৩৯৩৬, ৪৪০৯, ৫৩৫৪, ৫৬৫৯, ৫৬৬৮, ৬৩৭৩, ৬৭৩৩; মুসলিম ২৫/১ হাঃ ১৬২৮, আহমাদ ১৫৪৬) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৫৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৫৪)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 2, Hadith 54
Hadith 57
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
Narrated Jarir bin Abdullah:
I gave the pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) for the following:
1. offer prayers perfectly
2. pay the Zakat (obligatory charity)
3. and be sincere and true to every Muslim.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے بیان کیا ، انھوں نے اسماعیل سے ، انھوں نے کہا مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ، انھوں نے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے پر بیعت کی ۔
জারীর ইব্নু ‘আবদুল্লাহ্ আল-বাজালী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেছেনঃ আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকট বায়‘আত গ্রহণ করেছি সালাত কায়িম করার, যাকাত প্রদান করার এবং সমস্ত মুসলিমের মঙ্গল কামনা করার।
(৫২৪, ১৪০১, ২১৫৭, ২৭১৪, ২৭১৫, ৭২০৪; মুসলিম ১/২৩ হাঃ ৫৬, আহমাদ ৩২৮১) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৫৫, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৫৫)
I heard Jarir bin 'Abdullah (Praising Allah). On the day when
Al-Mughira bin Shu'ba died, he (Jarir) got up (on the pulpit) and
thanked and praised Allah and said, "Be afraid of Allah alone Who has
none along with Him to be worshipped.(You should) be calm and quiet
till the (new) chief comes to you and he will come to you soon. Ask
Allah's forgiveness for your (late) chief because he himself loved to
forgive others." Jarir added, "Amma badu (now then), I went to the
Prophet and said, 'I give my pledge of allegiance to you for Islam."
The Prophet (ﷺ) conditioned (my pledge) for me to be sincere and true to
every Muslim so I gave my pledge to him for this. By the Lord of this
mosque! I am sincere and true to you (Muslims). Then Jarir asked for
Allah's forgiveness and came down (from the pulpit).
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، انھوں نے زیاد سے ، انھوں نے علاقہ سے ، کہا میں نے جریر بن عبداللہ سے سنا
جس دن مغیرہ بن شعبہ ( حاکم کوفہ ) کا انتقال ہوا تو وہ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اور خوبی بیان کی اور کہا تم کو اکیلے اللہ کا ڈر رکھنا چاہیے اس کا کوئی شریک نہیں اور تحمل اور اطمینان سے رہنا چاہیے اس وقت تک کہ کوئی دوسرا حاکم تمہارے اوپر آئے اور وہ ابھی آنے والا ہے ۔ پھر فرمایا کہ اپنے مرنے والے حاکم کے لیے دعائے مغفرت کرو کیونکہ وہ ( مغیرہ ) بھی معافی کو پسند کرتا تھا پھر کہا کہ اس کے بعد تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کی خیرخواہی کے لیے شرط کی ، پس میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کر لی ( پس ) اس مسجد کے رب کی قسم کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں پھر استغفار کیا اور منبر سے اتر آئے ۔
যিয়াদ ইব্নু ‘ইলাকা (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ মুগীরাহ ইব্নু শু‘বাহ (রাঃ) [১] যেদিন ইন্তিকাল করেন সেদিন আমি জারীর ইবনূ ‘আব্দুল্লাহ্ (রাঃ)-এর নিকটে শুনেছি, তিনি (মিম্বারে) দাঁড়িয়ে আল্লাহর প্রশংসা ও সানা বর্ণনা করে বললেন, তোমরা এক আল্লাহকে ভয় কর যাঁর কোন অংশীদার নেই এবং নতুন কোন নেতার আগমন না হওয়া পর্যন্ত শৃংখলা বজায় রাখ, অতি সত্বর তোমাদের নেতা আগমন করবেন। অতঃপর জারীর (রাঃ) বললেন, তোমাদের নেতার জন্য ক্ষমা চাও; কেননা, তিনি ক্ষমা করা পছন্দ করেন। অতঃপর বললেন, একদা আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর নিকটে এসে আরয করলাম, আমি আপনার নিকট ইসলামের বায়‘আত নিতে চাই। তিনি (অন্যান্য বিষয়ের সাথে) আমার উপর শর্ত দিয়ে বললেনঃ আর সকল মুসলমানের মঙ্গল কামনা করবে। অতঃপর আমি তাঁর নিকট এ শর্তের উপর বায়‘আত নিলাম। এ মাসজিদের প্রতিপালকের শপথ! আমি তোমাদের মঙ্গলকামনাকারী। অতঃপর তিনি আল্লাহর নিকট ক্ষমা প্রার্থনা করলেন এবং (মিম্বার হতে) নেমে গেলেন।
(আধুনিক প্রকাশনীঃ ৫৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৫৬)